عورتوں کی مقتول روحیں  


naseer nasirمیں نے قتل کیا ہے
ایک مرد کو
جو میرے جسم میں چھید کرنا چاہتا تھا
نہیں، ایک مرد کی پرچھائیں کو
میں نے قتل کیا ہے
ہاں میں نے قتل کیا ہے
تیز دھار چاقو سے
تا کہ خون بہے
اور بہتا رہے

راقم کی نظم کے یہ الفاظ دراصل نوجوان ایرانی لڑکی ریحانے جباری کا اعترافِ جرم ہے۔ جسے 26 سال کی عمر میں 25 اکتوبر 2014 کو پھانسی دی گئی۔ ریحانے پر ایران کی خفیہ ایجنسی کی وزارت کے ایک سابقہ افسر مرتضیٰ سربندی کو ایک چھوٹے جیبی چاقو سے قتل کرنے کا الزام تھا جس نے اسے ریپ کرنے کی کوشش کی تھی۔ 2007ء میں ہونے والے اس وقوعہ میں ملوث ریحانے کو جرم ثابت ہونے پر 2009 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ریحانے کے ساتھ جب یہ سانحہ پیش آیا اور جب اسے گرفتار کیا گیا تو وہ 19 سال کی ٹین ایجر تھی۔

دنیا بھر میں عورتوں کو پھانسی دینے کا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں تھا۔ انسانی تاریخ عورتوں اور بچوں کے قتل و غارت اور پھانسیوں سے بھری پڑی ہے۔ لیکن تاریخ کا Iranian Reihaneh Jabbari on trial in Teheran, Iran, 15 December 2008. According to the allegations, Jabbari killed her rapist with a knife in an act of self-defence in July of 2007. The court sentenced her to death for committing murder. According to Iranian laws, an execution could be avoided with a pardon from the family of the victim. This has been rejected multiple times and the family demands revenge. Photo: Goalara Sajadieh/dpaمسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف بادشاہوں، ملکاؤں، امرا و وزرا، مذہبی پیشواؤں، اشرافیہ اور کسی حد تک علم و ادب، فلسفے اور سائنس میں اپنے وقت کے بڑے لوگوں کی زندگی اور موت کے اعداد و شمار ریکارڈ کرتی ہے۔ تاریخ کثرت سے مرنے والے یا مار دیے جانے والوں کی شناخت کو محفوظ نہیں رکھتی۔ تاریخ کے میوزیم میں چیدہ چیدہ دربار اور مزار تو مل جاتے ہیں لیکن اجتماعی قبروں میں دفن روحوں کی نشاندہی ممکن نہیں ہوتی۔ حالیہ صدیوں کے زندان میں دیکھا جائے تو امریکہ میں سترھویں صدی سے بیسویں صدی تک غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق 505 عورتوں کو پھانسی دی گئی جن میں 306 تصدیق شدہ پھانسیاں ہیں، اور پھانسی پانے والیوں میں 71 سالہ ضعیف عورت اور 12 سال کی بچی بھی شامل ہیں۔ برطانیہ میں انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران 41 عورتوں کو پھانسی دی گئی۔ ہندوستان کا معلوم نہیں لیکن پاکستان میں اب تک کسی عورت کو پھانسی نہیں دی گئی۔ البتہ سزائے موت کئی خواتین کو سنائی گئی ہے۔ جن میں دو کے نام زیادہ مشہور ہوئے اور ملکی و غیر ملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے۔ ایک نام کنیزاں نامی خاتون کا ہے جس پر پانچ بچوں اور ان کی ماں کے قتل کا جرم ثابت ہوا لیکن اس کا ذہنی توازن درست نہ ہونے کی وجہ سے اب تک سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ دوسرا نام آسیہ نورین المعروف آسیہ بی بی  کا ہے جسے توہینِ رسالت کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ لیکن مختلف وجوہات اور بین

الاقوامی دباؤ کے باعث ابھی تک پھانسی نہیں دی گئی۔ آسیہ کی رہائی کے لیے پیش کی جانے والی یادداشت پر سو سے زائد ملکوں کے چار لاکھ لوگوں نے دستخط کیے ہیں جبکہ امریکن سینٹر فار لاء اینڈ جسٹس کی یادداشت نے دو لاکھ  دستخط حاصل کیے ہیں اور سابقہ پوپ بینیڈکٹ نے ذاتی طور پر اس کے خلاف چارجز واپس لینے A picture taken on July 8, 2007 shows Iranian Reyhaneh Jabbari standing handcuffed at police headquarters in Tehran after she was arrested for the murder of a former intelligence official. Jabbari who is awaiting an impending death sentence for slaying of former intelligence official Morteza Abdolali Sarbandi, could be forgiven if "she tells the truth", the victim's son said on April 19, 2014 as a UN human rights monitor claims the crime was done in self-defence against a potential rapist. AFP PHOTO/GOLARA SAJADIANکی درخواست کی ہے۔ اقلیتوں کے وزیر شہباز بھٹی اور پنجاب کے گورنر سلمان بھی اس کی حمایت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ایک فرانسیسی صحافی نے آسیہ کے شوہر اور آسیہ سے انٹرویو کی مدد سے اس کی زندگی پر کتاب بھی لکھی ہے۔ اگر کنیزاں اور آسیہ کی سزاؤں پر عملدرآمد ہوا ، جس کا امکان کم ہے، تو کنیزاں پھانسی پانے والی پہلی خاتون اور آسیہ توہینِ رسالت میں سزا پانے والی پہلی خاتون ہو گی۔ عہدِ رواں میں عورتوں کو سب سے زیادہ پھانسیاں چین میں دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب (جہاں پھانسی کے بجائے سر قلم کیا جاتا ہے) اور ایران سرِفہرست ہیں۔

موت کی سزا پانے والی زیادہ تر عورتیں مرد کی دست درازی یا جنسی ہوس اور آبرو ریزی سے بچنے کے لیے اپنے دفاع کی کوشش میں قتل کی مرتکب ہوتی ہیں۔ لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ ان کے مقدمات میں اکثر یہ سبب یا پہلو نطر انداز کر دیا جاتا ہے اور عدالتوں میں مرد کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ ریحانے جباری کے کیس میں بھی یہی ہوا اور وہ اپنا مقدمہ ہار گئی۔ گرفتاری کے بعد اسے دو ماہ تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔ یہاں تک کہ اس کے خاندان کے کسی فرد اور وکیل سے بھی ملنے نہ دیا گیا۔ تحقیات کے دوران اس پر ہر طرح کا دباؤ ڈالا گیا۔ اس کی چھوٹی بہن بادوک کو مارنے اور بے آبرو کرنے کی دھمکیاں دی گئیں تا کہ مرضی کے بیانات لیے جا سکیں۔

چوتھی منزل سے
تفتیش گاہ کے تہہ خانے تک
جہاں مجھے کئی بار زندہ مار ڈالا گیا
اور میں نے لکھ دیا
بیانِ حلفی میں
جو انہوں نے کہا
تا کہ بادوک زندہ رہے
اور کسی اور ٹین ایجر کو چیرا توڑا نہ جا سکے

32009ء میں جب ریحانے جباری کو موت کی سزا سنائی گئی تو اس مقدمے نے بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور ھیومن رائٹس کی دیگر تنظیموں نے اسے ناانصافی پر مبنی قرار دیا اور اس میں تحقیقاتی اور قانونی خامیوں کی طرف اشارا کیا۔ کیونکہ ججوں نے کچھ اہم سوالوں کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی اور کچھ صاف نظر آنے والے قانونی سقم تشنہ چھوڑ دیے۔ تحقیقات میں بھی مرتضیٰ کے خاندان کی مالی برتری اور سیاسی اثر و رسوخ حاوی رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا قتل تھا کیونکہ ریحانے نے وقوعہ سے دو روز قبل ایک چھوٹا جیبی چاقو خریدا تھا۔ ایک ٹیکسٹ میسج کا حوالہ بھی دیا جاتا رہا جس میں ریحانے جباری نے ایک دوست کو لکھا تھا “میں اسے قتل کر دوں گی”۔ ریحانے کا موقف تھا کہ مرتضیٰ کی طرف سے دست درازی کی کوشش پر میں نے اپنے دفاع میں چاقو سے وار کیا لیکن قتل میں نے نہیں کیا۔ مرتضیٰ کو ایک تیسرے شخص نے مارا جو اس وقت فلیٹ میں موجود تھا۔ واضح رہے کہ مرتضیٰ نے ریحانے کو اپنے دفتر کی آرائش و تزہین کے کام کے لیے بلایا تھا لیکن اسے ایک عمارت کی چوتھی منزل پہ اپنے فلیٹ میں لے گیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت نے نہ تو یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر یہ طے شدہ قتل تھا تو اس کے محرکات کیا تھے؟ اس کے پیچھے کون تھا؟  ریحانے نے کس کے ایما پر مرتضیٰ کو قتل کیا اور وہ اس سے کیا مقاصد یا فوائد حاصل کرنا چاہتی تھی؟ اور نہ ہی اس تیسرے شخص کے بارے میں تحقیقات اور اس کی نشاندہی پر زور دیا۔ نہ اس پر بحث ہوئی کہ مرتضیٰ اسے فلیٹ میں کیوں اور کیسے لے کر گیا۔ ساری توجہ واردات سے دو روز قبل خریدے گئے چھوٹے دستی چاقو پر مرکوز رہی اور اسی کی بنیاد پر، یک طرفہ تحقیقاتِ مقدمہ اور اس کے تمام کمزور پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے، ریحانے کو پھانسی دینے کا حکم سنا دیا گیا۔ اسے کوئی نہ بچا سکا۔ نہ وکیل نہ اس کی ماں جس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ کم عمر ریحانے کی جگہ اس کو پھانسی دے دی جائے، نہ گواہ کہ اپنے علاوہ کوئی اس کا گواہ تھا ہی 4نہیں  اور نہ خدا جو تفتیش سے فیصلے تک ساری کارروائی خاموشی سے دیکھتا رہا۔

جیل میں اور عدالت میں
موجود ہونے کے باوجود
خدا مجھے نہیں بچا سکا
خدا انسانوں کے لیے بنائے ہوئے قانون کے ہاتھوں مجبور ہے
آنکھ کے بدلے آنکھ
کان کے بدلے کان
جسم کے بدلے جسم
لیکن پرچھائیں کے بدلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری، بادلوں کی چھاؤں جیسی،
کم سِن روح کو پھانسی دے دی گئی

ریحانے نے اپریل 2014ء میں اپنی والدہ کے نام اپنے آخری خط (وصیت نامے) میں لکھا تھا:

” میری عزیز ماں!
مجھے آج پتہ چلا کہ مجھے قصاص (ایرانی نظام میں سزا کا قانون) کا سامنا کرنا پڑے گا، مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہو رہا ہے کہ آخر آپ اپنے دل کو یہ یقین کیوں نہیں دلا رہی ہیں کہ میں اب اپنی زندگی کے آخری مقام تک پہنچ چکی ہوں۔ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کی اداسی مجھے کس قدر پریشان کرتی ہے؟ آپ مجھے اپنے اور پاپا کے ہاتھوں کو چومنے کا موقع کیوں نہیں دیتی ہیں۔

ماں، اس دنیا نے مجھے 19 سال جینے کا موقع دیا تھا۔ اس منحوس رات کو میرا قتل ہو جانا چاہیے تھا۔ میری لاش کو شہر کے کسی کونے میں پھینک دیا گیا ہوتا اور پھر پولیس آپ کو میری لاش کو پہچاننے کے لیے بلواتی اور آپ کو پتہ چلتا کہ قتل سے پہلے میرا ریپ بھی ہوا تھا۔ میرا قاتل کبھی بھی گرفت میں نہ آتا، کیونکہ آپ کے پاس اس کی طرح نہ ہی دولت ہے، نہ ہی طاقت۔ اس کے بعد آپ کچھ سال اسی عذاب اور پریشانی میں گزار تیں اور پھر اسی عذاب میں آپ بھی انتقال کرجاتیں۔ لیکن، کسی لعنت کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا۔ میری لاش تب پھینکی نہیں گئی۔ لیکن، یہاں جیل کی قبر میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اسے ہی میری قسمت سمجھیے اور اس کا الزام کسی 5کے سر نہ ڈالیے۔ آپ بہت اچھی طرح جانتی ہیں کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتی۔ آپ نے ہی تو کہا تھا کہ انسان کو مرتے دم تک اپنے اقدار کی حفاظت کرنی چاہیے۔

ماں، جب مجھے ایک قاتل کے طور پر عدالت میں پیش کیا گیا، تب بھی میں نے ایک آنسو نہیں بہایا۔ میں نے اپنی زندگی کی بھیک نہیں مانگی۔ میں چلّانا چاہتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا کیونکہ مجھے قانون پر پورا بھروسہ تھا۔

ماں، آپ جانتی ہیں کہ میں نے کبھی ایک مچھر بھی نہیں مارا۔ میں كاكروچ کو مارنے کی بجائے اس کو مونچھ سے پکڑ کر اسے گھر سے باہر پھینک آیا کرتی تھی، لیکن اب مجھے ایک ارادے کے تحت قتل کرنے کا مجرم بتایا جا رہا ہے۔

وہ لوگ کتنے پُر امید ہیں جنہوں نے ججوں سے انصاف کی امید کی تھی۔

آپ جو سن رہی ہیں، مہربانی کرکے اس پر مت روئیے۔

میں اپنی موت سے پہلے آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ ماں، میں مٹی کے اندر سڑنا نہیں چاہتی۔ میں اپنی آنکھوں اور جوان دل کو مٹی میں بدلنا نہیں چاہتی، اس لیے استدعا کرتی ہوں کہ پھانسی کے بعد جلد سے جلد میرا دل، میرے گردے، میری آنکھیں، ہڈیاں اور وہ سب کچھ جس کا ٹرانسپلاٹ ہو سکتا ہے، اسے میرے جسم سے نکال لیا جائے اور انہیں ضرورت مند شخص کو عطیے کے طور پر دے دیا جائے۔ میں نہیں چاہتی کہ جسے میرے اعضاء دیے جائیں اسے میرا نام بتایا جائے۔” (یہ ترجمہ ایک ویب سائٹ سے لیا گیا ہے)

ریحانے کو پھانسی کے فیصلے نے ایران کے اندر اور باہرحساس دلوں میں بے چینی اور درد و الم کی ایک لہر پیدا کر دی۔ ایرانی اداکاروں اور کئی اہم شخصیات نے اس پر سخت احتجاج کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے نقائص سے پر مقدمہ، برطانیہ کی وزارتِ خارجہ نے اس طرح کی پھانسیوں کے فیصلوں کو ایران کے ساتھ تعلقات میں رکاوٹ اور اقوامِ متحدہ کے مبصر نے اسے ریپ کے خلاف اپنے دفاع میں کیا گیا قتل قرار دیا۔ دنیا بھر سے ریحانے کی رہائی کے لیے آواز بلند کی گئی اور رہائی کی ایک عالمی پٹیشن پر 240000 افراد نے دستخط کیے۔ لیکن یہ ساری کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔ ایرانی وزارتِ انصاف کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ کے اہلِ خانہ نے اسلامی قوانین کے تحت قصاص کی رقم لینے اور خون بہا معاف کرنے سے انکار کر دیا ہے اس لیے حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ بالآخر گرفتاری سے سات سال بعد 25 اکتوبر 2014ء کی صبح ریحانے جباری کی نو خاستہ روح کو اپنے نو عمر جسم سمیت تختہء دار پر لٹکا دیا گیا۔ ریحانے کی پھانسی اور پھانسی کے ایک روز بعد منظرِ عام پر آنے والی اس کی وصیت (اپنی ماں کے نام آخری خط) پوری دنیا کو اشکبار کر گئی۔

6دیکھو تو، شب ختم ہونے سے قبل
میری صبح دار پر طلوع ہو چکی ہے
میرا بے سایہ جسم اب دھوپ چھاں کا محتاج نہیں رہا
ماں! مجھے دفن مت کرنا
قبروں کے شہر میں
ہوا کو دفن مت کرنا
اور ماتمی لباس پہن کر
رونا مت
میں بے نشان رہنا
اور بے اشک بہنا چاہتی ہوں
اس زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں
جہاں ہوا، ابر اور آنسوؤں کی قبر بنائی جا سکے
مٹی میرا جوف، میرا اُطاق نہیں
ماں! دروازہ کھول
میرا راستہ ختم ہو گیا ہے!!

ریحانے جباری کی پھانسی اور ریپ کے خلاف اپنے دفاع میں قاتل قرار دی جانے والی ہر عورت کی موت کے بعد ایک سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ اگر ریحانے اپنا ریپ ہونے دیتی اور ریپ کے بعد قتل کر دی جاتی یا بظاہر اپنی زندگی تو بچا لیتی لیکن روح کو مرنے دیتی، ہر دو صورتوں میں کیا مرتضیٰ نامی کسی بھی مرد کو اسی طرح یک طرفہ، نقائص اور تفتیشی خامیوں سے بھرپور ادھورا مقدمہ چلا کر پھانسی دے دی جاتی؟ شاید نہیں۔ کیونکہ مرد ہر بار بچ جاتا ہے۔ قتل ہو کر یا زندہ بچ کر سزا عورت کو ہی ملتی ہے۔ جسم اور روح دونوں عورت ہی کے پھانسی پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں عورتوں کی مقتول روحیں بڑھتی جا رہی ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “عورتوں کی مقتول روحیں  

  • 04-03-2016 at 8:20 pm
    Permalink

    پہلے آپ کی نطم پڑھ کر اور آج یہ تحریر پڑھ کر لکھنے کے لئے الفاظ نہیں مل رہے۔۔۔

    • 05-03-2016 at 6:39 am
      Permalink

      شکریہ محمد نور آسی صاحب

  • 05-03-2016 at 12:30 am
    Permalink

    عمدہ۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔۔

    • 05-03-2016 at 6:40 am
      Permalink

      بہت شکریہ

  • 05-03-2016 at 3:43 am
    Permalink

    حقائق اور سچائی سے بھرپور فکر انگیز تحریر۔
    دنیا میں جہاں کہیں کسی جگہ بھی کوئی غیر مہذب یا غیر اخلاقی اور غیر قانونی فعل سرزد ھوتا ہے وہ تاریخ کے قبرستان کی گمنام اور بے چین روحوں کی فریاد ہی تو ھوتی ہے ۔ کل رات گھر کے پاس ایک چرچ پر نظریں جماۓ کافی دیر کھڑا عجیب وغریب سوچوں میں گم رہا ۔ گھنے درختوں کے بیچ پرانے پتھروں کی عمارت اس طرح روشن تھی جیسے کوئی پرانا محل ھو اور درخت اپنی زولفیں بکھراے چرچ کی عمارت پر اس طرح جھکے ھوۓ تھے جیسے دھمال ڈال رہے ھوں ۔ دورسے کسی شخصیت کا مجسمہ قبر کے کتبے پر کھڑا واضع دکھائی دے رہا تھا ، جتنی دیر میں وہاں کھڑا رہا یہی سوچتا رہا کہ جو لوگ اس قبرستان میں دفن ہیں مجھے نہیں پتہ وہ کون تھے کیا تھے لیکن چرچ کی روشن عمارت اور کھڑا مجسمہ اس بات کی شھادت دے رہے ہیں کہ اپنے دور میں تاریخ کو سکھ دینے والے آنے والے زمانوں میں بھی یاد رکھے جاتے ہیں اور زندہ رہتے ہیں ۔

    • 05-03-2016 at 6:41 am
      Permalink

      شکریہ تنویر حسین صاحب

  • 05-03-2016 at 9:16 pm
    Permalink

    بہت خوب ۔ ۔ ۔ ۔سلامت رہیں

  • 05-03-2016 at 10:15 pm
    Permalink

    شکریہ مدثر ظفر صاحب

  • 08-03-2016 at 4:56 pm
    Permalink

    بہترین اور خوبصورت تحریر ہے ہمیشہ کی طرح

  • 14-03-2016 at 7:38 pm
    Permalink

    شکریہ رفیع اللہ صاحب

Comments are closed.