پھانسی کا پھندہ تیار ہے، بادشاہ کی گردن بھی


فجر کی اذان میں ابھی کچھ دیر باقی ہے
جلّاد فرض کی ادائگی کے لیے پہنچ چکا ہے
پھندے پر ہاتھ پھیر کر یقیں کر چکا ہے
پھندہ بلکل صحیح دکھتا ہے
سزائے موت کی منتظر گردن کا منتظر ہے پھندہ
عین بادشاہِ وقت کی گردن کے مطابق ہے پھندہ

بادشاہ وقت پر جرم ثابت ہو چکا ہے
گو کہ جرائم کی فہرست بہت بہت طویل ہے
مگر پھر بھی مختصراََ مختصراََ
وہ قاتل ہے، جیب کترا ہے


لُٹیرا ہے بستی کے کچے مکانوں کا
جھوٹا ہے، مکّار ہے، فریبی ہے
بیت المال پر سانپ بنا بیٹھا ہے
قبضہ کر چکا ہے ایک ایک گندم کے دانے پر
شاہی تاج کے سب ہی لعل و جواہر
ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے گہنے تھے
بادشاہ کا جرم ثابت ہو چکا ہے
اور پھندے کے قریب لایا جا رہا ہے
قاضیِ شہر بھی ایک قدم آگے چلا آ رہا ہے
مٹھی میں پکڑے شاہ کی موت کا پروانہ
اپنی مخملیں عبا کا دامن اونچا اٹھائے
کہ کہیں زمیں سے نہ چھوُ جائے
سُرخ مخملیں قالین پر چلتا ہوا
فخر سے تنا ہوا
گردن اونچی کیے ہوئے


تاج سر پر رکھے ہوئے
تاج میں جُڑا ہر لعل و جواہر و موتی
چمک چمک کر کہہ رہا ہے
کہ دیکھو انصاف ابھی زندہ ہے
دیکھو شاہ گدا ہو چکا
ننگا اور دو کوڑی کا ہو چکا
رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا
دیکھو قاضیِ شہر لا رہا ہے اسے
تختہِ دار پر چڑھا رہا ہے اسے
قاضیِ شہر کا ہاتھ بلند ہوا
جلّاد کو اشارہ مل چکا
مجرم شاہ کی گردن پھندے میں پڑ چکی ہے
جلّاد رسی کھینچ چکا ہے
وہ دیکھو بادشاہ لٹک رہا ہے

قاضیِ شہر کی جوتی کی نوک تلے دبا ہوا
ایک کیڑا مکوڑا سا شخص
جوتی کی نوک تلے سے پھسل کر
مگر اٹھ کھڑا ہوا ہے
اے منصفِ مملکت!
فریاد ہے

بادشاہ ابھی زندہ ہے
یہ دیکھ تیرا جاہ و جلال بتا رہا ہے
کہ بادشاہ ابھی زندہ ہے
یہ تیرا تاج اور تنی ہوئی گردن
جوں کی توں باقی ہے ابھی
یہ مخملیں پیراہن ابھی بھی سرسرا رہا ہے
یہ سُرخ قالین پر تیرے قدم
یہ تیری آنکھوں میں بھرا حاکمانہ زعم
تیری جوتی کی نوک تلے دبا میرا وجود
یہ سب ہیں ثبوت
کہ بادشاہ ابھی زندہ ہے
فقط تیرا اپنا سایہ پھانسی چڑھا ہے
تو نے بادشاہ کا وجود خود میں باقی چھوڑ دیا ہے
اے منصفِ مملکت!

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 72 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah