اہل احتساب کی سمارٹ یاد داشت


ان دنوں جب کہ ہر طرف احتساب، جواب دہی اور منی ٹریل کی ہوا چل رہی ہے، یہ بالکل واضح ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں ملک عزیز سے کرپشن کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ تاجر ٹیکس ادا کرنے لگیں گے۔ پارلیمنٹ کے دروازے پر دستور کی دفعات 62-63 کی شرائط اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کے بعد لٹکا دی جائیں گی۔ ہر رکن اسمبلی کے لئے لازم ہو گا کہ وہ ایوان نمائندگان میں داخلے سے پہلے بائیو میٹرک سسٹم پر اپنے صادق اور امین ہونے کی تازہ تصدیق کرے۔ تاہم بعض حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت (2008-2013) کے دوران ایک سرکاری بینک سے بھاری قرض لیا تھا اور نادہندہ ہو گئے تھے۔ پس دیوار لین دین کے بعد اس معاملے کی کوئی خبر نہیں آئی۔ اب جب کہ بابر اعون نہ صرف یہ کہ پاکستان تحریک انصاف مین شامل ہو گئے ہیں بلکہ حسب مراتب مرکزی رہنما بن گئے ہیں، کیا بینک کے اس قرضے کی بابت سوال اٹھانا بدعنوان سیاست دانوں کے اشارے پر پاک و صاف “عمران اور اعوان” پر کیچڑ اچھالنے کے مترادف قرار دیا جائے گا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔