بتائیں کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر کیوں عمل کریں؟ سپریم کورٹ


جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد سپریم کورٹ کی پہلی سماعت ہوئی۔ آئیے پاناما کو ٹی وی پر ٹکر ٹکر دیکھیں۔ چند اہم ٹکر مندرجہ ذیل ہیں۔

جے آئی ٹی فائنڈنگ کے پابند نہیں۔
جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل کیوں کریں یہ آپ نے بتانا ہے۔
جے آئی ٹی نے جن دستاویزات پر انحصار کیا وہ تصدیق شدہ نہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن
ضرورت پڑی تو والیوم 10 کو بھی پبلک کر دیں گے، ہر چیز صاف اور شفاف ہونی چاہیے۔ جسٹس اعجاز افضل

جماعت اسلامی کے مایہ ناز وکیل جناب توفیق آصف کی روایتی پرفارمنس آج ایک مرتبہ دوبارہ سپریم کورٹ میں دکھائی دی۔ اس سے متعلق ٹکر دیکھتے ہیں۔

بادی النظر میں وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ توفیق آصف
اگر بادی النظر کہہ دیا تو پھر کیس ہی ختم: جسٹس عظمت سعید
حکومت اپنے انجام کو جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ سراج الحق۔

اب خبر خبر کھیلتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اخبارات میں کیا رپورٹ ہوا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا ایف زیڈ ای کی دستاویزات جے آئی ٹی کو قانونی معاونت کے تحت ملیں یا ذرائع سے، جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ کمپنی کی دستاویزات قانونی معاونت کے تحت آئیں۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ تمام دستاویزات تصدیق شدہ نہیں ہیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات درست ہیں صرف دستخط شدہ نہیں۔
جو ڈھائی گھنٹے بعد اپنے خالو کو پہچانے اس پر کیا بھروسہ کیا جا سکتاہے: شیخ رشید

جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل میں کہا کہ میری درخواست نواز شریف کی اسمبلی تقریر کے گرد گھومتی ہے،نواز شریف نے اسمبلی تقریر اور قوم سے خطاب میں سچ نہیں بولا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے لیکن ہم جے آئی ٹی کی فائنڈنگز کے پابند نہیں، آپ کو یہ بتانا ہے کہ ہم جے آئی ٹی فائنڈنگز پر عمل کیوں کریں۔ جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ ہم جے آئی ٹی کی سفارشات پر کس حد تک عمل کر سکتے ہیں، بتائیں ہم اپنے کون سے اختیارات کا کس حد تک استعمال کرسکتے ہیں۔ جس پر توفیق آصف نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیر اعظم کی نااہلی کے لیے کافی مواد ہے۔ بادی النظر میں وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر بادی النظر کہہ دیا تو پھر کیس ہی ختم ہوگیا۔

نعیم بخاری کے دلائل کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بطور گواہ جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، انہوں نے جے آئی ٹی میں ایسے بیان دیا جیسے پولیس افسر کے سامنے دیتے ہیں، ان کا بیان تضاد کے لیے استعمال ہوسکتا ہے، جے آئی ٹی کے سامنے دیئے گئے بیانات کو ضابطہ فوجداری کے تحت دیکھا جائے گا اور ہم قانونی پیرامیٹرز کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

عدالت عظمیٰ نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا ایف زیڈ ای کی دستاویزات جے آئی ٹی کو قانونی معاونت کے تحت ملیں یا ذرائع سے، جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ کمپنی کی دستاویزات قانونی معاونت کے تحت آئیں۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ تمام دستاویزات تصدیق شدہ نہیں ہیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات درست ہیں صرف دستخط شدہ نہیں۔

سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے۔ اب کل تک جمہور کی عدالت لگے گی۔ ”اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے۔ جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے۔ اب راج کرے گی خلقِ خدا جو تم بھی ہو اور میں بھی ہوں“۔

یعنی اب فیصلہ آپ خود ہی کر لیں کہ کیا ہو گا۔ ممکن ہو تو سپریم کورٹ کی قانونی معاونت کر دیں کہ وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر عمل کیوں کریں۔ یہ بھی بتا دیں کہ جے آئی ٹی کے سامنے بیانات کو پولیس افسر کے سامنے بیانات سمجھ کر ان کو وہی وزن دینا ہے یا انہیں عدالت میں دیا گیا بیان حلفی سمجھا جائے گا۔ یہ بھی سوچ لیں کہ دستخط کے بغیر کی دستاویزات تصدیق شدہ مانی جا سکتی ہیں یا نہیں۔

ہمیں تو کچھ لفڑا لگتا ہے۔ شبہ سا ہو رہا ہے کہ انقلاب آنے میں ابھی کل تک کا وقت باقی ہے۔ ابھی وقت ہے تو ہمارے لئے بہتر یہی ہے سعادت حسن منٹو کا لازوال افسانہ ”نیا قانون“ ضرور پڑھ لیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ منگو کوچوان والی مس انڈرسٹینڈنگ ہو جائے۔

لیکن فیصلے پر خواہ جو بھی مس انڈر سٹینڈنگ ہو، ایک چیز پر ہم بالکل واضح ہیں۔ ہار ہو یا جیت، مگر اس کیس کے اصل ہیرو جماعت اسلامی کے مایہ ناز وکیل جناب توفیق آصف صاحب ہیں۔ اصل جیت جماعت کی ہوئی ہے جو تمام کیس میں توفیق صاحب کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہی ہے۔ خود سراج الحق صاحب اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ”سپریم کورٹ میں معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں“۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 630 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar