چورن، بنٹے والی بوتل اور نشتر


 

hashirسر درد ہو تو لاکھ اینٹی بائیوٹک کھائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فشار خون اوپر نیچے ہو جائے تو ذیابیطس کی گولی اثر نہیں کرتی۔ گردہ اپنا فعل چھوڑ دے تو ڈائلیسس کے بغیر گزارہ نہیں۔ دل کی تکلیف کے لئے کوئی الرجی کی دوا زبان کے نیچے نہیں رکھتا۔ کھانسی کا شربت جوڑوں کے درد میں افاقہ نہیں کرتا۔ دانت کا درد روٹ کینال کئے بنا ٹلتا نہیں۔ اور تو اور لاکھ گاجریں کھائیں، عینک لگائے بغیر شاہد اور شاہدہ کا فرق پتہ نہیں چلتا۔

ہر مرض کا الگ ڈاکٹر، الگ علاج، الگ دوائی۔ پھرآدھے کام طبیب کرے گا تو آدھے جراح۔ علاج علاج کم رہ جاتا ہے، حسابی معما زیادہ بن جاتا ہے پر اگر آپ کے گھر کے قریب کوئی بازار قدیم، کوئی لاری اڈہ یا کوئی سبزی منڈی موجود ہے تو معما بننے سے پہلے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان تمام ٹھکانوں پر عمومی طور پر آپ کو کم از کم دو چار جٹا دھاری سادھو، سبز اور سیاہ پوش ملنگ  یا چرب زبان حکیم زادے مل جائیں گے۔ جہاں ان کے پاس سانڈے کا تیل، سلاجیت کی ٹکیہ یا گینڈے کے سینگ کا سفوف دستیاب ہو گا وہاں لا محالہ ایک جادو اثر چورن بھی دھرا ہو گا جو آپ کے جملہ طبی اور غیر طبی، گفتہ اور ناگفتہ، ظاہر اور پوشیدہ تمام مسائل کو بس چند پھکیوں میں حل کر دے گا۔ ہدیہ بھی عین مناسب ہو گا۔ جگرخون ہوا ہو، دل چھلنی ہو، ثقل سماعت  کا عارضہ ہو، نظام ہضم میں تعطل ہو یا  دم اکھڑتا ہو، سب کا علاج ایک ہی چورن ہے۔

عطار اور اس کے لونڈے کی تو خبر نہیں ہے پر میرکی سادگی میں اب بھی کوئی شک نہیں ہے۔ سوداگر نے برسوں میں اور کچھ سیکھا ہو یا نہ ہو، زبان کو برتنے کا ہنر جان لیا ہے۔ ایک سانس میں چورن کے اوصاف اس تیقن سے گنواتا ہے کہ شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ سامع کو سوال کرنا کسی نے سکھایا نہ ہو تو پھر سودا بکنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ یوں بھی جو اس کے دام پر فریب تک خود آیا ہو وہ شاید پہلے ہی تنکے کا سہارا ڈھونڈ رہا ہو گا۔

اس قوم کو کہ بیمار بہت ہے، لب مرگ کہئے تو بے جا نہ ہو گا، تلاش تو ہے طبیب حاذق کی پر قحط الرجال ایسا ہے کہ الامان۔ کوچے کوچے شعبدہ باز پر کھڑے ہیں۔ قوم نے نہ کبھی تعلیم پائی نہ تربیت، مہر بہ لب رہنا طریق زندگی رہا۔ سوال کرنے کو گستاخی بتایا گیا۔ تو جس کے سر پر دستار دیکھی، اسے رہنما مان لیا۔ اب کون بتائے کہ دستاریں چور بازار میں ٹکے بھاؤ مل جاتی ہیں ۔

مرض بہت ہیں۔ بہت لا دوا تو نہیں ہیں پر علاج صبر طلب ہے اور گراں بھی۔ ایسے میں کوئی مسیحا نما دروازے پر آکر اپنی شیریں بیانی کے ساتھ چورن دے اور مژدہ صحت سنائے اور وہ بھی بظاہر بے قیمت تو دھندا کیوں نہ چلے

 فی زمانہ ان چورنوں میں سب سے زیادہ بکری شہادت کے چورن کی ہے۔ کچھ اسپیشل اسکیموں میں ساتھ قربانی کی بنٹے والی بوتل مفت ملتی ہے۔

کسی زمانے میں شہادت بس فی سبیل اللہ ہوتی تھی۔ کہتے ہیں کتاب میں بھی یہی لکھا ہے پر کتاب کون پڑھے۔ فقیہ شہر نے جو کہ دیا وہی حکم ٹھرا ہے۔

بچے مارے گئے۔ فخر کیجئے۔ شہید ہیں وہ۔ پر انصاف کی بات مت کیجئے گا۔ محافظوں سے سوال نہیں کرتے۔ حکمرانوں کے گریبان نہیں پکڑتے۔ بس فخر کیجئے۔ گھر سے پڑھنے گئے تھے۔ قربان ہو گئے۔ قربان ہونے اور کئے جانے میں کیا فرق ہے۔ یہ رمز رمز ہی رہنے دیں ورنہ منہ کا مزہ خراب ہو گا۔ لب سی لیں۔ خاموش رہیں لیکن فخر کرنا مت بھولئے گا۔

جہاز گر گیا۔ ہر ماہ گرتا ہے۔ ہوا باز قربان ہو گیا قوم پر۔ شہادت کی موت کہاں ہر کسی کے نصیب میں ہوتی ہے۔ اپنا سر اونچا رکھیں۔ آنکھوں میں آنسو نہیں آنے چاہئیں۔ شہید کا ماتم نہیں کرتے۔ اور اس عظیم لمحے میں یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے کہ تربیتی جہاز ناقص کیوں ہیں۔ کون ذمے دار ہے؟ پرزے کہاں سے آتے ہیں۔ کون بناتا ہے۔ کون خریدتا ہے۔ تفتیش ہو گی کہ نہیں۔ یہ فروعی سوال ہیں۔ بھول جائیے۔ اور کہا نا سر اونچا رکھئے۔

غاصب تھا۔ آمر تھا۔ وعدہ خلاف تھا۔ جہاد کے نام پر تباہی کا برآمد کنندہ۔ کیا بکواس کرتے ہو۔ جانتے نہیں جب مرا تو جسم پر وردی تھی۔ سازشیوں نے جہاز ہی اڑا دیآ۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ شہید مومن زندہ رہے گا اور اس کا مشن بھی۔

کون سا محل۔ کون سی کرپشن۔ کون سا ہار۔ کون سے نوادرات۔ شہید ہوئ ہے وہ۔ خدا نے فیصلہ کر دیا ہے۔ آپ قبر کا ٹرائل کریں گے۔ شہید کو بدنام کریں گے۔ جسے شہادت کا رتبہ مل گیا اب آپ اس کے نام کو عزت سے لیں گے۔ عجیب آدمی ہو۔ شہید کے بارے میں شک رکھتے ہو۔

پھانسی چڑھا ہے۔ عدالت نے مجرم ٹھہرایا ہے۔ ارے اس عدالت کی کیا حیثیت ہے اس کی عدالت کے آگے۔ وہاں شہید ہے وہ۔ کیوں۔ کیوں کہ میں کہتا ہوں۔ میری داڑھی، میرا جبہ، میری دستار، میری خلعت نظر نہیں آتی۔ ہمارا کہا معتبر نہیں تو کس کا ہے۔

سرحد کے پار سے لاش آئی ہے۔ روؤ  مت۔ اسے جن سے لڑنے بھیجا تھا ؛ کافر عقیدے کے تھے وہ۔ یہ تو اللہ کا شیر تھا۔ ارے کالج کی ڈگری تو ہر نتھو خیرے کو مل جاتی ہے۔ شہادت کی ڈگری  پر بس خوش نصیبوں کا حق ہوتا ہے۔ اور کوئی بچہ ہے تمہارا تو اسے بھی ٹریننگ کیمپ میں بھجوا دو ۔

ڈوب گیا۔ ڈوبنے والا شہید ہے۔ شکر کرو بخشا گیا۔ سیلاب بھی خدا کی آزمائش ہے۔ بند توڑنا۔ ادھر کا قصر بچانا۔ ادھر کی جھونپڑی ڈبونا۔ ۔ سب بیکار کی باتیں ہیں۔ اس کی کرنی پرکس کا زور ہے۔ بس اسی کو اس کی شہادت کا اور مغفرت کا بہانہ بننا تھا۔

جل گیا۔ جانتے ہو نا کہ جل کر مرنے والا شہید ہے۔ وہ اب جنت میں ہے۔ سارے گناہ بخشے گئے اس کے۔ اب اس پر کیا کڑھنا کہ کروڑ کی آبادی کے لئے صرف تین کارآمد فائر ٹرک کیوں ہیں۔ عمارت میں فائر اسکیپ کیوں نہیں ہے۔ پھر کہو گے کہ چمکدار بسوں سے زیادہ کیا فائر ٹرک اہم نہیں ہیں۔ تمہارے ان سوالوں سے کیا جانے والا واپس آجائے گا۔ شہادت کا رتبہ مل گیا اسے۔ ہر ایک کی کہاں ایسی تقدیر

امریکہ نے مارا۔ دہشت گرد تھا تو کیا ہوا۔ بے گناہ قتل کیے تھے تو کیا ہوا۔ ریاست کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا تو کیا ہوا۔ فوجیوں کی گردنیں کاٹی تھیں۔ ان کے سروں سے فٹبال کھیلا تھاتو کیا ہوا۔ امریکی ڈرون سے مرنے والا تو کتا بھی شہید ہو گا۔

یہاں مارنے والا بھی شہید ہے، مرنے والا بھی۔ سیاسی طالع آزما بھی شہید ہے، آمر مطلق بھی شہید ہے۔ پھانسی پر جھولنے والا بھی شہید ہے۔ سینے پر گولی کھانے والا بھی شہید ہے۔ عقیدے کی بھینٹ چڑھنے والا بھی شہید ہے، اور اپنے آپ کو بم سے اڑا دینے والا بھی شہید ہے۔ شہادت کے سرٹیفکیٹ ہر گلی میں چھپ رہے ہیں اور حکومت کے ایوانوں میں، مسجد کےمنبر پر، میڈیا کے ٹاک شوز میں، سیاسی جلسوں میں، کتابوں کے اوراق میں، اخبار کے کالموں میں سب حسب توفیق انہیں دھڑا دھڑ بانٹ رہے ہیں۔

زندگی گزر گئی حضور۔ اگر جان بخشی ہو تو عرض کروں کہ چورن بکتے تو بہت دیکھا ہے پر کبھی اس سے شفا ہوتے نہیں دیکھی۔ ہو سکے تو علاج کے لئے کوئی اچھا طبیب ڈھونڈ لیجئے۔ پر شاید اس آزار کو اب ایک سفاک نشتر کی ضرورت ہے اور فیض صاحب یاد آتے ہیں۔ شاید اب وہ اس ملک خراب کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں۔ ہاں مگر تیرے سوا۔ ہاں مگر تیرے سوا۔ ۔ ۔ ۔

 

 

 

 


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

3 thoughts on “چورن، بنٹے والی بوتل اور نشتر

Comments are closed.