سپاہی شفیق پہلوان کی باتیں


سپاہی شفیق پہلوان، لائل پور کے آس پڑوس سے توپخانے کی اس رجمنٹ میں آیا تھا۔ جن دنوں شفیق پہلوان سے گنر بنا، ان دنوں پلٹن میں دو مدعے چل رہے تھے۔ ہندوستان کی سرحد پہ فوج جمع تھی اور کبڈی کی ٹیم کبھی میچ نہیں ہاری تھی۔ ہندوستان ذرا مدھم پڑتا تو افسران کی جان کو ہیڈ کوارٹر اور جوانوں کی جان کو صوبیدار آ جاتے۔۔۔ انسپکشن، ٹریننگ، مقابلے اور وزٹ دوبارہ شروع ہو جاتے ۔ حوالدار اختر کے ذمے یوں تو پورا ٹیکنیکل سیکشن تھا مگر انہیں سب سے اہم ڈیوٹی مجھے گنری سکھانے کی دی گئی۔ کچھ تین مہینے لگے مگر پھر مجھے بھی عادت ہو گئی اپنے ہی استاد سے سر سننے کی۔

“سر جنگ والا سسٹم ٹھیک رہتا ہے۔” استاد اختر نے براون چرمی کور میں لپٹے نیشنل کے ریڈیو پہ برش مارتے ہوئے اظہار خیال فرمایا۔

یاد رہے کہ یہ 2002 کا فروری تھا، شعور کی منزلوں پہ ابھی ٹاک شو کے کاروان نہیں اترے تھے۔ آج کے معروف تجزیہ نگار، اپنی اپنی نوکریوں میں اور صحافی اپنی اپنی بیٹوں میں وقت لگا رہے تھے۔ رائے دینا، قومی فریضہ نہیں تھا اور ہر چیز پہ صائب رائے رکھنا مذہبی فریضہ نہیں تھا۔

“کیوں بھائی”۔ اصولاً مجھے فائر ڈسپلن کے مقدس صحیفے سے عرفان کے موتی چننا تھے، مگر ہیمنگوے کی “آ فئیر ویل ٹو آرمز” کب ان تاویلوں کی محتاج تھی۔ کہانی دلچسپ موڑ پہ تھی۔۔نوجوان لیفٹینینٹ فریڈرک اپنے سپاہیوں کے ساتھ راستہ بھول چکا تھا۔

“چائے پیئں سر” اختر گیان بانٹنے کو بے تاب تھا۔

“جی۔۔۔بتائیں جناب بجلی توپخانہ کے مایہ ناز حولدار صاحب۔۔۔جنگ کا سسٹم کیوں بہتر ہے۔” میں نے کتاب ایک طرف رکھ دی۔

“سر۔۔۔ جب جنگ ہوتی ہے تو پھر فائٹ ہوتی ہے، جوان لڑتا ہے افسر ساتھ لڑتا ہے، لوگ شہید ہوتے ہیں، سب کا دھیان دشمن کی طرف رہتا ہے، فالتو کی فٹیگیں نہیں ہوتیں۔ ایڈم، ٹیکنیکل انسپیکشن نہیں ہوتی۔ دیکھیں نا جونہی جنگ کا معاملہ ٹھننڈا ہوتا ہے، کمانڈر صاحب کے وزٹ کی تاریخ آ جاتی ہے۔ مورچے میں کمانڈر صاحب کے سوال اور ہوتے ہیں اور وزٹ کے سوال اور۔۔۔جنگ میں فوجی اپنا اصل کام کرتا ہے ” اختر کی تقریر خاصی متاثر کن تھی۔ باغ و بہار کے اس قصبے سے وہ صحرا شروع ہوتا تھا جو ہندوستان کی سرحد سے ملتا تھا۔ دسمبر میں ہندوستان کے پارلیمان پہ حملے کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے فوجیں کامری سے کچھ تک آمنے سامنے صف آرا ہو چکیں تھی۔ پھر آہستہ آہستہ جنگ ٹلنے لگی اور کبڈی کی طرف توجہ بڑھنے لگی۔

“اچھا یہ بتائیں کہ آج کبڈی کا میچ کون جیتے گا”

سر اس کا فیصلہ تو شفیق پہلوان کرے گا۔

شفیق پاس سے گزر رہا تھا۔ کھیت کھلیان سے آئے نئے ریکروٹ کی طبیعت میں ایک دل پذیر ککرمتی ہوا کرتی ہے۔ فوج کے سمنددر میں اترتے ہی اس کے لئے گلی محلے گائوں کی سرحدیں، لٹھے سے نکل کر ڈوومیسائل تک جا پہنچتی ہیں، سو گانچھے میں رہنے والا گلگت والے کو اپنے علاقے کا بلاتا ہے اور پینسرہ کے شاملات میں رہنے والوں کا گائوں فیصل آباد کے شمال تک بڑھ جاتا ہے۔ شفیق کے لئے، اطمینان کا ایک احساس یہ بھی تھا کہ میری پیدائش کے خانے میں بھی لائل پور درج تھا۔

“کیوں بھئی شفیق۔۔کیا ہونا ہے آج شام؟ ۔۔۔خان پور کی ٹیم ہارے گی یا نہیں۔۔”۔

“سر ٹیم کوئی بھی ہو، جیت انشاءاللہ ۔۔۔بجلی توپخانہ کی ہو گی”۔ ترقی کی راہ تکتے، آزمودہ کوچ، نائک امین نے اطلاع دی۔ امین کیا کھیلتا تھا، یہ کسی کو بھی نہیں پتا تھا، البتہ وہ ہر نئے کمانڈنگ افسر کو یہ یقین دلا دیتا تھا کہ وہ، ڈسٹرکٹ بورڈ سے رجمنٹل سنٹر تک، ہر قسم کے کھلاڑی کے لئے ہر قسم کا کاغذ مہیا کر سکتا ہے۔ امین کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی شفیق نے پہلوانوں کے سے انکسار سے کانوں کو باری باری ہاتھ لگانا اور سر ہلانا شروع کر دیا۔ باقی لوگوں نے سکھلائے گئے طریقے کے عین مطابق۔۔۔انشاء اللہ کا ایک بھرپور نعرہ لگایا۔

“یہ کانوں کو کیا ہوا۔؟”۔۔میں نے شفیق کے قدرے باہر کو مڑے ہوئے کانوں کے بارے میں سوال کیا

“کی ہویا سر جی”۔

“یہ کان تھوڑے مڑے۔۔۔”۔

ٹیم کے ڈی جی آئی ایس پی آر، نائک امین، ایک بار پھر اسی طرح قوم کی رہنمائی کے لئے آگے بڑھے جو اس عہدے کی متقاضی ہے۔

“سر کبڈی یا کشتی کھیلنے والوں کے کان، مقابلوں میں ٹوٹ جاتے ہیں۔”۔

“پر سر۔۔۔ میرے کن استاد نے بھنے سن”

“کیوں؟”

“سر استاد جی کہندے سن ۔۔۔بئِ کسے ہور کولوں کن بھنوان توں چنگا ایہ کہ استاد کولوں ہی کن بھنوا لے۔”

اس شام ہم میچ جیت گئے۔

اول اول تو مخالف ٹیم نے اپنے کھلاڑیوں کی حمایت میں نعرے لگائے جو کرنل صاھب نے خاموشی سے سنے، مگر پھر ان کی برداشت جواب دے گئی اور انہوں نے میچ رکوا کر نعرے لگانے والوں کی مذمت کی۔

میچ کے اختتام پہ شفیق کو کرنل صاحب کی طرف سےپانچ سو روپے کا خصوصی انعام دیا گِا۔

جنگ ختم ہوگئی، یونٹ واپس چلی گئی۔ شفیق ہر سال کبڈی اور کشتی کے آس پاس کے چار مہینے ہیرو کا پارٹ ادا کرتا، اور باقی کے آٹھ مہینے، چھٹی، سکیم، لنگر، آئی ٹی سی کی چوکور گول کرنے میں گزارتا ۔

دس ۔سال ۔۔۔۔نہیں بلکہ فروری کی اس صبح کو چودہ سال گزر چکے تھے۔۔پورے چودہ ۔۔۔شفیق نائک بن چکا تھا۔ رجمنٹ اب سوات میں تھی۔ ایک دن واٹس ایپ پہ پیغام ملا کہ یک انتہائی مطلوب دہشت گرد کے خلاف روایتی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نائک شفیق کو دو گولیاں لگی ہیں۔ اس دہشت گرد کو مارتے مارتے شفیق کو ٹانگ پہ گولی لگی تھی۔ ایک دن گزر گیا تب کہیں جا کر اس سے بات ہوئی۔

اس کی آواز میں ابھی تک نئے رنگروٹ والی بےساختگی تھی۔

“کسی چیز کی ضرورت۔” میں نے الوداعی فقرہ بولا۔

“نئیں سر۔۔۔بریگیڈئیر صاحب اور جنرل صاحب کی کال آئی تھی، کمانڈر صاحب نے فروٹ باسکٹ بھجوائی ہے اور کرنل صاحب بھی بار بار پوچھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے پتہ وی نئیں چلنا ۔۔۔۔ٹانگ ٹھیک ہو جانی ہے۔ عیدوں بعد چیمپین شپ ہے نا۔” شفیق کی دنیا بہت خوبصورت تھی۔ اس میں سڑکوں کا چونا، درختوں کا گیرو، سردیوں کے خاکی کمبل اور رمضان کی ایکسٹرا ڈائیٹ تھی۔ بس۔۔نہ بیانئے کے جھگڑے، نہ سول ملٹری بیلنس، نہ سی پیک کی سازش نہ پورس بارڈر۔

اگلی بار شفیق سے بات ہوئی تو بیک گرائونڈ میں سوات کے پہاڑوں کی جگہ، چولستان کے ریگزار تھے۔۔۔

میں نے پوچھا کہ ہاں بھائی کیا حال ہے، کہنے لگا۔۔

“سر اللہ دا شکر۔۔۔”

ٹانگ ٹھیک ہو گئی ؟”

” جی سر ویسے تو ٹھیک ہے۔ ۔۔۔آرمی چیف کی سند ملی تھی،،تمغے کے لئے نام بھی گیا تھا۔ اور کہہ رہے ہیں یو پی حوالدار بھی بنا دیں گے۔ اللہ کا شکر ہے ۔ ۔لیکن زخم والی جگہ پہ درد رہتا ہے”

“ہاں شفیق۔۔زخم والی جگہ پہ درد تو رہتا ہے۔۔اور باقی سنا۔ بہاول پور ٹھیک ہے۔۔۔یا سوات بہتر تھا “

“سر۔۔سوات بہتر تھا ۔”

” کیوں؟”،۔۔۔۔ حیرت کی وہ سرحد جہاں میں 2002 میں کھڑا تھا۔۔اب 2017 میں تبدیلی اور مایوسی کے درمیان کوئی ورکنگ بائونڈری بن چکی تھی، جس پہ ہر روز ایک نہ ایک نظرئیے کی گولہ باری ہوتی تھی۔ ہیمنگوے کا لیفٹینینٹ فریڈرک، فوج کے دائرے سے نکل چکا تھا اور ہسپتال کی کھڑکی پہ گرتی بارش سے مذہب، وطن اور محبت کے واہمے توڑتا اور جوڑتا تھا۔

“سر جی جنگ والا سسٹم ٹھیک رہتا ہے ۔۔۔ جب جنگ ہوتی ہے تو پھر فائٹ ہوتی ہے، سب کا دھیان دشمن کی طرف رہتا ہے، فالتو کی فٹیگیں نہیں ہوتیں۔ ایڈم، ٹیکنیکل انسپیکشن نہیں ہوتی۔ ہم وہ کام کرتے ہیں جس کی ہمیں ٹریننگ ملی ہے اور جو ہمیں کرنے چاہئے۔۔۔۔۔۔جو ہمارا اصل کام ہے “


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔