ناانصافی کا بیانیہ اور تاریخ کا فیصلہ


wajahatپاکستان بدل رہا ہے۔ ایک سے زیادہ اشارے موجود ہیں کہ ریاست نے کچھ نہایت اہم معاملات میں اپنی پالیسی تبدیل کی ہے۔ اس وقت پاکستان میں جمہوری عمل جن خطوط پر آگے بڑھ رہا ہے ان میں آئندہ تین برس استحکام اور بہتری کے نئے سنگ میل عبور کر سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مشکلات بہت زیادہ ہیں ، پیچیدہ ہیں اور بہت سے بنیادی معاملات پر ابھی تک واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔تاہم یہ طے ہے کہ چھوٹے موٹے بحران اب شاید کچھ دیر کے لیے بنیادی نوعیت کا کوئی عدم استحکام پیدا نہیں کر سکیں گے۔ امید کرنی چاہیے کہ 2018 ءکے آخری مہینوں میں ہم ایک بہتر پاکستان میں سانس لے سکیں گے۔ اندرون ملک موجود قدیمی پسندیدہ اور طاقتور عناصر کو واضح پیغامات دیے گئے ہیں ۔ اس سے ان حلقوں میں اضطراب پیدا ہونا قابل فہم ہے جو گزشتہ چالیس برس سے ریاستی چھتر چھایامیں چین کی بانسری بجا رہے تھے۔ اس صورت حال میں نہایت مناسب ہے کہ اجتماعی زندگی کے بنیادی زاویوں پر تفصیلی نظر ڈالنے کا عمل شروع کیا جائے۔

کسی قوم کی پایئدار تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ زندگی کے ان زاویوں میں واضح تقسیم کی جائے جن پر مکالمہ ہو سکتا ہے اور وہ جن پر مکالمہ نہیں ہو سکتا۔ انسانوں کا عقیدہ ، رنگ ، نسل اور ثقافت دلیل سے تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ چنانچہ یہ مظاہر اجتماعی بحث مباحثے کا مناسب موزوں نہیں ہیں۔ دوسری طرف سیاست نام ہی دلیل کا ہے۔ نظریاتی ریاست میں یہ تقسیم گڈمڈ ہو جاتی ہے۔ جن موضوعات پر دلیل ممکن ہے، انہیں ، مسلمات کا نام دے کر مقدس قرار دے دیا جاتا ہے اور جن معاملات پہ دلیل کی گنجائش ہی نہیں، انہیں سیاسی مکالمے کی اساس بنا دیا جاتا ہے۔ ایک طرف فرد اور گروہوں کی ذاتی ترجیحات میں نامناسب مداخلت کی جاتی ہے اور دوسری طرف انسانوں کے معاشرتی اور معاشی مفادات پر اثر انداز ہونے والے عوامل کو مسلمات قرار دے کر ماورائے بحث قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ ہر نظریاتی ریاست میں پیش آتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مجموعی قومی ذہن خبط کی حد تک بڑھی ہوئی نرگسیت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سوویت یونین میں پینٹنگ ، موسیقی اور نوجوانوں کے لباس کو بھی طبقاتی عینک سے دیکھا جاتا تھا۔ہمارے ملک میں کچھ مہربان معیشت اور ثقافت کو بھی مذہب کی کسوٹی پر کسنا چاہتے ہیں۔ اس کوتاہ نظری سے قطبیت پیدا ہوتی ہے۔ یعنی ایک جیتا جاگتا معاشرہ دو مفروضہ دھڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے ۔ ایک دھڑا پیوستہ مفادات کے دیے ہوئے بیانیے کو قومی مفاد قرار دیتا ہے اور مسلمات کا نام دے کر اس پر بحث سے انکار کر دیتا ہے ۔ ناانصافی کا شکار ہونے والا گروہ فریاد کرتا ہے تو ملک دشمن قرار پاتا ہے۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ بے وقت مہمیں چلا کر قوم میں انتشار پیدا کیا جا رہا ہے ۔ اس موقف کا واحد مقصد اختلافی آوازوں کو خاموش رکھنا ہوتا ہے۔

فریقین میں مکالمہ ختم ہو جاتا ہے ۔حقائق کو جاننے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کی ہر کوشش ملک دشمنی اور غداری پر محمول کی جاتی ہے۔ قوم میں نظریاتی اصابت کی ایک ان دیکھی دیوار اٹھا دی جاتی ہے ۔اجتماعی مکالمے کا مقصد حقائق تک پہنچنے اور نئے عوامل کو سمجھنے کی بجائے پہلے سے طے شدہ مفروضات کا دفاع قرار پاتا ہے۔ ایسی منقسم قوم اپنی اجتماعی سمت میں یکسوئی اختیار نہیں کر سکتی اور حقیقت سے مستقل چشم پوشی کے باعث سازش ، دشمنی اور مخاصمت کے زاویوں کی اسیر ہو جاتی ہے۔ ہر آن پیدا ہونے والے مباحث کا مقصد مسائل کو حل کرنا نہیں رہتا بلکہ مفروضہ مخالفین کو غلط ثابت کرنا ہوتا ہے۔ قوم کی توانائیاں ایک بے معنی کشمکش میں ضائع ہوتی ہیں۔ خدائی فوج دار جنم لیتے ہیں۔ کوئی ثقافت کا محافظ بن جاتا ہے ، کوئی عقیدے کے نام پر بندوق اٹھا لیتا ہے تو کوئی قومی مفاد کے مورچے پر تلوار کو علم کئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایسی مصنوعی تقسیم کے باعث رویوں میں جارحیت پیدا ہوتی ہے جو بالآخر خون خرابے پر منتج ہوتی ہے۔

پیوستہ مفاد دراصل استحصال کا نام ہے۔ استحصال کو قانونی جواز اور معاشرتی تائید درکار ہوتی ہے۔ اس معاشرتی تائید کو یقینی بنانے کے لیے نصاب اور ذرائع ابلاغ میں ایک خاص نقطہ نظر کو فروغ دیا جاتا ہے اور مخالف آوازوں کو خوف، دھمکی اور تشدد کے ذریعے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے معاشرے میں تین نتائج پیدا ہوتے ہیں ۔ افراد اور گروہوں کے مابین اخلاقی احتساب کی روایت ختم ہو جاتی ہے ۔ احتساب کے نام پر مقہور طبقوں اور گروہوں کو عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے جبکہ مقتدر بیانئے کی حمایت کرنے والے راج ہنس کی طرح سینہ پھلائے پھرتے ہیں۔ نظریاتی اصابت کے نام پر شفافیت اور جواب دہی کو ختم کر دیا جاتا ہے ۔ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اصل فیصلہ ساز کون ہے ۔ اقتدار اور اختیار کے متوازی مراکز جنم لیتے ہیں۔ ریاستی اداروں سے سوال نہیں کیا جا سکتا ۔ سیاسی جماعت سے سوال نہیں کیا جا سکتا۔ کمرہ جماعت میں استاد سے سوال نہیں کیا جا سکتا۔ اخبار کے صفحے اور ٹیلی ویژن کی سکرین پر تضادات ، منافقت اور فریب کاری کرنے والوں سے جواب دہی کی روایت پیدا نہیں ہوتی۔ بند دروازوں اور دبیز پردوں میں لپٹی ایسی ذہنیت پیدا ہوتی ہے جو ہر معاملے میں سازش سونگھتی ہے لیکن غلطیوں کے نتائج سامنے آتے ہیں تو جوش و جذبے کا جھنڈا اٹھا کر سڑک پر نکل آتی ہے۔ ریاست کا ادارہ اخفا کی دھند میں چھپ جاتا ہے اور سیاست دان کو جھوٹ بولنے میں عار نہیں ہوتا۔ ان حالات میں ریاست کوئی اچھا فیصلہ بھی کرے تو کئی سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ یہ فیصلہ دراصل کس نے کیا ہے؟ کیا اس فیصلے پر عمل ہو پائے گا؟ اور تیسرے یہ کہ اس فیصلے کی آڑ میں دراصل ناانصافی ، استحصال اور بدعنوانی کی کون سی صورت کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

قوم کو نرگسیت ، خبط عظمت ، تقدیس اور جرم مسلسل کی اس کیفیت سے باہر نکالنے کے لئے چار نکات پر غور کرنا چاہیے۔ ریاست کے ہر شہری کو قانونی اور سیاسی اعتبار سے یکساں درجہ ملنا چاہیے۔ عقیدے اور جنس یا زبان کی بنیاد پر ہر طرح کے امتیاز سے غیر ضروری منافرت اور کشمکش جنم لیتی ہے۔ریاست کو جنس ، زبان ، عقیدے اور ثقافت کی بنیاد پر امتیاز کئے بغیر تمام شہریوں کے تحفظ کی ضمانت دینی چاہیے۔ ایک جمہوری ریاست میں عقیدے ، رہن سہن ، زبان اور ثقافت کے تنوع کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس رنگا رنگی کا احترام کرنے سے معاشرے میں داخلی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ سرکاری ذرائع سے یکجہتی کا ترانہ گاتے رہنے سے اعتماد کے بحران پر قابونہیں پایا جا سکتا۔ فرد اور گروہ کے لیے اپنی شناخت پر فخر کرنا بالکل جائز ہے لیکن کسی فرد یا گروہ کو یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ خود کو دوسروں سے برتر قرار دے اور دوسروں پر غلبہ پانے کا نصب العین اختیار کرے۔ مساوات اور تنوع کے ان دو بظاہر متخالف زاویوں میں ہم آہنگی پیدا کر نے کے لیے ضروری ہے کہ قانون کی کتاب اور پالیسی میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ اگر پالیسی میں آئین اور قانون سے رہنمائی نہیں لی جاتی تو ریاست کی بالادستی مجروح ہوتی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز ان دنوں سٹرٹیجک مذاکرات کے لیے امریکا کے دورے پر ہیں ۔ سرتاج عزیز سرد گرم چشیدہ ہیں اور ان سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ محض ذرائع ابلاغ کی توجہ کے لیے کوئی بیان دیں گے۔ کونسل آن فارن افیئرز کے ایک اجلاس میں بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے تسلیم کیا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت اور ان کے اہل خانہ پاکستان میں موجود ہیں۔ انہیں محفوظ قیام اور طبی سہولتیں وغیرہ فراہم کی گئی ہیں۔ سرتاج عزیز صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس حکمت عملی کے نتیجے میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد مل سکے گی۔ سرتاج عزیز کا بیان دوررس سوالات پیدا کرتا ہے ۔ دوسری طرف امریکی حکومت نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے مسکن سے برآمد ہونے والی دستاویزات کا ایک حصہ ذرائع ابلاغ کے لیے جاری کر دیا ہے۔ مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن تحریک طالبان پاکستان کے معاملات پر گہرا اثرونفوذ رکھتے تھے اور پاکستان اور بھارت میں ممکنہ کشیدگی سے انہیں گہری دلچسپی تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب پاکستان کے ان افراد اور حلقوں کے بارے میں تازہ قومی قدر پیمائی کیا ہے جو طالبان کے تمام گروہوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کو لاحاصل سمجھتے تھے، کوئٹہ شوریٰ کی نشان دہی کرتے تھے اور انہیں ’لبرل فاشسٹ‘ ، ملک دشمن اور مغرب کا ایجنٹ قرار دیا جاتا تھا۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “ناانصافی کا بیانیہ اور تاریخ کا فیصلہ

  • 04-03-2016 at 9:11 pm
    Permalink

    Ham state ki new policy ko on Karen gen IA chaha hama Air port pa galyan or jotha b pankha gahen lakan hm apna narrative pa qaim rakhen gen

  • 04-03-2016 at 9:13 pm
    Permalink

    the last line of this beautiful analysis is epic, a million dollar question,,,

  • 04-03-2016 at 10:52 pm
    Permalink

    بیانیہ بیانیہ کی جنگ تھی ھم سب پر نیا بیانیہ بہت خوب آیا ہے اور درست آیا میں تو کہتا تھا کہ کوئی اور بھی ہے اور شکر یہ ہے کہ ہے جو صرف پاکستان کے لئے سوچتا ہے رہی بات پالیسی اوپن کرنے کی تو زور والے اپنی پالیسی اوپن نہیں کرتے وہ لاگو کرتے ہین اور کر کے دکھا دی گئی ہے باقی آپ نے جو لکھا کاغذ کے ساتھ انصاف کیا آپ نے

Comments are closed.