عمران خان اپنا روٹھا ہوا ووٹر کیسے واپس لا سکتے ہیں؟


خواہ فیصلہ نواز شریف کے خلاف آئے یا حق میں، دونوں صورتوں میں اب سب سیاسی جماعتوں کے لئے الیکشن سے پہلے کا آخری وقت چل رہا ہے۔ سب جماعتیں ووٹر کو کھینچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ نواز شریف اپنی سڑکوں اور میٹرو کے پراجیکٹ کے بل پر ووٹ مانگ رہے تھے، اب وہ مظلومیت کا ووٹ بھی مانگیں گے۔ عمران خان کرپشن کے خاتمے اور موجودہ نظام کی تبدیلی کے نام پر ملک کے پڑھے لکھے اور نوجوان طبقات سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔

سیاستدانوں کی کرپشن اور نا اہلی سے تنگ آئے ہوئے پڑھے لکھے لوگوں کے لئے عمران خان کی ذات میں بے پناہ کشش تھی۔ ان پر کرپشن کا داغ نہیں تھا۔ دبنگ انداز میں بات کرتے تھے۔ الیکٹرانک میڈیا کی پاکستان میں آمد کا سب سے زیادہ فائدہ انہوں نے اٹھایا اور ٹاک شوز میں بار بار اپنا موقف بیان کر کے پاکستان کو تبدیل کر کے ترقی یافتہ بنانے کے خواہاں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اکتوبر 2011 کے انتخابات سے قبل ہونے والے آخری سروے میں یہ سامنے آیا کہ ملک بھر میں 25 فیصد ووٹر عمران خان کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ یہ تقریباً اتنی ہی تعداد تھی جتنی میاں نواز شریف کو ووٹ دینا چاہتی تھی۔

انتخابات ہوئے۔ نتیجہ آیا تو میاں نواز شریف کی مسلم لیگ ن نے ڈیڑھ کروڑ ووٹ لے کر 166 سیٹیں جیتی تھیں اور تحریک انصاف نے ستتر لاکھ ووٹ لے کر صرف 33۔ اس کے بعد 14 اگست 2014 کو دھرنے کا سفر شروع ہوا جو 17 دسمبر 2014 کو عمران خان کو بے انتہا نقصان پہنچا کر ختم ہوا۔

دھرنا ختم ہونے تک عمران خان کے ہم جیسے بہت سے ووٹر ان سے مایوس ہو چکے تھے۔ کچھ کا خیال تھا کہ عمران خان کو اپنی حکومت والے صوبے کو ماڈل بنانے پر توجہ دینی چاہیے تھی تاکہ ان کے دعووں کو بھی جانچا جا سکے، اور اس ماڈل کو دکھا کر بقیہ صوبوں کے ووٹروں کو بھی راغب کیا جا سکے۔ کچھ یہ دیکھ کر مایوس ہوئے کہ عمران خان شام کو جو بڑا اعلان کرتے ہیں، اگلے دن اسے واپس لے لیتے ہیں۔ کچھ نے یہ دیکھا کہ عمران خان کا ہدف صرف اور صرف میاں نواز شریف کو ہٹانا ہی ہے۔ ان کے ساتھ سٹیج پر کھڑے بہت سے چہرے وہی تھے جو ملک میں کرپشن کی علامت تھے۔ بہت سے ووٹر عمران خان سے مایوس ہو گئے۔ ہم بھی ان میں شامل تھے حالانکہ ہم ان کے جلسوں میں بھی شرکت کرتے رہے تھے اور ان کو ووٹ بھی دیتے رہے تھے۔

اکتوبر 2011 سے دھرنے تک ملک کے کالم نگاروں اور اینکرز میں عمران خان بہت زیادہ مقبول تھے۔ جلد ہی وہ پہلے نیوٹرل ہوئے اور پھر عمران خان کی مخالفت کرنے لگے۔ اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اگر وہ دس جملے عمران خان کی حمایت میں کہنے کے بعد ایک جملہ بھی مخالفت میں کہتے تھے تو تحریک انصاف کے حامی ان پر گالم گلوچ کے انبار لگا دیتے تھے۔ یوں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں عمران خان اپنے دوستوں سے محروم ہوتے چلے گئے۔

عمران خان کو یہ سوچنا ہو گا کہ اگلے الیکشن میں ان ناراض دوستوں کو واپس کیسے لائیں؟

رائے سازی میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمایاں چہرے بہت اہم ہوتے ہیں۔ ان پر فوکس کرنا چاہیے۔ عمران خان کی ایک بہت بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے حامیوں کی جانب سے کی جانے والی دشنام طرازی کے خلاف کبھی نہیں بولے۔ کالم لکھنے والوں نے کالم لکھ کر شکایتیں کیں، الیکٹرانک میڈیا والوں نے اپنے پروگراموں میں ناراضگی ظاہر کی۔ ایسے موقع پر اگر عمران خان اپنے حامیوں کو سرعام یہ کہتے کہ وہ ایسا رویہ اختیار نہ کریں تو وہ اپنے ان دوستوں کو دشمن نہ بناتے۔

اسی بارے میں: ۔  میکیاولی کی نئی کتاب ’دی خان‘

عمران خان کو اپنی زبان پر بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں بعض ایسے لوگوں کو جگہ دی جاتی ہے جو دوسری پارٹیوں کے خلاف بدزبانی کریں۔ عام طور پر یہ پارٹی کی تیسرے درجے کی قیادت ہوتی ہے جو ایسا کرتی ہے۔ پہلی اور دوسری صف کی قیادت دوسرے سیاستدانوں کے خلاف بدزبانی سے احتراز کرتی ہے کیونکہ انہیں مذاکرات کی میز پر ان کے سامنے بیٹھنا ہوتا ہے اور ان کو اپنے موقف پر قائل کرنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان یہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک بھر کے صف اول کے لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ رانا ثنا اللہ اور ان کے ساتھیوں کے لیول پر اتر کر گفتگو کرتے ہیں۔

ان کی ایک کوتاہی یہ ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر بات نہیں کرتے ہیں اور جوش جذبات میں کچھ بھی کہہ جاتے ہیں جو بعد میں ان کو شرمندہ کرتا ہے۔ سب سے بہتر تو یہ ہے کہ وہ لکھی ہوئی تقریر کیا کریں ورنہ پرچی سے دیکھ کر اہم پوائنٹس کو ذہن میں رکھتے ہوئے بات کریں۔

سوچنے کی ایک چیز یہ ہے کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی کارکردگی کیا رہی ہے؟ کیا وہ پارلیمان میں حکومت پر گرفت کرتے ہیں؟ کیا وہ نئے مسودہ قوانین لاتے ہیں جن کی وجہ سے الیکشن اصلاحات ہوں یا کرپشن کا خاتمہ ہو سکے؟ ایسے قوانین تحریک انصاف اپنی تیس سیٹوں کے بل پر منظور نہیں کرا سکتی مگر ان کے خلاف ووٹ دینے پر دیگر پارٹیوں کو شدید عوامی خفت سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے اور طوعاً و کرہاً ان کو حمایت کرنی پڑے گی۔ بدقسمتی سے عمران خان قومی اسمبلی میں تشریف ہی نہیں لے جاتے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں تحریک انصاف کے اراکین شرکت کیوں نہیں کرتے اور ادھر حکومت پر گرفت کیوں نہیں کرتے؟ اگر رؤف کلاسرا صاحب جیسا صحافی اس کے اجلاسوں میں شرکت کر کے بڑے سکینڈل سامنے لا سکتا ہے تو تحریک انصاف کی اس مقصد کے لئے بنائی گئی ٹیم ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟

دھرنے سے ہمیں سب سے بڑی مایوسی یہی ہوئی تھی کہ ادھر سودا کرنے کی پوزیشن تھی کہ الیکشن اصلاحات پر قانون سازی کر لی جاتی تاکہ اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کے ساتھ وہ نہ ہوتا جو پچھلے الیکشن میں ہوا تھا۔ مگر اس موقعے کو محض ایک ضد کی وجہ سے گنوا دیا گیا کہ باقی پانچ شرطیں جائیں بھاڑ میں، نواز شریف استعفی دیں۔ تحریک انصاف کو قانون سازی کی اہمیت کا احساس کرنا چاہیے۔

اب فوکس کرتے ہیں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم اور صحت جیسے معاملات صوبائی حکومت کے ہاتھ میں ہیں۔ عمران خان نے ہسپتالوں کے لئے کیا کیا ہے؟ کیا ادھر کے ڈاکٹروں کی تنخواہیں زیادہ کی گئی ہیں اور ان کی ڈیوٹی کو مسلسل چھتیس گھنٹے سے کم کر کے آٹھ گھنٹے کیا گیا ہے؟ کیا عوام کو سستی دوائیاں جنیرک (عمومی) نام سے مل رہی ہیں یا ان کو ڈرگ کمپنی مافیا دل کھول کر لوٹ رہی ہے؟ ادھر چار ارب روپے کی رقم سے شوکت خانم ہسپتال تو بنایا گیا ہے، مگر کیا ویسے دس ہسپتال سرکاری سیکٹر میں بنانا ممکن نہیں تھا؟ کیا کوئی سرکاری ہسپتال اس وقت شوکت خانم ہسپتال کی طرح ایک بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے اور ویسا نظام رکھتا ہے؟

اسی بارے میں: ۔  ٹرمپ کی ”گریٹ گیم“

ایسی رپورٹیں ہم نے پڑھی ہیں کہ صوبے کے لوگ اپنے بچے نجی تعلیمی اداروں سے ہٹا کر سرکاری اداروں میں داخل کرانے لگے ہیں۔ بہت اچھی بات ہے۔ مگر سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد میں کتنا اضافہ کیا جا رہا ہے؟ جو افراد اپنے بچے نجی اداروں میں پڑھا رہے ہیں، کیا ان کے لئے کچھ کیا گیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ہر نجی ادارہ اپنا الگ یونیفارم رکھتا ہے جو اس کی مقرر کردہ دکان سے ہی مہنگے داموں ملتا ہے۔ کیا پورے صوبے میں یکساں یونیفارم کا قانون بنا کر والدین کے لئے زندگی آسان کی جا سکتی ہے؟ کیا سکولوں پر یہ پابندی لگائی جا سکتی ہے کہ وہ طلبا کو اپنی کاپیاں خریدنے پر مجبور نہ کریں بلکہ کھلے بازار سے کاپی خرید کر استعمال کر سکیں؟ نجی سکولوں کی یہ مخصوص کاپیاں ستر اسی روپے میں فراہم کی جاتی ہیں جبکہ مارکیٹ میں اسی کوالٹی کی کاپی تیس روپے میں دستیاب ہوتی ہے۔

جہاں تک پولیس کی بات ہے تو یہ سب جانتے ہیں کہ پختونخوا کی پولیس شروع سے ہی بہت بہتر تھی۔ وہ پنجاب پولیس کے انداز میں چادر اور چار دیواری کی پامالی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ہے۔ اس کا بہت زیادہ کریڈٹ دینا ممکن نہیں ہے، ہاں یہ بات سننے میں ضرور آئی ہے کہ پولیس کو سیاسی اثر سے آزاد کیا گیا ہے جو قابل تعریف بات ہے۔ لیکن پولیس نظام انصاف کا صرف ایک جزو ہے۔ کیا صوبائی عدلیہ تیزی سے مقدمے نمٹا کر عوام کی زندگی آسان کر رہی ہے یا وہاں ابھی بھی دادا کے مقدمے کی پیشیاں پوتا بھگتتا ہے؟

اگلے الیکشن میں تقریباً دس ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ اگر ان دس ماہ میں عمران خان ہمیں نواز شریف اور آصف زرداری کی خامیاں بتاتے رہنے کی بجائے اپنی خوبیاں بتائیں اور ان کے صوبے کے عوام بھی ان خوبیوں کا ذکر کریں، تو ان کے روٹھے ہوئے ووٹر ان کی طرف واپس پلٹیں گے اور ان کو نئے ووٹر بھی ملیں گے۔ عمران خان نواز شریف کی برائیوں پر فوکس کرنے کی بجائے اس بات پر فوکس کریں کہ وہ عوامی مفادات کے لئے کیا قانون سازی کر رہے ہیں اور کیا منصوبے شروع کر چکے ہیں، تو ان کے لئے بہت بہتر ہو گا۔

ہمیں اس بات کو مزید جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی کی حکومتیں کتنی نااہل یا کرپٹ ہیں۔ سب پاکستانی اس بات سے بخوبی واقف ہیں۔ ہمیں اس بات سے دلچسپی ہے کہ آپ کیا بہتری لا رہے ہیں۔ میں کیوں آپ کو ان پر ترجیح دوں؟ میرے لئے یہ اہم ہے کہ آپ نے اپنی پانچ سالہ صوبائی حکومت میں ایک عام آدمی کی زندگی کو آسان کرنے کے لئے کیا کچھ کیا ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 728 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar