مجھے کچھ نہیں کہنا ….


mujahidپاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے گورنر، جو اور کوئی نہیں معروف ادیب ایم ڈی تاثیر کے فرزند اور فیض احمد فیض کی اہلیہ ایلس فیض کے بھانجے تھے، کو وزارت برائے امور داخلہ کی جانب سے حفاظت کی خاطر فراہم کردہ پولیس کے دستے میں شامل محافظ اگر سرکاری رائفل سے جو گورنز کی حفاظت کے لیے اسے دی گئی تھی، ملک کے دارالحکومت میں سرعام گولیاں مار کر قتل کر دے اور اس پر اگر کوئی نہ چیخے تو بے حس ہوگا مستزاد یہ کہ محافظ نے سرکاری کام میں خیانت کی ہو اور سرکاری اسلحے کا غیر قانونی استعمال کیا ہو۔ میں اس روز اپنے قصبے میں اپنے آبائی گھر میں تھا، میں چیخ پڑا تھا۔ میری بڑی بہن نے میرے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا،” بھائی تو اپنے ماسکو جا ، آپ تو مرے گا ہمیں بھی مروائے گا” مجھے ان کے کہے پر نہ حیرت ہوئی تھی نہ طیش آیا تھا۔ ہمارا پورا محلہ “پیچھے اس امام کے ” قسم کے لوگوں کا محلہ ہے جو حقیقت، علم، معلومات اور قوت تجزیہ سے عاری ہیں۔ اس محافظ قاتل کو انجام تک پہنچا دیا گیا، مجھے اس پر کچھ بھی نہیں کہنا۔ میں تو ویسے بھی سزائے موت دیے جانے کا شدید مخالف ہوں۔

شرمین عبید چنائے نام کی کسی خاتون نے دوسری بار عالمی فلمی صنعت کا مو¿قر ترین ایوارڈ آسکر حاصل کر لیا ہے۔ ان کی یہ فلم “غیرت کے نام پر قتل” سے متعلق تھی، اس سے پہلے انہیں عورتوں کے چہروں پر تیزاب پھینکنے کی ہولناکیوں سے متعلق فلم پر یہی ایوارڈ ملا تھا، مجھے اس پر بھی کچھ نہیں کہنا کیونکہ اسی گھر کے نزدیک جہاں میں گورنر سلمان تاثیر کے قتل پر چیخا تھا، ایک حسین کم عمر دلہن کو زبردستی تیزاب پلا کر اس کے شوہر نے جان چھڑائی تھی جو شاید ہم جنس پرست تھا۔ لڑکی کئی روز کی اذیت کے بعد مری تھی، سب کو شک تھا کہ اسے تیزاب پلایا گیا تھا مگر موقف وہی مانا گیا تھا کہ لڑکی نے خود تیزاب پیا تھا۔ جب کوئی نہیں بول سکا تو مجھے کیا کہنا ہے، کچھ بھی نہیں۔

مجھے عورتوں پر گھریلو تشدد کے خلاف منظور کردہ بل سے متعلق بھی کچھ نہیں کہنا کیونکہ انہیں چاہے بلا وجہ بھی کیوں نہ پیٹا جاتا ہو، سہارا آسمانی کتاب کا لیا جاتا ہے کہ نافرمان عورتوں کو بالآخر پیٹا جا سکتا ہے۔ شوہر اگر کہہ رہا ہے، نافرمان ہے تو ہوگی۔ باپ یا بھائی اگر کہہ رہے ہیں، نافرمان ہے تو ہوگی۔ تحقیق کرنا پولیس کا کام ہے لیکن پولیس تو توہین رسالت کے الزام میں لوگوں کو پکڑتی ہے، ایسے لوگوں کو کہیں بھی کیسے بھی کوئی پولیس والا یا جیل میں سزا پانے والا کوئی مجرم کیوں نہ مار دے۔ پولیس اس کو کچھ نہیں کہتی بلکہ اس کی اعانت کرتی ہے، ایسی پولیس کو کیا پڑی کہ لوگوں کے گھریلو معاملات میں مداخلت کرتی پھرے۔

تو نہ کہنے کے دعوے کے باوجود مجھے کیا کہنا ہے؟ جی یاں مجھے کہنا ہے کہ محافظ قاتل کی سزا پر عمل درآمد پر خوش ہو کر کہنے والے کہ قانون کی بالادستی ثابت ہو گئی یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ پھانسیاں دینے والے دوسرے بڑے ملک پاکستان میں جب سے دوبارہ پھانسیاں دی جانے لگی ہیں ان میں پھانسی پانے والے دہشت گرد کتنے تھے؟ شرمین عبید چنائے کے آسکر جیتنے پر فخر کرنے والے کیا بتا سکتے ہیں کہ غیرت کے نام پر قتل کرنے کے حامی کتنے ہیں اور مخالف بھی اگر انہیں کسی ایسی صورت حالات کا سامنا ہو کیسا وتیرہ اپنائیں گے؟ سنیے بورس لاورینوو کی کہانی “اکتالیسواں” سے اقتباس :

“حماقت” مریوتکا نے شانے جھٹک کر کہا…. ” اگر میرا کوئی بزرگ بدمست ہو کر دیوار سے سرٹکرا دے تو کیا مجھے بھی یہی کرنا چاہیے؟ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں کرنا چاہیے…. ؟“

لیفٹیننٹ نے ٹھنڈی آہ بھری….

” تمہاری سمجھ میں نہیں آ سکتا۔۔۔۔ تمہیں کبھی ایک نامور خاندان کا، خاندان کی عزت کا، اپنے فرض کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑا ہے نا…. ہم لوگوں کو اس کا بڑا احساس تھا….“

ہم سب زار کے حق میں لڑنے والی سفید فوج کے لفٹین ہیں، سرخ فوج کی احمق ماریوتکائیں تو کب سے دیوار کے ساتھ لگی ہوئی ہیں اور تعداد میں بھی بہت کم ہیں۔

رہی گھروں میں عورتوں پر تشدد کیے جانے کی بات تو جناب یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تشدد کون کرتا ہے، کیوں کرتا ہے، تشدد کرنے کی وجوہ کیا ہوتی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ تشدد سہنے والیاں تشدد کیوں سہتی ہیں اور نہ سہیں تو پھر ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ویسے تو یہ چند سوالات اپنے جواب کتابوں میں سمیٹے ہوئے ہیں لیکن تشدد کرنے کی بڑی وجہ مردانہ بالادستی کی ذہنیت اور سماج ہی نہیں ہیں کیونکہ جن فیوڈل گھرانوں نے اس ذہنیت کو رواج دیا تھا ان کے ہاں عورت کو جسمانی سے زیادہ ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور بنایا جاتا ہے۔ جسمانی تشدد کی وجوہ کے ماخذ عسرت، جہالت، عزت نفس کے فقدان، ذہنی تشنج و دیگر متنوع مسائل ہیں۔ بالادست ہونا تشدد کا فاعل ہونے کو طے کر دیتا ہے، بالادستی میں جسمانی طاقت زیادہ ہونے کے علاوہ کفیل ہونا بھی آتا ہے۔ تشدد کرنے والا تشدد اس لیے کر سکتا ہے کہ یا تو ایسے شخص کو اذیت دہی میں لذت ملتی ہے، اس کی تسکین ہوتی ہے، کمزور فریق کی اہانت کرکے اسے اپنے بالا دست ہونے کا احساس ہوتا ہے جسے دوسرے لوگ اپنی جوتی کی نوک پر رکھے ہوتے ہیں۔ تشدد سہنے والیاں تشدد اس لیے سہتی ہیں کہ ان کا چارہ کوئی نہیں ہوتا۔ تشدد نہ سہیں تو روٹی لتے کو بھی محتاج ہو جائیں۔ جو تشدد سہنے سے انکاری ہو جاتی ہیں انہیں والد یا بھائی کے ہاں جا کر ذہنی تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔

تو کیا قانون کی بالادستی کی تعریف نہ کی جائے؟ کیا باوقار ایوارڈ ملنے پر خوش نہ ہوا جائے؟ کیا خواتین کو کوئی بھی حق ملنے پر تسکین کا اظہار نہ کیا جائے؟ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ سب کرنا جائز بھی ہے، درست بھی اور شاید حوصلہ افزا بھی لیکن جزو کو کل سے جدا کرکے دیکھنا اور کل میں جزو کو چھپا دینا عقلمندی نہیں ہے۔ اس لیے مجھے کچھ نہیں کہنا بس کیے جانا ہے یعنی کوشش تاکہ قانون کی بالادستی کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہو، تاکہ شرمین جیسی عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہو جن کی حکومت بھی اعانت و حوصلہ افزائی کرے، عورتوں کے زیادہ سے زیادہ حقوق کے ساتھ تمام انسانوں کو پورے حقوق مل سکیں۔


Comments

FB Login Required - comments