شہباز شریف صاحب، کیا پراجیکٹ ملازمین انسان نہیں ہیں؟


ایک خبر کے مطابق وزیر اعلی پنجاب نے پچاس ہزار کے قریب عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کا اعلان کر دیا۔ واضح رہے کہ ان ملازمین کی اکثریت سفارش کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے ان ملازمین پر مشتمل ہے جنہیں مختلف محکموں کے افسران اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیے بھرتی کرتے رہے ہیں (زیرِ نظر خبر میں اس کی تفصیل بھی موجود ہے)۔
مخصوص دفتری مقاصد کے لیے بھرتی کیے جانے والے ان ملازمین کی مدت ملازمت چند ماہ سے لے کر دو چار سال تک کی ہے۔

دوسری جانب صرف منظوری میں دیر ہونے کی وجہ سے بارہ سال سے زائد عرصہ سے کام کرنے والے واٹر مینجمنٹ کے پروجیکٹ ملازمین کی تنخواہیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔
ان ملازمین میں اعلی تعلیم یافتہ سب انجینئرز اور کمپیوٹر آپریٹرز سے لے کر درجہ چہارم تک کے ملازمین شامل ہیں۔ جنہوں نے بارہ سال دن رات ایک کر کے پاکستان کی تاریخ کے بہترین پروجیکٹس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔
ورلڈ بینک سمیت عالمی اداروں کی رپورٹس ان کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

کجا یہ کہ محنت اور کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے ان ملازمین کو بھی دیگر عارضی ملازمین کی طرح مستقل کیا جاتا۔ ۔ ۔ اُلٹا تنخواہیں بند کر کے نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے۔ اب یہ حال ہے کہ یہ غریب ملازمین بارہ بارہ سال محکمے کے لیے جوانیاں صرف کرنے کے بعد بھی پریشانی و ڈپریشن کا شکار ہیں۔ اور کسمپرسی کے عالم میں ایک دوسرے سے سوال کرتے پھِر رہے ہیں کہ ہمارا کیا بنے گا؟ ہم کہاں جائیں گے؟

جناب خادمِ پنجاب۔ ۔ ۔ میرا آپ سے سوال ہے کہ کیا پروجیکٹ ملازمین انسان نہیں ہوتے؟ کیا ان کے بال بچے نہیں ہوتے؟
یا پھر آپ کے نزدیک یہ آسمان سے اتری ہوئی ایسی مخلوق ہیں جن کی کوئی ضروریاتِ زندگی نہیں ہوتی؟
آج بھی ان ملازمین میں سے ایک کے بارہ سالہ بچے کے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔ جس نے آپ کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر روتے ہوئے کہا تھا کہ میرے ابو کی تنخواہ بند ہونے کی وجہ سے میرے چھوٹے بھائی کے دودھ کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ اور وہ بھوک سے بِلکتا ہے۔
زمین کیوں نا پھٹی۔ ۔ ۔ تمہارے اقتدار کے ایوانوں پر لرزہ کیوں نا طاری ہوا۔ ۔ ۔

اسی بارے میں: ۔  صحرا میں اذاں  دے رہا ہوں میں

اگر ان ملازمین کو شروع سے ہی پتہ ہوتا کہ ان کے ساتھ یہ سلوک ہونا ہے۔ اور بار بار وعدے کر کے کام نکلوا کر فارغ کر دیا جائے گا تو یہ کب کے اس محکمے کو چھوڑ کر جا چکے ہوتے۔ مگر آج بارہ سال بعد۔ ۔ ۔ جب یہ کوئی اور کام کرنے لائق نہیں رہے تو انہیں نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے۔ ۔ ۔
خدا کا خوف کھاؤ حکمرانوں۔ ۔ ۔ تم نے بھی خدا کو جان دینی ہے۔ ذاتی پسند اور سیاست کی بنیاد پر نا انصافی بند کرو۔
میرٹ پر بھرتی ہونے کے باوجود بارہ سال سے بار بار توسیع کے نام پر ان غریب ملازمین کی اسکروٹنی کی جاتی رہی ہے۔ ہر بار کارکردگی کی سخت چھلنی سے گزارا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر انہیں توسیع ملتی رہی ہے تو وہ ان کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بقول خادمِ پنجاب کے۔ ۔ ۔ میرٹ محنت اور کارکردگی آپ کا شیوہ ہے۔ تو پھر ہر بار محنت کرنے والے ہی ملازمین حق سے محروم کیوں؟
آج پورے پنجاب سے تعلق رکھنے والے یہ غریب لیکن تعلیم یافتہ اور ہنرمند ملازمین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اور سوچتے ہیں کہ کاش وہ بھی پڑھنے لکھنے اور ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے سفارش اور پیسے کے ذریعے مختلف محکموں میں بھرتی ہو جاتے تو آج انہیں یہ دن نا دیکھنا پڑتا۔ اور وہ بھی ایسے ہی کسی اعلان سے مستفید ہو کر سکون سے نوکری کر رہے ہوتے۔

خدارا۔ ۔ ۔ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کیجیے۔ ضروری نہیں کہ آپ کے ماتحت افسران اور سیکرٹریز جو آپ کو بتاتے ہیں وہی حرف آخر ہو۔ اس بیوروکریسی کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ آپ اشرافیہ کے اس مخصوص دائرے سے باہر نکل کر کبھی براہِ راست ان غریبوں کے آواز بھی سن لیں۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ان پر کیا بیت رہی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  راعمش فاطمہ اور فرنود عالم ۔ دو خاکے ایک کالم

مگر افسوس ایسا نہیں ہو گا۔ کیونکہ آپ اور آپ کے ماتحت سیکرٹریز کی نظر میں پراجیکٹ ملازمین شاید انسان ہی نہیں ہیں۔ بلکہ وہ تو کام کرنے والے ایسے روبوٹ ہیں جنہیں جب چاہا بند کر کے رکھ دیا۔ ان کی نا تو کوئی ضروریات ہیں۔ نا ہی ان پر تنخواہیں بند کرنے سے کوئی فرق پڑتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ندیم رزاق کھوہارا کی دیگر تحریریں
ندیم رزاق کھوہارا کی دیگر تحریریں