بوقت پیری زہد واتقا کی طرف مراجعت کا معافی نامہ


mujahidمورکھ ! سن !!

او !

اپنی لاعلمی اور کم علمی کو علم سمجھ کر،

بہت زیادہ اترانے والے مورکھ،

سن!

سوئی کی مہین سی نوک پہ

 شاید لاکھوں کی تعداد میں

درازکشیدہ، متحرک اور ایستادہ

جاندار جراثیموں کو تم نے دیکھا ہے کیا؟

جن میں سے محض ایک یا چند

لمحوں میں تقسیم در تقسیم ہو کر

تیری روح اور بدن کو

اتھل پتھل کر سکتے ہیں

کیا تم نے بیضوی،

اپنے محور پہ گھومتی

اور مسلسل سورج کے گرد طواف میں مبتلا

اپنی زمیں پر کوئی گولائی دیکھی کبھی؟

یا خود کو ٹیڑھا، ترچھا، الٹا سمجھا؟

 خلاء میں رہنے والے مورکھ

اپنے بدن سے آگے فضا کو

خود ہی تم نے خلا کا نام دیا

کیا کوئی بھی عالم آج تک

کئی ارب گنا کر کے دکھانے والی خورد بین سے بھی

جوہر کے اندر ریزے کی

بلاتحرک ایک جگہ سے دوسری جاء جائے بنا

موجودگی کا راز پا سکا؟

نیوٹن کا مفروضہ حرکت کس کام آیا؟

تیری مورکھتا کا کیا کہنا

کہ ضد کرتا ہے دیکھنے کی اس کو

کہ جو ساری کائنات پر حاوی ہے

اور تو اور متکلم ہونا چاہتا ہے

سٹیفن ہاکنگ نے جان چھڑائی

یہ کہہ کر کہ

طبعی قوتوں کے مجموعے کو ہی

کہہ لو الہٰ

جس کو دیکھ نہیں سکتے ہو!

 جس سے بات نہیں ہو سکتی!!

1:34pm

Mojahid Mirza


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “بوقت پیری زہد واتقا کی طرف مراجعت کا معافی نامہ

  • 04-03-2016 at 2:29 pm
    Permalink

    او !
    اپنی لاعلمی اور کم علمی کو علم سمجھ کر،
    بہت زیادہ اترانے والے مورکھ،
    سن!
    سوئی کی مہین سی نوک پہ
    شاید لاکھوں کی تعداد میں
    درازکشیدہ، متحرک اور ایستادہ
    جاندار جراثیموں کو تم نے دیکھا ہے کیا؟
    جن میں سے محض ایک یا چند
    لمحوں میں تقسیم در تقسیم ہو کر
    تیری روح اور بدن کو
    اتھل پتھل کر سکتے ہیں

    • 04-03-2016 at 4:38 pm
      Permalink

      تشکر! نصیر احمد ناصر صاحب، باقی وجاہت نے نظم پر عنوان ایسا مڑھا ہے کہ اس سے اللہ ہی پوچھے۔

Comments are closed.