میڈیا کا مچھلی بازار


mujahid ali

وہ جو کہتے ہیں کہ عمر بیتی ہے اس دشت کی سیاہی میں تو خاکسار بقلم خود یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اوسط انسانی عمر کے لگ بھگ پاکستانی اور دنیا کے میڈیا کا حصہ بننے اور مشاہدہ کرنے کا شرف حاصل کر چکا ہے۔ یہ ایک ایسا پیشہ ہے جس میں حیرتیں قطار اندر قطار انسان کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ بہت سے سانحات سے انسان سیکھتا ہے۔ بہت سے واقعات اس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔

کئی ایسے معاملات ہوتے ہیں جو دیکھے اور سنے تو جا سکتے ہیں لیکن دکھائے اور بیان نہیں کئے جا سکتے۔ ایک صحافی ان سب تجربات کو سمیٹتا اور ان کی روشنی میں اپنے پڑھنے ، سننے یا دیکھنے والے کو بہتر سے بہتر طریقے سے خبر یا تبصرہ پہنچانے کا فرض انجام دیتا رہتا ہے۔ لیکن ان گناہ گار آنکھوں نے ایک ایسا منظر بھی دیکھا کہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ اسے بیان کیا جائے یا چھپا لیا جائے۔ دکھایا جائے یا روپوش رکھا جائے۔ پھر خیال آتا ہے کہ یہ تماشہ تو برسر عام درجنوں کیمروں کے سامنے برپا ہوا تھا۔ لاکھوں کروڑوں لوگ اس منظر کو اپنی ٹیلی ویژن اسکرینوں پر براہ راست دیکھ رہے تھے۔ تو اس میں چھپانے کو رہ کیا گیا ہے۔

یعنی وہ جو کہتے ہیں کہ گندے کپڑے چوراہے کے بیچ نہیں دھونے چاہئیں۔ کہ ایک دوسرے کی عیب جوئی کرنے سے گریز ہی بہتر ہے کہ بات چلے تو نجانے کہاں تک پہنچے والا معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔
لیکن یہ شاید بھلے وقتوں کی باتیں ہوں گی جب لوگ حجاب میں رہنا پسند کرتے تھے۔ اب وہ وقت آ گیا کہ ہم صرف عورتوں کو حجاب پہنا کر اور مستور رکھ کر خود اپنے لئے بے حجابی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی لئے جب بھی وطن عزیز میں عورتوں کی عزت و ناموس کی بات کی جائے۔ ان کی حفاظت کے لئے قانون سازی کی کوشش کی جائے تو ملک کے سب سے معتبر علمائے کرام اور پرانے اسلام پسند اور نئے اسلامسٹ بیک قلم یہ وضاحت کرنے کے لئے میدان عمل میں کود پڑتے ہیں کہ اس معاملہ میں قانون سازی کی کیا ضرورت ہے۔ اگر کسی عورت کو اپنی عزت اتنی ہی پیاری ہے تو اس سے کس نے کہا ہے کہ گھر سے قدم باہر نکالے اور مردوں کے معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ان کی برابری کرنے کی کوشش کرے۔
گو یہ سب دانا اسلام اور شریعت کی دلیلیں لا کر ہلکان ہوتے ہیں لیکن ان کا مقصود صرف اتنا بتانا ہوتا ہے کہ عورت ہمارے مقابلے پر آ گئی تو ہماری کند ذہنی کا پول کھل سکتا ہے اور اجارہ داری ختم ہو سکتی ہے۔ اس لئے اس معاملہ کو ڈھپ ہی رہنے دیں۔ عورتوں کو گھروں میں بند ہی رہنے دیں۔
اور یہ عورتیں ہیں کہ اپنی اوقات پہچاننے کی بجائے ”زن مرید“ یا ”خادم اعلیٰ“ قسم کے مردوں کو ورغلاتی ، ان سے اس قسم کی قانون سازی کروانے کی سازشیں کرتی رہتی ہیں جو درحقیقت خود ان کے اپنے مفادات یعنی حق مردانگی کے خلاف ہوتے ہیں۔ اب ہمارے مولانا فضل الرحمن اور ان کے نہایت ہی معتمد اور محتاط مولانا محمد خان شیرانی اس بیچ میدان میں اترتے ہیں اور ان مردوں کو عقل دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ نادانو کیوں خود اپنے ہی پاﺅں پر کلہاڑی مارتے ہو۔ جانتے نہیں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ مرد یعنی شوہر بیوی بن جائے گا اور بیوی شوہر بن کر مردوں کی طرح راج کرے گی۔ کیوں اپنے صدیوں کی حکمرانی کے لئے زوال کا راستہ ہموار کرتے ہو۔
بعض بدخواہ مولانا کی لطیف باتوں کی تہہ تک پہنچنے کی بجائے ان کو عورتوں کے حقوق کا دشمن اور شریعت کا سہارا لے کر مرد کی ناجائز حکومت کو برقرار رکھنے کا مرتکب قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے تو آسان سی بات کی ہے کہ صاحبو اس شے کو اندر کمرے میں بند  ہی رہنے دو اور ہم تم کو اس کا آسان طریقہ بتا رہے ہیں کہ خدا اور رسول کا نام لو اور کام چلاﺅ ورنہ پچھتاﺅ گے۔ مگر لوگ ہیں کہ  مولانا کی زیرکی کو سمجھنے کی بجائے ان کی زن مریدی کی وارننگ کو زن دشمنی قرار دے کر ہنگامہ برپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیجئے بات کہاں سے چلی تھی اورکہاں جا پہنچی۔ وہ پریس کانفرنس  بیچ میں ہی رہ گئی جس کا تذکرہ مطلوب تھا۔  کیونکہ بات جب ہوا کے دوش پر ہو تو اسے جگ جگ گھومنے سے کون روک سکتا ہے۔ معاملہ صرف اتنا تھا کہ اپنے عیب دوسروں کو دکھانے کی بجائے خود ہی ان پر غور کر کے انہیں دور کر لیا جائے تو جگ ہنسائی سے بچا جا سکتا ہے۔ اور یہ بات ہمیں کراچی کے سابق میئر مصطفی کمال کی جمعرات کے روز تین سال بعد اچانک شہر میں رونما ہو کر دھواں دار پریس کانفرنس دیکھتے ہوئے یاد آئی۔ ہمارے اتنے نصیب تو نہیں تھے کہ خود اس موقع پر موجود ہوتے اور ایم کیو ایم کے باغی اور ملک کے پروفیشنل صحافیوں کی ملاقات کا منظر دیکھتے۔ لیکن ٹیلی ویژن پر یہ نظارہ دیکھتے ہوئے ہم نے جو محسوس کیا ، اس کی روشنی میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاید یہی ہماری خوش نصیبی تھی کہ ہم وہاں موجود نہیں تھے۔
اول تو یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ کیا مصطفی کمال کی واپسی کوئی خبر تھی۔ آنے والے وقت میں اس موضوع پر بحث بھی ہو گی اور اس ”خبریت“ کے غبارے کی ہوا بھی نکلنے لگے گی۔ لیکن اس موقع پر صحافیوں کی دھینگا مشتی دیکھ کر بار بار احساس ہوا کہ کیا یہی وہ طبقہ ہے جو اس قوم کی قیادت ، رہنمائی اور ان کے حقوق کی جنگ لڑنے کے لئے سب سے آگے ہو گا۔ آج تو وہ سارے معتبر صحافی، مصطفی کمال کے قریب ہونے، کرسی پانے اور بہتر زاوئیے سے نظارہ کرنے کا موقع حاصل کرنے کے لئے اس قدر بے تاب تھے کہ جس شخص کی بات سننے آئے تھے، اسے معزز صحافیوں کو خاموش کروانے میں نصف گھنٹہ صرف کرنا پڑا۔ لیکن اس مقصد میں پوری کامیابی کے آثار نہ پا کر انہوں نے مکھیوں کی طرح بھنبھناتے صحافیوں کے سامنے اپنی روداد بیان کرنا شروع کر دی۔ تو منظر کچھ یوں تھا:
مصطفی کمال: تو جناب میں آپ کے توسط سے۔۔۔۔۔
صحافی: ابے میری کرسی تو چھوڑ۔ جا اپنی تلاش کر۔ مجھے کیوں دھکے دیتا ہے
مصطفی کمال: میں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ۔۔۔۔۔
صحافی: کیا تیرے باپ کا کندھا ہے کہ اس پر اپنا بازو ٹکا دیا۔ جانے کہاں سے آ جاتے ہیں احمق۔ تم ہو کون
مصطفی کمال: تو یہ حالات تھے کہ جن کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا۔۔۔۔۔
صحافی: اوئے اب بس کر۔ میرا راستہ روکے کھڑے ہو۔ بہت ہو گئیں تصویریں۔ ہم بھی یہاں رپورٹنگ کرنے آئے ہیں۔ جھک مارنے نہیں آئے۔
یہ سلسلہ پوری پریس کانفرنس کے دوران جاری رہا۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس قسم کے ڈائیلاگ بیک وقت پانچ چھ درجن لوگ ادا کر رہے ہوں تو کیا کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ملک کے تمام نیوز رومز میں آج اس پریس کانفرنس کے حوالے سے جو رپورٹیں فائل ہوئی ہوں گی وہ ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والے بیان کو دیکھ اور سن کر بنائی گئی ہوں گی۔ کوئی ذی ہوش اس پریس کانفرنس کے ہنگام میں نہ تو کوئی بات نوٹ کر سکتا تھا اور نہ ہی اسے لکھنے کا یارا تھا۔ ریکارڈ کرنے والے آلات میں صحافیوں کی مغلظات ہی ریکارڈ ہو سکی ہوں گی۔ بس میز پر نصب کئے گئے مائیکرو فونز کی وجہ سے مصطفی کمال کی بات لوگوں تک پہنچ پائی۔
یہ تو تھا پریس کانفرنس سے پہلے اور دوران کا منظر لیکن اس کا نقطہ عروج وہ وقت تھا جب طویل تقریر کے بعد صحافیوں کو سوال کرنے کا موقع ملا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ سوال کیا کیا گیا ہے اور جواب کیا دیا جا رہا ہے۔
دنیا بھر میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنسوں میں جو سلیقہ اور طریقہ دیکھنے میں آتا ہے، وہ اس پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی صحافیوں کی اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے سبب قابل عمل نہیں تھا۔ یعنی ہر شخص بولنے کے لئے اپنی باری کا انتظار کرے۔ جب کوئی سوال کرے تو سب سنیں تا کہ جان سکیں کہ اس کا جواب مناسب طریقے سے دیا گیا ہے یا اس کی نئے سرے سے وضاحت کی ضرورت ہو گی۔ پاکستان کے جری صحافی ان مغرب زدہ اصولوں کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کے قائل نہیں ہیں۔
یہ کام شاید نوآموز صحافی کرتے ہیں۔ تجربہ کار دوسرے کو اپنی باری نہیں لینے دیتے۔   جب سارے کے سارے اپنے شعبے کے رستم ہوں تو کسی کو صبر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
صحافیوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایک پریس کانفرنس کو جو تمام ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعے دنیا بھر میں دکھائی جا رہی تھی …….. ایک اعلیٰ قسم کے مچھلی بازار میں بدل دیا۔ جہاں نہ کچھ سجھائی دیتا تھا اور نہ سنائی۔
یہ وہی صحافی ہیں جو خود کو بے باک اور قوم کا رہبر سمجھتے ہیں۔ بیباکی تو آج دنیا نے دیکھ لی۔ ایسے طبقے کی رہنمائی میں قوم جس منزل تک پہنچ سکتی ہے ، اس کا اندازہ بھی بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
یہ مقام عبرت ہے یا شرمندگی کا موقع
یا پھر کندھے اچکا کر آگے بڑھ جانا ہی سب سے بہتر ہے۔

Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali