ممتاز قادری سیاست پر کیا اثرات ڈالے گا؟


wisi 2 baba

 ممتاز قادری صاحب تاریخ ہوئے ، کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ نہ ہوتا۔ اس سب پر اب بات کرنے کا فائدہ کوئی  نہیں بات البتہ ہوتی رہے گی کہ خلق خدا تو کہنے کو فسانے مانگے۔ قادری صاحب جس دربار میں جا کر پیش ہوئے ہیں وہیں سلمان تاثیر بھی پہنچے ہوئے ہیں۔ وہاں انصاف ہی ہوتا ہے نہ فیصلہ جنازوں کی تعداد پر ہوتا نہ شعلہ بیانی کام آتی نہ ہی کوئی چکر چل سکتا کہ ایسا ممکن نہیں اور یہی  ہمارا ایمان بھی ہے۔

ایک مقدمہ ایک التجا سلمان تاثیر کی بھی ہو گی اسی دربار میں، کاش کے جاننے کا کوئی طریقہ ہوتا کہ ہماری بحث شک شبہات سب ٹھکانے لگتے۔ وہاں کیا فیصلہ ہو گا یہ جاننا ہمارے سب کے انسانی بس سے باہر کی بات ہے۔ اس قصے کو چھوڑتے ہیں سیاست کی بات کرتے ہیں۔

ممتاز قادری کو رخصت کرنے جس طرح خلقت امنڈ کر آئی ہے اس سے مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو اپنے لئے امکانات کا ایک نیا جہان پیدا ہوتا دکھائی دیا ہے۔ ایم ایم اے کو بحال کر کے یا ویسا ہی اتحاد کسی اور نام سے بنا کر کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سیاست میں اس لہر کو ووٹ کی صورت میں کیش کرنے کی بات چیت شروع ہوئی ہے۔ پاکستان میں اکثریت بریلوی مکتبہ فکر کو فالو کرتی ہے۔ بریلوی مکتبہ فکر میں اٹھتی ہمدردی کی اس لہر کو اگر ووٹوں میں بدلا جا سکے تو سیاست کی بساط الٹی جا سکتی ہے۔

یہ سوچ ہے جس کے تحت مذہبی جماعتوں میں ہل چل مچی ہوئی  ہے۔ جماعت اسلامی جس نے کراچی سے جمعیت علمائے پاکستان کے منہ سے سیاست کا نوالہ چھینا تھا اور اسے خود تو زیادہ دیر سنبھال نہ سکی الطاف بھائی کے سامنے میدان میں ہار گئی تھی۔ لیکن کراچی جماعت اسلامی کو نہیں بھولتا، بھولنا بھی نہیں چاہئے۔ کراچی سیاست کا وہ میدان ہے کہ جو یہ مار لے وہ پاکستان یا سندھ کی حکومت میں کچھ نہ بھی حاصل کرے تب بھی مرکزی صوبائی حکومتیں کراچی کو جیتنے والے کی چوکھٹ پر رکوع کے بل جاتی ہیں۔

سراج الحق امیر جماعت بنے تو ان سے بہت امیدیں تھیں کہ جماعت کو پہلی بار ایسا امیر نصیب ہوا جسے پارلیمانی سیاست کا تجربہ بھی تھا اس کی ضروریات کا ادراک بھی۔ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن سراج الحق سیاسی حوالے سے ناکام ہوتے دکھائی پڑتے ہیں۔ جس طرح وہ اپنی سیاست کے لئے کھونٹیاں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ کبھی درباروں پر چادریں چڑھا رہے ہیں کبھی کرپشن کے خلاف نعرہ زن ہو رہے ہیں یا جیسے اب ممتاز قادری کی وجہ سے اٹھی لہر کے ساتھ ہو لئے ہیں اس سب سے یہی دکھائی دیتا ہے کہ انہیں امارت اچانک اور غیر متوقع طور پر ملی ہے اور کچھ جلدی بھی مل گئی  ہے انکا ہوم ورک پورا نہیں تھا۔

پرویز رشید کے ساتھ کراچی کے سفر میں جو کچھ ہوا ہے اس کے بعد مسلم لیگ نون نے بھی بہت سنجیدگی سے اپنے ووٹ بنک کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینا شروع کیا ہے۔ یہی جائزہ ’’وہ‘‘ پہلے ہی لینے میں لگ گئے تھے جن کا کام ہی جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ’’وہ‘‘ جائزہ اس لئے بھی لیا کرتے ہیں کہ کسی سیاسی جماعت کے غبارے میں اتنی ہوا ہی نہ بھر جائے کہ اس کے پھٹ جانے سے نقصان ہو تو یہ ہوا نکلتی رہنی چاہئے۔

ہمارے بے خبر کے مطابق صدر ممنون حسین سزا پر عملدرآمد کو لمبے عرصے کے لئے التوا میں ڈالنا چاہتے تھے۔ انہیں سزا پر فوری عمل درآمد کے لئے آمادہ کرنے کے لئے نواز شریف کو  صدر مملکت سے ایک ہنگامی ملاقات کرنی پڑی۔ ممنون حسین کراچی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے بریلوی مکتبہ فکر کی اکثریت اور ان کے ردعمل کی صورت میں مسلم لیگ نون کے ووٹ بنک کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں فکر مند تھے۔

ہمارے بے خبر کا یہ بھی کہنا ہے تمام تر میڈیا ہینڈلنگ حکومت نے خود ہی کی تاکہ صورتحال قابو میں رہے۔ اداروں کو اس حوالے سے کچھ خاص زحمت نہیں دی گئی۔ ریاست کی رٹ کے حوالے سے یہ ممتاز قادری کی سزا پر عملدرامد ایک اہم اقدام تھا اس کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے۔ اس کے لئے انتظار کرنا ہوگا کہ آیا ممتاز قادری نوازشریف کی سیاست بھی ڈبو دے گا؟
یہی ڈیمج کنٹرول کرنے کے لئے سابق ناظم کراچی جیسے کئی نئے شعبدے مستقبل قریب میں دکھائے جائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments