عصمت فروشی ۔۔۔۔ سعادت حسن منٹو کے قلم سے (1)


عصمت فروشی کوئی خلاف عقل یا خلاف قانون چیز نہیں ہے۔ یہ ایک پیشہ ہے جس کو اختیار کرنے والی عورتیں چند سماجی ضروریات پوری کرتی ہیں جس شے کے گاہک موجود ہوں، اگر وہ مارکیٹ میں نظر آئے تو ہمیں تعجب نہ کرنا چاہیئے، اگر ہمیں ہر شہر میں ایسی عورتیں نظر آتی ہیں جو اس جسمانی تجارت سے اپنا پیٹ پالتی ہیں تو ہمیں ان کے ذریعہ معاش پر کوئی اعتراض نہ ہونا چاہیئے۔ اس لیئے کہ ہر شہر میں ان کے گاہک موجود ہیں۔

عصمت فروشی کو گناہ کبیرہ یقین کیا جاتا ہے ممکن ہے یہ بہت بڑا گناہ ہو، مگر ہم مذہبی نقطۂ نظر سے اس کو جانچنا نہیں چاہتے۔ گناہ اور ثواب، سزا اور جزا کی بھولبھلیوں میں پھنس کر آدمی کسی مسئلے پر ٹھنڈے دل سے غور نہیں کر سکتا۔ مذہب خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، اگر اس میں لپٹ کر کسی اور مسئلے کو دیکھا جائے تو ہمیں بہت ہی مغز دردی کرنی پڑے گی۔ اس لیئے مذہب کو عصمت فروشی سے الگ کر کے ہم نے ایک طرف رکھ دیا ہے۔

عصمت فروشی کیا ہے؟ ۔۔۔ عصمت کو بیچنا۔ یعنی اس گوہر کو بیچنا جس کو عورت کی زندگی کا سب سے قیمتی زیور یقین کیا جاتا ہے۔ اس زیور کی قدر اسلیئے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کہ تجربے نے ہمیں بتایا ہے کہ عورت جب ایک بار اس کو کھو دیتی ہے تو سماج کی نگاہوں میں اس کی کوئی عزت نہیں رہتی۔ یہ گوہر کئی طریقوں سے ضائع ہوتا ہے۔ جب عورت کی شادی ہو جائے تو یہ گوہر خاوند کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ بعض اوقات مرد اسے زبردستی حاصل کر لیتے ہیں اور بعض اوقات شادی کے بغیر عورتیں اسے اپنے دل پسند مردوں کے حوالے کر دیتی ہیں۔ بعض حالات سے مجبور ہو کر اسے بیچ دیتی ہیں اور بعض اس کی تجارت کرتی ہیں۔

ہم ان عورتوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں جو پیشے کے طور پر اپنی عصمت بیچتی ہیں حالانکہ یہ بالکل واضح چیز ہے کہ عصمت صرف ایک بار کھوئی یا بیچی جا سکتی ہے، بار بار اس کو بیچا یا کھویا نہیں جا سکتا، لیکن چونکہ اس پیشے کو عرفِ عام میں عصمت فروشی کہا جاتا ہے اسلیئے ہم اسے عصمت فروشی ہی کہیں گے۔

عصمت فروش عورت ایک زمانے سے دنیا کی سب سے ذلیل ہستی سمجھی جاتی رہی ہے مگر کیا ہم نے غور کیا ہے کہ ہم میں سے اکثر ایسی ذلیل و خوار ہستیوں کے در پر ٹھوکریں کھاتے ہیں؟ ۔۔۔ کیا ہمارے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ ہم بھی ذلیل ہیں۔

مقام تاسف ہے کہ مردوں نے اس پر کبھی غور نہیں کیا۔ مرد اپنے دامن پر ذلت کے ہر دھبے کو عصمت فروش عورت کے دل کی سیاہی سے تعبیر کرے گا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ عورتوں میں خواہ وہ کسبی ہوں یا غیر کسبی ہوں، ننانوے فیصدی ایسی ہوں گی جن کے دل عصمت فروشی کی تاریک تجارت کے باوجود بدکار مردوں کے دل کی بہ نسبت کہیں زیادہ روشن ہوں گے۔ موجودہ نظام کے تحت جس کی باگ ڈور صرف مردوں کے ہاتھ میں ہے، عورت خواہ وہ عصمت فروش ہو یا باعصمت، ہمیشہ دبی رہی ہے۔ مرد کو اختیار ہوگا کہ وہ اس کے متعلق جو چاہے رائے قائم کرئے۔

ہم نے متعدد بار اپنے کانوں سے تعیش پسند امیروں کو اپنا مال و اسباب شہوت کے تنور میں ایندھن کے طور پر جلا کر یہ کہتے سنا ہے کہ فلاں طوائف یا فلاں ویشیا نے ان کو تباہ و برباد کر دیا ہے ۔۔۔ یہ معمّاابھی تک ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔

    ویشیا یا طوائف اپنے تجارتی اصولوں کے ماتحت ہر مرد سے جو اس کے پاس گاہک کے طور پر آتا ہے، زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کرنے کی کوشش کرے گی، اگر وہ مناسب داموں پر یا حیرت انگیز قیمت پر اپنا مال بیچتی ہے تو یہ اس کا پیشہ ہے بنیا بھی تو سودا تولتے وقت ڈنڈی مار جاتا ہے۔ بعض دکانیں زیادہ قیمت پر اپنا مال بیچتی ہیں۔ بعض کم قیمت پر۔

تعجب تو اس بات کا ہے کہ جب صدیوں سے ہم یہ سن رہے ہیں کہ ویشیا کا ڈسا ہوا پانی نہیں مانگتا تو ہم کیوں اپنے آپ کو اس سے ڈسواتے ہیں اور پھر کیوں خود ہی رونا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ویشیا ارادتاً یا کسی انتقامی جذبے کے زیراثر مردوں کے مال و زر پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔ وہ سودا کرتی ہے اور کماتی ہے۔ مرد اپنی جسمانی خواہشات کی تکمیل کا معاوضہ ادا کرتے ہیں اور بس!

ممکن ہے ویشیا کسی مرد سے محبت کرتی ہو لیکن ہر وہ گاہک جو ایک خاص بندے کے زیراثر اس کی دکان میں جاتا ہے، دل میں یہ خواہش بھی پیدا کر لے کہ وہ اس سے سچی محبت کرے تو یہ کیونکر ممکن ہے؟ ۔۔۔ ہم اگر کسی دکان سے ایک روپے کا آٹا لینے جائیں تو ہماری یہ توقع قطعی طور پر مضحکہ خیز ہوگی کہ وہ ہمیں اپنے گھر میں مدعو کرے گا اور سر کے گنج کا کوئی لاجواب نسخہ بتائے گا۔

ویشیا اپنے اس گاہک کے روبروجو اس سے محبت کا طالب ہے، اپنے چہرے پر مصنوعی محبت کے جذبات پیدا کرے گی۔ یہ چیز گاہک کو خوش کر دے گی، مگر یہ عورت اپنے سینے کی گہرائیوں میں سے ہر مرد کیلئیجو شراب پی کر اس کے کوٹھے پر جھومنے لگتا ہے اور رومان کی ایک نئی دنیا بسانا چاہتا ہے، محبت کی پاک اور صاف آواز نہیں نکال سکتی۔

ویشیا کو صرف باہر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے رنگ روپ اس کی بھڑکیلی پوشاک اور اس کے مکان کی آرائش و زیبائش دیکھ کر یہی نتیجہ مرتب کیا جاتا ہے کہ وہ خوش حال ہے۔ یہ درست نہیں۔

جس عورت کے دروازے شہر کے ہر اس شخص کیلئے کھلے ہیں جو اپنی جیبوں میں چاندی کے چند سکے رکھتا ہو۔ خواہ وہ موچی ہو یا بھنگی، لنگڑا ہو یا لُولا۔ خوبصورت ہو یا کر یہہ المنظر، اس کی زندگی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک بدصورت مرد جس کے منہ سے پائیوریا لگے دانتوں کے تعفن کے بھبکے نکلتے ہیں، ایک نفاست پسند ویشیا کے ہاں آتا ہے، چونکہ اس کی گرہ میں اس ویشیا کے جسم کو ایک خاص وقت تک خریدنے کیلئیدام موجود ہیں۔ وہ نفرت کے باوجود اس گاہک کو نہیں موڑ سکتی۔ سینے پر پتھر رکھ کر اس کو اپنے اس گاہک کی بدصورتی اور اس کے منہ کا تعفن برداشت کرنا ہی پڑے گا۔ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ اس کا ہر گاہک اپولو نہیں ہو سکتا۔

ٹائپسٹ عورتوں کو حیرت سے نہیں دیکھا جاتا۔ وہ عورتیں جودا یہ گیری کا کام کرتی ہیں، انہیں حیرت اور نفرت سے نہیں دیکھا جاتا۔ وہ عورتیں جو گندگی سر پر اٹھاتی ہیں، ان کی طرف حقارت سے نہیں دیکھا جاتا، لیکن تعجب ہے کہ ان عورتوں کو جو اوچھے یا بھونڈے طریقے سے اپنا جسم بیچتی ہیں حیرت، نفرت اور حقارت سے دیکھا جاتا ہے !

حضرات یہ جسم فروشی ضروری ہے۔ آپ شہر میں خوبصورت اور نفیس گاڑیاں دیکھتے ہیں ۔۔۔ یہ خوبصورت اور نفیس گاڑیاں کوڑا کرکٹ اٹھانے کے کام نہیں آ سکتیں۔ گندگی اور غلاظت اٹھا کر باہر پھینکنے کیلئے اور گاڑیاں موجود ہیں جنہیں آپ کم دیکھتے ہیں اور اگر دیکھتے ہیں تو فوراً اپنی ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں ۔۔۔ ان گاڑیوں کا وجود ضروری ہے اور ان عورتوں کا وجود بھی ضروری ہے جو آپ کی غلاظت اٹھاتی ہیں، اگر یہ عورتیں نہ ہوتیں تو ہمارے سب گلی کوچے مردوں کی غلیظ حرکات سے بھرے ہوتے۔

یہ عورتیں اجڑے ہوئے باغ ہیں، گھورے ہیں جن پر گندے پانی کی موریاں بہہ رہی ہوں، یہ ان گندی موریوں ہی پر زندہ رہتی ہیں ۔۔۔ ہر انسان کیسے ایک جیسے شاندار طریقے پر زندگی بسر کر سکتا ہے؟

ذرا خیال فرمایئے، شہر کے ایک کونے میں ایک ویشیا کا مکان ہے، رات کی سیاہی میں ایک مرد جو اپنے سینے میں اس سے بھی زیادہ سیاہ دل رکھتا ہے، اپنے جسم کی آگ ٹھنڈی کرنے کیلئے بے دھڑک اس کے مکان میں چلا جاتا ہے ۔ ویشیا اس مرد کے دل کی سیاہی سے واقف ہے۔ اس سے نفرت بھی کرتی ہے۔ اچھی طرح جانتی ہے کہ اس کا وجود دامنِ انسانیت پر ایک بدنما دھبہ ہے۔ اس کو معلو م ہے کہ وہ ازمنۂ بربریت کا ایک خوفناک نمونہ ہے، مگر وہ اپنے گھر کے دروازے اس پر بند نہیں کرسکتی۔ جو دروازے معاشی کشمکش نے ایک دفعہ کھول دیئے ہوں ، بہت مشکل سے بند کیئے جاسکتے ہیں۔

یہ ویشیا جو عورت پہلے ہے ، ویشیا بعد میں ، اس مرد کو چند سکوں کے عوض اپنا جسم حوالے کردیتی ہے لیکن اس کی روح اس وقت جسم میں نہیں ہوتی ۔ ایک ویشیا کے الفاظ سنیئے۔ ’’لوگ مجھے باہر کھیتوں میں لے جاتے ہیں۔۔۔ میں لیٹی رہتی ہوں بالکل بے حس و بے حرکت ، لیکن میری آنکھیں کھلی رہتی ہیں ۔ میں دور ۔۔۔ بہت دور ان درختوں کو دیکھتی رہتی ہوں ، جن کی چھاؤں میں کئی بکریاں آپس میں لڑ جھگڑ رہی ہوتی ہیں ۔ کتنا پیارا منظر ہوتا ہے ۔ میں بکریاں گننا شروع کردیتی ہوں یا پیڑوں کی ٹہنیوں پر کوؤں کو شمار کرنے لگتی ہوں ۔ انیس ،بیس ۔۔۔اکیس بائیس۔۔۔ اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ میرا ساتھی اپنے کام سے فارغ ہوکر ایک طرف ہانپ رہا ہے۔‘‘

مشاہدہ بتاتا ہے کہ ویشیا ئیں عام طور پر خدا ترس ہوتی ہیں ۔ ہر ہندو ویشیا کے مکان پر کسی نہ کسی کمرے میں آپ کو کرشن بھگوان یا گنیش مہاراج کی مورتی یا تصویر ضرور نظر آئیگی ۔ وہ اس مورتی کی اسی قدر صدق دل سے پوجا کرتی ہے جتنی ایک باعصمت یا گھریلو عورت کرسکتی ہے۔ اسی طرح وہ ویشیا جو مسلمان ہے ، ماہِ رمضان میں روزے ضرور رکھے گی، محرم میں اپنا کاروبار بندرکھے گی، سیاہ کپڑے پہنے گی، غریبوں کی مدد کرے گی اور خاص خا ص موقعوں پر خدا کے حضور میں عجز و نیاز کا نذرانہ بھی ضرور پیش کرے گی۔ بادی النظر میں عصمت باختہ عورتوں کو مذہب سے یہ لگاؤ ایک ڈھونگ معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ ان کی روح کا وہ حصہ پیش کرتا ہے جو سماج کے زنگ سے یہ عورتیں بچا بچا کے رکھتی ہیں۔

دوسرے مذہب کی ویشیا ئیں بھی آپ کو روحانی طور پر اپنے مذہب کے ساتھ بڑی مضبوطی کے ساتھ جکڑی نظر آئیں گی ۔ کرسچین ویشیا گرجے میں نماز کیلئے ضرور جائیگی۔ کنواری مریم کی تصویر کے پاس دیا ضرور جلائے گی۔ دراصل اس تجارت میں ویشیا اپنے جسم کو لگاتی ہے نہ کہ روح کو ۔ بھنگ یا چرس بیچنے والا ضروری نہیں کہ ان منشیات کا عادی ہو، ٹھیک اسی طرح ہر مولوی یا پنڈت پاکپاز نہیں ہوسکتا ۔

جسم داغا جاسکتا ہے مگر روح نہیں داغی جاسکتی۔

ویشیا ا پنی تاریک تجارت کے باوجود روشن روح کی مالک ہوسکتی ہے ۔ وہ اپنے جسم کی قیمت بڑی بے دردی سے وصول کرتی ہے۔ مگر وہ غریبوں کی وسیع پیمانے پر مدد بھی کرسکتی ہے۔ بڑے بڑے امیر اس کے دل میں اپنی محبت پیدا نہ کرسکے ہوں۔ مگر وہ سڑکوں پر سونے والے ایک آوارہ گرد کی پھٹی ہوئی جیب میں اپنا دل ڈال سکتی ہے۔

ویشیا دولت کی بھوکی ہوتی ہے ، لیکن کیا دولت کی بھوکی محبت کی بھوک نہیں ہوسکتی؟

یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب میں ہمیں تفصیل سے کام لینا پڑے گا۔

خاندانی ویشیا اور نوکسبی ویشیا میں بہت فرق ہے اور پھر وہ عورتیں یا لڑکیاں جو اپنے غریب ماں باپ یا اپنے یتیم بچوں کی پرورش کیلئے مجبوراً اپنا جسم چھپ چھپ کر فروخت کرتی ہیں، ان کی حیثیت متذکرہ صدر اقسام سے بالکل جداگانہ ہے۔

خاندانی ویشیا سے ہماری مراد وہ کسبی عورت ہے جو ویشیا کے بطن سے پیدا ہوتی ہے اور اسی کے گھر میں پالی پوسی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ عورت جس کو خاص اصولوں کے تحت ویشیا بننے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایسی عورتیں جو اس ماحول میں پرورش پاتی ہیں، عشق و محبت کو عام طور پر ایسا سکہ تصور کرتی ہیں جو ان کے بازار میں نہیں چل سکتا۔ یہ نظریہ درست ہے ا سلیئے کہ اگر وہ ہر اس مرد کو جوان کے پاس چند لمحات گزارنے کیلئے آئے، اپنا دل حوالے کر دیں تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے کاروبار میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

عام طور پر یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس سکول کی ویشیاؤں کے سینے میں عشق و محبت کا عنصر کم ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ دوسری عورتوں کے مقابلے میں مردوں سے عشق کرنے میں بڑی احتیاط اور بڑے بخل سے کام لیتی ہیں۔ مردوں سے روزانہ میل جول ان کے دل میں ایک ناقابل بیان تلخی پیدا کر دیتا ہے۔ وہ مردوں کو حیوانوں سے بدتر سمجھنے لگتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اس ضمن میں ایک حد تک ’’منکر‘‘ ہو جاتی ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا سینہ محبت کے لطیف جذبات سے خالی ہوتا ہے۔

جس طرح بھنگن کی لڑکی کو گندگی کا پہلا ٹوکرا اٹھاتے وقت گھن نہیں آئے گی اسی طرح اپنے پیشے کا پہلا قدم اٹھاتے وقت ایسی ویشیاؤں کو بھی حجاب محسوس نہیں ہوگا۔ آہستہ آہستہ حیا اور جھجک سے متعلقہ قریب قریب تمام جذبات ان میں گھس گھسا کر ہٹ جاتے ہیں ۔۔۔ چکلے کے اندر جہاں شہوت پرست مردوں کیلئے ان عورتوں کے مکان کھلے رہتے ہیں، لطیف جذبات کیسے داخل ہو سکتے ہیں۔

جس طرح باعصمت عورتیں ویشیاؤں کی طرف حیرت اور تعجب سے دیکھتی ہیں، ٹھیک اسی طرح وہ بھی ان کی طرف اسی نظر سے دیکھتی ہیں۔ اوّل الذکر کے پیش نظر یہ استفہام ہوتا ہے۔ ’’کیا عورت اس قدر ذلیل ہو سکتی ہے؟‘‘ موخر الذکر یہ سوچتی ہیں۔ ’’یہ پاک باز عورتیں کیسی ہیں ۔۔۔ کیا ہیں؟‘‘

ویشیا جس کی ماں ویشیا تھی جس کی دادی ویشیا تھی جس کی پردادی ویشیا تھی، جس نے ویشیا کا دودھ پیا، جو عصمت فروشی کے گہوارے میں پلی، وہیں بڑی ہوئی، جس کی تجارت کا آغاز بھی وہیں شروع ہوا، عصمت اور باعصمت عورتوں کے متعلق کیا سمجھ سکتی ہے۔

 

(جاری ہے)

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں