ہم سب: ایک ملین کی تحسین


13-B

چار مارچ کو رات ایک بجے  ’ہم سب‘ نے اپنے اجرا کے چھپن (56) روز بعد ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ’ہم سب‘ پر ایک ملین – دس لاکھ – پوسٹیں پڑھی جا چکی ہیں۔ جب ساتھیوں نے جنوری کے اوائل میں ’ہم سب‘ کی داغ بیل ڈالی تھی، تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اتنی جلدی ’ہم سب‘ اتنی مقبولیت حاصل کر لے گا۔ لیکن ساتھی آتے گئے، لکھتے گئے، اور پڑھتے گئے، اور کامیاب ہوتے گئے۔ ادارہ ’ہم سب‘ اس بڑی کامیابی پر سب لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کا شکرگزار ہے۔

خدا کے فضل و کرم سے ’ہم سب‘ کو جو کامیابی نصیب ہوئی ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ ایک ایسی ٹیم ہے جس کو جمع کرنے اور متحرک رکھنے کا کریڈٹ جناب وجاہت مسعود صاحب کو جاتا ہے۔ ہم جیسے لکھنے والے تو محض اس لالچ میں ’ہم سب‘ پر لکھنا شروع ہوئے تھے کہ اس بہانے ایک استاد سے تحریر کی اصلاح ملتی رہے گی۔ یہ معلوم ہو گا کہ بکھرے ہوئے خیالات کو کیسے الفاظ کا جامہ پہنانا ہے۔ کیسے اپنا نقطہ نظر بیان کرنا ہے۔ لیکن سب سے بڑا سبق جو کہ وجاہت مسعود صاحب سے ملا ہے، وہ یہ ہے کہ کیسے ایک کٹر نظریاتی مخالف کے نقطہ نظر کو برداشت کرنا ہے اور مضامین کی صورت میں الجھے بغیر ایک مہذب انداز میں مکالمے سے فیض کیسے حاصل کرنا ہے۔ اور انہیں کی یہ پالیسی ہے کہ کسی بھی نقطہ نظر کو شائع کرنے سے نہیں کترانا ہے۔ اسی لئے ’ہم سب‘ پر آپ کو لبرل ازم کے حق میں تحریریں بھی ملتی ہیں، اور مذہب و معاشرت پر ایک پورا سیکشن بھی موجود ہے۔

اس ایک ملین کی تحسین میں ہم ان گیارہ مصنفین کا ذکر کرنا چاہیں گے جن کی پوسٹیں سب سے زیادہ پڑھی گئی ہیں۔ گوگل کے اعداد و شمار کے مطابق وہ مصنفین یہ ہیں: عدنان خان کاکڑ، فرنود عالم، ذیشان ہاشم، وجاہت مسعود، رامش فاطمہ، نصیر احمد ناصر، سید مجاہد علی، انعام رانا، ظفر اللہ خان (ید بیضا)، حسنین جمال اور وصی بابا۔

گیارہ مصنفین کی یہ فہرست تو گوگل نے مرتب کی ہے ۔ لیکن ’ہم سب کو اعداد وشمار کے کھیل سے ہٹ کر سخن شناسی کا بھی دعویٰ ہے۔ چنانچہ ہم رضی الدین رضی، قاضی عثمان، وقار احمد ملک،عاصم بخشی، سجاد پرویز، ستیہ پال آنند، اصغر ندیم سید، حسن معراج، ظفر عمران، عامر ہاشم خاکوانی، مبشر علی زیدی، انیق ناجی، نسیم کوثر، بلال غوری۔ مجاہد مرزا، عثمان غازی، مسعود منور، جمیل عباسی، علی ارقم کے بھی خصوصی طور پر شکر گزار ہیں کہ ان سب کے قلم سے برسنے والے رنگ ’ہم سب‘ کی تصویر کا حصہ ہیں ۔

14جیسا کہ کئی مرتبہ پہلے بتایا جا چکا ہے، ’ہم سب‘ کسی بھی نقطہ نظر کو شائع کرتا ہے۔ موصول ہونے والی پوسٹوں کو شائع کی حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے تاکہ کوئی دلچسپی رکھتا ہو تو اس نقطہ نظر پر بات کی جا سکے۔ لیکن وسائل کی کمی کے باعث ہر پوسٹ کو لگانا ہمارے بس سے باہر ہوتا ہے۔ ’ہم سب‘ کی ادارتی سب سے پہلی ترجیح اپنے مستقل لکھاریوں کو دیتی ہے۔ اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ لکھنے والا مسٹر ہے یا مولانا۔ اگر بعض حلقوں کو یہ شکوہ ہے کہ ان کا نقطہ نظر سائٹ پر نمایاں نہیں ہے، تو برائے کرم وہ اپنی فکر سے تعلق رکھنے والے اچھے مصنفین کو آمادہ کریں کہ وہ اپنی تحریریں ’ہم سب‘ کو ارسال کیا کریں۔ ’ہم سب‘ پر تو وہی چھپ پائے گا جو کہ اسے موصول ہو گا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے لئے ایسی تحریروں کی نوک پلک سنوار کر شائع کرنا ممکن نہیں ہوتا جو زبان، دلیل اور معلومات کے تین معیارات پر پوری نہ اترتی ہوں۔ ان مصنفین سے یہی عرض ہے کہ اپنی تحریر شائع نہ ہونے پر شکوہ کناں ہونے کی بجائے ایک بار پھر طبع آزمائی کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔ بعض نئے لکھاری بہت اچھا مضمون بھیجتے ہیں، لیکن بعض اوقات انسانی وسائل کی کمی کے باعث ان کی ایک اچھی تحریر بھی شائع نہیں ہو پاتی ہے۔ ’ہم سب‘ کی ادارتی ٹیم ان سب دوستوں سے نہایت معذرت خواہ ہے اور درخواست کرتی ہے کہ اپنی تحریریں ارسال کرتے رہیں۔

تحریر کے اختتام پر ہم سب کے سب ساتھیوں کو، لکھنے والوں کو اور پڑھنے والوں کو، ایک ملین مرتبہ شکریہ پہنچے۔ آپ کا تعاون شامل حال رہا تو ہم سب کو ایسی کامیابیاں ملتی رہیں گی۔

(مدیر ہذا عرض کرتا ہے کہ محترم عدنان خان کاکڑ کا خصوصی شکریہ ادا کرنے کی وجوہات بہت سی ہیں اور بوجوہ بیان نہیں کی جا سکتیں۔ مشرب پروانہ ز آتش نداند طور را)


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

14 thoughts on “ہم سب: ایک ملین کی تحسین

  • 04-03-2016 at 5:06 pm
    Permalink

    بہت مبارکباد. ….

    • 04-03-2016 at 5:09 pm
      Permalink

      شکریہ

  • 04-03-2016 at 5:11 pm
    Permalink

    مبارک هو جی

    • 04-03-2016 at 5:12 pm
      Permalink

      خیر مبارک

  • 04-03-2016 at 5:21 pm
    Permalink

    mumarkhaan sohnay veer nu

  • 04-03-2016 at 5:25 pm
    Permalink

    مبروک

  • 04-03-2016 at 5:48 pm
    Permalink

    اردو سمجھنے،بولنے اور لکھنے والوں کیلئے”ہم سب” ویب سائٹ ایک اچھا اضافہ ہے۔ اور جناب وجاہت مسعود صاحب کی زیرادارت اس پلیٹ فارم میں نکھار آرہا ہے۔میں “ہم سب” کی پوری ٹیم کومبارکباد دیتا ہوں۔
    شہباز سعید آسی

  • 04-03-2016 at 5:53 pm
    Permalink

    مبارک باد

  • 04-03-2016 at 6:23 pm
    Permalink

    ہم سب کے نام مجاز کی ایک غزل کا شعر:

    اے مطرب بیباک کوئ اور بھی نغمہ
    اے ساقی فیاض شراب اور زیادہ

  • 04-03-2016 at 7:18 pm
    Permalink

    Boht mubarik allah isay bhi zeedah kamyabi milay gi mahnat kubhi raigaa nahu jati

  • 04-03-2016 at 8:13 pm
    Permalink

    وجاہت مسعود صاحب، ہم سب کی ٹیم اور تمام لکھاری مبارکباد کے مستحق ہیں، وجاہت مسعود صاحب نے لکھاریوں کا ایک منفرد اور خوبصورت گلدستہ ترتیب دیا ہے۔ تمام تر نیک خواہشات کہ ”ہم سب“ کو مزید ترقیاں حاصل ہوں۔

  • 05-03-2016 at 2:56 pm
    Permalink

    بہت خوشی کی بات ہے کہ ایک قلیل عرصے میں ہم سب ( ہم سب اور وجاہت صاھب ) کی کاوشوں سے مقبول ہو رہا ہے ،دعا ہے کہ ترقی کا یہ سفر کبھی بھی نہ تمھے اور نئی راہیں کھلتی رہیں آمین ،

  • 05-03-2016 at 5:18 pm
    Permalink

    I am so happy to know that your brain child is growing so healthy in a short time… !Keep going with your good work .

  • 05-03-2016 at 7:14 pm
    Permalink

    پہلے تو بہت بہت مبارکباد. اور پھر ایک واہ جمہوریت کی کور چشمی اور قدر ناشناس خاصیت کی طرف کہ اگر یہ گیارہ کی لسٹ اہلِ علم کی مرتب کردہ ہوتی تو کیا اس میں عثمان قاضی, عاصم بخشی اور عامر خاکوانی کا نام نہہوتا ؟
    اے کمال افسوس, تجھ پر کمال افسوس ہے.

Comments are closed.