وزیر اعظم کو دھول سے بچاتے۔۔۔ عدنان اپاہج ہو گیا


میں عدنان کو ملنے اس کے گھر گیا۔ 26 سال کے نوجوان کو بستر پر لیٹے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ کہنے لگا میری تکلیف کا اندازہ آپ صرف اس صورت میں لگا سکتے ہیں۔ ۔

اگر آپ کی عمر 26 سال ہے

اور آپ ایک سال سے زائد عرصہ تک چھت کو گھورتے رہیں۔ ۔

پھر کہنے لگا۔ ۔ نہیں میری اذیت کا اندازہ ہر عمر کا انسان لگا سکتا ہے اگر وہ جی کڑا کر صرف آدھا گھنٹہ ہی چھت کو گھور لے۔ ۔

پھر خود ہی میری طرف دیکھ کر کہنے لگا۔۔۔ “کیا کسی کے پاس اتنا وقت ہوگا؟”

(عدنان کو جب ایمبولینس میں ڈالا جا رہا تھا تو اس لمحے کی یہ تصویر مجھے ایک بھائی نے نیو نیوز پر رپورٹ دیکھنے کے بعد واٹس ایپ کی. ان کا بہت شکریہ)

وقت تو شاید صرف میرے پاس ہے۔ مجھے نہیں معلوم دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ اور دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ عجیب بچگانہ سا دکھائی دیتا ہے۔ لوگ جن سیاسی و قومی امور پر پریشان ہوتے ہیں میں انہیں کہتا ہوں آؤ میرے پاس آؤ میں تمھیں بتاؤں کہ دکھ کیا ہوتا ہے اور رنج و الم کس چڑیا کا نام ہے۔ ہمارے گھر کے پاس سے جو سڑک گزرتی ہے وہاں جب کوئی گاڑی ہارن بجاتی گزرتی ہے تو میں سوچتا ہوں۔ ۔ شاید یہ کوئی بس ہے اور اس میں سواریاں بیٹھی ہوں گی۔ شاید ان کو کوئی ذاتی پریشانیاں بھی ہوں لیکن کیا وہ سوچ سکتے ہیں کہ جہاں سے بس گزر رہی ہے وہاں سے تھوڑی دور ایک 26 سال کا نوجوان زندگی ختم کیے بیٹھا ہے لیکن سنتا ہے۔ ۔ زندگی ختم کیے بیٹھا ہے لیکن کھاتا اور پیتا ہے۔ ۔ سوچتا ہے اور بے حد سوچتا ہے۔ ۔ اب اس کے پاس سوچنے کے علاوہ کوئی کام نہیں رہ گیا۔

عدنان نے کہا۔ ۔ میں نے زندگی میں کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ دنیا مجھے اس انداز سے چھوڑ دے گی۔ اپنے کاموں میں مصروف ہو جائے گی۔ میرے آنسوؤں کو پونچھنا تو بہت دور کی بات۔ میرے آنسوؤں کے دیکھنے والے گواہ بھی ناپید ہو جائیں گے۔ میں تو سمجھتا تھا کہ سرکاری نوکری میں بڑے تحفظ ہوتے ہیں لیکن میرے ساتھ تو کچھ ایسا ہوا ہے جیسے۔۔۔ قدیم قبائل کسی کو دور جنگل یا دلدل میں مرنے کے لیے چھوڑ آتے تھے۔ ایسا رویہ جیسا کسی زمانے میں کوڑھیوں کے ساتھ روا رکھا جاتا تھا۔

یکم مارچ 2016 کو وزیر اعظم چکوال کے قصبہ بھرپور گئے۔ ان کے ہیلی کاپٹر کے لینڈ کرنے سے پہلے پروٹوکول ڈیوٹی پر مامور نوجوان اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ مٹی پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا تھا۔ عدنان ایک گاڑی پر سوار تھا اور انتظامی امور کا جائزہ لے رہا تھا جب گاڑی کی چھت سے گرا اور 16 فٹ کی بلندی سے نیچے زمین پر آیا۔ یہ 16 فٹ بظاہر تو بڑی سرعت سے گزرے اور ان کے گزرنے میں تقریبا 0.53 سیکنڈ کا عرصہ لگا۔ ۔ لیکن ان 0.53 سیکنڈ نے دو فیصلے فورا کر ڈالے۔ ۔ عدنان کی ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹنے اور معاشرے میں پائی جانے والی غفلت سے پردہ اٹھانے کے فیصلے۔۔۔

وزیر اعظم کی آمد سے چند لمحے پہلے عدنان کو ہیلی پیڈ سے ہٹا کر چکوال کے ہسپتال روانہ کر دیا گیا تاکہ وزیر اعظم کی آمد کے معاملات میں کوئی تعطل پیدا نہ ہو۔ وزیر اعظم آئے اور ان کے علم میں یہ نہ آسکا کہ ان کو دھول سے بچانے والا ایک نوجوان زندگی موت کی کشمکش اور درد کی شدید اذیت میں مبتلا چکوال ہسپتال کی جانب روانہ ہے۔ وزیر اعظم نے مقامی لوگوں سے خطاب کیا اور ماحول بالکل ایسا ہو گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ دنیاوی اور بالخصوص ہمارے معاشرتی پس منظر سے دیکھا جائے تو واقعی کچھ نہیں ہوا تھا۔ کہاں وزیر اعظم اور کہا ں ایک نچلے طبقے کا ملازم۔۔۔ ہاں لیکن شاید کائنات ہمیں ایسے نہیں دیکھتی۔ اس کے لیے تو سب انسان ہیں۔ اس کے لیے تو اس واقعہ کی شرح یہ ہے۔۔۔ کہ ایک انسان کی آمد پر۔۔۔ ایک انسان اپاہج ہوا۔

چکوال میں ڈاکٹر نے ریڑھ کی ہڈی کی حالت دیکھی تو کہا کہ جس قدر جلد آپ پنڈی پہنچ سکتے اتنا ہی اس کے بچنے یا اپاہج نہ ہونے کے چانسز زیادہ ہوں گے۔ عدنان کو راولپنڈی کی جانب روانہ کر دیا گیا۔ راولپنڈی پہنچ کر اندازہ ہوا کہ ہر طرف سڑکیں بند ہیں، ہسپتالوں میں ڈاکٹر سپیشل ڈیوٹی پر ہیں اور معاملہ یہ ہے کہ ممتاز قادری کا جنازہ ہے۔ عدنان ایمبولینس میں تڑپتا رہا۔ کراہتا رہا۔ سڑکوں پر رکاوٹوں کو عبور کرتے اور ہسپتالوں تک رسائی میں رات 11 بج گئے۔ یاد رہے کہ عدنان دوپہر 11 بجے گاڑی سے گرا تھا۔ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمیابی سے مایوس ہو کر وہ پرائیویٹ ہسپتا ل گئے جہاں ڈاکٹر نے دو لاکھ مانگ لیے۔ اس وقت احساس ہوا کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین کے لیے سرکاری طور پر میڈیکل کی سہولت نہیں ہے۔ ریسکیو 1122 میں عدنان کے ساتھیوں نے 50000 روپے اپنے طور پر اکھٹے کیے۔ عدنان آج بھی ان ملازمین ساتھیوں کو یاد کرتا ہے تو جذباتی ہو جاتا ہے۔ عدنان کا آپریشن کامیاب نہ ہو سکا۔ ان کے والد فوج سے ریٹائرڈ صوبیدار ہیں۔ پنشن پر گزارا ہے۔

عدنان سے بڑے بھائی عرفان کو ذہنی توازن بگڑ جانے کی وجہ سے ائیر پورٹ سیکیورٹی فورس نے نوکری سے نکال دیا اور بغیر کچھ پنشن کا بندو بست کیے گھر بھیج دیا

اب صورتحال یہ ہے کہ دونوں بیٹے باپ کے ناتواں کندھوں پر انحصار کرتے ہیں۔ کوئی والی وارث نہیں۔ لوگ بتاتے ہیں کہ عدنان کا علاج بیرون ملک ہو سکتا ہے لیکن وہ تو اندرون ملک علاج کا تصور نہیں کر سکتے باہر کیسے علاج کرائیں۔ میں جب اپنے پروگرام کے لیے عدنان اور ان کے والد کا انٹرویو ریکارڈ کر رہا تھا تو عدنان کے والد صوبیدار ملک ریاض نے عجب معصومیت سے کہا کہ وزیر اعظم سے اپیل تو کر دوں اور چونکہ ان کے علم میں نہیں تھا اور جب ان کے علم میں آئے گا تو وہ مدد بھی کر دیں گے لیکن ان سے مدد کا یہ وقت مناسب نہیں ہے۔ ۔ میں نے پوچھا وہ کیوں؟۔ ۔ فرمانے لگے میرے گھر میں ٹی وی تو نہیں ہے لیکن آس پاس سے معلوم ہوتا رہتا ہے کہ وہ آج کل پریشان ہیں۔ ۔ مسجد جاتا ہوں تو لوگ ایسی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ میں نے کہا۔ بزرگو ان کی پریشانیاں سدا بہار ہیں لیکن آپ پر یہ ٹوٹی قیامت انوکھی ہے۔ آپ ان کی پریشانیوں کو چھوڑیں اور اپنی بات کھل کر کریں۔

آخر پر آپ سب سے گذارش ہے کہ جس کے گھر میں ٹی وی بھی نہیں ہے اس کی کسی کے ساتھ کیا سیاسی وابستگی ہونی۔ وہ سادہ آدمی ہیں۔ سب سے مدد کے لیے کہہ رہے ہیں۔ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مدد کریں تو خوشی ہو گی کہ پہلا فرض انہی کا ہے کیونکہ انہی کی وجہ سے میرا بیٹا اپاہج ہوا۔ وزیر اعلیٰ مدد کر دیں۔ ملک ریاض ، آصف علی زرداری ، عمران خان ، آرمی چیف۔ ۔ کوئی بھی آگے بڑھے۔۔۔ مجھے تو بیٹے کے علاج اور اس کے مستقبل سے غرض ہے

ان کی مدد دو طرح سے آپ پر فرض ہے۔۔۔ ایک اگر آپ کا تعلق کسی ایسے ادارے سے ہے جو عدنان کے علاج یا مالی مدد کے لیے کچھ کر سکتا ہے تو آگے بڑھیے اور 70 سال کے بزرگ ملک ریاض کی مدد کیجئے کہ جن کے آنسوؤں سے تلاوت کے دوران قرآن پاک کے ورق بھیگے ہوتے ہیں۔ 26 سال کے اس نوجوان کی مدد کیجئے جس کے دل میں کئی ارمان ہوں گے جو مٹی میں مل گئے، ان ارمانوں کو مٹی سے نکالیے۔۔ جھاڑ پونچھ کر یہ ارمان عدنان کے حوالے کیجئے۔۔

اگر آپ اس قابل نہیں ہیں تو اس مضمون کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجئے۔ عدنان پر بنی رپورٹ جو نیو نیوز نے چلائی اس کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجئے۔ ڈان کی خبر کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجئے تا کہ۔۔۔ ۔ عدنان کی آواز اس وزیر اعظم تک پہنچ پائے جن کو دھول سے بچاتے بچاتے۔۔۔ عدنان اپاہج ہوا۔۔ اور اس کی جھولی میں دھرے ارمان مٹی میں مل گئے۔۔

عدنان کی مدد کے لیے ان حضرات سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ملک شفقت اعوان : 03005234846

پروفیسر آصف رسول:03335511508

انجینئرملک لطیف اعوان: 03315959887

صوبیدار ریٹائرڈ ملک ریاض: 03335859773

یا عدنان خان کاکڑ سے ہم سب کے پلیٹ فارم سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ںیو نیوز رپورٹ

https://www.facebook.com/neotvnetwork/videos/1456612154432762/

 ڈان نیوز رپورٹ:

https://www.dawn.com/news/1254273


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 109 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik