آپ کرکٹ کھیلتے ہیں؟


husnain jamal (3)آپ کرکٹ کھیلتے ہیں؟

یا شیخ نہیں کھیلتا۔

آپ نے جارج کوکر کی وہ فلم دیکھی ہے؟

یا شیخ نہیں دیکھی۔

آپ کرکٹ دیکھتے بھی ہیں؟

نہیں دیکھتا مرشد۔

آپ کیا کرتے ہیں پھر؟

یا شیخ، نوکری پیشہ ہوں۔ جب بیچنے کا سامان ختم ہو جاتا ہے تو گھر آ کر کتاب کھول لیتا ہوں۔ اس سے دل اکتا گیا تو چند پودے ہیں، کیکٹس وغیرہ، ان سے بات کر لی۔ image21پھر بیوی بچوں کا وقت شروع ہو گیا۔ درمیان میں فیس بک استعمال کر لی۔ گھوم پھر کر پھر کتاب پر واپس۔
کرکٹ اور فلم سے کیوں دور رہتے ہیں؟

مرشد، کرکٹ کھیلنا کبھی آیا ہی نہیں۔ نجف خان کہتا تھا، تو بھاگتا ہے تو کسی مہنگی گاڑی کی طرح لگتا ہے۔ میں خوش ہو جاتا تھا۔ ایک دن پوچھا تو ایسا کیوں کہتا ہے نجف خانا۔ کہنے لگا، جیسے ایک اعلیٰ گاڑی رفتار بڑھنے پر روڈ گرپ حاصل کرنے کے لیے سڑک پر بچھ جاتی ہے، ویسے ہی تیز بھاگتے ہوئے تیری ٹانگیں کھل جاتی ہیں، نہ بھاگا کر ایسے۔ حضور، کرکٹ اس دن چھوڑ دی۔

فلم کے لیے اتنی دیر بیٹھنا پڑتا ہے، وہ بہت مشکل کام ہے، پھر یکسوئی بھی نہیں ہو پاتی۔ دماغ آوارہ ہے، گھومتا رہتا ہے۔ کافی چیزیں نکل جاتی ہیں۔ فلم تو دور کی بات، کتاب کا پڑھا یاد نہیں رہتا۔ میرا جی کی نظم پڑھتا ہوں۔ اس کا استعمال ایک تحریر میں کرنے کے خیال پر ایک مہربان کو داد دیتا ہوں۔ جب وہ تحریر سامنے آتی ہے تو
نظر سے ہی نہیں گزرتا وہ مصرع۔ مہربانوں کے آگے پانی بھرا کرتا تھا، اب پانی پانی ہوا جاتا ہوں، ایسے میں فلم کون کم بخت دیکھے۔

کرکٹ بھی نہیں دیکھتے؟

image12یا شیخ، وقت کا ضیاع جانتا ہوں۔

درویش مایوس ہو جاتا ہے۔ تفکر کی گہری پرچھائیں اس کے چہرے پر ہیں۔ مورکھ کو کیا سمجھائے۔ سگریٹ سلگایا، کمرے کی کھڑکی کھولی اور گویا ہوا۔
وقت کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ ہر لمحہ آپ کو ایک نئی بات سکھا جاتا ہے۔ اپنا ریسیور طاقت ور رکھیے بس۔ یاد رکھیں، کرکٹ ایک خوب صورت کھیل ہے۔ زندگی کا حسن اس کے اندر موجود ہے۔ کاروبار زیست کی تمثیل آپ کرکٹ میں پائیں گے۔ میری اس بات کا مطلب آپ جائیں اور تلاش کریں۔

یا شیخ۔ فلم کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

آپ کیسے دیکھ پائیں گے۔

کوشش کر لوں گا۔

نہیں، ایسے نہیں۔ ہر چیز اپنے وقت پر ہوتی ہے۔ دیکھ لیں گے۔ دیکھا جائے گا، تو آپ جائیں اور اس رمز کو جانیں۔

Albert_Chevallier_Tayler_-_Kent_Vs_Lancashire_1906سیدی، آنکھیں بند کر کے آپ کا تصور کر لوں تو کچھ عطا ہو گا دوران مراقبہ؟

بھئی لاحول ولا۔ اس وقت گوگل ہمارے قطب ہیں۔ ان کی مدد لیجیے۔ اور جو کتابیں پڑھ کر آپ بھول جاتے ہیں، ان میں تلاش کریں۔ شافی جواب پائیں گے۔

درویش کو چائے اور سگریٹ کی صحبت میں چھوڑ کر نیاز مند الٹے قدموں بارگاہ سے پلٹا اور کالم لکھنے کا قصد کیا۔ اب جو آئی پیڈ پر نظر ڈالی تو شیخ سامنے موجود! یا للہ العجب! یہ کیا ماجرا ہے۔ خیر جلدی احساس ہو گیا کہ وہ ان کی تصویر تھی۔ تو صاحبو، دیکھ لیجیے اب جو بھی ہو۔ چل میرے خامے بسم اللہ!

کرکٹ کی تاریخ انیسویں صدی کے وسط میں شروع ہوتی ہے۔ وہ کھیل جو لندن کے شرفا کا کھیل ہے۔ طبقہ امرا اسے کھیل کر خوشی محسوس کرتا ہے۔ جلد ہی اس کھیل کے اصول طے کیے جاتے ہیں۔ مثلاً پچ پر دونوں جانب وکٹوں کا فاصلہ 22 گز ہو گا، یا ایک بلے باز کیسے آوٹ مانا جائے گا۔

وقت آگے سفر کرتا ہے۔ کھیل روز بروز مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ گھوڑوں کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں اور ٹیموں پر شرطیں لگنا شروع ہو گئیں ہیں۔ ہزاروں پاونڈز کی ہار 839660_origجیت، جی ہاں ابھی وہی صدی ہے، تو ہزاروں پاونڈز اور بیسیوں شرطوں کی وجہ سے عوام میں بھی کھیل سے لگاﺅ بڑھتا جا رہا ہے۔

پھر آہستہ آہستہ کھیل کا مزاج بھی عوامی ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ہی مقبوضہ ملک آسٹریلیا کے ساتھ کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ 1877، ملبورن میں کھیلا جاتا ہے۔

پھر آسٹریلیا 1882ء میں ایک دورہ کرتا ہے اور اوول کے میدان میں انگلینڈ کو سات وکٹ سے شکست دے دیتا ہے۔ ”دی سپورٹنگ ٹائمز“ لندن میں ایک سرخی لگتی ہے، ”اس انگلش کرکٹ کی یاد میں جو اوول کے میدان میں 29 اگست 1882 کو وفات پا چکی ہے اور جس کی لاش کو جلا کر اس کی راکھ آسٹریلیا بھجوائی جائے گی۔ غم و افسوس کے ان لمحات میں ہم آپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔“

اور اس کے بعد پھر وہ ہوتا ہے جسے آج آپ اور ہم ایشز سیریز کے نام سے جانتے ہیں۔ 83۔1882 میں تین میچوں کی ایک سیریز آسٹریلیا میں شروع ہوتی ہے، انگلینڈ اس سیریز میں آسٹریلیا سے ایک کے مقابلے میں دو ٹیسٹ جیت کر فاتح قرار پاتا ہے اور ٹرافی کا حق دار بنتا ہے۔ ایشیز دراصل پانچ انچ کی ایک گلدان نما ٹرافی ہے جس میں کرکٹ کی گیند یا وکٹوں پر رکھی جانے والی ’بیلز‘ کی راکھ ہے۔ اب یہ بات کس قدر سچ ہے اسے گوروں پر چھوڑیں، بس یہ جاننا کافی ہے کہ جیتنے والے کو Donald_Bradman_australian_cricket_player_picجو ٹرافی دی جاتی ہے وہ اسی نمونے پر ہوتی ہے۔

تو کیا آپ غور فرما رہے ہیں۔ کس طرح سے امرا کا ایک کھیل ہر دل عزیز ہوتا جا رہا ہے۔ آقا اپنے زیر نگیں لوگوں سے کھیل رہا ہے، اور تاریخ پر لگا نسلی تفاخر اور غلامی کا داغ دھلتا جا رہا ہے۔
1915

 میں جنگ عظیم اول کے دوران ایک حملہ ایسا بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے برطانوی کرکٹ کا سرمایہ افتخار ڈبلیو جی گریس بے چین ہو جاتے ہیں۔ دل کا دورہ پڑتا ہے اور سوئے عدم روانہ ہو جاتے ہیں۔ لوگ انہیں ڈاکٹر، دی چیمپین یا صرف ڈبلیو جی کے نام سے بلایا کرتے تھے۔ انتہائی شاندار آل راو ¿نڈر تھے، ایک ڈیشنگ بیٹسمین اور تباہ کن سلو میڈیم بولر۔ ان کے ایک داڑھی بھی تھی، اور وہ بھی بڑی تباہ کن تھی۔ گریس پہلے کرکٹر تھے جنہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں دو ٹرپل سنچریاں اسکور کیں اور بہت سے دوسرے اعزازات اپنے نام کیے۔ دیکھیے، جنگ کتنی ہول ناک چیز ہے۔ کیسے پیارے انسان چھین لیتی ہے۔

اب چشم فلک ایک اور دن دیکھتا ہے۔ گورا، کالوں سے بھی کھیلتا ہے۔ یعنی دماغ میں کہیں دور پرے یہ احساس جاگنا شروع ہو گیا ہے کہ بھئی اس نسلی فخر کے دھندے سے نکلو اور کچھ نیا کرو۔ تو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹیسٹ 26 جون 1928 کو لارڈز کرکٹ گراو ¿نڈ میں کھیلا جاتا ہے۔ انگلینڈ یہ ٹیسٹ میچ 58 رنز سے جیت جاتا ہے۔ اور ہم جیسے تاریخ کے طالب علموں کے دل بھی جیت لیتا ہے کہ بھئی کیسے لوگ تھے۔ گورے اور کالے میں کوئی فرق روا نہ رکھا۔ ہم تو مخالف
فرقے والے سے بات نہ کریں۔ بھئی گئے وقتوں کے لوگ تھے۔ اب تو چراغ رخ زیبا لے کر ملکوں ملکوں یہ نایاب جنس ڈھونڈتے پھرئیے۔

پھر وہ منحوس وقت آیا جو دوسری جنگ عظیم کا تھا۔ کتنے ہی خوب صورت لوگ اور کتنی تباہی۔ کتنے معصوم بچے اور کیسے بم۔ کتنے بدنصیب باپ، کتنی مائیں، غرض ہر رشتہ لہولہان۔ جو ہاتھ بیٹ تھامتے تھے انہوں نے بندوقیں سنبھال لیں۔ چلیں جانے دیں یہاں تو اب تک یہی ہو رہا ہے۔ وائے نصیب!

106642050_lords_295749bدوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد انگلینڈ میں کرکٹ سرگرمیاں کی بحالی شروع ہوتی ہے۔ سات برس کے وقفے کے بعد فرسٹ کلاس میچز شروع ہوتے ہیں۔ کھلاڑیوں اور جنگ سے دہشت زدہ لوگ ان مقابلوں میں جوش وخروش سے حصہ لیتے ہیں۔ کاروبار زندگی کچھ معمول پر آتا ہے۔

بر صغیر میں کرکٹ پارسی اپنے ساتھ لے کر آئے۔ پارسی بے ضرر اور کاروباری لوگ تھے۔ حکومتی اہلکاروں کے لیے قابل بھروسہ تھے۔ تو انہیں کے ایران سے آنے کے بعد یہاں کرکٹ کی شروعات ہوئی۔ برصغیر سے انگریز دو ملک بنا کر نکل جاتا ہے۔ لکیر پٹتی ہے۔ خون بہتا ہے۔ زخم بھرتے ہیں مگر اندر سے ہرے رہتے ہیں۔

1952 میں پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا درجہ ملتا ہے۔ نیلی آنکھوں والے فضل محمود اگست 1954ءمیں لندن کے تاریخی میدان اوول میں پاکستان کو شاندار فتح سے ہم کنار کرواتے ہیں۔ فضل محمود پر کبھی ایک الگ تحریر ہو گی۔ یہاں حق ادا نہیں ہو سکتا۔ ان کے بعد بھی کرکٹ تادم تحریر پاکستان میں اپنے عروج پر رہتی ہے۔
کیری پیکر کا انقلاب اور باقی چیزیں پھر کبھی کہ وہ ابھی زیادہ پرانی نہیں ہوئیں۔

تو آپ دیکھیے۔ کھیل کیسا شاندار ہے۔ برطانیہ کی تمام نوآبادیات میں کھیلا جاتاہے۔ نشان اس چیز کا ہے کہ کھیل کے میدان میں سب برابر ہیں۔ مگر یہ کہ کرکٹ ہمارے نوآبادیاتی تجربے کی ایک دستاویز بھی ہے۔

اسی طرح زندگی سے بھی کس قدر مشابہت ہے۔ ایک پل کا بھروسہ نہیں۔ لاکھ تیاری کر لیجیے، اگلے پل آپ آوٹ ہو سکتے ہیں۔ ہر اگلی گیند ہر اگلی سانس ہے۔ کوئی بارہواں کھلاڑی رہ کر عمر تمام کر جاتا ہے۔ کوئی اوپنر جاتا ہے اور کسی کو کھیلنے کا موقع ہی نہیں دیتا۔ آپ چھکا لگائیں گے، ادھر کیچ ہو جائے گا۔ آپ گیند کو بلے Vintage-Knitwear-540x367سے کھیلنے جائیں گے لیکن ‘شریکے’ ایل بی ڈبلیو کر دیں گے۔ آپ رن لیں گے، لیکن کوئی اور وکٹ پر گیند مار دے گا۔ امپائر کبھی نیوٹرل مل گیا تو اچھی بات، نہیں تو کوئی روند بھی ماری جا سکتی ہے۔ جذبات کا ادھر بھی کوئی کام نہیں۔ غصہ ادھر بھی آپ کی شکست بن سکتا ہے۔ سپورٹس مین سپرٹ کھیل کے میدان میں اور باہر، دونوں جگہ زندگی کا تقاضا ہوتا ہے۔

میں نے درویش سے پوچھا۔

یا شیخ۔ زندگی اور کرکٹ کا یہ موازنہ ٹھیک ہے؟

درویش نے کہا۔ جائیں اور زندگی کے خوب صورت پہلو تلاش کریں۔ امن ڈھونڈیں۔ سکون تلاش کریں۔ ہر وہ چیز جس میں آپ کو خوب صورتی نظر آئے اسے اپنا لیں۔ انسان سے محبت کریں۔ انسانیت سے محبت کریں۔ اور کرکٹ اگر انسانوں کو جوڑتی ہے تو اس سے بھی محبت کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 148 posts and counting.See all posts by husnain

4 thoughts on “آپ کرکٹ کھیلتے ہیں؟

  • 04-03-2016 at 10:10 pm
    Permalink

    سب سے اہم سبق یہ ہے کہ کرکٹ کی طرح زندگی میں بھی ہمیشہ جیت یا ہار نہیں ہوتی ، کبھی کبھی “ڈرا” کے لئے بھی کھیلنا پڑتا ہے.

  • 05-03-2016 at 7:23 pm
    Permalink

    اک یہ دل ہی حساس ہو جائے تو پھر ہر چیز سے کچھ نہ کچھ سیکھا جا سکتا ہے.
    باقی تحریر ہمیشہ کی طرح خوب صورت ہے

  • 15-03-2016 at 6:12 am
    Permalink

    درویش نے صرف ایک ہی کام کی بات بتائی ہے، ‘کاروبار زیست کی تمثیل آپ کرکٹ میں پائیں گے۔’ میں کرکٹ کو اپنی زبان میں کوئی نام دیتا، تو ‘زیست’ کہتا۔ (گرچہ ‘کرکٹ’ بھی میری ہی زبان کا لفظ ہے)
    😉

  • 15-03-2016 at 6:15 am
    Permalink

    درویش برا نہ مانے، دوسری اچھی باتوں کا ذکر، وقتا فوقتا ہوتا رہے گا۔
    🙂

Comments are closed.