ہالی ووڈ کے سو برس اور جنگی فلموں کے بہترین مناظر


گزشتہ ہفتے ہم نے اس ویب سائٹ پر فلم کے مناظر کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے کی پہلی قسط میں ادارے نے تعارفی سطور میں لکھا:

“گزشتہ ایک سو برس میں فلم نے انسانوں پر تخلیق اور معیشت کے ان گنت دروازے کھولے ہیں۔ کہانی لکھنے سے عکاسی تک، ہدایت کاری سے موسیقی تک اور اداکاری سے مٹتی بدلتی قدروں تک، فلم نے کرہ ارض پر انسانی زندگی کو بدل کے رکھ دیا۔ کروڑوں دلوں کو محبت کرنا سکھایا، ان گنت ذہنوں کو جینے کی ترغیب دی، حسن کے نت نئے زاویے دکھائے، انسانی زندگی میں تشدد، ناانصافی اور محرومی کا ابلاغ کیا۔۔۔۔

کروڑوں گھنٹوں پر محیط ہزاروں زبانوں میں بننے والی لاکھوں فلموں کے ان گنت مناظر ہیں جو دیکھنے والوں کے یاد خزانے کا حصہ ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ایک شخص ہر فلم دیکھ سکے۔ ہم سب نے سوچا کیوں نہ ایک سلسلہ شروع کیا جائے جس میں ہمارے پڑھنے والے اپنے پسندیدہ فلمی مناظر ای میل اور دوسرے ذرائع سے ہم تک پہنچائیں تا کہ دوسرے پڑھنے والوں کو بھی اس مسرت میں کیا جا سکے جو فن کے ان نمونوں سے ہم تک پہنچی۔”

 ہمیں خوشی ہے کہ اس سلسلے کو ہم سب کے پڑھنے والوں کی بڑی تعداد سے پذیرائی ملی ہے۔ تاہم پہلی قسط میں بہترین فلموں کے رومانی مناظر پیش کئے گئے تھے چنانچہ حسب توقع کچھ حلقوں سے بے حیائی وغیرہ کے الزامات بھی موصول ہوئے ہیں۔

اس ضمن میں ہمیں صرف یہ کہنا ہے کہ فن زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ زندگی، موت، خوشی، دکھ، جنگ، محبت، جنس، غربت، ناانصافی، جہالت، علم، یہ سب فن اور تخلیق کے جائز موضوعات ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہیے کہ فن کولہو کے بیل جیسی زندگی گزارنے کے خواہشمند افراد کو مخاطب کر کے تخلیق نہیں کیا جاتا۔ جنہیں ریاکاری سے شغف ہو یا جو معاشرے میں معزز کہلانے کا شوق رکھتے ہوں انہیں چاہیے کہ فنون پر نظر کرم فرمانے کی بجائے آڑھت کے فن لطیف پر توجہ دیں تاکہ چار پیسے کمائے جا سکیں۔

فن پورے قدموں پر کھڑے ہو کر زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی جرات مانگتا ہے۔ اندھیرے اور روشنی سے ڈرنے والوں کی صحت تخلیق، تحقیق، سوال اور دریافت جیسی مہم جوئی سے گریز کرنے سے بہتر رہتی ہے۔

آئیے حالیہ برسوں میں بننے والی جنگی فلموں کے مناظر پر مشتمل مینو یاسمن قبا کا انتخاب دیکھتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔