ایک پرنٹر کی کہانی


omair mahmoodمیں ایک حقیر پر تقصیر پرنٹر ہوں۔۔۔ نہ ذات نہ صفات، نہ ہی کوئی اوقات۔ کمپیوٹر سے منسلک رہتا ہوں، اور اسی کے احکامات کا تابع ہوں۔ میرے دامن میں چند اجلے صفحے ہوتے ہیں، جن پر سیاہی پھیر کر دنیا کے حوالے کر دیتا ہوں۔

جہاں مجھے نصب کیا گیا ہے، وہیں پر بہت سے بندے اور ٹی وی بھی نصب ہیں۔ ٹی وی تو ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے گلا پھاڑتے ہیں، بندے ساتھ ساتھ دوڑتے بھاگتے بھی ہیں۔ کیسی جگہ ہے، سبھی خبر نامی کسی محترمہ کے دیوانے ہیں۔ لینا، پکڑنا، جانے نہ پائے، ارے اس نے پکڑ لی ہم نے کیوں نہ پکڑی۔۔۔ ہمہ وقت اسی قسم کی آوازیں گونجتی ہیں۔ خبر صاحبہ آگے آگے ہوتی ہیں اور یہ ان کے پیچھے۔ سبھی کہتے ہیں یہ ٹیلی وژن اسٹیشن ہے، مجھے تو اسپتال برائے  ذہنی و جذباتی امراض معلوم ہوتا ہے۔
یہاں کام کرنے والے بے صبرے ایسے ہیں کہ کوئی چیز پرنٹ کرنے کی کمانڈ بعد میں دیتے ہیں، میرے سر پر آ کر پہلے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب میں مشین ہوں، انسان تو ہوں نہیں کہ اِدھر آپ نے سوچا، اُدھر چھپ گیا۔ اجی روشنائی کی دھار اور مقدار درست ہو گی تو ہی آب دار پرنٹ آئے گا نا۔ اور پھر میں فیس بک پر نہ سہی، اپنی ننھی سی اسکرین پر اسٹیٹس ضرور اپ ڈیٹ کر دیتا ہوں۔ مثلاً پرنٹ نکالنے سے پہلے آپ کو اسکرین پر لکھا نظر آئے گا ‘پروسیسنگ’۔ اگر صفحے موجود نہ ہوں تو بھی بتاتا ہوں، صفحہ پھنس جائے تو بھی۔ لیکن ابھی میں ‘پروسیسنگ’ کر ہی رہا ہوتا ہوں تو یہ جلد باز جھٹ سے ٹرے کھول دیتے ہیں۔ صفحے موجود پائیں تو پٹ سے اوپری دھڑ الگ کر دیتے ہیں (میرا)۔ ہاتھ بڑھا کر کارٹریج نکالتے ہیں کہ صفحہ نہ پھنسا ہو۔ جب کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا تو سب چیزیں واپس اپنی جگہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عمل میں مزید کوئی خرابی کر بیٹھتے ہیں۔ وہ پرنٹ جو اگلے چند لمحوں میں نکلا ہی چاہتا تھا، ان عجلت پسندوں کی وجہ سے مزید تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے۔ گھر میں کوئی ان سے ریموٹ میں سیل نہیں ڈلواتا، دفتر میں آ کر پرنٹر مکینک بن جاتے ہیں۔
اور پھر پرنٹ لینا صرف کام کرنے تک ہی محدود نہیں، کارکردگی دکھانے کے لیے بھی پرنٹ لیے جاتے ہیں، اور ڈھیروں لیے جاتے ہیں۔ یعنی کام نہ کرنے کا ازالہ پرنٹ نکال کر کیا جاتا ہے۔ مواد میں غلطیاں نکالنے کے لیے پرنٹ لیں گے، اور مزید غلطیاں کر جائیں گے۔ ہاں کبھی کبھی ایسا بھی ہوا، کہ غلطی سے غلطیاں درست کر دیں۔ کئی ایسے بھی ہیں جنہیں انٹرنیٹ سے ایک پیراگراف پڑھنا ہو گا، اور پرنٹ پورے مضمون کا لے لیں گے۔ پھر وکی پیڈیا سے کام کا مواد کاپی کر کے صرف ضروری معلومات پرنٹ کرنے کا تردد کون کرے، یہ تو ایک ہی بار کمانڈ دیں گے اور میں بے چارا پرنٹر صفحے کالے کرتا کرتا آدھا رہ جاؤں گا۔ اور پھر میری ذمہ داری صرف دفتری کام تک محدود نہیں، اکثر ان کے ذاتی پرنٹ بھی مجھ غریب کو ہی نکالنے پڑتے ہیں، یہاں تک کہ کسی دوسرے دفتر میں نوکری کی درخواست بھی مجھ سے ہی چھاپتے ہیں۔ ایک خاتون اینکر دوران بلیٹن میک اپ سے متعلق معلومات پرنٹ کرتی رہتیں۔ رخسار کو گلنار کرنا ہو، گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کرنا ہو، یا شوہر نامدار کو تابعدار کرنا ہو، سب نسخے مجھ غریب کو پرنٹ کرنے پڑتے۔ وہ خبریں پڑھنے کے دوران جب ذرا گردن جھکاتیں، دیکھ لیتیں۔ کاش روز محشر ان کا اعمال نامہ پرنٹ کرنے کی ذمہ داری بھی مجھے ہی سونپی جائے۔
چلیں میری تو خیر ہے، حکم کا غلام ہوں، لیکن کاغذ تو درخت سے بنتا ہے۔ آپ جتنے کاغذ ضائع کریں گے، ان کی کمی پوری کرنے کے لیے مزید درخت کاٹنا پڑیں گے۔ درخت کٹیں گے تو تباہی ماحول پر آئے گی۔ مجھ پرنٹر پر جتنے ظلم مرضی کر لیں، ماحول پر تو رحم کریں نا۔


Comments

FB Login Required - comments

عمیر محمود

عمیر محمود ایک خبری ٹیلی وژن چینل سے وابستہ ہیں، اور جو کچھ کرتے ہیں اسے صحافت کہنے پر مصر ہیں۔ ایک جید صحافی کی طرح اپنی رائے کو ہی حرف آخر سمجھتے ہیں۔ اپنی سنانے میں زیادہ اور دوسروں کی سننے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ عمیر محمود نوک جوک کے عنوان سے ایک بلاگ سائٹ بھی چلا رہے ہیں

omair-mahmood has 27 posts and counting.See all posts by omair-mahmood

2 thoughts on “ایک پرنٹر کی کہانی

  • 05-03-2016 at 4:06 pm
    Permalink

    بہت خوب ۔ شاباش ۔۔ بات تو پتےکی ھے۔

  • 05-03-2016 at 9:49 pm
    Permalink

    اصل میں یہ ایک نہیں ہر دوسرے پرنٹر کی کہانی ہے 😛

Comments are closed.