الطاف بھائی سے الطاف صاحب تک


mujahid ali کراچی کے سابق میئر مصطفی کمال اور متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سابق ڈپٹی کنوینر انیس قائم خانی کی پریس کانفرنس میں آج جو کچھ کہا گیا، وہ اس وقت تک پاکستان کے بچے بچے کو ازبر ہو چکا ہو گا۔ اس لئے اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس پریس کانفرنس کا انعقاد ، اس پر مصطفی کمال کی شعلہ بیانی اور الزام تراشی اور نئے پاکستان کے لئے عزائم کا اظہار ضرور ایسے موضوعات ہیں کہ ان کا جائزہ لیا جائے اور جاننے کی کوشش کی جائے کہ تین سال کی خاموشی کے بعد مصطفی کمال کو آخر اچانک واپس آنے اور الطاف حسین کے جرائم کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ انہوں نے خود ہی بات کا آغاز کرتے ہوئے اسی سوال کو موضوع بنایا اور کہا کہ وہ دس منٹ میں تین پہلوﺅں پر بات کریں گے۔ ایک یہ کہ وہ اچانک خاموشی سے کیوں پاکستان چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ اچانک کیوں واپس آئے ہیں اور وہ آئندہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مبینہ طور پر انہوں نے یہ ساری وضاحت دس منٹ میں کرنا تھی لیکن بات نکلی تو دور تک چلی جائے گی کے مصداق یہ دورانیہ  دو گھنٹے کی طویل تقریر نما بیان پر محیط ہوگیا۔ لیکن ان تینوں سوال نما پہلوؤں  کا جواب نہایت مختصر اور آسان تھا۔ مصطفی کمال ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے عوام دشمن اور مجرمانہ اقدامات سے تنگ آ چکے تھے اور اچانک ان کا ضمیر جاگ گیا۔ ایک روز انہوں نے سوچا  کہ اگر ایمان کی رمق ابھی باقی ہے تو وہ کیوں کر ایسے عوام دشمن کاموں کا حصہ بن سکتے ہیں۔ بس کایا پلٹ گئی۔ اور وہ اللہ کے خوف کی وجہ سے پارٹی اور ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ تین برس بعد انہیں خیال اآیا کہ وہ ان عوام کو کس کے سہارے چھوڑ آئے جن پر ہونے والے  مظالم دیکھ کر ان کا ضمیر جاگا تھا۔ بس پھر کیا تھا کہ اللہ  کا ایسا خوف طاری ہؤا کہ وہ فوراً واپس چلے آئے۔ تاکہ اپنے لوگوں کو بیچ منجدھار چھوڑنے کے مجرم نہ ٹھہریں۔ اور اب اسی نیک مقصد سے  اللہ ہی کے سہارے نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے کہ ملک اور مظلوم لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ ادا کر سکیں۔

اگرچہ مصطفی کمال نے پیچیدہ اور مشکل سوالات کو نہایت سادگی سے بیان کر دیا ہے اور اس بات کی بھی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر واپس آئے ہیں تا کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کو محدود کرنے کا جو عمل شروع کیا گیا ہے، اسے انجام تک پہنچا سکیں۔ البتہ اس بات سے تو وہ خود اور ان کے ساتھی انیس قائم خانی بھی انکار نہیں کر سکتے کہ اس حوالے سے نام نہاد اسٹیبلشمنٹ اور مصطفی کمال اینڈ کو کا مقصد ایک ہی ہے۔ یعنی الطاف حسین کے جرائم کا پردہ فاش کیا جائے اور لوگوں کو ان کا اصل مکروہ چہرہ دکھاتے ہوئے ان کی قیادت میں گمراہ ہونے سے بچایا جائے۔ کراچی میں رینجرز نے امن بحال کرنے کے لئے جو کارروائی کی ہے، اس میں زیادہ تر متحدہ قومی موومنٹ کے ہی پر کاٹے گئے ہیں اور کراچی میں بحالئ امن کے حوالے سے ہونے والے اقدامات سے لے کر لاہور ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت میں ہونے والی کارروائی تک سے جو بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے، اس سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ ملک کے اصل حکمران طبقے کو اب ایم کیو ایم کی خود سری منظور نہیں ہے۔ الطاف حسین عوامی تائید کے زعم میں آئے روز جو دھمکی نما زبان استعمال کرتے ہیں، اب اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عزم اس حد تک پختہ دکھائی دیتا ہے کہ الطاف حسین کی زبانی معافی کے علاوہ تحریری معافی نامہ پر مبنی بیان حلفی بھی ایوان ہائے بالا کا غصہ کم کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔ مصطفی کمال کی پریس کانفرنس سے بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے، الطاف صاحب جنہیں وہ تین سال پہلے تک محبت ، احترام اور مجبوری میں الطاف بھائی کہتے تھے، کے اتنے جبر اور ظالمانہ کام دیکھے ہیں کہ وہ اب پیچھے مڑ کر دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ گویا ایم کیو ایم کو گرانا اور الطاف حسین سے پاکستان کی جان چھڑانا  ہی  دونوں کا مشترکہ مقصد ٹھہرا۔  مقصد ایک ہو تو راستے جدا ہونے کے باوجود کبھی نہ کبھی مل ہی جاتے ہیں۔
کراچی کے سابق مقبول کرشماتی ناظم کا کہنا ہے کہ وہ تہی دست اور اکیلے ہیں۔ بس خدا کا خوف ان کے دل میں اور پہلو میں دیرینہ ساتھی انیس قائم خانی ہیں۔ وہ دونوں دبئی میں آرام دہ زندگی اور روزگار چھوڑ کر پاکستان میں قیام کرنے اور کراچی کے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھانے آئے ہیں۔ اس بارے میں ماضی کے تناظر میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ وہ ملٹری ٹرک پر بیٹھ کر فوجیوں کے پہرے میں پریس کانفرنس منعقد نہیں کر رہے۔ اس لئے سب لوگ جان لیں کہ وہ تن تنہا ہیں مگر ان کے ارادے بلند ہیں۔ عام تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ انسان کے ارادے بھی تب ہی بلند ہوتے ہیں جب اس کے پاس اسباب میسر ہوں۔ وسائل اور ساتھیوں کے بغیر نہ تو سیاسی پارٹیاں بنتی ہیں اور نہ آگے بڑھتی ہیں۔ اس قسم کی پارٹیاں اگر قائم ہو بھی جائیں تو وہ چند ہفتے یا چند ماہ اخبارات کے اندرونی صفحات میں سنگل خبر جگہ پانے کے بعد اپنی موت آپ مر جاتی ہیں۔ اس کے برعکس مصطفی کمال کی پریس کانفرنس کو ملک کے تمام ٹیلی ویژن چینلز نے بیک وقت کسی وقفے کے بغیر نشر کیا۔ بلکہ اس پریس کانفرنس کا آغاز ہونے سے گھنٹہ بھر پہلے ہی سینئر صحافی اور تجزیہ کار مصطفی کمال کی واپسی جیسے دلچسپ اور سنسنی خیز موضوع پر گفتگو کرنے کے لئے اسٹوڈیوز میں جمع ہو گئے تھے اور اپنے اپنے طور پر دور کی کوڑی لا رہے تھے۔ پریس کانفرنس کو براہ راست نشر کیا گیا اور چینلز نے اس دوران خبروں کا وقفہ لینے کا تردد بھی نہیں کیا۔ کیونکہ اس وقت پاکستان کیا، دنیا کی سب سے اہم خبر یہی پریس کانفرنس اور اس میں عائد کئے جانے والے پرانے الزامات تھے۔ دو تہی دست لوگوں کی اس گرمجوش میڈیا پذیرائی کی آخر کوئی وجہ تو ہو گی۔ یاوش بخیر اسی پذیرائی سے محروم ہونے کے بعد الطاف حسین بے چین ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لئے ہر طرح کا ” اقبال جرم “ کرنے کو بھی تیار ہیں۔ لیکن قبولیت کی گھڑی ہر کسی کے مقدر میں نہیں ہوتی اور ہر وقت میسر نہیں ہوتی۔ ابھی مقبولیت اور قبولیت کا یہ ہما مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کے سر پر بیٹھا ہے۔
سوال ہے کہ کیا وہ اس مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے جو انہوں نے بیان کیا ہے۔ جواب ہے کہ جس بے سروسامانی کے ساتھ یہ کام کرنے کا بیڑہ اٹھانے کا اعلان کیا گیا ہے ، اگر وہ سچ ہے تو یہ کام ہرگز ممکن نہیں ہے۔ لیکن شواہد جو بتاتے ہیں اور جو طاقتور عناصر الطاف حسین کا زوال یقینی بنانے کے لئے کراچی میں ایک نئی مہاجر تحریک چلانے کی خواہش رکھتے ہیں ان کا ساتھ میسر ہونے کی صورت میں متحدہ قومی موومنٹ کے یہ دونوں جیالے کچھ عرصہ تک پیالی میں طوفان ضرور بپا کریں گے۔ الیکٹرانک میڈیا کی خبروں اور ٹاک شوز کی رونق میں اضافہ کا سبب بنیں گے۔ دونوں طرف سے الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہوگا اور ملک کے درجنوں اینکرز کو اپنے شوز میں ہنگامہ برپا کروانے کے لئے کسی خبر یا کردار کو تلاش کرنے کی پریشانی لاحق نہیں رہے گی۔ ایم کیو ایم پر دباﺅ بھی بڑھے گا اور وہ شاید ایسی باتیں ماننے پر بھی آمادہ ہو جائے جو وہ ابھی ماننے سے گریز کر رہی ہے۔ تاہم یہ تصور کر لینا محال ہے کہ الطاف حسین کی سرپرستی میں چند برس کراچی کا میئر رہنے والا ایک شخص کوئی ایسی پارٹی منظم کر سکتا ہے جو سارے مہاجروں کو ” گمراہی“ سے بچانے میں کامیاب ہو جائے اور ملک میں ایسا سیاسی انقلاب برپا کر دے کہ پارلیمنٹ ملک میں صدارتی نظام مروج کرنے پر مجبور ہو جائے۔ یوں بھی ایک ایسا شخص جو اپنے نئے سیاسی سفر کا آغاز کرنے سے پہلے ماضی کے جرائم میں شریک ہونے کا اعتراف تو کرتا ہے مگر ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور سارا بوجھ الطاف حسین کے سر پر لاد کر مہاجروں کو دہشت اور ذلت سے بچانے کے لئے قیادت کا امیدوار بن بیٹھا ہو …. نہ تو قابل اعتبار ہو سکتا ہے اور نہ لوگ اس کی باتوں پر یقین کریں گے۔ ایم کیو ایم وقتی طور پر بدحواس اور پریشان تو ضرور ہو گی لیکن اس پارٹی کو ملکی سیاست میں وسیع تجربہ ہے اور کارکنوں پر الطاف حسین کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ اس کنٹرول کو مختصر عرصے میں مکمل طور سے ختم کر دینا قرین قیاس نہیں ہے۔ اور شاید نہ ہی یہ مطلوب ہے۔ اصل خواہش الطاف حسین کی ضرورت سے بڑھی ہوئی خود سری کو قابو میں رکھنا ہے۔
یہ بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ 29 فروری کو ممتاز قادری کی سزائے موت کے بعد ملک میں مذہبی جماعتوں میں جو بے چینی پائی جاتی ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد کے جذبات جس طرح انگیختہ ہیں، مصطفی کمال کی آمد سے لوگوں کو غور کرنے کے لئے متبادل فراہم کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ اگر مذہبی جماعتیں کسی سیاسی اتحاد کی صورت میں کوئی سیاسی طبع آزمائی کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو ان کے مقابلے میں الطاف حسین جیسے ” عفریت “ کا زور توڑنے والے تازہ دم سیاسی کارکن میدان میں موجود ہوں۔ اس طرح ملک میں سیاسی توجہ کا مرکز تقسیم ہو سکے گا اور حکومت و حکمران آسانی سے کسی بڑے بحران سے نکل سکیں گے۔
ان سیاسی ضرورتوں اور مجبوریوں سے قطع نظر مصطفی کمال کی پریس کانفرنس الزامات اور نعرے بازی کا ایک ایسا ملغوبہ پیش کرتی ہے جو اس سے پہلے بھی بہت لوگ استعمال کر چکے ہیں۔ یہ اہتمام خواہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے خود کیا ہو یا ان سے کروایا گیا ہو، اس سے بہرصورت عام شہری کی توہین کا پہلو نکلتا ہے کہ اس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ان دو افراد کے ماضی کی وابستگی اور بداعمالیوں میں شمولیت کے اعتراف کے باوجود ان کو اپنا رہنما ماننے پر تیار ہو جائیں گے۔ حالانکہ ملک کا شہری سیاسی طور پر بالغ النظر ہو رہا ہے اور اب اس قسم کے سیاسی کرتبوں کو سمجھنے لگا ہے۔ یہ خبریں بھی موجود ہیں کہ ہو سکتا ہے اسٹیبلشمنٹ نے مصطفی کمال کے اس نئے ایڈونچر کا اس لئے ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہو کہ ایم کیو ایم کی پاکستانی قیادت میں الطاف حسین سے ناراضگی اور مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ امید کی جا رہی ہے کہ نائن زیرو کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے متعدد لیڈر آنے والے دنوں یا ہفتوں میں مصطفی کمال کے ساتھ مل جائیں گے۔ اس طرح الطاف حسین کو تنہا کرنے اور انہیں پارٹی کے معاملات سے بے اثر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہو سکتا ہے دوسرے تیسرے درجے کے چند لیڈر ایسا موقع ملنے کی صورت میں اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ لیکن یہ خواہش پوری ہونے کا امکان نہیں ہے کہ پارٹی کی ساری نمایاں قیادت یا کوئی قابل ذکر نام مصطفی کمال کی پریس کانفرنس کے بعد ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے آمادہ ہو گا۔ کیونکہ ان میں ہر شخص خود کو بہرصورت مصطفی کمال اور انیس قائم خانی سے زیادہ بڑا لیڈر سمجھتا ہو گا۔ اور اپنی سیاسی پوزیشن کو داﺅ پر لگانے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔ اور نئی سیاسی پارٹی کا لیڈر تو ایک ہی ہوسکے گا۔
ایک جمہوری نظام میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے خلاف اس قسم کی کارروائی سے کوئی حوصلہ افزا نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ کوئی بھی سیاستدان یا پارٹی الزامات سے زیر نہیں ہو سکتی۔ انہیں نیچا دکھانے کے لئے عوام کو ہی انہیں مسترد کرنا ہو گا۔ بوجوہ عوام ابھی تک سیاسی بلوغت کے اس معیار پر نہیں پہنچے کہ وہ ایسے سیاسی لوگوں کو انتخاب میں مسترد کریں جو گزشتہ دور میں اپنے وعدوں کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ لیکن اگر ملک میں جمہوری عمل جاری رہا تو اس شعور میں بھی اضافہ ہو گا۔ ایم کیو ایم اور الطاف حسین کی مسلسل مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں نظام کی طرف سے اکثر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان کے حامی محسوس کرتے ہیں کہ پارٹی قیادت کو سیاسی عمل میں کردار ادا کرنے کا مناسب موقع دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ جب یہ رائے تبدیل ہو جائے گی، الطاف حسین اور ایم کیو ایم غلط فیصلوں کی سزا عدم مقبولیت کی صورت میں خود ہی پا لیں گے۔

Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “الطاف بھائی سے الطاف صاحب تک

  • 05-03-2016 at 4:23 am
    Permalink

    “ان کے حامی محسوس کرتے ہیں کہ پارٹی قیادت کو سیاسی عمل میں کردار ادا کرنے کا مناسب موقع دینے سے انکار کیا جاتا ہے”
    تیس سال سے ہر دوسرے ہفتے جو تنظیم بندوقوں سے لے کر بوریوں تک کے زور پر پاکستان کے واحد کثیر اللسان شہر کو زبردستی بند کرواتی رہی ، گولیوں ، دھمکیوں اور اغوا کے سہارے جن حلقوں سے جیت یقینی ہوتی تھی وہاں سے بھی جعلی ووٹوں کی تعداد بڑھاتی رہی میڈیا پر تیس سال تک بلاشرکت غیرے حکومت کرتی رہی اور واحد لسانی تنظیم جو سندھ میں تمام دوسری لسانی اکائیوں کے افراد کو کبھی نہ کبھی ” ٹھکانے ” لگا چکی ہے ، اسکے بارے میں آپکا یہ جملہ سمجھنے کے لیے مجھے ایک اور زندگی چاہیے

Comments are closed.