دلیل اور بندوق کے درمیان منقسم  معاشرہ


ranaممتاز قادری کو ایک طویل قانونی کارروائی کے بعد بالآخر  پھانسی دے دی گئی اس میں پانچ سال  کا وقت صرف ہوا  لیکن ممتاز قادری کو اپنے دفاع کے  تمام مواقع میسر کیے گئے اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے گئے، یہ ممتاز قادری کا قانونی حق تھا کہ اسے یہ سہولیات فراہم کی جاتیں لیکن قادری نے یہ حق  گورنر سلمان تاثیر کو نہیں دیا، یعنی قیاس کو بنیاد بنا کر کتنی بیدردی کی ساتھ انہیں ہی قتل کردیا جنکی وہ حفاظت پر مامور تھا۔ اس نے نا صرف  قتل ناحق کیا بلکہ اپنے حلف سے بھی غدّاری کی ، ایسے شخص کو آپ کیسے شہادت کے رتبے پر فائز کرسکتے ہیں؟ خود ہی مدّعی خود ہی جج خود ہی جلاد، کیا ہم کسی جنگل میں رہ رہے ہیں.

مذہبی انتہا پسندی عدم برداشت دلیل کا جواب بندوق سے دینا تو ہمارا عمومی رویہ بن چکا ہے منبر و محراب پر بہروپیوں نے قبضہ جما رکھا ہے، مذہبی بنیادوں پر اختلافات کس معاشرے میں نہیں ہوتے ہمارے ہاں صدیوں سے موجود تھے اور رہیں گے لیکن ان اختلافات کو بنیاد بنا کر مسّلح جتھے بنا کر قتل و غارت کرنا فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے اس کا خاتمہ اس ملک کی بقا کے لیے ضروری ہے، قادری کو پھانسی دے کر حکومت پاکستان نے  قانون کی عملداری کی جانب ایک بھرپور قدم اٹھایا ہے یہ ان تمام دہشت گردوں کیلیے ایک واضع پیغام بھی ہے کہ اگر آپ نے کسی کو بھی کسی بھی بنیاد پر قتل کیا تو اس کا انجام ممتاز قادری جیسا ہی ہوگا ،

ایک دوسرے کو کافر کہنے والے مذہب کے ٹھیکیدار اب قادری کی لاش پر گھٹیا سیاست کررہے ہیں ان کا کردار ملاحظہ کریں ان کی سیاست جدا جدا، ان کی مساجد الگ الگ، کسی گاؤں کسی محلے میں یہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے،  لیکن قادری کو شہید بنانے میں سب متحد ہیں اس کی وجہ ہے کہ ایک طرف تو ضرب عضب نے ان کا نیٹ ورک تباہ کردیا ہے دوسرے حکومت مدارس کو ریفارم کررہی ہے تاکہ ان درس گاہوں سے دہشت گرد نہ جنم لے سکیں، یہ  ملک کی مجموعی آبادی کا 2 فیصد بھی نہیں یہ لوگ 20 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو کیسے یرغمال بنا سکتے ہیں ، گزشتہ 68 برسوں میں کبھی بھی لوگوں نے ان کو منتخب نہیں کیا اور نہ آئندہ کریں گے .

ضیا الحق کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی جس نے اس ملک کو اس منفی سوچ کا تحفہ دیا، ہمیں ایک لمبے عرصے تک ان قوتوں کے ساتھ فکری محاذ پر اور میدان جنگ میں مقابلہ کرنا ہوگا ورنہ پاکستانی معاشرہ ایک جنگل میں تبدیل ہوجائے گا، کسی بھی مہذب معاشرے میں کسی سزا یافتہ مجرم کو اس طرح ہیرو بنانا اس معاشرے کا اخلاقی دیوالیہ پن اور پستی کی علامت ہے. ضرب عضب کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے اگر آپ ان کند ناتراش مولویوں سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے اور اس سوچ کی تبدیلی کیلیے ہنگامی بنیادوں پر سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔

محترم افتخار حسین عارف کا یہ شہرہ آفاق  بند شاید اسی کیفیت کا ترجمان ہے !

شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے

جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے

رحمت سیّد لولاک پر کامل ایمان

امّت سیّد لولاک سے خوف آتا ہے

مذہبی جنونی اس ملک کو اور اس معاشرے کو تاریکیوں میں دھکیلنا چاھتے ہیں۔ یہی تو وہ سوچ ہے، یہی تو وہ عناصر ہیں جن کے خلاف ہماری بہادر افواج گزشتہ دو عشروں  سے برسر پیکار ہیں، اب تک ہزاروں کی تعداد میں ہماری فوج پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے،

قربانیوں کی یہ جہد مسلسل ضرب عضب کی صورت میں پوری قوت کے ساتھ جاری ہے یہ اس وقت تک جاری رہنی چاہیے جب تک ارض پاکستان کو ان مذہبی دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک نہیں کرلیا جاتا. چشم فلک نے دیکھا کیسے سب سراج الحق سے لیکر ثروت قادری مولانا فضل ارحمن تک سیاست چمکانے کے لیے اکٹھے ھوگئے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے انتہا پسندی میں سب ایک ہی ٹہنی کے برگ و ثمر ہیں لہٰذا ہمارے ارباب اختیار کو ان میں تمیز نہیں کرنی چاہیے، اسی میں پاکستان کی بقا ہے .


Comments

FB Login Required - comments

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 21 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan

3 thoughts on “دلیل اور بندوق کے درمیان منقسم  معاشرہ

  • 04-03-2016 at 9:45 pm
    Permalink

    اس نے معافی بھی تو اپنی اس غلطی کی مانگ لی تھی،،کیا اپ کو یہ نظر نہین ایا ،

  • 04-03-2016 at 9:49 pm
    Permalink

    کیا اسلام،اور پاکستانی قانون معافی پر یقین نہین رکھتا،جب کہ ممتاز قادری نے قتل ذاتی دشمنی کے بنا پر نہین کیا تھا،
    کیا اس کیس مین یہ نقطہ اس کو کسی قسم کی گنجائش نہین دیتا تھا

  • 04-03-2016 at 9:51 pm
    Permalink

    اب جب اسیہ عیسائی کو پھانسی ہوگی ،،تب اپ جیسے لوگ اس طرح کی باتیں ہی کرنا،،کیونکہ اس کو بھی پاکستانی عدالت نے ہی سزا سنائی ہے

Comments are closed.