کیلبری فونٹ کا استعمال ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا


کوئی بھی بڑی قانونی فرم ایسی فونٹ استعمال کرنے کی حماقت نہیں کر سکتی ہے جو عوامی طور پر کمرشلی دستیاب نہ ہو۔ پھر کیا وجہ ہوئی کہ اتنی مشہور قانونی فرم نے جو سربراہان مملکت کی جائیداد کے نازک ترین معاملات بھی دیکھتی ہے، یہ فونٹ استعمال کر ڈالی؟ شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ یہ غلطی ایک منصوبے کے تحت جان بوجھ کر کی گئی تھی  اور ایسا کرنے والا ایک محب وطن پاکستانی نوجوان تھا۔

پاناما پیپرز میں مریم نواز شریف کا معاملہ زیر غور تھا۔ سپریم کورٹ نے ساتویں سوال میں یہ پوچھ لیا تھا کہ نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیوں کا اصل مالک کون تھا؟ شریف خاندان کا موقف یہ تھا کہ مریم نواز شریف اس کی ٹرسٹی ہیں اور وہ اس کی مالک نہیں ہیں۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں اس کا ثبوت طلب کر رہی تھی۔ اور جون 2017 کے دن لندن کی اس دھندلی گیلی شام میں ایک عمارت کے تہ خانے میں اس ثبوت کو آخری شکل دی جا رہی تھی۔

کونے میں موجود سیاہ لباس میں ملبوس نوجوان نے اپنے ایپل ائیربک لیپ ٹاپ کو پرنٹ کی کمانڈ دی۔ پرنٹر سے سرسراہٹ کی آواز بلند ہوئی اور چند کاغذ پرنٹ ہو کر نکلے۔ کاغذات پر دستخط کیے گئے۔ سب کے چہروں پر اطمینان تھا۔ ایک مشکل مرحلہ طے کر لیا گیا تھا۔ سیاہ لباس میں ملبوس وہ نوجوان اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے ایک بڑی سازش کو کامیابی سے ناکام بنا دیا تھا۔

چند دن کی بات تھی جس کے بعد شریف خاندان کو شدید خفت سے دوچار ہونا پڑتا اور وہ پاناما کی دلدل میں مزید پھنس جاتے۔ تمام افراد تہ خانے سے نکل کر اوپری منزل میں کمپنی کے سربراہ کے دفتر میں چلے گئے۔ نوجوان نے سگریٹ سلگائی اور اپنے فون پر میسیج ٹائپ کیا ’وہ پھنس گئے ہیں‘۔ دوسری طرف سے جواب آیا ’مبارک ہو۔ میں امید کرتا ہوں کہ تم اقتدار میں آنے کے بعد یاد رکھو گے کہ تمہارے دوست نے تمہاری مشکل کیسے آسان کی تھی‘۔

سیاہ پوش نوجوان پاکستان کے ایک نمایاں سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ امریکہ اور برطانیہ میں اعلی ترین شخصیات کے ساتھ کام کر چکا تھا۔ چند ماہ قبل ہی وہ ایک اہم ترین امریکی سینیٹر اور سابق سیکرٹری آف سٹیٹ کے ساتھ معاون کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اب وہ لندن کی اس چھوٹی لیکن اہم ترین لا فرم میں شامل ہو چکا تھا اور اپنی اعلی کارکردگی اور سابق سیکرٹری آف سٹیٹ کے تعارفی خط کی بنا پر فرم کے مالکان کا بھرپور اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ جب پرانی تاریخوں میں ٹرسٹ کے کاغذات کی تیاری کا کام شروع ہوا تو اس اہم ترین کام کے لئے مالکان کی نظر انتخاب اس پر پڑی۔ مگر وہ نوجوان اب ایک امتحان میں پڑ چکا تھا۔ لندن میں کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ پاکستان کے ایک اہم سیاسی خانوادے کا فرد ہے اور اس کے والد پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہیں۔ لیکن وہ یہ جانتا تھا کہ پاکستان کے مستقبل کا انحصار اسی دستاویز پر تھا جو وہ تیار کر رہا تھا۔ اگر عدالت اسے بطور ثبوت قبول کر لیتی تو اگلی تین چار دہائیوں تک پاکستان شریف خاندان کے تسلط میں پھنسا رہتا اور قعر معزلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا جاتا۔ اس کا ضمیر اسے روک رہا تھا لیکن اس کے فرض کا تقاضا تھا کہ وہ یہ دستاویز تیار کرے۔

سوچ سوچ کر اس نوجوان کی عقل ماؤف ہو گئی تو اس نے امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اپنے جینئیس کلاس فیلو ولیم گیٹس کو فون کیا اور اسے ایمیل پر دستاویز بھیج کر اس سے مشورہ طلب کیا کہ کیسے وہ اپنے تجربہ کار ترین وکیل مالکان کے حکم کے مطابق یہ دستاویز تیار بھی کر دے اور لیکن باریک بینی سے چھان بین کرن پر اسے مسترد بھی کر دیا جائے۔ ولیم نے جواب دیا کہ وہ سوچ کر جواب دے گا۔ محض ڈھائی گھنٹے بعد ہی اس جینئیس کا جواب آ گیا۔ اس نے سیاہ پوش نوجوان کو ایک فائل بھیجی تھی۔ سیاہ پوش نے اسے کھولا تو وہ بعینہ وہی فائل تھی جو اس نے ولیم گیٹس ثالث کے حوالے کی تھی۔ اس میں ایک کومے یا فل سٹاپ کی تبدیلی بھی نہیں کی گئی تھی۔

سیاہ پوش نے حیران ہو کر ولیم سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے اور وہ ایسا سنجیدہ مذاق کیوں کر رہا ہے؟ اس پر ولیم نے دبی دبی ہنسی کے ساتھ بتایا کہ اس نے وہ کام کیا ہے کہ اس دستاویز کو کوئی بھی فارینسک ماہر چند منٹ میں ہی جعلسازی کے طور پر شناخت کر لے گا۔ اس نے اس دستاویز کی فونٹ میں خفیف سی تبدیلی کر دی ہے اور ایک ایسی فونٹ استعمال کی ہے جو ویسے تو عام افراد 2005 سے استعمال کر رہے ہیں مگر یہ آفیشلی 2007 میں ریلیز کی گئی تھی اور کوئی قانونی فرم اسے 2006 کی دستاویز میں استعمال کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ہے۔

یوں دو نوجوانوں نے گھاگ ترین وکیلوں اور سیاستدانوں کو اپنے کمپیوٹر کے علم سے وہ شکست دی جس سے وہ دنیا بھر میں بدنام ہو گئے۔ یوں گیٹس خاندان کے چشم و چراغ اس نوجوان امریکی طالب علم ولیم ہنری گیٹس ثالث جیسے کم عمر لیکن نہایت ماہر ہیکر نے سیاہ پوش نوجوان کی پاکستان کو شریف خاندان کے تسلط سے بچانے میں وہ مدد کی کہ پاکستانی قوم اس کا جتنا بھی احسان مانے وہ کم ہے۔ سیاہ پوش نوجوان کے بارے میں ہم صرف یہ اشارہ دے سکتے ہیں کہ اس کا تعلق ملتان سے ہے۔

چودھری احمد انصار چیمہ لندن کی مشہور بیکر اسٹریٹ میں مقیم سینئیر صحافی ہیں اور ان کا خاص شعبہ فکشنل انویسٹی گیٹیو جرنلزم کرنا ہے۔ ان کی فکشنل رپورٹ پڑھ کر آپ شدید حیرت کا شکار ہو سکتے ہیں کہ کیا یہ بھی ممکن ہے؟ ادارہ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

چودھری احمد انصار چیمہ کی دیگر تحریریں

چودھری احمد انصار چیمہ

چودھری احمد انصار چیمہ لندن کی مشہور بیکر اسٹریٹ میں مقیم سینئیر صحافی ہیں اور ان کا خاص شعبہ فکشنل انویسٹی گیشن جرنلزم کرنا ہے

chaudhry-ahmad-ansar-cheema has 1 posts and counting.See all posts by chaudhry-ahmad-ansar-cheema