زاویہ نگاہ کا قتل


ghafferتب بھی میں ہی مرا تھا کہ جب میرے محافظ نے مجھے گولی مار دی تھی اور جب ایک انسان کے قتل کی پاداش میں ایک محافظ کو تختہ دار پر لٹکایا گیا، اس لمحے بھی میری ہی لاش ہوا میں جھول رہی تھی۔اس لیے کہ دونوں انسان تھے، میں اپنے آپ کو دونوں کی جگہ پر رکھ کر دیکھتا ہوں تو مجھے ان میں سے کوئی ایک بھی غلط دکھائی نہیں دیتا۔ہاں فرق ہے تو صرف اس قدر کہ دونوں کا دیکھنے کا زاویہ مختلف تھا۔ ایک دیوار کے اُس پار کھڑا دیکھ رہا تھا اور دوسرا دیوار کی اِس جانب کھڑا محو نظارہ تھا۔ ایک ہی منظر، دو لوگوں کو دو مختلف زاویوں سے دکھائی دے رہا تھا۔ دن میں کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ جب دو مختلف سطحوں پر کھڑے لوگ ایک ہی منظر کو دو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں، دونوں دو مختلف نتائج پر پہنچتے ہیں، ایسا ہونا معمول کی بات ہے۔اس لیے کہ دونوں انسان ہیں، دونوں کا اپنا اپنا زاویہ نگاہ ہے۔دونوں اپنے اپنے فریم میں سچے ہیں، اس لیے کہ حقیقی سچ کم از کم انسان کی ذہنی رسائی میں تو نہیں آ سکتا۔

میں جب صبح دفتر لیٹ پہنچتا ہوں تو باس کی جگہ پر خود کو بیٹھے ہوئے پاتا ہوں اور صبح دفتر میں اپنے دیر سے آنے پر خود کو ڈانٹتا ہوں، خود سے جواب طلبی کرتا ہوں، یہی میری ذمہ داری ہے، اگر میں ایسا نہیں کروں گا تو اپنے فرض سے کوتاہی کروں گا۔اور دوسری جانب جب میں اپنے بچوں کو موٹر سائکل پر بٹھا کر آٹھ بجے سے پہلے سکول پہنچاتا ہوں اور اس کے بعد ٹریفک کے ہجوم ِبے کراں سے گزرتا پندرہ کلومیٹر کا فاصلہ پچیس منٹ میں طے کر کے اپنے آفس پچیس منٹ لیٹ پہنچتا ہوں تو میں اپنی جگہ خود کو درست پاتا ہوں کہ میرے پاس اس سے پہلے دفتر پہنچنے کی کوئی اور صورت ممکن نہیں۔ ہاں اگر میں بچوں کو سکول نہ چھوڑوں تو دفتر وقت پر پہنچ سکتا ہوں۔ میرا اپنا نقطہ نظر ہے، جو میری زندگی اور میرے محدود وسائل کے اندر نمو پذیر ہوا ہے۔ میرے باس کا اپنا نقطہ نظر ہے کہ وہ صبح ناشتے کی میز پر آتا ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ناشتہ کر کے جب باس باہر نکلتا ہے تو ڈرائیور گاڑی سٹارٹ کر چکا ہوتا ہے۔ اس کے بچوں کو الگ الگ دو گاڑیاں سکول چھوڑنے جاتی ہیں کہ کہیں وہ لیٹ نہ ہوں جائیں اور باس تیسری گاڑی میں دفتر آتا ہے۔ ہم اپنے اپنے نقطہ نظر اور حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی ترجیحات کے ساتھ زندگی کی ڈگر پر چل رہے ہیں۔

دفتر جاتے ہوئے گاڑیوں والے میرے لیے سڑک پر کوئی جگہ ہی نہیں چھوڑتے کہ میں اپنی موٹر سائیکل پر بغیر کسی حادثے کے خوف کے چل سکوں۔ میں اگر دائیں جانب چلتا ہوں تو گاڑیوں والے ناگوار تاثر کے ساتھ میرے ساتھ سے اس طرح گزر جاتے ہیں کہ میں مرتے مرتے بچ جاتا ہوں۔ دوسری جانب گاڑی میں بیٹھا ہوا شخص بھی میں ہوں کہ جو انتہائی خوف کے عالم میں گاڑی چلا رہا ہوتا ہے کہ اس کے ارد گرد سے موٹر سائیکلوں کے غول کے غول یوں گزر رہے ہوتے ہیں کہ ہر لمحے لگتا ہے کہ اب حادثہ ہوا کہ اب گاڑی کے نیچے آیا مگر میں موٹر سائیکل پر اور میں ہی گاڑی میں اپنے آپ کو بچاتا منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہوں۔

رات گھر میں میں اپنے بستر پر سونے کی کوشش کر رہا ہوتا ہوں مگر مجھے نیند نہیں آتی۔ یوں لگتا ہے کہ اپنے بوڑھے نحیف، لاغر اور بیمار باپ کے روپ میں اپنے بیٹے کی بے حسی پر کڑھ رہا ہوتا ہوں کہ جسے اپنے باپ کا کوئی خیال نہیں، اسے کس دوا کی ضرورت ہے؟ اسے کب ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے؟ بیٹے کو کوئی خبر ہی نہیں ہوتی۔ جب یہ چھوٹا تھا میں نے کس طرح اپنا پیٹ کاٹ کر اسے تعلیم دلوائی، اس کی ضرورتوں کا اپنے محدود ذرائع کے اندر رہتے ہوئے خیال رکھا، میں اپنے بیٹے کی بے حسی پر ہر روز رات کو مرتا ہوں مگر صبح کوئی مجھے پھر سے زندہ کر دیتا ہے کہ میں دوبارہ مرنے کی اذیت سے دو چار ہو سکوں۔ اپنے بیڈ پر نیند کا منتظر شخص بھی میں ہی ہوں کہ جو سونا چاہتا ہے مگر نیند کی دیوی اس پر مہربان نہیں ہوتی۔ دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہوتا ہے، اور میں سوچتا ہوں کہ والد نے اگر میرے لیے کچھ بچایا ہوتا، کچھ کمایا ہوتا تو آج میں اس تنگ دستی سے نہ گزر رہا ہوتا۔میں کون ہوں؟ بیڈ پر نیند کا منتظر شخص کہ جسے نیند کی دیوی کا انتظار ہے، جس کی آنکھوں میں خوشحال زندگی کے خواب ابھی مرے نہیں یا میں بیڈ پر لیٹا بوڑھا، لاغر اور بیمار باپ کہ جسے اس وقت علاج کی سخت ضرورت ہے تا کہ موت تک کی اذیت سے باآسانی گزر سکے۔

کیا میں با س کی کرسی پر بیٹھا ایک نظم و ضبط کا پابند شخص ہوں کہ جسے ہر روز اپنے ٹارگٹ پورے کرنے ہیں یا پھر ہر روز دیر سے دفتر پہنچنے والا وہ شخص کہ جسے بچوں کو سکول چھوڑنے کے بعد سڑک پر گاڑیوں والے راستا نہیں دیتے یا پھر دندناتے ہو ئے موٹر سائیکل سواروں میں سے کوئی ایک کہ جو غول کی صورت میں تمام سڑک کو ڈھانپ لیتے ہیں اور گاڑی کے لیے محفوظ سفر کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے۔ کیا میں پھانسی پانے والے کے جنازے میں شامل ایک ایسا شخص ہوں کہ جو خود کو خوش نصیب سمجھتا ہے کہ اسے ایک عاشق رسول ﷺکے جنازے میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، یا میں تابوت میں لیٹا ہوا وہ شخص ہوں کہ جس کی گاڑی سرخ گلابوں سے اٹی ہوئی ہے اور جس کے سرہانے اس کا بیٹا اس ساری صورت حال سے بے خبر کچھ سمجھنے کی کوشش میں ایک حیرانی کی زد میں ہے۔ میں جنازے کی آخری صف میں کھڑا شخص ہوں کہ جسے صرف یہ معلوم ہے کہ وہ اس وقت جنازے میں شامل ہے یا میں جنازے کی پہلی صف میں کھڑا شخص ہوں کہ جسے پھانسی پانے والے کے پرنور چہرے کا دیدار نصیب ہوا ہے۔ یا میں اپنے ہی باڈی گارڈ کے ہاتھوں گولی کا نشانہ بننے والا صاحب اختیار ہوں کہ جو ایک روشن خیال پڑھا لکھا شخص ہے۔ جس کا قصور یہ ہے کہ اس نے کہا تھا کہ قوانین میں اس لیے تبدیلی کی گنجائش ہے کہ کوئی اس کا غلط استعمال کر کے کسی کو اپنے ذاتی انتقام کا نشانہ نہ بنائے اور یہ کہ ایک خاتون اگر رو رو کر یہ کہہ رہی ہے کہ اس سے یہ جرم سر زد نہیں ہوا کہ جس کی پاداش میں اسے جیل میں ڈالا گیا ہے، تو اس کی بات کو مان کیوں نہیں لیا جاتا۔ کیا میں وہ باڈی گارڈ ہوں کہ جو تین دن پہلے اس شخص کو قتل کرنے کا تہیہ کر لیتا ہے کہ جس کی حفاظت پر اسے مامور کیا گیا ہے، یا میں قتل ہونے والا وہ شخص ہوں کہ جسے اس کے باڈی گارڈ نے گولی مار دی صرف اس لیے کہ وہ منظر کی ایک جانب کھڑا تھا اور دوسرا منظر کی دوسری جانب، ہم دونوں کو ایک ہی منظر دو مختلف زاویوں سے الگ الگ دکھائی دے رہا تھا۔ دونوں میں سے کس کو درست دکھائی دے رہا تھا، اس بات کا کون فیصلہ کرے گا، اب تو دونوں ہی منوں مٹی تلے ہیں۔ دونوں کو انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین نے سوچ کی اس نہج تک پہنچایا ہے۔ قوانین بنانے والے زندہ ہیں مگر ان قوانین کی زد میں آنے والے دونوں ہی اُن کی دنیا سے کہیں دور جا چکے ہیں کہ جہاں کے اپنے قوانین ہیں، اور معلو م نہیں وہاں قوانین ہیں بھی یا نہیں، یا وہاں پر کیا ہے؟ یہاں دنیا کی اِس جانب زندہ لوگوں کو تو اِس کا علم نہیں ، ممکن ہے وہاں دوسری جانب کہ جنہیں اِس جانب والے مردہ سمجھتے ہیں، وہ اُس زاویے سے دیکھ رہے ہوں کہ وہ زندہ ہیں اور ہم جودنیا کی اِس جانب ہیں وہ مردہ ہیں، اِس لیے کہ دونوں اپنے اپنے سٹیشن پوائنٹ سے حقیقت کو دیکھ رہے ہیں،حقیقی سچ کیا ہے؟ اس کا تو کوئی بھی فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “زاویہ نگاہ کا قتل

  • 03-03-2016 at 2:00 am
    Permalink

    بہت ہی عمدہ تحریر، بہت بہت شکریہ

  • 16-04-2016 at 6:52 pm
    Permalink

    کوئ اور تو نہیں ہے پسِ خنجر آزمائ
    ہمیں قتل ہو رہے ہیں، ہمیں قتل کر رہے ہیں
    بہت عمدہ نوحہ لکھا ہے آپ ہے اور جب تلک ھم لوگ اعتدال کو پسِ پشت رکھ کر ہی سوچتے رہیں گے آپکی تحریر بہت سے لوگوں کی غمگساری کر دیا کرے گی۔ ہاں یہ اُمید کہ ہمارا کلچر اعتدال کے اصولوں سے مزین ہوگا انتہائ مدھم ہے۔ چلیں مل کر اس کی دعا کرتے ہیں۔ شکریہ

Comments are closed.