بولان سے جمنا تک (تیسرا حصہ)


usman Qaziاگلے روز سویرے ہم عازم فتح پور سیکری ہوئے جو آگرہ سے تقریباً آدھ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ روایت ہے کہ اکبر بادشاہ نے دہلی یا آگرہ کے بجائے یہاں اپنا دارالحکومت بسانے کا ارادہ کیا تھا اور کئی عالی شان عمارات و محلات تعمیر کرائے تھے مگر شومئی قسمت کہ پانی کڑوا نکل آیا۔ یہاں اکبر کا وہ عبادت خانہ ہے جس میں بیٹھ کر وہ مختلف مذاہب کے علماءسے مباحثہ کرتا تھا اور جہاں اس نے اپنا دین الٰہی ایجاد کیا۔ یہیں اس کی تین رانیوں جودھا بائی جو راجستھان کی ہندو تھی، رضیہ بیگم جو ترک مسلمان تھی اور مریم جوکہ گوا کی عیسائی تھی، کے محلات بنے ہوئے ہیں۔ طرز تعمیر میں ہندو، مسلم، عیسائی، یہودی اور بدھ مت کی مذہبی علامات کو ملا کر نہایت حسین توازن کے ساتھ سنگ تراشی کی گئی ہے۔ اسی احاطے میں اکبر کے نورتنوں میں سے بیربل، ابوالفضل، فیضی وغیرہ کے محلات اور میاں تان سین گویے کی نشست گاہ بھی ہے۔ ساتھ ہی عظیم الشان مسجد ہے جس میں شیخ سلیم چشتی کا مزار ہے۔

دوپہر کے قریب ہم واپس آگرہ پہنچ گئے اور ہماری گاڑی کی روانگی میں ابھی پانچ گھنٹے باقی تھے۔ مشورے کے بعد طے پایا کہ ہندوستانی فلم دیکھی جائے چنانچہ آٹو میں بیٹھ کر سنجے پیلس نامی علاقے میں پہنچے اور ”اسمبھو“(ناممکن) نامی فلم دیکھنا قرار پایا۔ بے شک سینما ہال نہایت صاف ستھرا اور ایئر کنڈیشنڈ تھا مگر فلم نہایت گھٹیا، عامیانہ اور بھونڈے ایکشن پر مشتمل تھی۔ لہٰذا وقفے تک ہی ہماری طبیعت اس قدر مکدر ہو گئی کہ ہم باہر آگئے اور ساڑھے چھ بجے آگرہ چھاﺅنی سے تاج ایکسپریس نامی ریل گاڑی میں سوار ہو کر کوئی گیارہ بجے دلی پہنچ گئے۔

اگلے روز صبح اٹھ کر ناشتہ کیا اور اقتضائے بشریت کے زیر اثر ویزا کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غسل کیا اور ”پرگتی میدان“ نامی نمائش گاہ میں واقع ہندوستانی تمدن اور دست کاری کا عجائب گھر دیکھنے چل پڑے۔ یہاں ہندوستان کے ہر علاقے کی بودوباش ، طرز تعمیر، ذرائع پیداوار، تیوہاروں وغیرہ کی عکاس نقل بمطابق fatehpur_sikri_mainاصل کی گئی ہے۔ پورے کے پورے جھونپڑے، اوزار، بت، کپڑے اور آلات موسیقی موجود ہیں چنانچہ اگر دہلی میں رہنے والا تامل ناڈو کا کوئی باشندہ اپنے کسی غیر ملکی مہمان کو اپنے علاقے کے طرز زندگی سے روشناس کرانا چاہے تو کم از کم ایک جھلک دکھا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں ماضی میں علاقائی کلچر کو پروان چڑھانے کی کوششوں کو اکثر علیحدگی پسندی وغیرہ کا لیبل لگا کر بدنام کیا گیا ہے جس سے محض احساس بے گانگی کو فروغ ملا ہے۔ ہماری رائے میں تو پاکستانی کلچر سندھی
رلی کی طرح وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کی مختلف تہذیبی اکائیوں کا حسین امتزاج ہے اور اسی رنگارنگی میں اس کی شان اور بقا ہے۔ یک رنگی تو گستاخی معاف! صرف کفن کے ساتھ اچھی لگتی ہے۔

بھوپال روانگی سے پیشتر پھر دہلی میں ہمارے پاس ایک دن تھا اور کسل مندی بھی۔ لہٰذا گھنٹہ بھر پرانے قلعے کی خندق میں کشتی رانی کی اور پھر دہلی ہاٹ نامی جگہ کا رخ کیا۔ یہ نسبتاً جدید طرز کی فروش گاہ ہے جو ایک پرانے نالے کو پاٹ کر اس پر تعمیر کی گئی ہے۔ یہاں بھی قطار اندر قطار ہندوستان بھر کے مختلف علاقوں کی دست کاری کے نمونوں کی دکانیں ہیں اور ایک جانب ہر ریاست کے پکوانوں کے سٹال ہیں۔ یہاں ہم نے شمال مشرقی ہندوستان کی ریاست ناگا لینڈ کی مشہور چیز ”مومو“ کھائی جو کچھ چینی اور ہندوستانی کھانے کا امتزاج ہے۔ دہلی ہاٹ سے نکل fatehpur-sikriکر ایک جدید طرز کی شاپنگ مال سے ہوتے ہوئے گھر آگئے۔ شام کو قصد کیا خواجہ نظام الدین اولیاءالمعروف بہ سلطان جی ؓ کی درگاہ کا۔ بستی نظام الدین ایک عجیب مجموعہ اضداد جگہ ہے۔ دہلی کا سب سے صاف ستھرا اور مہنگا علاقہ بھی یہی ہے اور سب سے گندا اور کثیف بھی۔ ہم عالی شان کوٹھیوں کے سامنے سے گزرتے ہوئے یک دم ایک تنگ و تاریک، ٹیڑھی میڑھی گلیوں اور کیچڑ سے بھرے کوچوں کی بھول بھلیوں کے عین سامنے جا کھڑے ہوئے۔ جوں جوں مزار کے قریب ہوتے گئے راستہ تنگ سے تنگ تر، فضا کثیف اور ہجوم میں اضافہ ہوتا گیا لیکن جیسے ہی احاطے کی چوکھٹ پار کی تو گلاب کی خوشبو سے معطر تازہ ہوا کے جھونکے نے استقبال کیا۔ عین سامنے نادر روزگار ہستی ، بے مثال شاعر و موسیقار اور سلطان جی ؓ کے محبوب مرید حضرت امیر خسرو کا مزار تھا

سرمن فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

آگے بڑھیں تو حضرت نظام الدین اولیا کے مزار کا مرکزی احاطہ ہے جہاں ایک چھوٹا سا گروہ، ایک معمر استاد کی سرکردگی میں خسرو کا کلام بطرز قوالی گا رہا تھا۔ صرف ڈھول کی تھاپ اور ہارمونیم کی سنگت اور مائیکرو فون کی غیر موجودگی میں اس گانے میں ایسی جاذبیت تھی کہ گویا زمین نے پاﺅں پکڑ لیے ہوں۔ بمشکل فاتحہ پڑھی اور آکر ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ، گرمی اور زمین پر حشرات الارض کی موجودگی کے باوجود کوئی گھنٹہ بھر ہم سب میں سے کوئی نہ ہلا۔

fatehpur-sikri-2بہ یک آمدن ربودی، دل و دین و صبر خسرو
چہ بودا اگر بہ ایساں دوسہ بار خواہی آمد

اگلے روز منہ اندھیرے پھر میزبانوں پر سے پھلانگتے ہم ریلوے سٹیشن کی جانب رواں دواں تھے جہاں سے ہمیں بھوپال کے لیے شتابدی ریل گاڑی پکڑنا تھی۔ ذرا سے انتظار کے بعد پلیٹ فارم پر ہمیں اپنے پاکستانی وفد کے باقی ارکان دکھائی دے گئے جو ایک روز پہلے براستہ سڑک دہلی پہنچے تھے۔ ان سے معلوم ہوا کہ انہیں اور بس کے باقی مسافروں کو پاکستانی کسٹم اور امیگریشن حکام نے بلاوجہ کئی گھنٹے ذلیل کیا اور ایک مرحلے پر تو پانچ سوروپے رشوت دینی پڑی۔ اس کے برخلاف ہمارے ساتھیوں کے بقول بھارتی اہلکار ان کے ساتھ نہایت خندہ پیشانی اور مستعدی کے ساتھ پیش آئے اور پندرہ بیس منٹ میں سب کو فارغ کر دیا۔

تقریباً آٹھ گھنٹے کے سفر کے دوران مسلسل بارش ہوتی رہی اور ہم اترپردیش، راجستھان سے گزرتے ہوئے مدھیہ پردیش میں داخل ہو گئے۔ راستے میں گاڑی آگرہ، گوالیار اور جھانسی کے تاریخی شہروں پر ذرا ذرا سی دیر کو رکی۔ نظارے دیکھتے، دوستوں سے گپ لڑاتے اور بھارتیہ ریل کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے آٹھ گھنٹے کا پتہ بھی نہ چلا اور اڑھائی بجے ہم مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں تھے۔ ایک بس میں بیٹھ کر ہم مضافات میں واقع شیاملا ہل کے علاقے میں ”جہاں نما Diwani-i-Khas1پیلس“ ہوٹل پہنچ گئے۔ ہم نے اور ہمارے پرانے دوست اور برازیل، چین روس اور آرمینیا کے ہم سفر رفیع غوث نے ایک کمرے میں سامان ڈالا، ذرا سا آرام کیا اور بھوپال کی فضا میں سانس لینے نکل کھڑے ہوئے۔

بھوپال پہاڑیوں پر بنا ہوا ایک سرسبز و شاداب شہر ہے ۔ بعض حصوں پر ایبٹ آباد یا مری کا گمان گزرتا ہے۔ شہر برصغیر کے اکثر شہروں کی طرح پرانے اور نئے حصے پر مشتمل ہے۔ ہم نے اردو ادب کی تاریخ میں اردو کی ابتدائی شاعری کے نمونے میں پڑھا تھا۔

تال ہے بھوپال تال باقی سب تلئی ہیں

بھوپال تال ایک چودہ کلومیٹر لمبی اور اوسطاً ساڑھے چار کلومیٹر چوڑی میٹھے پانی کی حسین و جمیل جھیل ہے جسے بارہویں صدی میں راجہ بھوج نے بنوایا تھا۔ بھوپال شہر اسی جھیل کی مغربی سمت پر واقع ہے۔ تقریباً دو تین صدی پیشتر یہاں ایک افغان خاندان کا تسلط ہو گیا اور رفتہ رفتہ یہ ایک خودمختار ریاست کی شکل اختیار کر گئی۔ انیسویں صدی میں اس خاندان کی قیادت خواتین کے ہاتھ آگئی اور آزادی ہند تک ان بیگمات نے اس ریاست پر بڑے طمطراق سے حکومت کی۔ آج بھی اس خاندان کے لوگ سرحد کے دونوں جانب اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان میں سابقہ سیکرٹری اور کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار محمد خان اور بھارتی فوج کے میجر جنرل وجاہت حبیب اللہ خان قابل ذکر ہیں۔

Jodha-Bai-Palace-Fatehpursikri1اگلے روز صبح اس کانفرنس کا آغاز ہوا جس کے لیے ہم ہندوستان آئے تھے۔ اس کا موضوع نجی شعبے کی سماجی ذمہ داری تھا۔ یہ ایک نسبتاً نیا میدان ہے جو کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے کچھ انسانی خدمات اور ذمہ داریوں کو یقینی بنانے سے متعلق ہے۔ بہت سے دوستوں نے مختلف اداروں کے تجربات کو پیش کیا۔ ہمارے پرانے دوست پنکج شکسیریا نے سب سے الگ بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ نظریے کے منافع اندوزی پر مبنی نظام کو بغیر کسی بحث و تمحیص اور تنقیدی جائزے کے من و عن قبول کر لیا جائے۔ محض اس وجہ سے کہ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ وغیرہ اس کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ منافع اور زرمبادلہ لوگوں کی اجتماعی فلاح کا محض ایک راستہ ہے لیکن اگریہ رجحان لوگوں کو پس پشت ڈال کر محض نفع برائے نفع کو فروغ دے رہا ہے تو اس پر کم از کم تنقیدی نظر ڈالنا ضروری ہے۔ پنکج جزائر انڈیمان ونکوبار (جو انگریزی استعمار کے کالے پانی کے طور پر مشہور ہیں) میں سرمایہ دار طبقے کے ہاتھوں ماحولیاتی توازن اور مقامی آبادی کی تباہی کے موضوع پر ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔ یہ دوست 2001 ءمیں پاکستان آئے تھے اور کوئٹہ میں ہمارے مہمان رہے۔ اس وقت انہوں نے بھارت کے مو¿قر جریدے نے ’فرنٹ لائن‘ میں ایک مضمون ’بلوچستان کی پیاس‘ کے عنوان سے لکھا تھا جو دنیا بھر میں سراہا گیا تھا۔

کانفرنس کے دوسرے دن آدھے پاکستانی دوست بھوپال میں 1984ءمیں ہونے والے مشہور عالم ماحولیاتی سانحے کے حوالے سے مطالعاتی دورے پر نکل گئے اور باقی لوگ بھوپال کی جھیلوں کے سلسلے کے بارے میں جاننے کی غرض سے روانہ ہوئے۔ ہم موخر الذکر گروپ کے ہمراہ تھے۔ پتا چلا کہ بھوپال تال کے علاوہ شہر کے 6708925581_0eb8fc0512_oآس پاس دو اور جھیلیں بھی ہیں۔ چند سال پہلے تک بڑی جھیل کو چند بڑے ماحولیاتی خطرات کا سامنا تھا۔ ان خطرات کی اہم وجوہات میں آس پاس دھوبی گھاٹوں کی آلودگی، شہری علاقوں کے گندے پانی کا جھیل میں نکاس اور ہندوﺅں کا اپنی مورتیوں اور مردوں کی راکھ کو جھیل میں بہانا اور مسلمانوں کے فرقہ اہل تشیع کا اس پانی میں تعزیے ”ٹھنڈے کرنے“ کا رواج تھا۔ ان کے علاوہ جھیل کے وسط میں واقع ’تکیہ‘ نامی جزیرے کا آہستہ آہستہ کٹاﺅ بھی جاری تھا۔ بھارتیہ سرکار نے جاپانی بین الاقوامی تعاون بینک سے ایک قرض لے کر چند اقدامات اٹھائے جن میں سرفہرست سیوریج سسٹم کی درستی جھیل کے کناروں سے دھوبی گھاٹوں اور کچی آبادیوں کی منتقلی ہیں۔ سیوریج کے پانی کی صفائی کے لیے ایک پلانٹ لگایا گیا ہے اور صاف شدہ پانی کو ایک ملحقہ چھوٹی جھیل میں جمع کیا جاتا ہے جہا ں سے اسے آب پاشی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔ مورتیوں، مردوں کی راکھ بہانے اور تعزیوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بھی یہی چھوٹی جھیل استعمال ہوتی ہے۔ دھوبیوں کے لیے بھی بڑی جھیل سے ہٹ کر ایک جدید طرز کی کالونی اور کنکریٹ کے گھاٹ تعمیر کئے گئے ہیں۔ پرانے گھاٹوں کی جگہ سرسبز و شاداب پارک اور کنارے کنارے دونوں طرف چلنے والی سڑک منظر کی دلفریبی میں اضافہ کرتی ہیں جبکہ پشتہ بندی اور جھاڑ جھنکاڑ کی صفائی سے جزیرہ ’تکیہ‘ کے حسن کو بھی چار چاند لگ گئے ہیں۔ جھیل کنارے بچوں، جوانوں اور بوڑھوں سب کی تفریح اور تعلیم کے لیے آبی ذخائر کی اہمیت اور بھوپال کی جھیلوں سے متعلق معلومات پر مبنی ایک چھوٹا سا عجائب گھر بھی بنایا fatehpursikiri20110708گیا ہے جہاں ماڈلز، تصاویر، مجسموں، فلموں اور ذہنی آزمائش کے کھیلوں کے ذریعے آگہی پھیلائی جاتی ہے ۔ اس پراجیکٹ کے ماہر آبی حیات ڈاکٹر نندی ہمیں اس لیبارٹری کے دورے پر بھی لے گئے جہاں پانی کے نمونوں کا تجزیہ کر کے جھیل کے انتظام کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ جھیل کے ایک کنارے کے ایک حصے کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا ہے جہاں جنگل جانور بے خوف و خطر چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔

یہ انتظامات دیکھ کر چاروناچار ذہن اپنے ملک کی جھیلوں کی سمت لوٹ جاتا ہے جن میں سے کم از کم تین یعنی راول، ہالیجی اور منچھر کی حالت زار ہم نے دیکھ رکھی ہے۔ ان کی تباہی کے اسباب میں سرفہرست سیاسی بے حسی، بدعنوانی اور بااثر افراد کی بدمعاشی ہیں۔ تکنیکی حل تو شاید ہر مسئلے کا نکل آئے مگر بدنیتی کا علاج کسی مشین کے بس میں نہیں۔ امانت داری اور جواب دہی کا کلچر جس طرح کے جمہوری ماحول میں پروان چڑھتا ہے بدقسمتی سے وطن عزیز اس سے کوسوں دور جا پڑا ہے۔

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

شام کو پاکستانی دوستوں کے دوسرے گروپ سے ملاقات ہوئی جو مشہور زمانہ سانحہ بھوپال کے اسباب اور اثرات کی کھوج میں نکلا تھا۔ دوستوں کو یاد ہو گا کہ 1984 ءکے آخر میں بھوپال میں واقع امریکی کمپنی یونین کاربائیڈ کے کیڑے مار ادویات کے کارخانے سے اچانک بڑی مقدار میں میتھائل آئسو سائنائیڈ نامی زہریلی گیس کا اخراج ہو گیا تھا جس سے فوری طور پر بیس ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ تقریباً چار ہزار لوگ حادثے کے فوراً بعد یا چند روز کے اندر ہلاک ہو گئے ۔ اندھے پن اور پھیپھڑوں کے مستقل ناکارہ ہونے کا شکار بھی ہزاروں میں تھے۔ دوستوں کی تحقیقات کے مطابق کارخانے میں اس قسم کے حادثے کی روک تھام کے لیے پانچ dargah-at-fatehpur-sikriمختلف مراحل میں حفاظتی انتظامات موجود تھے مگر مناسب دیکھ بھال اور متعلقہ محکموں کی توجہ کی کمی کی بنا پر سب کے سب ناکارہ پڑے تھے۔ حادثہ ہوتے ہی کارخانے کے امریکی افسران موقع سے غائب ہو گئے۔ سرکاری مشینری نے وقتی اور ہنگامی امداد کے لیے کچھ اقدامات کئے جو یقینا حادثے کی ہولناکی کے پیش نظر ناکافی تھے۔ کچھ لوگ ہندوستان کے مختلف حصوں بلکہ بیرون ملک سے رضاکارانہ امداد کے لیے پہنچ گئے۔ ان میں سے ایک ساتھی رام سارنگیا ہیں جو ہندو یونیورسٹی بنارس میں ممتاز طالب علم تھے اور رضاکارانہ کام کے لیے بھوپال آئے تھے مگر متاثرین کی مدد کا سلسلہ یہاں تک دراز ہوا کہ وہ یہیں رہ پڑے اورآج تک حادثے کے شکار لوگوں کی فلاح و بہبود کا ایک ادارہ چلا رہے ہیں۔

بعد ازاں بھارتی سرکار نے حادثے کے تمام متاثرین سے مختار نامہ لے کر ان سب کی جانب سے یونین کاربائیڈ پر پانچ بلین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا۔ طویل مقدمے بازی کے بعد فیصلہ آنا ابھی باقی تھا کہ سرکار اور یونین کاربائیڈ کے مابین عدالت سے باہر سمجھوتہ ہو گیا جس کے تحت کمپنی محض چار سو ستر ملین ڈالر ادا کرنے کا وعدہ کر کے مستقبل کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد ہو گئی۔ اخباری اطلاعات سے پتا چلا کہ اس رقم میں سے اکثر کی ادائیگی ابھی تک متاثرین کو نہیں ہو پائی ہے۔ اب بھی لوگ، غیر سرکاری تنظیمیں اور سماجی کارکن وقتاً فوقتاً فیکٹری کی باقیات کے باہر جمع ہو کر اس المناک واقعے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔ دوستوں نے بتایا کہ کارخانے کے اندر اب تک زہریلے مادے کے ڈھیر جابجا پڑے ہوئے ہیں جس سے زیر زمین پانی کے آلودہ ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

شام ڈھلے مشہور ماحولیاتی ادارے ”گرین پیس“ کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم ”ہزاروں بھوپال“ دکھائی گئی۔ ادارے کے کارکن بھارت کے طول و عرض میں واقع سرکاری اور نجی کارخانوں اور کان کنی کے مراکز میں گئے اور دکھایا کہ یہ ادارے کیسے اپنا زہریلا مواد فضا، آبی ذخائر اور زمین میں پھینک رہے ہیں اور کیسے ان کے اطراف میں رہنے والے لوگوں کی صحت اور روزگار پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ رات کو پروفیسر اصغر وجاہت کا لکھا ہوا سٹیج ڈرامہ ’جس نے لاہور نہیں دیکھیا“ قریب واقع گاندھی بھون میں دکھایا گیا۔ یہ تقسیم برصغیر کے نتیجے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے انسانوں کے درمیان پیدا ہونے والی محبت اور نفرت کی کشمکش کو نہایت سادہ لوح اسلوب میں بیان کرتا ہے۔ فنکاران ہمارے ہندوستانی ساتھی راہل چندریکر کی کوششوں سے پونا سے آئے تھے۔ کردار نگاری نہایت 269527_2079657944352_4217957_nعمدہ تھی۔

اگلے روز دن کو ہم اور رفیع غوث پرانے بھوپال کی جانب چل پڑے۔ ہمیں کسی سے پتا چلا تھا کہ 1935ءکے زلزلے کے شکار کچھ لوگ کوئٹہ چھوڑ کر بھوپال میں آکر بس گئے تھے اور شاید قاضی پورہ نامی محلے میں رہتے تھے۔ پوچھ تاچھ سے پتا چلا کہ قاضی پورہ کے اکثر پرانے مکین جائیدادیں بیچ کر مضافات میں بس گئے ہیں۔ بھوپال میں واقع تاج المساجد ہندوستان کی بڑی مسجدوں میں سے ایک ہے۔ اس کا نظارہ کیا۔ ایک عجیب بات یہ نظر آئی کہ احاطے کے دروازے پر موجود جن بڑے میاں نے ایک رجسٹرمیں ہمارا نام درج کیا، وہ اردو بڑے صاف لہجے میں بول رہے تھے مگر اندراجات ہندی رسم الخط میں کر رہے تھے۔ پوچھنے پر فرمایا کہ اردو لکھ تو سکتے ہیں مگر آسانی اور روانی ناگری میں ہی ہے۔ بھوپال سے کئی اخبارات ایسے نکلتے ہیں جن کا ذخیرہ الفاظ خالص اردو مگر رسم الخط ناگری ہے مثلاً ’الکوثر‘ مدینہ‘ جیسے ناموں کی لوحیں ناگری میں دلچسپ لگیں۔

شام کو ہوٹل میں اس کانفرنس کا آخری باقاعدہ سیشن تھا۔ ہم اکثر ایسے رسمی مواقع پر اپنی علاقائی تہذیب کی نمائندگی بلوچستان کا روایتی لباس پہن کر تے ہیں۔ اس کی وجہ سے اکثر بڑے مزیدار اتفاقات پیش آتے ہیں مگر جو واقعہ اس بار بھوپال میں پیش آیا اس کا ہمیں گمان بھی نہ تھا۔ ہوا یوں کہ ہوٹل کی راہداری میں جاتے ہوئے ہوٹل کے ایک اہلکار نے قریب آکر ہلکے سے پوچھا ’آپ پشتو جانتے ہیں’۔ اثبات میں جواب ملنے پر انہوں نے کسی قدر اٹک اٹک کر فرمایا کہ وہ بھی پشتو بول سکتے ہیں مگر ان کے بڑے بھائی صاحب مزید رواں ہیں۔ ان صاحب کا نام عبدالرحمن ہے اور ہوٹل میں کسی اچھے عہدے پر ہیں۔ اگلے روز قبل از دوپہر ملاقات کا وعدہ ہوا اور ہم ہمارے وفد کے اعزاز میں برپا کی جانے والی محفل موسیقی کی جانب چلے گئے۔

(جاری ہے )


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “بولان سے جمنا تک (تیسرا حصہ)

  • 03-03-2016 at 11:43 am
    Permalink

    مزہ آگیا۔
    بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بھارت سرکار تاریخی اور تہذیبیی ورثہ کی حفاظت میں ہماری سرکار سے بہت بہتر ہے۔ اس کی وجہ ان کی بیوروکریسی کا بہتر پیشہ ورانہ معیار ہوگی

  • 03-03-2016 at 7:14 pm
    Permalink

    عثمان صاحب، آثار قدیمہ کے حوالے سے وہاں صورت حال بدرجہا بہتر ہے. بد خواہوں کا کہنا ہے کہ بنیا جانتا ہے کہ ٹورسٹ انہی چیزیں کی خاطر آتا ہے اور زر مبادلہ لاتا ہے. ہم بھلا دنیاوی مفاد جیسی حقیر چیز کے لئے صنم پرستی کیوں کرنے لگے؟ ہاں، اگر بت شکنی ہو، اور ساتھ آسانی سے ہاتھ آنے والا خزانہ بھی، تب ہمارے جوہر دیدنی ہوں گے. کم سے کم ممتاز تاریخ دان اور محقق حضرت نسیم حجازی تو یہی بتاتے ہیں. تفنن بر طرف، بھارتی بیورو کریسی میں اور ہزار خرابیاں ہم جیسی یا بد تر ہوں، گردن کے سریے کی شدید کمی پائی جاتی ہے.

Comments are closed.