ست ماہی انقلاب


سوشل میڈیا سے ہماری جان پہچان کو کافی مدت ہوچکی ہے۔ بلاگنگ سے شروع ہونے والا یہ سفر فیس بک سے ہوتا ہوا ٹوئٹر تک پہنچ چکا ہے۔ سیاست اور مذہب دو ایسے موضوع ہیں جن پر بولنا اور حتمی رائے دینا ہم سب کا فیورٹ ٹائم پاس ہے۔ ابّاجی چاہے جوا کراتے ہوں لیکن فقہ اور سیاست کے مسائل پر ہماری در فنطنیاں سننے کے لائق ہوتی ہیں۔ ٹیکس چوروں کی اولاد، پارسائی کے نقاب چڑھائے، عام عوام کی تشریف پر ایسے چھتّر رسید کرتی ہے کہ ان کی چیخیں ادھ اسمان تک جاتی ہیں۔ یہ سارے مظاہر تو سوشل میڈیا پر عام تھے۔ لیکن دو سال قبل ایک ایسا دم دار ستارہ اس افق پر ابھرا کہ اس نے تمام دوسرے ستاروں کی روشنیاں ماند کردیں۔ یہ تھے، نئے انقلابیے، جن کے باوا آدم جنرل پاشا اور شو بوائے، حضرت عمران خاں مدظلہ العالی تھے۔ جو پچھلے ہزاروں سال سے پاکستان میں انصاف لانے کے لیے کھجل ہوتے پھررہے تھے۔ اس جدوجہد میں ان کے بال بچے ان کے ہاتھ سے نکل گئےتھے۔ لیکن بھلا ہو۔ کہ حق مہر میں ان کو اتنا کچھ مل گیا کہ بال نقل بمطابق اصل اور پہاڑ پر ایک چھوٹی سی کٹیا، جھونگے میں مل گئی۔ جس کے سبزہ زار پر ان کی نماز پڑھتے ہوئے، تصاویر، اکثر فیس بک کے، گریٹ خاں، خاں دی گریٹ، خان اعظم، جیسے ناموں والے پیجز پر اکثر اپ لوڈی جاتی ہیں اور نونہالان انقلاب کے دل کو بہلاتی ہیں۔

ہمارا قطعی کوئی پروگرام ان انقلابیوں یا ان کے کرتبوں پر لکھنے کا نہیں تھا، نہ ہی ہمیں سیاست سے کوئی ڈائی ہارڈ قسم کی دلچسپی ہے۔ لیکن آفرین ہے ان برگر بچوں پر کہ انہوں نے ہم جیسے نمانے کو بھی مجبور کردیا ہے کہ وہ برگر کا برگر اور پیپسی کی پیپسی کی کر دے۔ آگے بڑھنے سے پہلے تین چار اصول ذہن نشین کرلیجیے۔ پہلا یہ کہ ہر شخص کی ذاتی زندگی اس کی اپنی ہوتی ہے، وہ اس میں جو مرضی کرے کسی کو اس پر اعتراض کا حق نہیں۔ یہ اصول صرف خاں اعظم پر لاگو ہوتا ہے۔ دوسری بات کہ جب کوئی توبہ کرلے تو اس کے ماضی بارے بات کرنا گناہ کبیرہ ہوتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ یہ اصول بھی صرف حضرت صاحب پر ہی لاگو ہوتا ہے۔ تیسرا اصول، جو بھی کسی بھی پیرائے میں خاں صاحب یا پارٹی پالیسی(؟ ) بارے مخالفانہ رائے کا اظہار کرے، وہ لفافہ، بکا ہوا، بے ایمان، ضمیر فروش، غدار، یہودیوں کا ایجنٹ، اب اس یہودیوں کے ایجنٹ والی کہانی بھی خوب ہے، پر وہ پھر کبھی سہی، وغیرہ وغیرہ ہوگا۔ اس کی ولدیت مشکوک ہوگی۔ وہ انتہائی گھٹیا اور بدتہذیب وغیرہ ہوگا۔ علی ہذا القیاس۔ لوگوں کو یہ سب القابات دینے والے اسی نوزائیدہ انقلاب کے نونہال ہوتے ہیں۔

ہم نے گزشتہ انتخابات یا اس سے پہلے بھی ان باتوں کا کبھی ذکر نہیں کیا اور ہمیشہ خاں صاحب اور اس ست ماہی پارٹی بارے حسن ظن سے کام لیا۔ ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ جنہیں یہ برگر بچے سمجھنے سے قاصر ہیں، وہ البتہ الگ بات ہے۔ ایسی چھیڑ چھاڑ تو ہم اپنے معشوقوں سے بھی کرتے رہتے ہیں اور روایتی عاشقوں کی طرح جوتے کھانا ہمارا شیوہ نہیں۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا، تو ہم یہ کہہ رہے تھے کہ اب چونکہ گرد بیٹھ چکی ہے۔ پارٹی گود سے اتر کر زمین پر ”رڑنے“ کی کوشش میں ہے تو اب اس کا مارجن آف ایرر اتنا زیادہ نہیں رہا۔ ہمیں احساس ہے کہ بت پرستی ہماری جینز میں شامل ہے۔ ہم کسی کو انسان سمجھنے کے قائل نہیں۔ فرشتے اور شیطان کے درمیان کسی بھی سٹاپ پر ہم نہیں رک سکتے۔ عمران خان کی بہادری اور ان کی حماقت بارے ہمیں کبھی کوئی شک نہیں رہا۔ ان کی ایمانداری بھی بے مثل ہے اور ان کا چولیں مارنا بھی۔ جب بھی وقت قیام آتا ہے، خاں جی، دھڑام سے سجدے میں گرجاتے ہیں اور جب سجدے کا وقت آتا ہے تو ایک امیدوار قومی اسمبلی کی ڈگری یا سند کی صفائیاں دینے میں اتنے مشغول ہوجاتے ہیں کہ لوگ باقاعدہ ان کا توا لگانا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن حماقت کی حدوں کو چھوتی ہوئی ان کی بہادری کو کبھی اس کی پروا نہیں ہوئی۔ میں اپنے ایک دوست سے جو ایک انصافی ہیں، اکثر کہا کرتا ہوں کہ خاں صاحب، معشوق صفت ہیں جبکہ رہنما، عاشق صفت ہونا چاہیے۔ اس عمر میں بھی ان کے ٹشن دیکھ کے ایسا لگتا ہے جیسے کسی ہالی ووڈ فلم کی شوٹنگ پر پہنچے ہوں، کمرے کے اندر بھی کالے شیشوں والی عینک ایسے لگا کے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے ”حافظ“ صاحب ہوں۔ اس سے ہمیں وہ فوٹو یاد آگئی جس میں عائلہ صاحبہ انتہائی پیار سے انہیں پانی کی بوتل پیش کررہی ہیں اور خاں جی کالے شیشوں کی عینک لگائے بلیوں میں نمّا نمّا ہنس رہے ہیں۔ جیسے گونگی۔ چلیں چھوڑیں۔

تو اس حافظ صاحب والی فوٹو سے ہمیں ایک لطیفہ یاد آگیا کہ گاؤں میں ایک ایسے ہی حافژصاب چوہدریوں کے گھر مٹھائی لے کے پہنچ گئے، چوہدرائن نے اندر بلا کے انہیں بٹھایا اور کہا کہ میں ذرا نہالوں، آپ انتظار کرلیں، چوہدرائن بڑے اطمینان سے نلکا گیڑ کے نہاتی رہی کہ حافظ جی کو کونسا نظر آتا ہے۔ نہانے سے فارغ ہونے کے بعد چوہدرائن نے حافظ جی سے پوچھا کہ یہ مٹھائی کس خوشی میں ہے تو حافظ نے نماّ نمّا ہنستے ہوئے کہا کہ۔ میری بینائی واپس آگئی ہے۔ ہیں جی۔

سوشل میڈیا کے یہ پارسا مجاہد، آپ کی ماں بہن ایک کرتے ہوئے ایک لمحہ بھی نہیں لگاتے۔ کسی کی لطیف بات کا جواب بھی ایسے دیتے ہیں جیسے وہ ارائیں اور جاٹ والے لطیفے میں ہوا تھا کہ۔ رلیا نئیں تے۔ ان کو ہر مخالف کو اس حرف تہجی پر چڑھانے کا شوق ہوتا ہے جو ہمارے عزیز من مولبی صاحب کا انتخابی نشان ہے۔ اور ہر دوسرے کی نسبت دوسرے نسوانی عضو سے جوڑتے ہیں جوکہ اصل میں سب ہی ہوتے ہیں الاّ یہ کہ آپ بڑے آپریشن سے پیدا ہوئے ہوں۔ اف یو نو وٹ آئی مین۔

رائے کا اختلاف، کسی بھی معاشرے کی بڑھوتری کے لیے ماں کے دودھ کی حیثیت رکھتا ہے اور ڈبّے کا دودھ پینے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔ اردو میڈیم کھوتی سکولوں میں پڑھنے والے آپ کو ایسی ایسی ذات کی گالی دے سکتے ہیں کہ آپ کے آباؤ اجداد نے کبھی خواب میں بھی نہ سنی ہوں۔ لہذا اس میدان میں مت کھیلئے۔ تمیز کے دائرے میں آجائیے۔ نہ ہی سیاست دو سال پہلے ایجاد ہوئی تھی اور نہ ہی آپ کے پہلی دفعہ ووٹ دینے سے اس دنیا کو الیکشن نام کی چیز کا پتہ چلا ہے۔ یہ سب چیزیں آپ کی جینز سے بھی پرانی ہیں۔ اختلاف رائے کو برداشت کریں، مذاق سے لطف اندوز ہوں اور اگر اسی سطح پر اس کا جواب دینے کی اہلیت آپ میں نہیں ہے تو اپنی تھوتھنی بند رکھنے میں ہی عافیت ہے۔

ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔

جعفر حسین
Latest posts by جعفر حسین (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

جعفر حسین

جعفر حسین ایک معروف طنز نگار ہیں۔ وہ کالم نگاروں کی پیروڈی کرنے میں خاص ملکہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بہت سنجیدہ انداز میں تاریخ گھڑتے ہیں

jafar-hussain has 113 posts and counting.See all posts by jafar-hussain