سندھ میں 88 فیصد لوگ گٹر کا پانی پیتے ہیں


صرف دو دن پہلے عدالتی کمیشن میں ایک رپورٹ جمع کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پورے سندھ میں 88 فیصد لوگ گٹر کا پانی پیتے ہیں۔

سی پیک کی ترقی سر آنکھوں پر۔ بلٹ ٹرین بھی چلے گی، خوش آمدید۔ میٹرو اور موٹر وے بھی موسٹ ویلکم۔ موبائیل فون نے بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کی ہے۔ بہت بڑے بڑے بلاول ہائوس بھی ہر شہر میں بن رہے ہیں مگر اس رپورٹ کا کیا کریں جو صرف دو دن پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر سندھ ہائی کورٹ کے جج صاحب کی سربراھی میں قائم اس عدالتی کمیشن میں دوسری مرتبہ جمع کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پورے سندھ میں 88 فیصد لوگ گٹر کا پانی پیتے ہیں۔

تقریبًا چھہ مھینے قبل سینیئر وکیل جناب شھاب اوستو نے سندھ میں پینے کے پانی اور سیوریج کی تباہ حالی پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک آئینی درخواست داخل کی تھی۔ جس پراس وقت کے جسٹس امیر ہانی مسلم ( اب رٹائرڈ) نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے سندھ ہائی کورٹ کے جج کی سربراھی میں ایک با اختیار کمیشن قائم کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس پر عمل کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جناب جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا۔

کمیشن نے قانونی ماہر اور پانی ماہر ساتھ لیکرپہلے مرحلے میں لاڑکانہ، جیکب آباد، شکارپور، سکھر، حیدرآباد، کوٹری اور کراچی کا تفصیلی دورہ کیا تھا۔ اور اس دورے میں جو انتہائی دردناک اور تشویشناک صورتحال سامنے آئی تھی وہ کمیشن کے سربراہ نے اس وقت ایک جملے میں بیان کردی تھی کہ، سندھ کے لوگ گٹر کا پانی پیتے ہیں، سمجھ میں نہین آتا وہ اب تک زندہ کیسے ہیں؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سندھ حکومت عدالتی کمیشن کی شکر گذار ہوتی کہ اس نے عام آدمی کی سب سے بڑی تکلیف کا پردہ چاک کیا اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھائے جاتے مگر اس کے بجائے ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کمیشن میں اپنے دلائل کو سب ٹھیک ہے کی گردان کر کے کمیشن کے احکامات کو چھ ماہ سے ٹالا ہوا تھا کہ، اب ایک دن پہلے یہ دوسری رپورٹ کمیشن میں جمع کرائی گئی ہے۔

سندھ کے سیکریٹری آبپاشی سید جمال مصطفٰی سید کی سربراھی میں قائم ٹاسک فورس کے میمبر پانی ماہر ڈاکٹر غلام مرتضٰی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سندھ کے چودہ ضلعوں کے پانی کی چکاس کے بعد پایا گیا ہے کہ ان ضلعوں میں 83 فیصد لوگ انسانی زندگی کے لئے انتہائی مضر پانی پیتے ہیں۔

ان علاقوں کی اسپتالوں سے لئے گئے پانی سیمپلز کی مائیکرو بائلاجیکل اور فزیو کیمیکل جانچ سے ثابت ہوا ہے کہ کراچی میں 90 فیصد پانی پینے کے لائق نہیں ہے اور شہر کے 33 فیصد پانی میں گٹر کا پانی ملا ہے اور اس میں انسانی غلاضت پائی گئی ہے۔

ٹھٹہ میں پینے کے پانی میں 75 فیصد گٹر کا پانی ملا ہوا ہے۔ لاڑکانہ کے 88 فیصد پانی میں انسانی غلاضت پائی گئی ہے۔ جامشورو کے پانی میں 36 فیصد، ٹنڈو محمد خان میں 30 فیصد گٹر کا پانی مکس ہے۔ ضلع ٹنڈو اللھیار میں 23 فیصد، میرپورخاص میں 33 فیصد لوگ گٹر کا پانی اور انسانی غلاضت ملا ہوا پانی پیتے ہیں۔
کشمور سے کراچی تک باوجود اربوں روپے بجٹ ہونے کے سندھ میں پینے کے پانی اور ڈرین کا سارا نظام تباہ ہوگیا ہے۔

کمیشن کی سامنے یہ صورتحال آئی ہے کہ سندھ کا پورا آبپاشی نظام مع دریائے سندھ ڈرین کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔ اسپتالوں کا بیماریوں سے مال مال فضلہ۔ انسانی غلاضت کا گند۔ بھینسوں کے باڑوں، قصابوں کے کوس گھروں اور فیکٹریوں کا زہریلا کیمیکل سب پینے کے پانی میں ڈائیریکٹ ڈالا جا رہا ہے۔ سب کے سب ٹریٹمنٹ پلانٹ جن کا سالیانہ بجٹ کروڑوں روپے ہے کرپشن کی نظر ہوگئے ہیں۔

کراچی سے کشمور تک پورے سندھ میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور نہروں کی زمینوں پر قبضہ گیروں کا مکمل قبضہ ہے۔ لاڑکانہ کا رائیس کینال، شکارپور کے سندھ واہ اور کیرتھر کینال، سکھر کے مقام پر پورا دریائے سندھ، حیدرآباد کا وادھو واھہ، پھلیلی، پنجاری نہریں سب حرام خوری کی نظر ہوچکے ہیں اور انسانی غلاضت کا گند براہ راست ان میں ڈال کر پھر وہیں سے پینے کا پانی شہریوں کو سپلائے کیا جاتا ہے۔

کوٹری کی انڈسٹری کا زہریلا کیمیکل زدہ پانی کینجھر جھیل سے ہوتا ہوا کراچی کی آبادی کو ملتا ہے۔ کمیشن کی معلومات میں آیا کہ باقی سندھ کی طرح کوٹری میں ایک ارب روپے کی رقم سے بننے والا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ جس کو کراچی کو سپلائی کیا جانے والا پانی صاف کرنا تھا اپنے بننے کے پہلے دن سے ہی ناکارہ ہے، اس پلانٹ کا ایک ارب کا ٹھیکہ کراچی کا مینڈیٹ رکھنے والی پارٹی کے ایک عہدیدار کا تھا۔

سندھ اپنی تاریخ میں اتنی بے بس، برباد اور تکلیف میں پہلے کبھی نھیں رہی جتنی اس گذشتہ دس سالہ حکومت میں رہی ہے، عدالتی کمیشن میں ثابت ہو رہا ہے کہ سندھ کے 88 فیصد لوگوں کو انسانی غلاضت والا پانی دیا جا رہا ہے اور سندھ حکومت اس پر کارروائی کرکے معاملات سدھارنے کے بجائے اپنے نمائندے ایڈوکیٹ جنرل سندھ کے ذریعے کمیشن کے ہر حکم کو چیلنج کر رہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کمیشن میں چھ مھینے بعد یہ دوسری رپورٹ سامنے آئی ہے کہ سندھ میں پینے کے پانی کی حالت اس سے بھی بدتر ہے جو چھ ماہ پہلے کمیشن نے بیان کی تھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔