حسین نقی سے باتیں (3)


بھٹو کے ساتھ جو ہوا ان کا مقسوم تھا

مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہونے پر بھٹونے کہا کہ شکر ہے! پاکستان بچ گیا۔ فلیٹزہوٹل میں پریس کانفرنس کرنے آئے تو میں نے کہا کہ ’آپ نے تاریخ پڑھی ہے اورآپ سے بہترکوئی نہیں جانتا کہ پاکستان نہیں بچا۔ اس پر بولے: نہیں نہیں ہم کو حکومت دے دی جائے تو معاملات سدھار دیں گے۔ میں بولا” حکومت بنانا آپ کا حق ہی نہیں، اس لیے آپ کو کیوں دی جائے؟“ بھٹونے یحییٰ خان سے ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیرخارجہ کے عہدے لیے، جو بڑی غلط بات تھی۔ حنیف رامے سے میں نے بعد میں کہا بھی کہ اپنے لیڈر سے کہو، انھیں اقتدار مل گیا لیکن پاکستان نہیں بچا۔ بھٹو کے ساتھ جو ہوا میری نظر میں وہ ان کا مقسوم تھا۔ انھوں نے شیخ مجیب کو اقتدار دینے کی مخالفت کرکے جمہوری نظام سے دغا کیا۔ اسمبلی کا اجلاس نہ ہونے دیا اور باقاعدہ دھمکی دی کہ جواس میں شریک ہوگا، وہ اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ بھٹو کا الیکشن کے بعد مجیب سے پاور شئیر کرنے کا مطالبہ غلط تھا۔

میں نے ان سے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ایک پارٹی نے اکثریت حاصل کی ہے، حکومت بنانا اس کا جمہوری حق ہے، آپ مضبوط اپوزیشن ہوں گے، اس لیے سیاسی نظام میں بڑا توازن ہوگا۔ مجیب کو اقتدار اس لیے نہیں دیا گیا کہ ایک تو انھوں نے زرعی اصلاحات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ دوسرے ان کا موقف تھاکہ جب تک مشرقی پاکستان کی آبادی کے لحاظ سے۔ فوج اور بیوروکریسی میں ملازمت کا تناسب برابر نہیں ہوجائے گا، مغربی پاکستان سے بھرتی نہیں ہوگی، اس باعث پیپلز پارٹی، بیوروکریسی اور فوج کی تگڈم بن گئی۔ بھٹو بیوروکریسی اور فوج سے ملے ہوئے تھے۔ پیپلز پارٹی کو چاہیے تھا کہ پارلیمنٹ میں جاتی اور ادھر concession مانگتی، لیکن یہ لوگ حکومت میں شامل ہونا چاہتے تھے، اور اس قسم کی ڈیل چاہتے تھے جس میں یحییٰ صدر، مجیب وزیراعظم اور بھٹو وزیرخارجہ ہوں، تو یہ سب چیزیں تو نہیں ہوسکتی تھیں۔ یحییٰ خان نے بھٹو کو استعمال کیااور ان کے تعاون سے اجلاس ملتوی کرایا۔ یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان میں جو ڈھونگ ضمنی الیکشن کرایا، اسے پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی دونوں نے سپورٹ کیا۔

 سعودی سفیرکو مذاکرات میں ڈالنا بیوقوفی تھی

بھٹونے جاگیرداروں کو ساتھ ملایا۔ پارٹی کا آرگنائزیشن نہیں بننے دیا۔ پیپلز پارٹی کو لشکرکے طور پر رکھا۔ صوبائی حکومتیں غیرقانونی طور پر ختم کیں۔ جنگی قیدیوں نے مشرقی پاکستان میں جو کچھ کیا، ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا لیکن کسی پر مقدمہ نہیں چلایا۔ کم سے کم جو اوپر کے لوگ تھے، ان کا ٹرائل تو کرتے۔ 1977ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو سادہ اکثریت تو مل ہی جاتی لیکن دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی سے دھاندلی کرائی گئی۔ بھٹو نے خود کو بلامقابلہ منتخب کرایا۔ جان محمد عباسی کو اغوا کرایا، آخر وہ بھٹو کے مقابلے میں کتنے ووٹ حاصل کر لیتے۔ بھٹوکی تقلید میں وزرائے اعلیٰ بھی بلامقابلہ منتخب ہوگئے۔ پی این اے کی تحریک کے دوران بھٹو نے ناراض دوستوں سے مشورے کے لیے رابطے شروع کئے، اس ضمن میں راﺅ رشید ملنے آئے تو میں نے ان سے کہا کہ بھٹو سے کہیں دھاندلی میں ملوث تین وزرا کو گرفتارکریں۔ بھٹو اپنی کرسی مضبوط ہونے کی بات کرتے رہے، جو بالکل غلط تھی۔ انھیں ہٹانے کے لیے باہر سے پیسہ بھی آیا۔

امریکا اور سعودی عرب کی قربت ظاہرتھی۔ اس لیے پی این اے کی تحریک کے دوران سعودی سفیرکو بیچ میں ڈال کر بھٹو نے بیوقوفی کی، جس وقت معاملات سدھرسکتے تھے، اس وقت مانے نہیں اور کرسی مضبوط ہونے کی بات کرتے رہے۔ کئی سنیئر جرنیلوں کو سپرسیڈ کرکے ضیا جیسے خوشامدی کو آرمی چیف بنانے کی فاش غلطی کا ارتکاب کیا۔ ضیاالحق آرمی چیف بننے سے قبل غالباً جس وقت وہ ملتان میں جی او سی تھے تو لاڑکانہ گئے اور بھٹو کے والد کے مزارپر جھاڑودی، اور ادھرموجود مجاور سے کہا کہ میرے اس عمل کی خبر بڑے صاحب کو ملنی چاہیے۔ کوثرنیازی جیسے آدمی کو وزیراطلاعات بنایا، جس کے بارے میں خود بھٹو صاحب نے مجھے بتایا تھاکہ ایوب دور میں انھوں نے مذہبی سیاسی جماعتوں کی جاسوسی کے لیے ان کے پانچ سو مقرر کرائے تھے۔ فلیٹز میں پریس کانفرنس کے بعد بھٹو نے مجھے روک لیا، ادھر کوثرنیازی بھی تھا، میں نے کہا۔ بھٹو صاحب! یہ وہی آدمی نہیں ہے، جس کے آپ نے پانچ سو مقرر کرائے تھے، بھٹو کہنے لگے، میں اسے ابھی یہاں سے بھیج دیتا ہوں۔ بھٹو نے آواز لگائی، او مولوی ادھر آﺅ، ذرا دو کافیوں اور سینڈوچ کا آرڈر دو، اس پر کوثرنیازی بھاگتا ہوا گیا، حالانکہ وہ فون پر بھی آرڈر دے سکتا تھا۔

زرعی اصلاحات اور بھٹو کے بال

1977ئ میں ہمارا خیال تھاکہ پیپلز پارٹی پڑھے لکھے اور مڈل کلاس کے لوگوں کو ٹکٹ دے گی۔ لیکن پنجاب اور خصوصاً جنوبی پنجاب کے وہ جاگیردارجو بھٹوکے خلاف عملی طور پر سرگرم رہے تھے، جنھوں نے ملتان میں ان کا جلسہ ناکام بنانے کے لیے سانپ اور پانی چھوڑ دیا تھا، انھیں بھٹو صاحب خط لکھ رہے ہیں کہ ان کی پارٹی میں آجائیں کیوںکہ الیکشن وہ جیتے گی۔ میں نے اس سلسلے میں ان سے بات کی تو کہنے لگے، نہیں نہیں، ہم مڈل کلاس کے لوگوں کو بھی ٹکٹ دے رہے ہیں، میں نے کہا کہ ہاں!دس فیصد مڈل کلاس اور باقی سارے فیوڈل۔ بھٹو نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ میں انھیں قیوم خان کی طرح ٹریٹ کرتا ہوں۔ جس پر میں نے کہا کہ ایسی بات نہیں، وہ تو سیاسی مفاد پرست ہے، اس سے تو میں بات بھی نہیں کرتا۔ بھٹو سے میں نے ایک بار پوچھا، آپ بڑی بڑی صنعتیں تو لینا چاہتے ہیں لیکن زرعی اصلاحات نہیں کرنا چاہتے، اس پر کہنے لگے کہ ایوب خان کی اصلاحات سے میرے بال کم ہوگئے، اور اب تم چاہتے ہو، جو بال بچ گئے ہیں، وہ بھی نہ رہیں۔

 پھانسی پر نیپال جیسا احتجاج کہیں اور نہیں ہوا

بھٹو کی پھانسی پر نیپال جیسا احتجاج پاکستان میں بھی نہیں ہوا۔ شاہ بریندرا نے مظاہرین سے کہا کہ وہ ان کا احتجاج حکومت پاکستان تک پہنچائیں گے۔ لوگوں نے بادشاہ کے محل تک بہت بڑا مارچ کیا۔ ایسا نیپالی نیشنل ازم کے تصور کے زیراثر ہوا ہوگا کیونکہ بھٹو نے بھی پاکستانی نیشنل ازم کو ابھاراتھا۔ بھٹو ان کی نظر میں ایسے سیاسی لیڈر تھے، جو تبدیلی کے لیے کام کررہے تھے۔ بھٹو کی پھانسی رکوانے کی کوشش تو بہت سے ملکوں نے کی لیکن پھانسی کے خلاف سب سے بڑا احتجاج نیپال میں ہوا اور یہ بات بہت کم لوگوں کو پتا ہے۔

نقی! تم تو ہر وقت میری مخالفت کرتے ہو

حنیف رامے نے بتایا کہ بھٹو صاحب دانشوروں سے گفت وشنید چاہتے ہیں اس سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی میں انٹرایکٹو قسم کی تقریب ہوگی۔ لیکن ہم ادھرگئے تو ایسا نہیں تھا۔ بھٹو کو ہی تقریر کرنا تھی۔ دوران تقریرجب انھوں نے کہا کہ سرمایہ دار اگر اپنا پیسہ باہر سے واپس لے آئیں تو انھیں کچھ نہیں کہا جائے گا، جس پر میں کھڑ ا ہوگیا اور کہا کہ سرمایہ ان کا نہیں، سرمایہ تو ہمارا ہے، قوم کا ہے۔ اس لیے وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کچھ نہیں کہیں گے۔ ایک بار پھر کوئی بات کی تو میں نے پھر انھیں ٹوکا، اس پر کہنے لگے کہ نقی تم تو ہر وقت میری مخالفت کرتے ہو۔ ادھر موجود پولیس افسر مجھے پکڑنے کے لیے بڑھا تو بھٹو نے اسے منع کردیا اور کہا کہ نقی میرا دوست ہے اور ہمارے درمیان ایسا ہوجاتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کو پارٹی کا سیکریٹری بنانے کی تجویز

ایوب دور میں جب ہم ان کی تعلیمی پالیسی کو ہدف تنقید بنارہے تھے تو ان دنوں مسلم لیگ کنونشن کا اجلاس ہونا تھا، جس کے روح رواں پرانے مسلم لیگی چوہدری خلیق الزماں تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ ہم مظاہرے کررہے ہیں۔ اس لیے کنونشن لیگ کے اجلاس میں بھی کہیں ہم احتجاج نہ کریں۔ انھوں نے طلبہ تحریک کے سارے بڑے رہنماﺅں کو گھر بلایا۔ چوہدری صاحب نے ہم سے فرمایاکہ بھئی تم لوگ کن چکروں میں ہو، پاکستان تو لوٹ مار کے لیے بنا ہے، اس پر میں نے ان سے کہا کہ اس کام میں آپ کافی ماہر ہیں، ہم جو کررہے ہیں، ہمیں کرنے دیں۔ کنونشن لیگ کے اجلاس میں ہم گئے اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس اجلاس میں بھٹو کنونشن مسلم لیگ کے سیکریٹری منتخب ہوئے۔ ادھرانھوں نے ڈپٹی کمشنر کوضلع میں پارٹی کا سیکریٹری اورکمشنر کوڈویڑن میں سیکریٹری جنرل بنانے کی تجویز پیش کی، مطلب یہ کہ وہ بیوروکریسی کو براہ راست سیاست کا حصہ بنانے کی بات کررہے تھے۔ بھٹو صاحب کو میں نے پہلی بار یہیں دیکھا۔

لیفٹ کو مذہب مخالف عناصر سے بھی نقصان پہنچا

 لیفٹ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے پاکستان کا جو مین اسٹریم ہے، اسے جمہوریت سے ہٹنے نہیں دیا۔ پارلیمانی جمہوریت پرفوج کی طرف سے تین بڑے حملے ہوئے، لیکن اس کے باوجود یہ بات وہ راسخ نہیں کرسکے کہ پاکستان میں پارلیمانی طرز حکومت نہیں چل سکتا، اوراس عمل میں لیفٹ کا بڑا بنیادی کنٹری بیوشن ہے۔ لیفٹ آمریت کی مخالفت میں پیش پیش رہا۔ فوجی حکمران کو اگر کبھی سپورٹ کیا بھی تو وہ صرف کسی خاص پالیسی ایکشن پر مثلاً ایوب خان نے امریکا کے خلاف اسٹینڈ لیا تو اسے سپورٹ کیا، یا مشرف نے پارلیمنٹ میں عورتوں کی نمائندگی بڑھائی یا حدودآرڈیننس کو ختم کیا تو لیفٹ نے اسے سپورٹ کیا۔ لیفٹ کی دوسری اہم کامیابی پاکستان میں رجعت پسندانہ سوچ کے بجائے ترقی پسند فکرکی بالا دستی قائم رکھنا ہے، پاکستان میں جو ریلیجو پالیٹکل پارٹیاں ہیں، انھیں انتخابی سیاست میں کبھی بڑی کامیابی نہیں ملی۔

قیام پاکستان کے بعد ہمارا ملک امریکی چنگل میں چلا گیا لیکن اس کے باوجود لیفٹ ختم نہیں ہوسکا، جب کہ اس کے خلاف بڑی قوتیں سرگرم تھیں۔ تقسیم کے وقت سکھوں کے یہاں سے چلے جانے کا پاکستان میں لیفٹ کوبہت نقصان ہوا کیوں کہ وہ لوگ بہت زیادہ سرگرم تھے، لیفٹ نے 46ء کے الیکشن میں مسلم لیگ کو کامیاب کرانے میں اہم کردار اد کیا، پنجاب کے وہ علاقے جو جاگیرداروں کا گڑھ تھے، اور جہاں بڑی بڑی زمینداریاں تھیں، ادھر وڈیروں کے مقابلے میں مسلم لیگ والے تو الیکشن مہم نہیں چلا پاتے تھے، سکھ کمیونسٹ مہم چلاتے، اور کسان کمیٹی جلسوں کا انتظام کرتی۔ لیفٹ سے غلطی یہ ہوئی کہ اس میں ایک عنصر ایسا تھا جو کمیونسٹ اور مارکسٹ نہیں بلکہ مذہب مخالف تھا۔ کمیونزم بنیادی طور تو پر مذہب مخالف فلاسفی نہیں۔ یہ کیپٹلسٹ مخالف فلاسفی ہے۔ کمیونزم کا اصل ہدف تو سرمایہ داری نظام تھا لیکن اس کے بارے میں مذہب مخالف ہونے کے تاثرسے لیفٹ کو نقصان پہنچا۔

سجاد ظہیر کو کمیونسٹ پارٹی کا سیکریٹری بناناغلط تھا

کمیونسٹ پارٹی نے تقسیم کو سپورٹ کیا، اس لیے اسے یہ حق نہیں تھا کہ وہ کسی کو بھی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کا جنرل سیکریٹری نامزد کرے۔ یہ ایک طریقے سے کالونیل سوچ تھی۔ بالادستی جمانے والی اپروچ تھی۔ جب آپ نے تقسیم کو مان لیا، نئے آزاد ملک کو مان لیا تو پھرسجاد ظہیر نہیں یہاں کے کسی رکن کا حق تھا کہ وہ یہاں کے ارکان کی مرضی سے جنرل سیکریٹری بنتا۔ اور یہ کمیونسٹوں کا بنیادی اصول رہا ہے کہ جو لوگ گراﺅنڈ پر ہوں وہ فیصلہ کریں گے، لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ اس لیے میرا خیال ہے سجاد ظہیر کوامپوز یا انفورس کرنا بنیادی غلطی تھی، جس کویہاں مانا گیا، اس زمانے میں لوگ اس بات کے مخالف تھے لیکن کمیونسٹ ڈسپلن میں یہ کہنا ممکن نہیں تھا۔ کمیونسٹ پارٹی یہاں متحد نہیں رہی۔ ایک تو چھوٹی تنظیم، اور اس میں بھی اتنے گروہ بن گئے، جس سے نقصان ہوا۔ یہاں کی انٹیلی جنس سروس نے ان میں اپنے بہت سے لوگ داخل کردیے، جس نے تقسیم کو اور بھی گہرا کردیا۔ طالبان کے سامنے بھی وہ جمہوری قوت کھڑی ہوسکتی ہے۔ جس کو لیفٹ سپورٹ کررہا ہو۔ ہندوستان میں مڈل کلاس فاشزم کی طرف بڑھ رہی ہے، اس لیے لیفٹ کوچاہیے جمہوریت مضبوط بنائے، ہندوستان میں آرمی چیف کبھی اتنا vocal نہیں ہوا، جتنا اب ہے۔ اندراگاندھی کے سامنے جب آرمی چیف نے کچھ کہا تھا تو اس نے فوراً اسے ہٹادیا تھا۔

جماعت اسلامی نے ایوب کی مخالفت کیوں کی؟

جماعت اسلامی پاکستان بننے کی مخالفت تھی، اس لیے وہ ایوب خان کی مخالفت کرکے خود کوrecognizeکرانا چاہتی تھی، مادر ملت۔ قائد اعظم کی بہن تھیں، اس لیے ان کی حمایت سے وہ پاکستان مخالف جماعت کا تاثر زائل کرکے پاکستانی سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی کوشش میں تھے، اس لیے، مولانا مودودی جوعورت کی حکمرانی کے خلاف تھے، انھوں نے فاطمہ جناح کی حمایت کی اور کہا کہ ایک طرف عورت ہے، جس میں عورت ہونے کے علاوہ کوئی خامی نہیں۔ اور دوسری طرف مرد ہے، جس میں مرد ہونے کے سوا خوبی نہیں۔ مادرملت کا ساتھ دے کر وہ پاکستانیت کو قبول کررہے تھے۔ جماعت اسلامی نے ایوب خان کوبعد میں سپورٹ بھی کیا۔ فوج کے وہ اس لیے حامی ہوئے کہ اسٹیبلشمنٹ میں داخل ہوسکیں۔ ایوب خان سے قبل یہ لوگ بیوروکریسی میں اپنا رسوخ بڑھاتے رہے تھے، فوجی حکومت آگئی تو انھیں اندازہ ہوگیاکہ طاقت کا اصل مرکز فوج ہے، تو یہ اس طرف جانے لگے۔ ان کی طرف سے ایوب کی حمایت کا سلسلہ جنگ ستمبر سے پہلے شروع ہوگیا تھا۔ ایوب خان کے آنے کے بعد اس لیے بھی سپورٹ نہیں کیا کہ فوجی حکومت کو پسندیدہ نظروں سے نہیں دیکھا گیا تھا۔ مشرقی پاکستان تو سارا اس کے خلاف تھا اور جماعت اسلامی کی تھوڑی موجودگی ادھر بھی تھی۔ ایوب کے بعد جماعت اسلامی نے یحییٰ خان کا ساتھ دیا۔ ضیا الحق کے دور میں تو فوج میں ان کا رسوخ بہت زیادہ بڑھ گیا۔

اصغر خان فوج کے ہاتھوں استعمال ہوئے

 یحییٰ خان کے دور میں نظریہ پاکستان کی اصطلاح کا جو بہت زیادہ ذکر ہونے لگا تو اس میں جنرل شیر علی خان کے ساتھ ساتھ اصغر خان کا بھی کنٹری بیوشن تھا۔ نظریہ پاکستان کی تھیوری امریکی، سعودی اور اس وقت کی پاکستانی حکومت سب کے مفاد میں تھی، سب نے اس سلسلے میں اپنا حصہ ڈالا۔ کیوں کہ اس زمانے میں وہ باقاعدہ اس کوشش میں تھے کہ پاکستان کو بالکل رائٹ کی طرف جھکا دیا جائے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، اصغر خان نے نظریہ پاکستان کے حق میں چودہ مضمون لکھے۔ اس کام میں شیر علی پیش پیش تھے، وہ مضامین کا پورا متن جاری کراتے۔ نفس مضمون ان تحریروں کا یہی ہوتا کہ پاکستان کو نظریاتی مملکت ثابت کیا جائے۔ اصغر خان سرکاری افسر شاہی میں ایماندار تھے، سیاسی طور پر ناسمجھ تھے۔ وہ شروع میں بھٹو کی حمایت میں آئے لیکن ان کے اقتدار میں آنے پر راستہ الگ کرلیا۔ پی این اے تحریک میں تو انھوں نے حد کردی، جنرل نیازی جلسوں میں قیادت کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ پی این اے کی تحریک کے پیچھے امریکا کا ہاتھ تھا۔ بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے کی بات بھی وہ کرتے رہے۔ وہ فوج کے ہاتھوں استعمال ہوئے، وہ سمجھ رہے تھے کہ پی این اے تحریک کے بعد اقتدار ان کے پاس آئے گا۔ جب وہ فضائیہ کے سربراہ بنے اس وقت ایسے بڑے فیصلوں میں امریکا کی رائے شامل ہوتی تھی، امریکا اگر ان کے خلاف ہوتا تو وہ یہ عہدہ نہ حاصل کر پاتے۔

ہندوستانی مسلمان۔ پاکستان سے کب مایوس ہوئے؟

تقسیم سے قبل مسلم لیگ کی قیادت کے ساتھ ہندوستانی مسلمان اس لیے جذباتی طورپر وابستہ تھے۔ کہ ان کا خیال تھا، انگریزوں نے اقتدار مسلمانوں سے لیا اور اب جب وہ واپس آرہا ہے تو ان کے پاس جا رہا ہے، جن کے پاس نہیں تھا۔ کچھ ظاہر ہے، جیسے مسلمانوں میں عصبیت تھی، ویسے ہی ہندوﺅں کے ایک حلقے میں بھی تھی۔ ہندو مہاسبھا تھی۔ شدھی کی تحریک چلائی گئی۔ تقسیم کے بعد جو مسلمان پڑھ رہے تھے یا کوئی تعلیم مکمل کرچکتا تو اس کی خواہش پاکستان جانے کی ہوتی۔ ہندو بھی کہتے تھے کہ بھئی! تم یہاں کیوں رہ رہے ہو؟ اب تم نے پاکستان بنا لیا ہے تو وہاں جاتے کیوں نہیں؟ یوپی کے مسلمانوں نے یہ نعرے بھی لگائے کہ سینے پہ گولی کھائیں گے، پاکستان بنائیں گے۔ لے کر رہیں گے پاکستان، بن کر رہے گا پاکستان۔ چٹیا راج نہیں چلے گا۔ دھتیا راج نہیں چلے گا، وغیرہ وغیرہ۔

1947ء کے فوراً بعد ہی ہندوستانی مسلمانوں کو امتیازی رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس زمانے میں جو تعلیم یافتہ ہے، وہ تو پاکستان آرہا ہے، اور اس کے آنے کی وجہ ہے کہ اسے ادھر نوکری نہیں مل رہی، سوائے چند پیشوں کے، مثلاً انجینئرنگ وغیرہ میں۔ جیسے میرے بھائی نے علی گڑھ سے انجینئرنگ کیا تو انھیں نوکری مل گئی۔ لوگ کہتے تھے کہ پاکستان جاﺅ یہاں تم کیا کررہے ہو۔ اس صورت حال میں لوگوں نے کاروبار کیا، اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ اس سے پہلے تو نادرن انڈیا کے مسلمان تو کاروبار میں نہیں تھے، سوائے ایک دو شہروں کے۔ مسلمانوں نے کاروبار میں ترقی کی۔ جس سے تقسیم کے بعد کئی جگہوں پر فساد ہوا۔ مثلاً بریلی میں ہوا۔ لکھنو میں جہاں تقسیم کے وقت بھی فساد نہیں ہوا ادھر بھی فساد ہوا۔ ہندوستانی مسلمانوں کی پاکستان سے امید 65ء کی جنگ کے بعد بھی قائم رہی۔ 1971ء کی جنگ کے بعد وہ پاکستان سے مایوس ہوئے، جب انھوں نے دیکھا کہ ہم نے مشرقی پاکستان میں مسلمانوں کو مارا۔ عورتوں کا ریپ کیا۔ اور اب تو ہندوستانی مسلمان ہماری طرف بالکل بھی امید کے نگاہ سے نہیں دیکھتے۔

ایوب خان مسکرا کر چل دیے

 ایک بار ایوب خان شکار کے لیے حیدرآباد آئے، تو میں رپورٹنگ کے لیے ائیرپورٹ گیا، اس زمانے میں دو تین صحافیوں کو ہی اجازت ہوتی تھی، ایوب خان نے کہا کہ آپ نے کوئی سوال نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ ہم کیوں آپ کا شکارخراب کریں، وہ کہنے لگے نہیں آپ سوال پوچھیں، اس پر ہم نے کہا کہ آج کل بڑی خبریں ہیں کہ کواپریٹو کے لاکھوں روپے لوگ واپس نہیں کررہے ہیں، اور اس میں آپ کے دوست بھی شامل ہیں۔ کہنے لگے”میرے کون سے دوست؟ کوئی نام؟ میں نے کہا کہ ہاں نام ہیں۔ آپ کے دوست بہاولپور کے حسن محمود اس معاملے میں ملوث ہیں۔ اس پرایوب خان مسکرا کر چل دیے۔ میرے سوال پوچھنے پر کمشنر مسرور حسن خان ناراض ہوئے اور پی پی آئی کے معظم علی سے میرے بارے میں کہا کہ یہ تم نے کس کو بھیج دیا۔ یہ بندہ ٹھیک نہیں ہے، پہلے تو سیدھا سا آدمی تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

Comments are closed.