ہالی ووڈ کے سو برس اور 25 رومانی لمحے


انیسویں صدی کے آخری برس تھے جب مشین سے انسان کی آواز آئی۔ ٹیلی فون، لاسلکی، ریڈیو، گراموفون۔ ان حیران کن لفظوں میں آنے والی دنیا کی جھلک مقید تھی۔ اور پھر پردے پر چلتی پھرتی تصویر نظر آنا شروع ہوئی۔ پردے کے قریب ہی بیٹھا ایک شخص مختصر لفظوں میں خاموش کہانی کے چیدہ چیدہ حصے بیان کئے جاتا تھا۔

اور پھر ایک روز ایک صاحب دماغ نے آواز  کے فیتے کو تصویر کی پٹی سے جوڑ دیا۔ بولتی ہوئی اس تمثیل کو ٹاکیز کا نام دیا گیا۔ پھر مووی کہا گیا۔ پھر سلولائیڈ کی رعایت سے فلم کا نام دیا گیا۔ زبان کی تاریخ میں بارہا ایسا ہوتا آیا ہے کہ انسانی ہاتھ اور ذہن کی تخلیق پرانے لفظوں کو نئے معنی دے دیتی ہے۔ پکچر محض ایک تصویر تھی۔ اور اس لفظ نے فلم کو اپنے حصار میں لے لیا۔

گزشتہ ایک سو برس میں فلم نے انسانوں پر تخلیق اور معیشت کے ان گنت دروازے کھولے ہیں۔ کہانی لکھنے سے عکاسی تک، ہدایت کاری سے موسیقی تک اور اداکاری سے مٹتی بدلتی قدروں تک، فلم نے کرہ ارض پر انسانی زندگی کو بدل کے رکھ دیا۔ کروڑوں دلوں کو محبت کرنا سکھایا، ان گنت ذہنوں کو جینے کی ترغیب دی، حسن کے نت نئے زاویے دکھائے، انسانی زندگی میں تشدد، ناانصافی اور محرومی کا ابلاغ کیا۔

محض تاریخ محفوظ کرنے کے ایک محدود زاویے سے بھی دیکھا جائے تو انسانی تاریخ میں بیسویں صدی سے زیادہ کسی صدی کا دستاویزی ریکارڈ موجود نہیں اور ایسا فلم کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

کروڑوں گھنٹوں پر محیط ہزاروں زبانوں میں بننے والی لاکھوں فلموں کے ان گنت مناظر ہیں جو دیکھنے والوں کے یاد خزانے کا حصہ ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ایک شخص ہر فلم دیکھ سکے۔ ہم سب نے سوچا کیوں نہ ایک سلسلہ شروع کیا جائے جس میں ہمارے پڑھنے والے اپنے پسندیدہ فلمی مناظر ای میل اور دوسرے ذرائع سے ہم تک پہنچائیں تا کہ دوسرے پڑھنے والوں کو بھی اس مسرت میں کیا جا سکے جو فن کے ان نمونوں سے ہم تک پہنچی۔

اس سلسلے کی پہلی قسط میں ہم محترمہ لبوب نعمت اصفہانی کا انتخاب پیش کر رہے ہیں۔ لبوب نعمت رومانی فلموں میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔ تاہم ہمارے پڑھنے والوں پر ایسی کوئی قید نہیں۔ وہ اپنے پسندیدہ موضوعات پر مشتمل مناظر ہمیں ارسال کر سکتے ہیں۔

اس سلسلے کی ذمہ داری ہم سب کی ٹیم میں ظفر عمران کو دی گئی ہے۔ یہ تصاویر ذیل کے ای میل ایڈریس پر ارسال کی جا سکتی ہیں۔

[email protected]

[email protected]

[email protected]

کوشش کیجئے کہ آپ کی ارسال کردہ تصاویر کی تعداد 20 سے زائد نہ ہو۔ تصاویر کا سائز اس قدر مناسب ضرور ہو کہ دیکھنے والے کے لئے ابلاغ ہو سکے۔ پاکستان میں سنسر شپ کے مروجہ معیارات کا خیال رکھا جائے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔