گستاخِ رسولؐ کے معاملے پر امام اعظم ابو حنیفہؒ کا موقف


adnan Kakar

اہل حدیث عالم بنام غلام محی الدین صاحب نے 1297 ہجری (1879 عیسوی) میں ’ظفر المبین‘ نامی کتاب لکھ کر امام اعظم ابو حنیفہؒ کے مختلف مواقف پر اعتراضات اٹھائے تھے اور انہیں غلط کہا تھا۔ ان میں سے ایک مسئلہ ’بیان نقص عہد ذمی‘ کا تھا۔ اس کے جواب میں ’دار العلم و العمل فرنگی محل‘ کے ایک بڑے حنفی سکالر جناب مولانا محمد منصور علی بن مولانا محمد حسن علی مراد آبادی نے فتح المبین کے نام ایک کتاب لکھی تھی جو تصدیق کے لئے  برصغیر کے بیشتر اہم حنفی مدارس میں بھیجی گئی تھی، جس پر برصغیر کے تقریباً تمام بڑے حنفی علما نے مہر تصدیق ثبت کی تھی اور اسے درست قرار دیا تھا۔ ان علما میں مولانا یعقوب نانوتوی (دارالعلوم دیوبند کے سب سے پہلے صدر المدرسین اور شیخ الحدیث) مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمود الحسن مع تمام اساتذہ دارالعلوم دیوبند، اور مولانا احمد رضا خان بریلوی جیسے اکابرین بھی شامل تھے۔ کتاب کے آخر میں تقریباً پینسٹھ صفحات پر علمائے برصغیر نے تصدیقی و تائیدی بیانات مع مہر و دستخط دیے ہیں۔  اس کتاب میں سے ’بیان نقص عہد ذمی‘ کے مسئلے میں سے چند اقتباسات بعینہ یہاں لکھے جا رہے ہیں تاکہ حنفی اکابرین کا شتم رسولؐ پر موقف واضح طور پر عوام الناس جان سکیں۔

خلاصہ اس کا یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کی یہ رائے ہے کہ اگر غیر مسلم شخص رسول پاکؐ پر بار بار  دشنام طرازی کرنے کی قبیح حرکت کرے تو پھر ہی اس کا عہد ذمی ٹوٹتا ہے اور اسے سزائے موت دی جا سکتی ہے، ایک بار کرنے پر اسے سزائے موت نہیں دی جا سکتی ہے۔ جبکہ مسلمان شخص ایسا ایک بار بھی کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج تصور کیا جاتا ہے اور اس پر مرتد کا حکم لگتا ہے۔ اسے توبہ کا موقع دیا جائے گا اور وہ توبہ کر کے دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو سکتا ہے۔ ہاں وہ توبہ نہ کرے تو پھر اس کو مرتد کی سزا ملے گی۔

  عبارت انیسویں صدی کے اواخر کی اردو میں ہے اس لئے پڑھنے میں یقینی طور پر کچھ دقت پیش آ سکتی ہے۔ لیکن حوالہ کو اصل مضمون کے ساتھ دینا ضرور تھا۔ صرف ‘اونکے’ وغیرہ جیسے الفاظ کو ‘ان کے’ کی طرح آج کے اسلوب میں لکھا گیا ہے۔


قال: مسئلہ پنجم اور ایک مسئلہ امام اعظم اور ان کے شاگردوں ابو یوسف و محمد کا مخالف پیغمبرؐ کی دو حدیثوں کے یہ ہے جو کہ ہدایہ اور شرح وقایہ اور کنز الدقائق وغیرہ میں لکھا ہے

fathul-mubeen-1

یعنی جو ذمی جزیہ دینے والا جزیہ دینے سے انکار کرے یا کسی مسلمان کو مار ڈالے یا گالی دے نبی علیہ السلام کو یا کسی مسلمان عورت سے زنا کرے تو ان امور سے اس کا عہد ذمی کا نہیں ٹوٹتا۔

اقول: اس حدیث سے مخالفت ہرگز نہیں سمجھی جاتی بلکہ اگر الفاظ حدیث پر آپ غور فرماتے تو بیشک موافق پاتے۔ حدیث میں ’کانت نشتم‘ کا لفظ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جو مکرر سب و شتم واقع ہو اور عادت ہو جائے تو اس کو قتل کرنا چاہیے اس لیے کہ اس لفظ کے معنی ہیں کہ سب و شتم کیا کرتے تھے، یہ معنی نہیں کہ ایک بار اس نے شتم کیا اور قتل کی گئی ہو اور اگر ایک بار مراد ہوتی تو ’کانت شتمت‘ ہوتا جس کے معنی ہیں شتم کیا تھا اس نے۔ پس لفظ حدیث سے معلوم ہوا کہ جب تک مکرر نہ ہو تو قتل نہ کرنا چاہیے۔ سو امام صاحب بھی اس کے مخالف نہیں کہتے اس لیے کہ ردالمحتار میں جس کی عبارت آپ نے نقل کی ہے اس کے بعد وجہ توفیق بھی مرقوم ہے۔

fathul-mubeen-2

یعنی قول صاحب درالمختار کا اور ساتھ اسی کے یعنی قتل کے فتوی دیا ہے ہمارے شیخ نے یعنی ابو مسعود مفتی روم نے بلکہ فتوی دیا ہے ساتھ اس کے اکثر حنفیہ نے جس وقت کثرت کرے گالی دینے کی جیسا کہ بیان کیا ہے ہم نے اس کو صارم مسلول سے اور یہی معنی قول مصنف کے ہیں جس وقت ظاہر ہو جائے کہ یہ عادت اس کی ہے مثل اس کے وہ صورت ہے کہ اعلان کرے ساتھ اس کے اس کو جیسا کہ گزرا اور یہی معنی ہیں قول ابن ہمام کے جس وقت ظاہر کرے اس کو قتل کیا جائے۔ بسبب اس کے اس نے اور منتقی میں لکھا ہے

fathul-mubeen-3

یعنی جس وقت ظاہر نہ کرتا ہو پس اگر ظاہر کرے شتم کو یا عادت کرے اس کی قتل کیا جائے گا اگرچہ عورت ہو۔ پس معلوم ہوا کہ امام صاحب کا قوم مطابق حدیث کے ہے اور حدیث میں عادت اور کثرت کی وجہ سے قتل ہے سو اس کا امام صاحب انکار نہیں کرتے۔ امام صاحب غیر معتاد کے واسطے یہ حکم بیان کرنے ہیں کہ قتل نہ کیا جاوے چنانچہ جو عبارت آپ نے نقل کی ہے اس میں لفظ ’سب‘ کہ ماضی ہے اس پر دال ہے جیسے ’قتل مسلما‘ سے  ایک ہی قتل مراد ہے ایسے ہی ’سب‘ سے ایک ہی ’سب‘ مراد ہے۔ کوئی اس میں ایسا لفظ جو استمرار اور تکرار پر دلالت کرتا ہوں نہیں۔ البتہ حدیث میں ایسا لفظ موجود ہے کیونکہ لفظ ’کان‘ فعل مضارع سے پہلے ہوتا ہے تو معنی استمرار اور تکرار کے دیتا ہے، اس صورت میں بیشک امام صاحب کے نزدیک بھی قتل ہے چنانچہ درالمختار میں ہے کہ اصول حنفیہ سے یہ امر ہے کہ جس چیز میں قتل مقرر نہیں نزدیک حنفیہ کے جس وقت وہ فعل مکرر ہو پس چاہیے امام کو کہ اس کے کرنے والے کو قتل کرے۔ اس کے بعد لکھا ہے

fathul-mubeen-4

یعنی پس تحقیق فائدہ دیا اس نے اس کا کہ جائز ہے نزدیک ہمارے قتل اس کا جس وقت مکرر ہو اس سے یہ اور ظاہر کرے اس کو۔ اور شرح قدوری میں فصل جزیہ میں لکھا ہے کہ ہماری دلیل وہ ہے جو حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ کہا انہوں نے، ایک جماعت یہودیوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں  حاضر ہوئی پس انہوں نے ’السام علیک‘ کہا۔ عائشہ صدیقہؓ نے، پس سمجھ گئی میں اس لفظ کو، پس کہا میں نے اور تم پر ہلاکت اور لعنت ہو۔ پس فرمایا آنحضرتؐ نے مت کہہ ایسا اے عائشہؓ تحقیق اللہ تعالی پسند کرتا ہے نرمی کو کل کام میں۔ پس کہا میں نے کیا آپ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا۔ پس فرمایا آنحضرتؐ نے تحقیق کہا میں نے اور تم پر پس یہ گالی نبیؐ کو اگر ہوتی کسی مسلمان سے تو حلال ہو جاتا خون اس کا حالانکہ نہیں قتل کیا آپ نے ان کو۔ اسی طرح کہا امام طحاوی نے اور ظاہر یہ ہے کہ امام بخاری کا بھی یہی مذہب ہے چنانچہ ذکر کیا اس کو علامہ عینی نے شرح بخاری میں۔ ہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ جب یہ لفظ شتم ہوا تو پھر آنحضرت نے ’وعلیکم بواو عطف‘ کیوں فرمایا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ واو عاطف نہیں بلکہ واسطے استیناف کے سر جملہ لائے ہیں۔

دوسرا شبہ یہ ہوتا ہے کہ کعب بن اشرف کے واسطے آنحضرتؐ نے فرمایا کہ کون اس کے قتل کا ذمہ کرتا ہے، اس نے اللہ اور رسولؐ کو اذیت دی ہے اور آپ نے ایسے شخص کو اس کی طرف بھیجا تھا جس نے اس کو دھوکے میں قتل کیا۔ سو جواب اس کا یہ ہے کہ اس کو بمجرد شتم کے آپ نے قتل نہیں کرایا بلکہ وہ آدمیوں کو آپؐ کے ساتھ لڑنے کو جمع کرتا تھا۔ علاوہ اس کے وہ اہل ذمہ سے بھی نہ تھا بلکہ مشرک تھا، آپ سے مقابلہ کرتا تھا۔

ایسا ہی بیان کیا شیخ الاسلام علامہ عینی نے شرح بخاری میں۔ پس باوجود بخاری کی حدیث کے اب عمل آپ کا کہاں چلا گیا اور بخاری کی حدیثوں سے استنباط کون اٹھا کر لے گیا۔ غرض امام صاحب کے مخالف ہونا اور طعن کرنا آپ نے اپنے اوپر فرض سمجھ لیا ہے جہاں اپنے زعم میں خلاف واقع کی مخالفت پاتے ہو۔ پھر کیسی ہی حدیث صحیح موجود ہو فقط اپنی رائے کو اس وقت صائب جانتے ہو۔ ذرا خدا سے بھی ڈرنا چاہیے۔ اگر اسی اپنے خیال کا نام مخالفت ہے تو خیر دنیا میں تو کون بازپرس کرتا ہے مگر فردائے قیامت اگر حق تعالی آپ سے حجت طلب کرے کہ کون سی وجہ سے شیوہ طعن تم نے اختیار کیا تھا تو پھر بغلیں جھانکو گے۔ آئندہ آپ جانیں مگر یہ طریقہ آپ کا سب طریقوں سے بدتر ہے گو آپ اپنے خیال میں کچھ سمجھیں۔


مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا احمد رضا خانؒ جیسے اکابرین ملت نے اس کتاب کی تصدیق و تائید کی ہے۔ج

fathul-mubeen-a


اس حنفی موقف کی مزید تصدیق امام ابن تیمیہ کی اس مسئلے پر مشہور کتاب  ‘الصارم المسلول علی شاتم الرسول’  میں بھی موجود ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہے

مسئلہ گستاخی میں مذہب امام ابو حنیفہ

امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ شان رسالت میں گستاخی سے عہد ذمہ نہیں ٹوٹے گا، نہ اس کے باعث ذمی کو قتل کیا جائے گا۔ مگر اس کے اظہار پر ذمی کو تعزیر کی جائے گی جس طرح کہ اظہار منکرات (جن کا ارتکاب ممنوع ہے مثلاً بلند آواز سے اہل ذمہ کی قرات وغیرہ) پر تعزیر ہے، اس مذہب کو امام طحاوی نے امام ثوری سے نقل کیا ہے۔ احناف کا اصول مذہب ہے کہ جس جرم میں قتل کی سزا نہیں مجرم اس کا بار بار ارتکاب کرے تو امام (حاکم وقت) کو اختیار ہے کہ اسے قتل کردے، اسی طرح جب مصلحت دیکھے تو ‘حد مقرر’ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ وہ نبی اکرمؐ کی طرف منسوب قتل کے ایسے فیصلوں کو مصلحت پر مبنی قرار دیتے ہیں اور اسے مصلحت آمیز قتل کہتے ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ حاکم وقت ان جرائم میں تعزیری قتل کر سکتا ہے جن کا بار بار ارتکاب کیا جاتا ہے۔ ایسے قتل شرعاً جائز ہیں۔ اس لیے اکثر آئمہ احناف نے فتوی دیا ہے کہ جو ذمی اکثر گستاخی رسالت کا مرتکب ہو اسے قتل کیا جائے خواہ گرفتاری کے بعد اسلام قبول کر لے۔ وہ کہتے ہیں یہ مصلحت و سیاست آمیز قتل ہے اور یہ فتوی اصول احناف پر مبنی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

15 thoughts on “گستاخِ رسولؐ کے معاملے پر امام اعظم ابو حنیفہؒ کا موقف

  • 03-03-2016 at 6:36 pm
    Permalink

    Despite this all, Aashiqan-e-Rasool won’t listen to any reasonable argument, whether it be from their Imaam-e-Azam.

  • 03-03-2016 at 10:54 pm
    Permalink

    گستاخِ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

    آج کل تجدد پسنددانشوروں کی طرف سے شتم رسول کے مسئلہ پر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور حنفی فقہا کے اقوال کا بہ کثرت تذکرہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ دعویٰ کرنے والے لوگ وہ ہیں جو اجماعِ اُمت تو کجا، قرآنی آیت واحادیثِ مبارکہ کو بھی کوئی وزن دینے کو تیار نہیں ۔اس کے باوجودمیڈیا پر ان کے مسلسل بیانات کے دفاع میں، مدیر ‘محدث’ کے مطالبے پر،اَحناف کے ایک معتمد عالم دین مولانا تصدق حسین نے فقہاے کرام کے اس حوالے سے اہم اقوال کو جمع کردیا ہے۔حب ِنبویﷺ اور اتباعِ سنت کے حوالے سے کی جانے والی یہ کاوش قابل تحسین ہے ۔ اِدارہ
    عصر حاضر میں اُٹھنے والے فتنوں میں سے سب سے عظیم فتنہ جو دنیا کواپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، وہ شعائر اللہ کی توہین ہے اور رسول اللہﷺ کی عزت و ناموس پر رکیک حملے کیے جارہے ہیں، یہود و نصاری نت نئے طریقوں سے اُمت ِمسلمہ کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی سعی میں مصروف ہیں، نوبت بایں جارسید کہ اسلام کی دعویدار حکومتوں کی ریاست میں سرعام رسول اللہﷺ کی حرمت و ناموس کے حوالے سے عوام کے اَذہان و قلوب کو منتشر کیا جارہا ہے، انگریز کے زرِ خرید غلام مسلمانوں کو محبت ِمصطفیﷺ سے تہی دامن کرنا چاہتے ہیں۔
    فتنہ و فساد کی اس شورش میں یہود و ہنود کے کچھ گماشتے ملک پاکستان کی بنیادوں میں لادینیت اور سیکولر ازم کا زہر گھولنا چاہتے ہیں، کوئی کہتا ہے: قائداعظم سیکولر تھے، تو کوئی یہ راگ الاپتا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان نظامِ مصطفیٰ کے لئے نہیں بنا۔ انہی حالات میں جب آسیہ ملعونہ نے نبی کریمﷺ کی عزت و ناموس پرحملہ کیا اور عدالت نے اسے موت کی سزا سنادی تو ایک طوفانِ بدتمیزی بپا ہوگیا۔ قانون ناموس رسالت کو ختم کروانے کے لئے انگریز کے وفادار نام نہاد مسلمان میدان عمل میں آگئے۔اسی طرح ایک نام نہاد سکالر جاوید غامدی نے یہ شوشہ پھیلانے کی کوشش کی کہ فقہائے احناف کے نزدیک گستاخِ رسول کی سزا موت نہیں، لہٰذا 295سی، کو ختم کردیا جائے، اس شخص کا مقصد اُمتِ مسلمہ میں افتراق و انتشار کی فضا پیدا کرنا ہے۔اُمت ِمسلمہ کو ایسے اشخاص کے گھناؤنے کردار سے خبردار رہنا چاہئے۔ گستاخِ رسول کی سزا کے حوالے سے احناف کے جلیل القدر علما کی آرا ملاحظہ فرمائیے:
    1. امام محقق ابن الہمام علیہ الرحمہ
    «کل من أبغض رسول الله ﷺ بقلبه کان مرتدًا فالساب بطریق أولى ثم یقتل حدًا عندنا فلا تقبل توبته في إسقاط القتل…. وإن سبّ سکران ولا یعفی عنه»1
    ”ہر وہ شخص جو دل میں رسول ﷺ سے بغض رکھے، وہ مرتد ہے اور آپ کو سب و شتم کرنے والا تو بدرجہ اولیٰ مرتد ہے اسےقتل کیا جائے گا۔ قتل کے ساقط کرنے میں اسکی توبہ قبول نہیں۔ اگرچہ حالت ِنشہ میں کلمہ گستاخی بکا ہو ، جب بھی معافی نہیں دی جائے گی۔”
    2. علامہ زین الدین ابن نجیم علیہ الرحمہ
    «کل کافر فتوبته مقبولة في الدنیا والآخرة إلا جماعة الکافر بسب النبي وبسبّ الشیخین أو إحداهما…. لا تصح الردة السکران إلا الردة بسب النبي ولا یعفی عنه…. وإذا مات أو قتل لم یدفن في مقابر المسلمین، ولا أهل ملته وإنما یلقی في حفیرة کالکلب»2
    ”ہر قسم کے کافر کی توبہ دنیا و آخرت میں مقبول ہے، مگر ایسے کفار جنہوں نے حضورﷺ یا شیخین میں سے کسی کو گالی دی تو اُس کی توبہ قبول نہیں۔ ایسے ہی نشہ کی حالت میں ارتداد کو صحیح نہ مانا جائے گا مگر حضورﷺ کی اہانت حالتِ نشہ میں بھی کی جائے تو اُسے معافی نہیں دی جائے گی۔ جب وہ شخص مرجائے تو اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں، نہ ہی اہل ملت (یہودی نصرانی) کے گورستان میں بلکہ اسے کتے کی طرح کسی گڑھے میں پھینک دیا جائے گا۔”
    3. امام ابن بزار علیہ الرحمہ
    «إذا سبّ الرسول ﷺ أو واحد من الأنبیاء فإنه یقتل حدًا فلا توبة له أصلًا سواءً بعد القدرة علیه والشهادة أو جاء تائبًا من قبل نفسه کالزندیق لأنه حد واجب فلا یسقط بالتوبة ولا یتصور فیه خلاف لأحد لأنه حق تتعلق به حق العبد فلا یسقط بالتوبة کسائر حقوق الآدمیین وکحد القذف لا یزول بالتوبة»3
    ”جو شخص رسول اللہ ﷺ کی اہانت کرے یا انبیا میں سے کسی نبی کی گستاخی کرے تو اسےبطورِ حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں، خواہ وہ تائب ہوکر آئے یا گرفتار ہونے کے بعد تائب ہو اور اس پر شہادت مل جائے تو وہ زندیق کی طرح ہے۔اس لیے کہ اس پر حد واجب ہے اور وہ توبہ سے ساقط نہیں ہوگی۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں، اس لیے کہ یہ ایسا حق ہے جو حق عبد کےساتھ متعلق ہے، جو بقیہ حقوق کی طرح توبہ سے ساقط نہیں ہوتا جیسے حد ِقذف بھی توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔”
    4. علامہ علاء الدین حصکفی علیہ الرحمہ
    «الکافر بسبّ النبي من الأنبیاء لا تقبل توبته مطلقًا ومن شكّ في عذابه و کفره کفر»4
    ”کسی نبی کی اہانت کرنے والا شخص ایسا کافر ہے جسے مطلقاً کوئی معافی نہیں دی جائے گی، جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے، وہ خود کافر ہے۔”
    5. علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ
    «واعلم انه قد اجتمعت الأمة علی أن الاستخفاف بنبینا وبأي نبي کان من الأنبیاء کفر، سواء فعله فاعل ذلك استحلالا أم فعله معتقدًا بحرمته لیس بین العلماء خلاف في ذلك، والقصد للسب وعدم القصد سواء إذ لا یعذر أحد في الکفر بالجهالة ولا بدعوی زلل اللسان إذا کان عقله في فطرته سلیما»5
    ”تمام علماے اُمت کااجماع ہے کہ ہمارے نبی کریمﷺ ہوں یا کوئی اور نبی علیہ السلام ان کی ہر قسم کی تنقیص و اہانت کفر ہے، اس کا قائل اسے جائز سمجھ کر کرے یا حرام سمجھ کر، قصداً گستاخی کرے یا بلا قصد، ہر طرح اس پر کفر کافتویٰ ہے۔ شانِ نبوت کی گستاخی میں لا علمی اور جہالت کا عذر نہیں سنا جائے گا، حتیٰ کہ سبقت ِلسانی کا عذر بھی قابل قبول نہیں، اس لیے کہ عقل سلیم کو ایسی غلطی سے بچنا ضروری ہے۔”
    6. علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی علیہ الرحمہ
    «ولا خلاف بین المسلمین أن من قصد النبي ﷺ بذلك فهو ممن ینتحل الإسلام أنه مرتد فهو یستحق القتل»6
    ”تمام مسلمان اس پر متفق ہیں کہ جس شخص نےنبی کریم ﷺ کی اہانت اور ایذا رسانی کا قصد کیا وہ مسلمان کہلاتا ہو تو بھی وہ مرتد مستحق قتل ہے۔”
    ذمی شاتم رسول کا حکم
    جو شخص کافر ہو اور اسلامی سلطنت میں رہتا ہوں، ٹیکس کی ادائیگی کے بعد اسے حکومت تحفظ فراہم کرتی ہے، مگر جب وہ اہانت ِرسول کا مرتکب ہو تو اس کا عہد ختم ہوجاتا ہے اور اس کی سزا بھی قتل ہے۔
    7. امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ
    علامہ ابن تیمیہ علیہ الرحمہ امام اعظم ابوحنیفہؒ کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    «فإن الذمي إذا سبه لا یستتاب بلا تردد فإنه یقتل لکفره الأصلي کما یقتل الأسیر الحربی»7
    ”اگر کوئی ذمی نبی کریمﷺ کی اہانت کا مرتکب ہو تو اسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کردیں گے کیونکہ اسے اس کے کفر اصلی کی سبب قتل کیا جائے گا جیسے حربی کافر کو قتل کیا جاتا ہے۔”
    8. امام محقق ابن الہمام علیہ الرحمہ
    ”میرے نزدیک مختار یہ ہے كہ ذمی نے اگر حضورﷺ کی اہانت کی یا اللہ تعالی جل جلالہ کی طرف غیر مناسب چیز منسوب کی، اگر وہ ان کے معتقدات سے خارج ہے جیسے اللہ تعالی کی طرف اولاد کی نسبت یہ یہود و نصاریٰ کا عقیدہ ہے، جب وہ ان چیزوں کا اظہار کرے تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور اسے قتل کردیا جائے گا۔”8
    9. علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ
    «فلو أعلن بشتمه أو إعتاده قُتل ولو امرأة وبه یفتٰی الیوم»9
    ”جب ذمی علانیہ حضورﷺ کی اہانت کا مرتکب ہو تو اسے قتل کیا جائے گا، اگرچہ عورت ہی ہو او راسی پر فتویٰ ہے۔”
    حرفِ آخر
    قاضی عیاض مالکی اور علامہ ابن تیمیہ رحمہما اللہ ،دونوں نے امام ابوسلیمان خطابیؒ کا موقف نقل کرتے ہوئے لکھا:
    «لا أعلم أحدا من المسلمین اختلف في وجوب قتله»
    ”میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں سے کسی نے شاتم رسول کے قتل میں اختلاف کیا ہو۔”
    علامہ ابن تیمیہؒ مزید لکھتے ہیں:
    «إن الساب إن کان مسلما فإنه یکفرویقتل بغیر خلاف وهو مذهب الأئمة الأربعة وغیرهم»10
    ”بے شک حضور نبی کریمﷺ کو سب و شتم کرنے والا اگرچہ مسلمان ہی کہلاتا ہو، وہ کافر ہوجائے گا۔ ائمہ اربعہ اور دیگر کے نزدیک اِسےبلا اختلاف قتل کیا جائے گا۔”
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اور اپنے رسولﷺ کی محبت عطا فرمائے، او رقرآن و سنت کے مطابق ہمیں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
    رکن صوبائی شوریٰ جمعیت علما پاکستان، ناظم تعلیمات جامعۃ المرکز الاسلامی، مین والٹن روڈ، لاہور کینٹ
    حوالہ جات
    1. فتح القدیر: 5 /332

    2. الاشباه والنظائر: 158،159

    3. رسائل ابن عابدین: 2/327

    4. درمختار: 6 /356

    5. روح البیان: 3 /394

    6. احکام القرآن: 3 /112

    7. الصارم المسلول:ص 260

    8. فتح القدیر: 5 /303

    9. رد المحتار: 6 /331

    10. الصارم المسلول:ص24

  • 03-03-2016 at 11:15 pm
    Permalink

    حسیب بھائی آپ نے فرمایا ہے کہ

    7. امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ
    علامہ ابن تیمیہ علیہ الرحمہ امام اعظم ابوحنیفہؒ کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    «فإن الذمي إذا سبه لا یستتاب بلا تردد فإنه یقتل لکفره الأصلي کما یقتل الأسیر الحربی»7
    ”اگر کوئی ذمی نبی کریمﷺ کی اہانت کا مرتکب ہو تو اسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کردیں گے کیونکہ اسے اس کے کفر اصلی کی سبب قتل کیا جائے گا جیسے حربی کافر کو قتل کیا جاتا ہے۔”

    اس وقت الصارم المسلول علی شاتم الرسولؐ میرے سامنے موجود ہے۔ اس میں یہ لکھا ہے:

    مسئلہ گستاخی میں مذہب امام ابو حنیفہ

    امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ شان رسالت میں گستاخی سے عہد ذمہ نہیں ٹوٹے گا نہ اس کے باعث ذمی کو قتل کیا جائے گا۔ مگر اس کے اظہار پر ذمی کو تعزیر کی جائے گی جس طرح کہ اظہار منکرات (جن کا ارتکاب ممنو ہے مثلاً بلند آواز سے کتب اہل ذمہ کی قرات وغیرہ) پر تعزیر ہے۔ اس مذہب کو امام طحاوی نے امام ثوری سے نقل کیا ہے۔

    • 03-03-2016 at 11:17 pm
      Permalink

      بہتر ہے کہ آپ اپنے سورس چیک کر لیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس بنیادی مسئلے پر ان علما کا علم اتنا ناقص ہو جتنا آپ بیان فرما رہے ہیں۔ ان علما میں ’دار العلم و العمل فرنگی محل‘ تمام اساتذہ وقت مع مولانا محمد منصور علی بن مولانا محمد حسن علی مراد آبادی دیوبند کے تمام اساتذہ مع مولانا یعقوب نانوتوی (دارالعلوم دیوبند کے سب سے پہلے صدر المدرسین اور شیخ الحدیث) مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمود الحسن مع تمام اساتذہ دارالعلوم دیوبند، اور بریلوی امام مولانا احمد رضا خان بریلوی جیسے اکابرین بھی شامل ہیں۔

    • 03-03-2016 at 11:22 pm
      Permalink

      غالباً آپ نے اس کتاب سے امام احمد بن حنبل کا موقف، امام اعظم ابو حنیفہ کے نام سے نقل کر دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ
      ‘جو شخص حضورؐ کی شان میں گستاخی یا تنقیص کا مرتکب ہو وہ واجب القتل ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر، میرے نزدیک اس کی یہی سزا ہے، اس سلسلہ میں اس سے توبہ کا مطالبہ بھی نہ کیا جائے گا”۔

  • 04-03-2016 at 4:04 am
    Permalink

    ویسے تو آپ لوگ آئیں کا راگ الاپتے ھیں پر جب کوئی بات آپکی مرضی کے خلاف گئی وہیں آپکو اپنے ھی وہ مطعون اور ناقبل رجوع علماءاکابر دکھنے لگتے ھیں۔ویسے تو حدیث کے بارے میں بھی شکوک لیکن اپنی بات پہ دلیل کا ی جو تو عالم دین کا موقف بھی درست۔۔۔

    • 04-03-2016 at 11:19 am
      Permalink

      معذرت خواہ ہوں کہ آپ کو علما کی رائے بتا دی ہے. خاکسار کو علم نہیں تھا کہ آپ کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے.

      ویسے فرینڈ لسٹ میں موجود علما نے خاکسار کی اس جسارت کی تعریف ہی فرمائی ہے.

  • 04-03-2016 at 3:11 pm
    Permalink

    Adnan Sb, You right in presenting these references. And any sensible person should wight these references.

  • 05-03-2016 at 8:58 pm
    Permalink

    یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ ،

    کس کو ثواب دے گا اور کس کو سزا ؟

    جسے شک ہے ، کتاب من اللہ ” الکتاب ” سے پڑھ لے !

  • 05-03-2016 at 9:32 pm
    Permalink

    اللہ لَا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (3/2)
    تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اب ممتاز قادری کے لئے منفی کمنٹ بند کر دیں :

    ممتاز قادری ، سے قصاص دلوا کر الولی الالباب نے اُس کے قتل کا حساب برابر کر کے نہ صرف اپنے لئے بلکہ ممتاز قادری کے لئے بھی حیات کا باب کھول دیا ۔

    وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَاْ أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ [2:179]
    اے اولی الالباب (ملزمین ، گواھان اور اولی الامر) اور تمھارے لئے القصاص میں حیات ہے اگر تم تقّون ہو تو !

    اور ممتاز قادری کے سر پر معلق گناہِ قتل انسانی ہٹ گیا :

    وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا [25:68]
    اور وہ لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الھا کی دعا نہیں مانگتے اور نہ کسی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جسے بغیرِ حق مارنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اور نہ زنا کرتے ہیں، اور جو شخص یہ فعل ( قتل و زنا) کرے گا وہ گناہ میں معلق رہے گا !

    لیکن اگر ، اللہ کے کھاتے میں ، سلمان تاثیر مومن تھا تو پھر ، اللہ کی یہ آیت ممتاز قادری پر لاگو ہو گی :-
    وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ﴿النساء: ٩٣﴾
    اور جو کوئی کسی مومن عمداً قتل کرے گا اُس کی جزاء جہنم ہے ۔ اُس میں ہمیشہ رہے گا ، اور اُس پر اللہ کاغضب اور لعنت ہے ۔ اور اُس کے لئے عظیم عذاب عدد کر دیا گیا ہے ۔

    نوٹ : فرموداتِ مُفتی کے مطابق ، پاکستان کی قلمی طوائفوں اور میڈیا کے زنخوں نے ، اپنی کریڈٹ ریٹنگ بڑھانے کے لئے ، شیطانی پروپیگنڈہ کا استعمال کر کے ، ممتاز مفتی کو سلمان تاثیر کے قتل پر اکسایا ! تمام اخبارات اور ٹی وی اینکرز اور ایڈیٹر مجرم ہیں ۔

    جو آہنی ہاتھ حکومت نے اب انہیں دیا ہے کاش یہ وہ اُس وقت دیتی ۔

    اب بھی وقت ہے شیطانیت کے سرخیلوں ، کے گلوں میں قلابے ڈالنے کا !

  • 10-03-2016 at 2:25 pm
    Permalink

    اسلامُ علیکم، مجھے اس فتوٰی کے بارے میں بلکل علم نہیں تھا اور میں شکر گزار ہوں آپ کا کہ اسے یہاں نقل کر کے میرے اور بہت سے اور قارئین کے علم میں اضافہ کیا۔ اللہ تعلٰی آپ کو جزا دیں اور ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائیں، آمین۔

    ہاں البتہ سلمان تاثیر کے قتل کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گا (اس کا تعلق آپ کے مضمون سے براہ راست تو نہیں، لیکن چونکہ آسیہ بی بی کی گستاخی کے کیس میں سلمان تاثیر کا ایک رول رہا ہے اس لیے ضمناً اس پر اظہارِ خیال کر رہا ہوں) ۔ عدالت نے جو بہتر سمجھا وہ فیصلہ کیا، لیکن ایک عام انسان اور نفسیات کا ادنٰی طالبعلم ہونے کے ناطے میں یہ محسوس کر سکتا ہوں کہ جب گورنر اپنے اعلٰی منصب کی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے انتہائی غیر اخلاقی الفاظ ناموسِ رسالت کے قانون کے بارے میں استعمال کرے گا، سپریم کورٹ تک کیس جانے سے پہلے ہی کہ دے گا کہ صدر سے معافی مل جائے گی، مسلسل قانونِ رسالت کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرے گا، اور جب راولپنڈی میں اس کے خلاف مقدمہ اس وجہ سے فائل نہیں کیا جائے گا کہ اسے بطور گورنر استثناء حاصل ہے تو ممتاز قادری اور دیگر نوجوانوں کے دل و دماغ میں کھلبلی تو مچے گی، غم، بے بسی، اور اشتعال تو جنم لے گا!

    سلمان تاثیر کو الفاظ کے چنائو میں احتیاط برتنی چاہیے تھی اور ہر انٹرویو میں سخت زبان کا استعمال کرنے کی بجائے تحمل اور بردباری سے کام لینا چاہیے تھا۔ آگ جل رہی ہو تو اس پر تیل چھڑک کر شعلوں کو مزید بھڑکانا کسی لحاظ سے دانشمندی نہیں۔

    جیسے ٹائر ٹیوب میں مسلسل ہوا بھری جائے تو ایک وقت آتا ہے جب وہ پھٹ جاتا ہے، ایسے ہی اگر نوجوان اذہان کو ایک حساس موضوع پر مسلسل اذیت دی جائے اور انصاف کے دروازے بند ہوں تو وہ انتہائی قدم اٹھاتے ہیں۔

  • 15-03-2016 at 7:32 am
    Permalink

    محترم عدنان خان بھائی ایک جانب تو میں نے فقہاء احناف کی آراء تفصیل سے نقل کر دی ہیں جن میں کوئی بھی ابہام کسی بھی درجے کا موجود نہیں ہے حوالہ جات موجود ہیں ….

    جہاں تک سوال آپ کے اشکالات کا ہے اس حوالے سے کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہوں ..

    ” حسیب بھائی آپ نے فرمایا ہے کہ

    7. امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ
    علامہ ابن تیمیہ علیہ الرحمہ امام اعظم ابوحنیفہؒ کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    «فإن الذمي إذا سبه لا یستتاب بلا تردد فإنه یقتل لکفره الأصلي کما یقتل الأسیر الحربی»7
    ”اگر کوئی ذمی نبی کریمﷺ کی اہانت کا مرتکب ہو تو اسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کردیں گے کیونکہ اسے اس کے کفر اصلی کی سبب قتل کیا جائے گا جیسے حربی کافر کو قتل کیا جاتا ہے۔”

    اس وقت الصارم المسلول علی شاتم الرسولؐ میرے سامنے موجود ہے۔ اس میں یہ لکھا ہے:

    مسئلہ گستاخی میں مذہب امام ابو حنیفہ

    امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ شان رسالت میں گستاخی سے عہد ذمہ نہیں ٹوٹے گا نہ اس کے باعث ذمی کو قتل کیا جائے گا۔ مگر اس کے اظہار پر ذمی کو تعزیر کی جائے گی جس طرح کہ اظہار منکرات (جن کا ارتکاب ممنو ہے مثلاً بلند آواز سے کتب اہل ذمہ کی قرات وغیرہ) پر تعزیر ہے۔ اس مذہب کو امام طحاوی نے امام ثوری سے نقل کیا ہے۔ ”

    اگر آپ کتاب کے صفحہ نمبر ٤٩ کے باب ” امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا زاویہ نگاہ ”

    مکمل پڑھیں تو آپ کو مکمل عبارت دکھائی دے جاۓ گی …

    جہاں تک آپ نے نقل فرمایا اس سے آگے لکھا ہے

    اکثر حنفیہ نے فتویٰ دیا ہے کہ جو ذمی نبی کریم صل الله علیہ وسلم پر سب و شتم کرے اسے قتل کیا جاۓ گا چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو جاوے …

    پھر متاخرین احناف کا اس امر پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ ذمی کی گستاخی پر اسے قتل کیا جاوے گا …..

    دوسری جانب جہاں تک آپ نے بنیادی بحث نقل کی

    ” بہتر ہے کہ آپ اپنے سورس چیک کر لیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس بنیادی مسئلے پر ان علما کا علم اتنا ناقص ہو جتنا آپ بیان فرما رہے ہیں۔ ان علما میں ’دار العلم و العمل فرنگی محل‘ تمام اساتذہ وقت مع مولانا محمد منصور علی بن مولانا محمد حسن علی مراد آبادی دیوبند کے تمام اساتذہ مع مولانا یعقوب نانوتوی (دارالعلوم دیوبند کے سب سے پہلے صدر المدرسین اور شیخ الحدیث) مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمود الحسن مع تمام اساتذہ دارالعلوم دیوبند، اور بریلوی امام مولانا احمد رضا خان بریلوی جیسے اکابرین بھی شامل ہیں ”

    در اصل ہر دو کتب آپ کی نگاہ سے تفصیلی طور پر نہیں گزریں یا شاید جن معاونین سے آپ نے استفادہ کیا ہے انہوں نے اپ کو مکمل تفصیل سے آگاہ نہیں کیا …….

    احناف کے ہاں اہل ذمہ کی تفصیل ہے اور انکی تعریف میں فرق ہے اور مختلف جرائم کے حوالے سے قانون کا اطلاق مختلف انداز سے کیا جاتا ہے …

    تفصیلی مطالعہ کیجئے تو صورت حال آپ پر واضح ہو جاوے گی .

Comments are closed.