مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آتی!


جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد سے مسلم لیگ نواز کے اراکین کی جتنی پریس کانفرنسز دیکھیں، ایک ہی بات سمجھ میں آئی کہ سیاسی بیانات کی زبان ہی کچھ اور ہے جو خالصتا عام شہری اور بالخصوص عام ووٹر کے لئے بولی جاتی ہے۔ قانونی اور حکومتی معاملات کو سمجھنے والے اس پر محض تلملا سکتے ہیں یا بے بس ہو کر ہنس سکتے ہیں۔

 مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ معاملہ جو کہ ایک خاندان کی کرپشن کا معاملہ ہے، حکومتِ پاکستان اس میں ہر وقت پوری شدّومدّ کے ساتھ شریک کیوں ہے؟ یہ وزرا جو حکومت کے وزرا ہیں، اپنے سارے کام دھندے چھوڑ کر صرف میڈیا میں بیانات دینے کیوں حاضر ہو جاتے ہیں؟ کیا کوئی قانون، کوئی آئینی نقطہ ایسا نہیں کہ ان سے نہ صرف یہ سوال کیا جائے بلکہ ان کے ہر معاملے میں شریف خاندان کے محافظ بننے پر پابندی عائد کی جائے؟ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمارے یہاں حکومت اور منتخب پارٹی کے درمیان تمیز رکھنے کی کوئی روایت اب تک کیوں نہ پڑ سکی؟

سمجھ میں تو میری وہ ’فو رنسک‘ کمنٹ بھی نہیں آیا جو جے آئی ٹی کی رپورٹ کو متنازعہ بنانے کے لئے محترم جناب سعد رفیق صاحب نے کیا ۔ فرماتے ہیں کہ اتنی ضخیم رپورٹ دو ماہ میں 24 گھنٹے کام کیا جائے تو بھی تیار نہیں کی جا سکتی ۔میرا تو خیال ہے کہ آدھے سے زیادہ کام تو تب ہی ہو چکا تھا جب سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں شریف خاندان پر بے اعتمادی کا اظہار کر دیا تھا۔ باقی رہ گیا تھا اس پرمزید انوسٹیگیٹ کرنا قانونی اور فورنسک طریقوں اور مذکورہ ممالک کی منسٹریز سے رابطے کر کے، جس کے لئے جے آئی ٹی بنائی گئی تھی۔۔ تو یہ کام اتنے وقت میں ہو جانے پر شک ظاہر کرنا عوام کے سامنے اس رپورٹ کو متنازع کرنے سے زیادہ کچھ دکھتا نہیں۔ ہاں البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ بد عنوانیوں کے نئے انکشافات نے کام واقعی بڑھا دیا ہو گا۔ بحیثیت ایک حکومتی وزیر ہونے کے سعد رفیق صاحب، آپ کو تو جے آئی ٹی کی پرفارمنس پر داد دینی چاہئے تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ رپورٹ میں جو انکشافات کئے گئے ہیں، بات ان پر کیوں نہیں کی جا رہی ا تنے ہی مدلل انداز میں اور ثبوتوں کے ساتھ جتنی کہ ’مخالفین‘ شریف فیملی کے خلاف کر رہے ہیں؟ ایسا میں اس لئے کہہ رہی ہوں کیونکہ اپنی صفائی میں جو دلائل اور ثبوت ملزم خود پیش کر سکتا ہے اور کو ئی نہیں کر سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ  The best book on Timon of Athens is Timon of Athens۔ کاش کہ اعتراضات کی بجائے کوئی متاثر کن حقائق آپ کی طرف سے بھی سامنے آئے ہوتے۔ ہم اب بھی منتظر ہیں کہ معاملات دوبارہ سپریم کورٹ کے ہاتھ ہیں۔ آپ کے پاس وقت بھی ہے۔ امید ہے جے آئی ٹی کے ہر ’الزام‘ کا مع ثبوتوں کے جواب دیا جائے گا۔ وقت کی قلت یقینا مانع نہ ہو گی کیونکہ جب سے یہ معاملات چل رہے ہیں اہلیانِ شریف بھی تو خود کو سچا ثابت کرنے کو کچھ ثبوت منظر عام پر لانا چاہتے ہوں گے۔

آج جب اپنے وزیر قانون محترم رانا ثنااللہ صاحب کی بات سنی مریم نواز کے پیش کردہ دستاویزات میں ’کیلبری فونٹ‘ میں کی گئی ٹمپرنگ کے حوالے سے تو افسوس ہوا کہ آپ ’فونٹ ‘ کو ’ فون‘ کہہ رہے تھے۔ افسوس آپ کی ’کیلبری فونٹ‘ سے لاعلمی پر نہیں ہوا بس اس بات پر ہوا کہ بات سمجھ آئے یا نہ آئے آپ ڈٹے ہیں شریف خاندان کے ڈیفنس منسٹر بن کے۔ اس اندھی تقلید کو بھی کیا کہئے؟ خیر، مسلم لیگ نون کے حامیوں نے اس پر ریسرچ کر کے رپورٹ بھی پیش کر دی کہ 2007میں یہ فونٹ آفیشلی آیا تھا مگر 2004 میں اس کا downloadable version مریم نواز استعمال کرنے کی اہل تھیں۔ اتنی up- to- dateness جان کر بے حد خوشی ہوئی۔ مگر ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ 2017 تک ہمارے وزیر قانون اس فونٹ سے نابلد کیوں رہے؟ ہمارے یہاں حکومتی وزرا کی ٹریننگ کا کوئی سلسلہ کیوں نہیں؟ نئے ٹرینڈز سے انھیں متعارف کرانے پر کام کیوں نہیں کیا جاتا؟ ان کے علم کو  upgrade کیوں نہیں کیا جاتا؟ یہ بات اس لئے باعث تشویش ہے کیونکہ انھیں لوگوں کے ہاتھ ہمارے ملک کی باگ ڈور ہے۔ ہم انھیں با علم اور با خبر دیکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ ہمارے حکومتی وزرا اس میں خاصی کاہلی کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور پھر یہ بات تو اتنی ایڈوانسمنٹ کی بھی نہیں کہ اس لاعلمی کو نظر انداز کیا جائے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کیا کسی معاملے پر کمنٹ کرنے سے پہلے ایک نئے لفظ یا معاملے کی حقیقت کوجاننے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی؟ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے حکومتی اراکین اس بات کی ذمہ داری محسوس کریں کہ ان کا ہر لفظ، ہر بات دراصل عوام کی تعلیم کرے۔

جے آئی ٹی رپورٹ کو ’عمران نامہ‘ قرار دیا گیا۔ ایسا لگا کہ 1947 کا دور لوٹ آیا ہے ۔ جب قرارداد تو ایک الگ ملک کے لئے پیش ہوتی ہے مگر لفظ ’پاکستان‘ اس کے متن میں استعمال نہیں ہوتا پھر بھی اسے’ قرار داد پاکستان ‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے اور’پاکستان‘ بن کے رہتا ہے۔ یقین جانئے کہ احسن اقبال صاحب کے منہ سے طنزیہ طور پر کہے یہ الفاظ سن کر دل میں امید ضرور جاگی ہے۔ امید ایک نئے پاکستان کی۔ امید اس بات کی کہ اس طرح کے احتساب کا عمل اب ہمارے ملک میں جاری رہے گا۔ نام کسی کا بھی آئے، ایک احسن عمل کا آغاز ہے، اسے جاری رہنا چاہئے اور اس سے کسی کو بالا نہ سمجھا جائے خواہ عمران خان صاحب ہی کیوں نہ ہوں۔

ویسے یہبات بھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ پانامہ پےپرز کے انکشافات اور خود وزیر اعظم صاحب اور انکے اہلِ خانہ کے مےڈیا پر موجود بدلتے بیانات ہی کیوں کافی نہیں ہیں ان کی قوم سے دھوکہ دہی سمجھنے کی لئے؟ ہمیں دیگر مباحث میں الجھنے کی ضرورت ہی کیوں ہے؟

 سمجھ میں یہنہیں آتا ایک فرد یا خاندان کی کرپشن کا دفاع پوری پارٹی کیوں کر رہی ہے؟ اور عوام کو اس بات کا دھوکہ کیوں دیا جا رہا ہے کہ اس سے حکومتِ پاکستان خطرے میں پڑ جاتی ہے ؟ فرد، پارٹی اور حکومت کا فرق سمجھنے کی ضرورت ہے

ور ہاں، مجھے سمجھ نہیں آتی اس بات کی کہ جے آئی ٹی رپورٹ کومسلم لیگ نون کے اراکین شریف خاندان کے ذاتی کاروبار کی رپورٹ کیوں کہہ رہے ہیں؟ یہرپورٹ شریف خاندان کے ’ نا معلوم ذرائع آمدن‘ اور ’ آمدن کے( اندرونِ اور بیرونِ ملک ) نامعلوم آمد و رفت کے ذرائع ‘ کے بارے میں نہیں ۔؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں