زرداری کا بیان: الٹی سیدھی تعبیریں؟    


roshan” جنرل راحیل شریف کا ریٹائرمنٹ کا اعلان قبل از وقت ہے۔ فوج کی قربانیوں اور فتوحات کو سیاسی اختلافات اور موقع پرستی کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ قوم اور میڈیا افواہوں اور قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے فوجی قیادت میں تسلسل بہت ضروری ہے۔ وقت آنے پر سیاسی قیادت اس بارے میں فیصلہ کرے ۔ احتساب میں فوج کا کردار تلاش کر نامناسب نہیں ہے۔ “مذکورہ اقتباسات اس بیان کے ہیں جو سابق صدر آصف علی زرداری سے منسوب ہے۔ پہلے تو کسی ضروری تصدیق کے بغیر ہی اس بیان پر جس حد تک ممکن تھا تند و تیز تبصرے کیے گئے، اس کے بعد جب پیپلز پارٹی کی طرف سے کچھ وضاحتیں پیش ہوئیں تو براہ راست تصور کیے جانے والے بیان کو مبینہ بنا دیا گیا۔ مبینہ بن چکے سابق صدر زرداری کے موجودہ بیان پر تمام تر تبصرے ان کے اس سابقہ بیان کو مد نظر رکھ کر کیے گئے جس میں انہوں نے 16 جون 2015 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ اگر ان کی کردار کشی بند نہ کی گئی تو وہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور پاکستان بننے کے بعد کے تمام جرنیلوں کے لیے یہی عمل شروع کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم کھڑے ہو گئے تو فاٹا سے کراچی تک سب کچھ بند ہو جائے گا۔ آصف علی زرداری کے مبینہ اور براہ راست تصور کیے جانے والے دونوں بیانوں کو ایک ساتھ پڑھ کر اکثر مبصروں نے موجودہ بیان کو فوج کے بارے استعمال کیے گئے ان کے سابقہ الفاظ کا یوٹرن کہا، بعض نے اسے جنرل راحیل شریف کی بے جا خوشامد کہا، کسی نے اسے غیر ضروری اقدام قرار دیا اور کچھ نے تو زرداری کے بیان کو فوج کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اس عمل کے باوجود جس طریقے سے ان کے خلاف احتساب شروع ہو چکا ہے وہ رک نہیں سکے گا۔ پاکستان کے فاضل ترین تصور کیے جانے والے مبصروں نے آصف علی زرداری کو آڑے ہاتھوں لینے کا اپنا شوق پورا کرنے کے لیے جلد بازی میں صرف بیان کی تصدیق سے ہی احتراز نہیں کیا بلکہ یہ بھی فراموش کر دیا کہ مختلف اوقات میں دیئے گئے جن بیانات کو وہ ایک ساتھ پڑھ رہے ہیں ان کے درمیانی وقفہ میں کس قسم کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی کہ ایک موقع پر سابقہ آرمی چیف پرویز مشرف نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ 2004 ءمیں اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے مگر وہ اپنا وعدہ وفا نہیں کر سکے تھے۔ گو کہ جنرل راحیل شریف کی قدرو منزلت اور شہرت اپنے پیشرو جرنیل سے بہت مختلف ہے مگراس کے باوجود اگر کوئی سوال کسی سپہ سالار کے عہدے کی معیاد سے متعلق ہوتو جواب سابقہ جرنیلوں کے عہدوں پر موجود رہنے یا سبکدوش ہونے سے جڑے واقعات کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

 

پاکستان میں مخصوص مفادات کے تحت بلا لحاظ و تفریق نہیں بلکہ چند گنے چنے افراد کے خلاف کرپشن کے الزامات لگانے اور احتساب کے مطالبے کا کھیل بہت عرصے سے کھیلا جارہا ہے۔ اس کھیل کے تسلسل کے دوران نوے کی دہائی میں پہلے آصف علی زرداری کی قید و رہائی پھر میاں نواز شریف کے والد میاں شریف کی گرفتاری اور اس کے بعد دوبارہ آصف علی زرداری کی1996 سے 2004 تک کوئی جرم ثابت ہوئے بغیر قید میں رہنے جیسے واقعات رونما ہوتے رہے۔ ایسے واقعات کو انتقامی کارروائیاں بھی کہا گیا۔ 2008 سے2013 تک پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے دوران کرپشن اور احتساب کے نعرے تو لگتے رہے لیکن نوے کی دہائی جیسا کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا جسے سیاسی انتقامی کارروائی کہا جاسکے۔ مئی 2013 کے انتخابات کے بعد میاں نوازشریف کا دور حکومت شروع ہوا اس میں بھی تقریبا دو سال تک معاملات پیپلز پارٹی کے دور حکومت کی طرح جو ں کے توں رہے۔ ستمبر 2013 ءمیں شروع ہونے والے کراچی آپریشن اور جون 2014 ءمیں شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کو دسمبر 2014 میں رونما ہونے والے آرمی پبلک سکول پشاور کے دہشت گردی کے واقعہ کے بعد آپس میں ضم کر دیا گیا تھا ۔ پھر عسکری قیادت کی سفارش پر تمام سیاسی قیادت کو ایک صفحہ پر لاتے ہوئے آپریشن ضرب عضب کا دائرہ طالبان کی پناہ گاہوں کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں اس غرض سے پھیلانے کا اعلان ہوا کہ دہشت گردوں کی سرکوبی کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں موجود ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی بھی بہت ضروری ہے۔ کراچی کے امن امان کے مسئلہ کو بھتہ خوری اور سیاست دانوں کی کرپشن کے ساتھ جوڑا جانے لگا۔ جب مبینہ بدعنوان سیاست دانوں کی گرفت کا چرچا ہوا تو صاف نظر آنے لگا کہ آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جانے والا ہے۔ اسی ضمن میں آصف علی زرداری نے جون 2015 ءمیں اینٹ سے اینٹ بجا دینے والا بیان دیا۔ اس بیان کا کوئی اثر ہونے کی بجائے اگست 2015 میں آصف زرداری کے بہت قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم کو دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران ڈاکٹر عاصم پر اربوں کھربوں کی کرپشن کے الزامات لگائے گئے۔ مخصوص میڈیا پرسنز کے ذریعے ٹی وی چینلوں پر ڈاکٹر عاصم کی کرپشن کا خوب چرچا کیا گیا۔ یہ سب کچھ اس نامناسب انداز میں کیا گیا کہ آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں کہ جو کچھ احتساب کے نام پر کیا جارہا ہے اسے کسی طرح بھی بلا تفریق، بلا امتیاز اور شفاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حیران کن طور پر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی تلاش کی دوڑ ڈاکٹر عاصم سے شروع ہو کر وہیں پر جامد ہوتی ہوئی نظر آئی۔ اس صورت حال کو آصف زرداری کی فتح نہیں تو شکست بھی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کے باوجود آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی نے کبھی بھی آپریشن ضرب عضب کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہیں کی ۔ انہوں نے ضرب عضب کے ضمن میں ہمیشہ فوجی قیادت کی کوششوں کو سراہا اور اس آپریشن کے دوران اپنی جانیں قربان کرنے والے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ یاد رہے کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی صرف ہماری داخلی سلامتی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی امن کے استحکام کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی طاقتیں آپریشن ضرب عضب کی تمام جزیات پر گہری نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ آصف علی زرداری کا موجودہ بیان تو اب مبینہ بن چکا ہے مگر یہ بات فراموش کرنے کی نہیں کہ 2004 میں اگر پرویز مشرف وعدے کے مطابق آرمی چیف کے عہدے سے سبکدوش نہیں ہو سکے تھے تو اس میں صرف ان کی خواہش ہی نہیں بلکہ ان عالمی عاملین کی رضامندی اور اصرار کا بھی عمل دخل تھا جنہیں اس وقت مشرف کے بغیر دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ شکوک وشبہات کا شکار نظر آرہی تھی۔


Comments

FB Login Required - comments