سرتاج عزیز نے طالبان قیادت کے پاکستان میں ہونے کا اعتراف کر لیا


Sartajوزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اعتراف کیا ہے کہ افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت پاکستان میں ہے ، محفوظ ہاتھوں میں ہے اور پاکستان اس قیادت کو افغان امن مذ اکرات میں شرکت پر قائل کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے کسی سرکاری عہدے دار نے پہلی دفعہ عوامی سطح پر اس طرح کا اعتراف کیا ہے کیونکہ پاکستان گزشتہ پندرہ برس سے افغان طالبان کی پاکستان میں موجودگی سے انکار کرتا رہا ہے جب کہ اس دوران افغان حکومت سمیت غیر ملکی طاقتیں مسلسل کوئٹہ شوریٰ کی پاکستان میں موجودگی کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ پاکستان نے نہ تو کسی افغان رہنما کو پناہ دی ہے اور نہ ہی پاکستان افغان طالبان ہپر کسی قسم کا دباﺅ ڈالنے کی پوزیشن میں ہے۔

منگل کے روز واشنگٹن میں کونسل ا ٓن فارن افیرز کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان طالبان کی قیادت پاکستان میں محفوظ مقامات پر موجود ہے اور اسے افغان امن مذ اکرات میں شرکت پر قائل کیا جا رہا ہے ۔ یاد رہے کہ چودہ برس پر محیط خانہ جنگی میں افغان، ناٹو اور امریکی فوجیوں سمیت ہزاروں افگان شہری مارے گئے ہیں ۔ سرتاج عزیز نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ افغانستان کے مسائل کی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی قیادت اپنے اہل خانہ سمیت پاکستان میں مقیم ہے اور انہیں حکومت کی طرف سے طبی سہولتیں وغیرہ مہیا کی جاتی ہیں۔ چنانچہ ہم ان سہولتوں کے بدلے افغان رہنماﺅں کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دیتے ہیں ۔


Comments

FB Login Required - comments