باسٹھ تریسٹھ کے صادق اور امین خالق، DNA اور آزاد عدلیہ


بس امید ہے کہ DNA کبھی بھی پاکستان کے قانون کا حصہ نہیں بن سکے گا اور باسٹھ تریسٹھ کے تحت یہ آخری مقدمہ ہو گا۔

خالق باسٹھ تریسٹھ، مرد مومن مرد حق کی صداقت اور امانت داری پر کیسے شک ہو سکتا ہے۔ صرف یہی نہیں وہ جنہوں نے پورے خلوص سے اس ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا اور اسے خوب نبھایا، ان کی سچائی اور امانت داری پر کیسے شک کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے پاکستان کے آئین کی حفاظت اور اس سے وفا داری کا حلف اٹھایا تھا اور اس کی لاج بھی رکھی۔ بلکہ وہ تو اپنی حلف وفاداری کی statement سے کہیں آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے اس آئین کو ٹھیک بھی کیا۔ اس میں جو خامیاں تھیں انہیں دور کیا اور اسے ایک سچا اسلامی آئین بنا دیا۔ ہاں اس نیک کام کے لیے انہیں معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینا پڑا تو یہ ایک مجبوری تھی۔ اس سلسلے میں انہوں نے جو بھی قدم اٹھایا تھا اسے محض قانون کی نظر سے دیکھ کر غداری قرار دینا مناسب نہیں ہے۔ ملک میں اصلی اسلام کے نفاذ جیسے اہم اور نیک کام کی خاطر اگر آپ کو اپنے حلف سے روگردانی کرنا پڑے تو یہ کوئی جھوٹ نہیں ہے۔ اس سے آپ کے صادق اور امین ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کاغذ کے ایک ٹکڑے کے احترام کی خاطر آپ بڑے مقصد کو پس پشت تو نہیں ڈال سکتے۔

اپنے ماشل لاء کے دوران بھی انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ انہوں نے الیکشن 90 دن میں کروانے کا وعدہ کیا تھا۔ الیکشن کروانے بھی تھے اور حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرنا تھی لیکن عین اس وقت کروڑوں عوام ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور الیکشن نہ کرانے کی درخواست کر دی۔ عوام کے اس پیار اور اعتماد کو ٹھکرانا کہاں کی شرافت یا عقلمندی تھی۔ صرف اس مجبوری کے تحت مرنے تک انہیں پاکستان کا مطلق العنان چیف مارشل لاء ایڈمنیسٹریٹر، چیف آف آرمی سٹاف اور صدر رہنا پڑا۔ ورنہ وہ تو نماز روزہ کے پابند تھے۔ مرد مومن مرد حق تھے۔ انہوں نے کبھی جھوٹ کا سہارا نہیں لیا اس لیے وہ صادق اور امین تھے۔

ان کے دور میں عدلیہ مکمل آزاد تھی۔ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ مرد مومن مرد حق نے خود کئی مرتبہ کہا کہ پاکستانی عدالتیں آزاد ہیں۔ عدالتیں آزاد تھیں اسی لیے انہوں نے باقاعدہ شفاف مقدمہ چلایا تھا اور پھر بھٹو کو پھانسی دی تھی ورنہ بھلا یہ کیسے ممکن تھا۔ مزید ثبوت کے طور یوٹیوب پڑا ہوا وہ کلپ دیکھ لیں جب ایک گورے صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے مرد مومن مرد حق نے دو ٹوک الفاظ میں اسے یہ بتایا کہ تمھارے ملک میں حکومتیں عدالتی معاملات میں دخل اندازی کرتی ہوں گی لیکن پاکستان میں ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے۔ عدالتیں مکمل آزاد ہیں۔

اگر وہ سچائی سے اتنا پیار نہ کرتے ہوتے تو وہ باسٹھ تریسٹھ کی شقیں آئین پاکستان میں شامل ہی نہ کرتے اور جو مرضی جھوٹا، مکار اور فریبی الیکشن جیت کر اس ملک کے ایوانوں میں پہنچ جاتا۔ کیونکہ جھوٹے لوگوں کو روکنے کے لیے کوئی طریقہ جو موجود نہیں تھا۔ اسی لیے تو جو لوگ مرد مومن مرد حق کے دور میں سیلیکٹ یا الیکٹ ہو کر ایوانوں تک آتے تھے وہ سب صادق اور امین ہوتے تھے۔ وہ جھوٹ بدعنوانی، دھوکہ دہی اور رشوت ستانی جیسی لعنتوں سے مکمل پاک تھے۔ ان پر ایسا الزام لگ ہی نہیں سکتا تھا۔ اور خاص طور پر اس وقت تک ان پر کسی جرم کا الزام نہیں لگ سکتا تھا جب تک وہ مرد مومن مرد حق کے وفادار رہتے۔ وفاداری بڑی اچھی اور اہم خوبی ہے۔ اور اپنے محسن، یعنی جس کی مہربانیوں سے آپ قوم کے منتخب نمائندے بنے ہیں، اگر آپ اس کے ساتھ وفاداری نہیں نبھائیں گے تو پھر قوم اور ملک کے ساتھ آپ کیا خاک وفاداری نبھائیں گے۔ اگر آپ اپنے محسن کے ساتھ بے وفائی کرتے ہیں اور اس کی دی گئی پالیسیوں سے ہٹتے ہیں تو آپ صادق اور امین کیسے ہو سکتے ہیں۔

مرد مومن مرد حق کے سارے دوست جو افغانستان کا اسلامی تشخص بحال رکھنے کی جنگ لڑ رہے تھے وہ بھی صادق اور امین تھے۔ سوویت یونین شکست کھا کر جب واپس چلا گیا تو سارے مجاہدین آپس میں گھی شکر ہو گئے۔ خانہ جنگی روکنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی تھی تو نواز شریف انہیں سعودی عرب لے گیا۔ ان کے درمیان حکومت میں باریاں لینے کا معاہدہ خانہ کعبہ میں کرایا گیا اور وہ کئی ہفتے اس معاہدے پر قائم رہے، صادق اور امین جو تھے۔

مرد مومن مرد حق کی سچائی نے امریکی ڈالروں، سعودی ریالوں اور جماعت اسلامی کے جہادی تربیتی کیمپوں کی مدد سے افغانستان کو کھنڈر اور پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنا دیا۔ یہ جو دودھ، شہد اور خون کی نہریں بہہ رہی ہیں یہ ہمارے پاس مرد مومن مرد حق کی امانت ہیں۔ انہیں قائم رکھنا قوم کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ ذمہ داری باسٹھ تریسٹھ کے سہارے ہی نبھائی جا سکتی ہے۔ ورنہ عوام کا کیا ہے، جانے کیسے کیسے بے ایمان اور غدار منتخب کر کے ایوانوں میں بھیج دیتی ہے۔ شکر ہے کوئی تو ہے جسے پاکستان کی فکر ہے۔ شکر ہے، عدلیہ آزاد ہے۔ مزید شکر ہے کہ جے آئی ٹی آزاد تھی ورنہ اتنی زبردست تحقیقات صرف 60 دنوں میں کیسے مکمل کر سکتی تھی۔

بس یہی امید ہے کہ DNA کبھی بھی پاکستان کے قانون کا حصہ نہیں بن سکے گا اور باسٹھ تریسٹھ کے تحت یہ آخری مقدمہ ہو گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 121 posts and counting.See all posts by salim-malik