ہم سب ….پوری دنیا کے انسان


 zeeshan hashimیونانی علوم سے ساری دنیا مستفید ہوئی، سارے مذاہب نے اس سے اپنا دینیاتی فلسفہ اور علم الکلام اخذ کیا، مگر کسی بھی دانا و بینا آدمی نے یونانی علوم کو محض یونانی سمجھ کر رد نہ کیا۔ ہم نے تو ان سے اتنی عقیدت دکھائی کہ Socrates کو سقراط، Plato کو افلاطون اور Aristotle کو ارسطو کر کے دیسی بنا لیا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ افلاطون کا ہمارے مسلم صوفیا پر اور ارسطو کا ہمارے مسلم فلسفیوں پر بہت گہرا اثر ہے۔

قدیم ہندوستانی تاریخ میں تو یہ بھی پتا چلتا ہے کہ یونانی سائنسی و فلسفیانہ تصورات جیسا کہ افلاطون کی تصوراتی ریاست کے کردار گپتا عہد میں ہندی ذات پات کے نظام پر براہ راست اثر انداز ہوئے تھے۔ عناصر اربعہ اور اس جیسے دوسرے تصورات قبل مسیح میں ہی یونان سے ہندوستانی علوم میں ایسے سمائے کہ کسی نے ان کو محض یونانی ہونے پر قابل نفرت نہ سمجھا۔ اور تو اور وہ قدیم ٹیکسلا کی تہذیب جو ہماری تاریخ کا روشن ترین باب ہے دراصل یونانی (بعد از سکندر)، ایرانی، وسطی ایشیا اور گنگا تہذیب کا ایک خوبصورت مرکب تھا۔ مورتیوں کا فن یونانی اثرات سے یہاں عروج پر پہنچا۔ اس وقت کے لوگ جانے ہم سے زیادہ سمجھدار تھے یا بے وقوف تھے کہ کسی نے بھی اس خوبصورت تہذیبی گلدستے میں دشمنوں یا اجنبیوں یا ولایتوں کے اثرات بد نہ محسوس کئے۔

کیا ہم پاکستانی جانتے ہیں کہ وادی سندھ کی تہذیب ایک منظم جمہوریت تھی، جس کے تقریبا سب باسی تاجر تھے۔ جہاں مساوات اتنی تھی کہ کسی بھی حکمران یا پنڈت و پادری کا عوام سے منفرد اونچا اور عالی شان مسکن ہمیں نہیں ملتا (اسی سبب مانا جاتا ہے کہ یہاں بادشاہت نہ تھی، اور عوام یا تو غیر مذہبی تھے یا کم مذہبی تھے)۔ مصر و عراق و عمان سے تجارت کرنے والی یہ تہذیب دوسری تہذیبوں کے خلاف تعصبات کے بجائے اعلیٰ درجہ کے معاشی تعلقات رکھتی تھی۔ جب بیرونی تجارت ختم ہوئی تو یہ تہذیب بھی دم توڑ گئی۔

زراعت کا آغاز ترکی سے ہوتا ہے صرف ایک صدی میں یہ ٹیکنالوجی پوری دنیا میں بذریعہ تجارت پھیل جاتی ہے، پوری دنیا میں کوئی بھی خطہ اسے اس کی نسل زبان یا وطن پوچھ کر رد نہیں کرتا۔

مسیح علیہ السلام کا مسکن شام و فلسطین تھا، مگر مسیحیت پوری دنیا میں پھیل گئی، کیونکہ اسے لوگوں نے یہ کہہ کر رد نہ کیا کہ یہ نظریات اصلا شامی و فلسطینی ہیں۔ پورا یورپ (مغرب ) اس کے رنگ میں رنگ گیا، یہ سوچے بغیر کہ یہ مذہب تو اپنی ابتدا میں مشرقی ہے اور وہ مغربی ہیں۔

اسلام کا اول مسکن مکہ اور مدینہ تھا، پورے عرب کی اکثریت نے اسے یہ کہہ کر رد نہ کیا کہ یہ قریشی النسل یا مکی و مدنی مذہب ہے اور اسی طرح کہیں بھی غیر عرب بشمول افریقہ و اندلس میں اسے محض عربی مذہب سمجھ کر رد نہیں کیا گیا۔

مارکس جرمن تھا، انگلینڈ میں بیٹھ کر اس نے تصنیفات لکھیں، اور یہود النسل تھا۔ مگر کسی بھی بالغ الذہن بندے نے جرمن، برٹش، یا یہود دشمنی میں اس کا رد نہ کیا بلکہ مارکسی فکر کا قبول و انکار اہل علم لوگوں میں خالص علمی بنیادوں پر ہوا …. یہاں تک کہ مارکس جس جریدے ’دی نیو یارکر‘ میں مضامین لکھ کر اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرتا رہا، وہ رسالہ ابراہم لنکن کی سیاسی پارٹی کا ترجمان تھا جو کٹر سرمایہ دارانہ منشور رکھتی تھی۔ مگر مارکس کو اس کے اختلافی کالموں کی وجہ سے آزادی اظہار رائے سے محروم نہ کیا گیا۔

آج ہم سائنس و ٹیکنالوجی کی ہر دستیاب سہولت سے مستفیض ہوتے ہیں، کوئی بھی اسے محض مغربی فریج، مغربی ٹی وی، مغربی استری اور مغربی سکوٹر سمجھ کر رد نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ ہمارے فیس بکی دانشوروں میں سے کوئی بھی فیس بک کو مغربی فیس بک سمجھ کر رد نہیں کرتا، نہ ہی حضرت گوگل کا مغربی ہونے کی بنیاد پر انکار کیا جاتا ہے، اور نہ ہی ہمارے لوگ انٹرنیٹ سے یہ کہہ کر منکر ہیں کہ یہ مغربی انٹرنیٹ ہے۔

اسی طرح جمہوریت، سیکولر ازم سمیت تمام لبرل نظریات کو مغربی کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی محض مغرب کی محبت میں ان سے بغل گیر ہونا دانشمندی ہے۔ کسی بھی فکر و نظریہ کا قبول و انکار علمی و فکری بنیادوں پر ہونا چاہئے نہ کہ کسی بھی تعصب یا الفت کی بنیاد پر…اور یہی دنیا کا دستور تھا، ہے، اور رہے گا۔ جو اپنے عصر سے ہم آہنگ نہیں ہوئے ان کی داستان تاریخ میں بھی کم ہی ملتی ہے۔

تعصب ذہن کا اندھا پن ہے، اور متعصب اذہان اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ سچی اور صاف منزل صرف دیدہ بینا کے نصیب میں ہے۔

نظریات و خیالات کی پہچان جغرافیہ و وطنیت میں نہیں بلکہ ان میں پنہاں حکمت و دانائی اور عوام الناس کو میسر آنے والی فلاح میں ہوتی ہے۔ یہ دنیا ہمارا وطن ہے، ہماری اول پہچان انسانیت ہے، اور دنیا بھر میں جہاں بھی انسان کوئی کارنامہ سرانجام دیں گے ہم اس میں شریک ہیں، اور وہ ہماری آنے والی تمام نسلوں کی میراث ہو گی۔ علم و ثقافت کی کوئی سرحد نہیں۔ ہم سب کا ماضی حال اور مستقبل ایک دوسرے سے مربوط و مزین ہے۔ ہم سب پوری دنیا کے انسان ساتھ ساتھ چلیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

2 thoughts on “ہم سب ….پوری دنیا کے انسان

  • 03-03-2016 at 2:28 pm
    Permalink

    جو دوست اس پیراگراف سے کنفیوز ہوئے ہیں کہ ////قدیم ہندوستانی تاریخ میں تو یہ بھی پتا چلتا ہے کہ یونانی سائنسی و فلسفیانہ تصورات جیسا کہ افلاطون کی تصوراتی ریاست کے کردار گپتا عہد میں ہندی ذات پات کے نظام پر براہ راست اثر انداز ہوئے تھے۔ ///// ان سے عرض ہے کہ یہاں خاکسار کی مراد گپتا عہد میں ہندو مذہب کو باقاعدہ تحریری شکل میں لانے اور اس کی دینیات کو باقاعدہ ترتیب دینے سے ہے جس سے تمام ہندو مکاتب فکر بشمول بدھ ازم (جسے اس وقت تک ہندو فرقہ ہی سمجھا جاتا تھا جو ویدک اثرات سے باقاعدہ متاثر تھا) ایک وحدت میں جذب ہو گئے تھے – اور گپتا عہد سے جو ہندو کلاس سسٹم اپنی مکمل سختی سے نافذ کیا گیا (اس کا بھی origin ویدک عہد سے ہے ) اور اس کی اخلاقیات (علم الکلام) ترتیب دی گئی وہ بعض کے نزدیک افلاطون کی ریپبلک سے باقاعدہ سے متاثر تھی – اور بعض کے نزدیک ویدک عہد کا ہندو ازم باقاعدہ طور پر افلاطون پر اثر انداز ہوا جس سے اس نے ریپبلک کا خاکہ لیا – یعنی دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوئے –

    تفصیل کے لئے دیکھئے

    Hindu Influence on Greek Philosophy by Timothy Lomperis

    Brahma in the West: William Blake and the Oriental Renaissance by David Weir

  • 03-03-2016 at 7:49 pm
    Permalink

    Good argument, new perspective.

Comments are closed.