مفتی قوی کے خلاف سازش


​مفتی عبدالقوی باغ و بہار قسم کی شخصیت ہیں اپنے بیانوں اور کارناموں کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ قندیل بلوچ اور ٹوپی فیم مفتی قوی صاحب مبینہ طور پر بی بی سی کی خاتون صحافی سے چھیڑ خانی کرتے پائے گئے۔ خاتون صحافی ہانی طحہٰ نے جب ان کی شکایت کی تو مفتی صاحب فوراً ٹی وی پر جلوہ افروز ہوئے اوراس تما م واقعہ کو اپنے خلاف سازش قرار دے دیا۔

میرا پیارا پاکستان طرح طرح کی سازشوں میں گرا ہوا ہے۔ قومی سے لے کر بین الاقوامی اور پھر قدرتی سازشیں ایک تواتر کے ساتھ سامنے آرہی ہیں۔ ایک مفتی قوی پہ ہی کیا موقوف ہر مفتی اپنے اوپر لگنے والے الزام، ثابت ہوجانے والے جرم، اپنی کوتاہی، فرائض سے غفلت، مٹی پاؤ قسم کے اپنے رویے غرض ہر منفی چیز کو سازش کے کھاتے ڈال کر عوام کو بھی مطمئن کردیتے ہیں اور خود بھی چین کی نیند سوتے ہیں۔

جہاں کچھ سازشیں ہم خود اپنے خلاف کرتے ہیں اور کچھ عالمی طاقتیں پاکستان کے خلاف کرتی ہے وہاں قدرت بھی ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف رہتی ہے۔ مفتی قوی کی خبر 15جولائی کے جس بلیٹن میں چلی صرف انہی خبروں میں کتنی سازشیں پنہاں تھیں۔ ان میں سے کچھ کو تو شناخت کر لیا گیا کچھ ہم کیے دیتے ہیں۔

* مفتی عبد القوی نے بی بی سی کی صحافی ہانی طحہ کی طرف سے چھیڑنے کے الزام کو اپنے خلاف سازش قرار دے دیا۔
* مولوی فضل الرحمن نے جے آئی ٹی کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دے دیا۔
* سعد رفیق نے پانامہ پیپرز کو پاکستان کے خلاف عالمی سازش قرار دے دیا۔
* لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی چھت ٹپکنے لگی۔ بارش کی سازش۔
* راول لیک میں زہریلا مواد شامل ہونے سے پانی زہر آلود ہو گیا۔ زہریلی سازش۔

* کراچی کا نوے فیصد پانی پینے کے قابل نہیں۔ فضلہ زدہ سازش۔
* سوات میں ڈولی لفٹ گرنے سے چار افراد دریا میں ڈوبنے سے سازش کا شکار ہو گئے۔
* وڈیرے نے ضلع خیرپور میں مفت مچھلی نہ دینے پر تالاب میں زہر ڈلوا دیا جس سے لاکھوں مچھلیاں مرگئیں۔
* مجید اچکزئی کی ضمانت عدالت نے منظور کرلی ہے۔ لگتا ہے کانسٹیبل کسی سازش کے تحت گاڑی کے سامنے آگیا تھا۔
* گوجرانوالہ سیالکوٹ شیخوپورہ وغیرہ میں آدھے گھنٹے کی بارش سے گوڈے گوڈے پانی کھڑا ہوگیا ہے۔ دو دن پہلے اسلام آباد کی سڑکیں نہروں کا منظر پیش کررہی تھیں۔ آئندہ دنوں میں بارش کی سازشوں میں اضافے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کیا کوئی دوسرا راستہ نہیں

برادرم سہیل وڑائچ نے وطن عزیز کے لئے تضادستان کی اصطلاح وضع کی ہے لیکن میرے خیال میں جتنی سازش سازش یہاں کھیلی جاتی ہے اسے خاکم بدہن ’’سازشستان‘‘ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ جتنی سازشیں اس ملک میں ہوتی ہیں شاید ہی کسی دوسرے ملک میں اس کی نظیر ملتی ہو۔ اگر الزام لگاؤ تو پھر سازش، اگر جرم ثابت ہوجائے تو اور بڑی سازش۔ کون کون سی سازش اس ملک میں نہیں ہوئی یا کم از کم کس کس عمل کو ہم نے سازش قرار نہیں دیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی ایمبولنس سازش کے تحت خراب ہوئی، لیاقت علی خان کو سازش کے تحت قتل کیا گیا۔ غلام محمد کو سازش کے تحت تخت پر بٹھایا گیا، بھٹو کو سازش کے تحت تختے پرچڑھایا گیا۔ سازش کے تحت بنگلہ دیشیوں کو جدا کیا گیا اور سازشیں ہی کشمیریوں کو ہم سے ملنے نہیں دے رہیں۔ پہلے سازش کے تحت اوجڑی کیمپ میں بم پھٹے پھر اس کے ردعمل میں سازش کے طور پر ایک سی ون تھرٹی پھٹا۔ طالبان، کارگل، مشرف کے جہاز کا ’’اغوا‘‘، نوازشریف کی ڈیل، بے نظیر بھٹو کا قتل۔ اور تو اور ایک صوبائی وزیر ویڈیو میں رشوت لیتے پکڑے گئے، آواز اور تصویر کے ثبوت کے باوجود سازش انجوائے کررہے ہیں۔

ہر ادارہ دوسرے ادارے کے خلاف سازش میں ملوث۔ ہمارے ایک بزرگ کہا کرتے تھے کہ ڈاکٹروں کو جب کسی بیماری کی سمجھ نہ آئے تو کہہ دیتے ہیں یہ ’’الرجی‘‘ ہے۔ ہمیں بھی اگر کسی سازش کی سمجھ نہ آئے، جو کہ اکثر نہیں آتی، تو ہم باہر ہندوستان کو اور ملکی سطح پر اسٹیبلشمنٹ کو اس سازش کا ذمہ دار قرار دے کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ ہندوستان ہمارا ازلی ابدی دشمن یہ چورن بھی آسانی سے بک جاتا ہے۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ نامی کوئی مافوق الفطرت قسم کی چیز جو ہم نے اسی طرح ڈرانے کے لئے رکھی ہوئی ہے جیسے مائیں بچوں کو بھاؤ سے ڈرایا کرتی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  پنجاب یونیورسٹی، فوجی آمر، اعزازی ڈاکٹریٹ اور قومی صحافی

حرف آخر یہ کہ بڑے بڑوں کو تو ایک طرف بچے بچے کو سازشوں کا بھی پتہ ہے اور سازشیں کرنے والوں کا بھی۔ دنیا کی بہترین فوج اور آئی ایس آئی بھی ہے ہمارے پاس۔ ایٹم بم اور میزائلوں سے لدا پھندا ملک ہیں اور ایسے ایسے عالی دماغ کہ پانی سے گاڑیاں چلا دیں، تعویز باندھ کر بجلی کے میٹر آہستہ کردیں۔ ذرا نم ہو تو زرخیز مٹی کی دعویدار قوم پھر ہم ان سازشوں کا توڑ کیوں نہیں کرتے، کیوں ہم انہی سازشوں کے مزے لینے شروع کردیتے ہیں۔ روز سازشیں سنتے ہیں اور دوسرے دن ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتے ہیں کہ کون کون سی نئی سازش مارکیٹ میں آگئی ہے۔
یہ جعل، یہ فریب، یہ سازش، یہ شور و شر
ہونا جو ہے سب اس کے بہانے ہیں سر بسر​


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔