غیرت؟ یہ تری چشم حسود، تنگی ظرف کا پیمانہ ہے


inam-ranaابھی شرمین عبید کی، غیرت کے نام پر ہونے والی واردات پر بنی، ڈاکومنٹری کو آسکر ایوارڈ پر بجنے والی تالیوں اور گالیوں کی گونج دھیمی بھی نہ ہوئی تھی کہ دو خبریں آئیں ہیں۔ ساہیوال میں ایک بھائی نے دو بہنیں مشکوک کردار پر مار دیں اور لاہور میں ایک باپ نے اٹھارہ سال کی بیٹی اس لیے قتل کر دی کہ وہ چار گھنٹے غائب رہنے کا حساب نہ دے سکی تھی۔
میرے وطن میں نہ تو یہ پہلی واردات تھی اور افسوس کہ نہ ہی آخری۔ مگر ہم بات کرنا نہیں چاہتے کہ یہ ہماری بدنامی ہے۔ ہمارے خلاف اغیار کی سازش ہے۔ مگر خود سے پوچھیے کہ کیا ہمارے معاشرے میں غیرت کا تصور صرف عورت سے وابستہ نہیں ہے۔ کیا ہم سب اپنی بہن کے ڈھلکے دوپٹے، بیوی کے بلا اجازت باہر جانے یا بیٹی کے کسی کو دیکھ کر مسکرانے پر متشدد غیرت مند نہیں بن جاتے؟ چلیں عورت کے لباس اور افعال سے وابستہ یہ غیرت شاید کوئی دلیل رکھتی ہو، مگر کیا یہی غیرت ہم سے ہماری “اپنی عورت” کو قتل نہیں کروا دیتی؟ کیا اس کی بھی کوئی دلیل ہے؟ اور یہ غیرت ہمیشہ ہم مردوں کو ہی کیوں آتی ہے؟ کتنی بار یہ ہوا کہ بدکرداری پر غیرت میں آ کر بہن نے بھائی، بیوی نے شوہر یا بیٹی نے باپ کو قتل کر دیا، یا پھر ہمارے ملک میں عورتیں بے غیرت ہوتی ہیں؟
ہم اس ملک کے باسی ہیں جہاں ایک قانون ساز عورتوں کے قتل پر فخریہ کہتا ہے کہ یہ ہماری بلوچ روایت ہے۔ جہاں ایک لمبے عرصے تک سمجھدار وکیل ہر قتل پر موکل کو اشاروں میں اسے غیرت کا مسلئہ بنانے کا مشورہ دے کر چھڑوا لیتے تھے۔ سو ایسا بھی ہوا کہ باپ نے کھیتوں میں کسی کو مارا اور پھر گھر سے لا کر بیٹی کی لاش کو اس کے پہلو میں ڈال دیا۔ (بحوالہ اپنا گریباں چاک، جسٹس جاوید اقبال)۔ مسجد کے مولوی سے لے کر شراب پیتے لبرل تک ہم سب کا تصور غیرت مختلف سہی مگر ایک بات میں یکساں ہے، یہ دو ٹکے کی عورت ہماری ناک کٹوا دیتی ہے۔ ہماری عورتیں اس غیرت کی حفاظت کو ایک جین کی طرح اٹھائے پھرتی ہیں جسے وہ اپنی اگلی نسل کو منتقل کر دیتی ہیں۔
ہمارا یہ رویہ صرف ہمارے پیارے پاکستان میں ہی نہیں ہے۔ ہم خیر سے جہاں بھی بسے، ہم یہ تصور غیرت ساتھ لیے ہوے پہنچے۔ مغرب میں بسے ہم مرد جن کی آدھی زندگی گوری چھوری کے ساتھ موقع ملنے کی کوشش میں گزرتی ہے، بیٹی کے قد نکالتے ہی پاکستان یا کسی “اسلامی ملک” منتقل ہونے کی پلاننگ شروع کر دیتے ہیں۔ ہماری بچی کے سر سے سرکا حجاب، سکول میں پڑھتے کسی لڑکے سے بے تکلفی یا ہماری پسند کے جاھل کزن سے شادی کا انکار ہماری غیرت پر سیدھا وار پڑتا ہے۔ چنانچہ کتنی ہی بچیاں تھیں جنھوں نے غیرت کی اس قربان گاہ پر اپنی جان وار دی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ انگلینڈ میں نوجوان لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد ایک مخصوص آپریشن کرواتی ہیں تاکہ سہاگ کی رات اپنے خاوند کی غیرت کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔ ہم نے دنیا کو نہ جانے اور کوئی تصور یا روایت دی یا نہیں، البتہ غیرت کا تصور ہماری وجہ سے عالمی ہو گیا۔ الحمدللّٰہ۔
ہماری غیرت کا تصور بہت نازک ہے۔ اور چھوٹی سی بات پر ہماری غیرت ہمیں تشدد حتیٰ کہ قتل پر اکسا دیتی ہے۔ ہم نے غیرت کے اس تصور کو اسلام سے وابستہ کر دیا ہے۔ سو ایک اچھے مسلمان کا غیرت مند ہونا اس کے ایمان کی نشانی ہے۔ اور جو غیرت کے اس تصور پہ سوال کرے وہ بے ایمان، ملحد، مغربی ٹٹو یا کم از کم غامدیت کا شکار تو ضرور ہے۔ مگر سنیے ایک شوہر تھے، سب شوہروں سے بہتر۔ ان کی ایک بیگم تھیں، ہم سب کی بیویوں سے بہتر۔ ان پر الزام لگا تھا، سنگین الزام اور وہ بھی چودہ سو سال قبل کے ایک قبائلی معاشرے میں۔ بات سارے مدینہ میں عام ہوئی اور قریب ایک ماہ تک حل نہ ہوئی حتی کہ اللہ نے وحی اتار کر سورہ نور میں بےگناہی کی گواہی دے دی۔ مگر کیا کوئی ایک بھی صحیح، ضعیف،موضوع، منکر، متفق یا مختلف حدیث یا روایت دکھا دیں گے کہ شوہر نے بیوی کو مارا، اس کو گالیاں دیں یا اس کے قتل کا ارادہ تو کیا مشورہ ہی کیا ہو؟ کیا ہم نعوذ باللہ اپنے آقاﷺ سے بھی زیادہ غیرت مند ہو گئے ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

7 thoughts on “غیرت؟ یہ تری چشم حسود، تنگی ظرف کا پیمانہ ہے

  • 03-03-2016 at 7:27 am
    Permalink

    متفق

  • 03-03-2016 at 8:44 am
    Permalink

    مذہب سماج کو عدل پر آمادہ کرنے کے لئے یومِ حساب کا تصور پیش کرتا ہے. سماج کے طاقتور طبقات اپنی خواہشوں کی تکمیل کی لئے رنگ و نسل, زبان اور مذہب کیزبان من پسند تعبیروں کو فروغ دیتے ہیں.
    قتلِ غیرت غلام داری اور جاگیرداری سماج کے پیکج میں سے باقی رہ جانے والی ایک خرابی ہے جسے سماجی طریقوں سے ہی حل کرنا ممکن ہے جبکہ اسے مذہب کی جمہوری تعبیر کی مدد حاصل ہو.

  • 03-03-2016 at 5:46 pm
    Permalink

    Good one Rana sb, once again.

    • 03-03-2016 at 7:19 pm
      Permalink

      Thanks sir

  • 04-03-2016 at 3:41 am
    Permalink

    آپکی باتیں بھت درست مگر ھمارے مسائل اس سے بھت بڑے ھیں۔۔۔ھمارے ھاں ڈرون حملوں میں مرنے والوں کی تعداد غیرت کے نام پہ مرنے والوں سے کئی گنا ھے۔۔۔بھوک سے خود کشی کرنے والے اور اولاد کو قتل کرنے والوں کی تعداد بھی اس سے ذیادہ ھے تو پھر یہی موضوع کیوں؟کیا اس لیئے نھیں کی یہ این جی اوز کو خوش آتا ھے۔۔۔۔؟

  • 07-03-2016 at 10:25 am
    Permalink

    A very valid point. Once again good job.

Comments are closed.