رامش فاطمہ کے نام (2)


Tasneef اس خطہ سرزمین پر انسانی  امن نے ابھی اتنا زور نہیں صرف کیا جتنا کہ لڑنے لڑانے، مارنے مرنے والوں نے کیا ہے، میں دنیا کو جب تاریخ اور حال کی ملی جلی کیفیات میں یکساں دیکھتا ہوں، جب دیکھتا ہوں کہ ہم نے نفرت کو گھٹایا نہیں، بڑھایا ہے تو مجھے کارل ساگاں کی وہ pale blue dot    والی تقریر بہت یاد آتی ہے۔ تمہارے نقطہ نظر سے دیکھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا سے تم اتنی اکتائی ہوئی ہو کہ اکثر مجھے گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ تمہاری تحریر میں ایک شدت ہے، مگر یہ شدت میں سمجھ سکتا ہوں کہ ایک قسم کا رد عمل ہے۔ معاشرہ ایسی گھٹی گھٹی چیخوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتا جو ادھر ادھر سے ابھرتی رہتی ہیں، اس کے شور میں تو پوری طرح چیخ کر ہی اپنے وجود کا احساس دلایا جاسکتا ہے۔ اول تو میں تمہاری خوشی محسوس کرسکتا ہوں، جب شرمین عبید چنائے کو آسکر ایوارڈ سے نوازا جارہا تھا تو تمہیں اپنی حقانیت کا ایک واضح ثبوت ملا ہوگا، ثبوت اس بات کا کہ دنیا، ان لوگوں کو، ان عورتوں کو خاص طور پر قبول کررہی ہے، جنہیں ہمارے تمہارے معاشروں میں قبول نہیں کیا جاتا، انہیں غلط اور بدذات سمجھا جاتا ہے۔ عجیب سی بات ہے نا! انسان نے لباس کا اہتمام موسم کی شدتوں سے بچنے کے لیے کیا تھا اور اب موسم کہیں بہت پیچھے ٹھنڈی آہیں بھررہے ہیں۔ جیسے جیسے گلوبل وارمنگ کا اثر بڑھتا جارہا ہے، ہمارے معاشروں میں اوڑھنیوں اور نقابوں کا پھندا اتنا ہی کستا جارہا ہے۔ ایک صاحب ہیں، جنہیں میں جانتا ہوں، اپنی بیوی کو سخت نقاب میں رکھنا پسند کرتے ہیں، مگر بظاہر لبرل نظر آتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ شعوری اعتبار سے ہر انسان کو اس بات کا حق دیا جانا چاہیے کہ وہ کیا پہنے اور کیا نہیں پہنے۔ بہت اچھی بات ہے، لیکن انسان کے شعور کو ایک خاص سانچے میں ڈھالنے اور اس کو اپنے من پسند تعلیمی اداروں میں پروان چڑھانے کا حق کسی کو کیسے مل جاتا ہے۔ انسانی فکر کی یہ بڑی عجیب زبردستی ہے کہ پہلے انسان کو ایک خاص ماحول میں پروان چڑھاؤ، اسے اپنے من مطابق ڈھالو اور پھر کہو کہ وہ جو کچھ کررہا ہے یہ اس کی فطری آزادی کے زمرے میں آتا ہے۔ بغاوت، مظاہر سے ہوسکتی ہے، لیکن اندرون اور عقیدے سے بغاوت تقریباً ناممکن ہے۔ وہ مرد یا عورت کبھی اپنے ڈر سے الجھ نہیں سکتے، اس میں ان کی اتنی غلطی نہیں ہے، جتنی کہ الوہی روایت کی ہے۔ الوہی روایت سے میرا بنیادی اختلاف ہی یہی ہے کہ وہ متن کی صورت میں انسان کو ایک خاص فکری نتیجے تک پہنچنے سے روک دیتی  ہے، مثال کے طور پر پروہت ، پنڈت، پادری اور ملا ایک جانب اگر یہ کہے بھی کہ چیزوں پر غور کرو تو اس کے پس پشت ایک خاص رجحان یہ ضرور موجود ہوگا کہ غور کرو اور ہمارے موقف کی مزید تائید کرو۔ اور جہاں انسان غور و فکر سے اس موقف کی تردید کا قائل ہوا، اسے لعنتی، فریبی، مرتد اور ملحد کے الزامات سے نواز دے گا۔ اب تمہی بتائو ramishکیا کوئی ایسی چیز انسانوں کو کبھی انسانیت کی بنیاد پر ایک پلیٹ فارم پر لاسکتی ہے، جسے اپنے یقینی ہونے پر محض بھروسہ ہی نہ ہو، بلکہ بہت حد تک اس میں فخر کے عناصر بھی شامل ہو جائیں۔ دوسری بات جو عقیدے کے حوالے سے بہت عجیب و غریب ہے وہ یہ کہ دھرم انسان کو روحانی تربیت کے نام پر بہت سارے مابعد الطبیعاتی معاملات میں الجھا دیتا ہے، اس سے انسان کے اندر توہمات پر بھروسہ کرلینے کا ایک در کھل جاتا ہے، یہ ایسی بات ہے جو انسان کے لاشعور کو بھی بہت حد تک متاثر کرتی رہی ہے، مطلب ڈرنا، انسانی فطرت ہے، لیکن کسی ماورائی شے سے ڈرنا انسانی فطرت نہیں۔ وہ ہزاروں لاکھوں سال میں ہمارے لاشعور کا حصہ بنائی گئی ہے۔ اسی سلسلے میں عورت کا معاملہ بھی اہم ہے۔ ہمیں سمجھایا جاتا رہا ہے کہ عورت پر اسلام سے قبل تشدد ہوتا تھا، اسے زندہ در گور کردیا جاتا تھا، جبکہ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بچوں کو دفن کرنے کا رجحان عربوں کے پچھڑے اور غریب قسم کے طبقوں میں موجود تھا، اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ عرب کے بدویانہ طرز معاشرت میں عورت کی بڑی اہمیت تھی۔ میں یہاں تمہیں عبدالحلیم ندوی کی ‘عربی ادب کی تاریخ ‘ کا ایک چھوٹا سا اقتباس سنانا چاہتا ہوں۔

“اس بدویانہ معاشرہ میں عورت کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ وہ مردوں کے دوش بدوش ہر کام میں شریک ہوتی تھی۔ یہ لکڑیاں لاتی تھی، جانوروں کو دوہتی تھی، کپڑے بنتی تھی۔ ان کے یہاں پردہ کا رواج نہ تھا، چنانچہ عورتیں بھی مہمانوں کا استقبال کرتی تھیں۔ شادی کے معاملے میں ان کو پوری آزادی حاصل تھی اور اپنے شوہر اپنی مرضی سے پسند کرنے کا اختیار انہیں حاصل تھا۔ جنگوں میں یہ مردوں کے پیچھے رہتی تھیں کہ مرد انہیں دیکھ کر اس خیال سے بے جگری سے لڑیں گے کہ اگر ہار ہو گئی تو ان کی عورتیں لونڈیاں باندیاں بنا لی جائیں گی۔ ان بدوی عورتوں میں سے بہت سی نے بہادری، قوت ارادہ، عقلمندی اور شعر و ادب میں بھی نام پیدا کیا ہے۔ اس بدوی زندگی کے ان سب مظاہر کا ذکر ہمیں جاہلی شاعری میں پوری طرح ملتا ہے۔ “(عربی ادب کی تاریخ، جلد اول، عبدالحلیم ندوی، مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ  اردو زبان، نئی دہلی)

Sharmeen Obaid-Chinoy accepts the award for best documentary short for “A Girl in the River: The Price of Forgiveness” at the Oscars on Sunday, Feb. 28, 2016, at the Dolby Theatre in Los Angeles. (Photo by Chris Pizzello/Invision/AP)

حالانکہ یہ بات طہٰ حسین کی اس تھیسس کو کمزور کرتی ہے، جس میں اس نے کہا ہے کہ عربوں نے اسلام کے بعد جاہلی دور کی بیشتر شاعری کو ضائع کردیا تھا، اور ایسی جھوٹی شاعری کو رواج دیا، جس میں مذہبی بالادستی کے دور کی خوش خبریاں موجود تھیں۔ بہرحال ابھی وہ میرا موضوع نہیں۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں  کہ عورت کی حالت بہتر تھی یا بدتر۔ اس معاملے پر تحقیقی معاملہ اپنی جگہ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے عورت کے آزادی سے کام کرنے کو خود اس پر ایک ظلم ہی سے تعبیر کر لیا، اور اسے گھر میں رہنے اور کام نہ کرنے کی نصیحت کی۔ اس لیے ایک اسلامی معاشرے میں یا ایسے معاشرے میں جو اسلامی قوانین پر مکمل طور سے عمل نہ کرتا ہو لیکن اس کے لیے ہمدردانہ رویہ رکھتا ہو، عورت کو یہ آزادی دینے کا حق کبھی پورے  طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ گھر سے باہر نکل کر ڈاکیومنٹری فلمیں بناتی رہے اور اسے آسکر ایوارڈز سے بھی نوازا جائے۔ ملالہ کی کتاب میں نے پڑھی ہے، اس کی سرگزشت بتاتی ہے کہ وہ کس قدر  مشکل حالات سے گزر کر تعلیم کی اہمیت پر زور دیتی رہی، مگر اسے نوبل پرائز ملا تو ‘بسم اللہ الرحمٰن الرحیم’سے شروع ہونے والی اس کی تقریر بھی کٹر مسلم حلقوں میں اچھی نظر سے نہیں دیکھی گئی، اس کی نیت پر شک کیا گیا، اسے ایک مغربی پروپیگنڈا اور امریکی ایجنٹ تک ثابت کردیا گیا۔ میں نے ڈین برائون کے ناول دی ونچی کوڈ پر مبنی فلم دیکھی تو معلوم ہوا کہ یورپ کے بدترین مذہبی دور میں پچاس ہزار عورتیں صرف اس لیے قتل ہوئی تھیں کیونکہ وہ تھوڑی بہت آزاد خیال تھیں۔ وہ معاشرہ ضرور ایک طویل جد وجہد کے بعد دنیاوی تعلیم کی اہمیت اور سائنسی بصیرت کو مکمل طور پر قبول کرلینے کے بعد تبدیل ہوا ہے، لیکن ایسا صرف تب ہی ممکن ہوا ہے، جب انہوں نے الوہی متن کو مکمل طور پر پڑھنے، جاننے، تبدیل کرنے اور بوقت ضرورت اس کے تحکمانہ انداز سے انکار کرنے پر زور دیا ہے۔ اب ایک ایسے معاشرے میں تبدیلی کی گنجائش تم کیسے پیدا کرسکتی ہو یا اس کا امکان بھی کہاں تک ممکن ہے، جب کسی قوم کو اس بات پر بھرپور فخر ہو کہ چودہ سو سال سے اس کے صحیفے کی ایک سطر ادھر سے ادھر نہیں کی جا سکی۔

میں تم سے یہ باتیں اس لیے کررہا ہوں کہ میں جانتا ہوں، اس بات کا قائل ہوں کہ سیکولر نظام زندگی کو الوہی متن کی لفظی تعبیر قبول نہیں کرسکتی، دیگر مذاہب اگر خود کی تردید کے بعد اسے قبول کرلیں تو کرلیں، لیکن اسلام کی ہند مین روایت یہی رہی ہے کہ اس کی بات آر یا پار والی ہے۔ وہ یا تو یقین لانے پر پوری طریقے سے زور دیتا ہے، یا پھر آپ کی ذات کو معاشرے میں ایک مشکوک شخصیت اور اپنے لیے خطرے کے طور پر نشان زد کردیتا ہے۔ اس لیے یہاں بات کہنے سننے کی گنجائش بالکل کم ہے، اور لوگ دوسرے مذاہب کے معاملے میں یہاں مزید گونگے اور بہرے ہیں۔

کسی بھی نظریے کو اپنے دماغ پر طاری کر لینا اتنا خطرناک ہے کہ اگر ایسا ہوجائے تو لوگ جس چیز کو اچھا یا اچھائی سمجھ لیتے ہیں، اس کے خلاف ایک لفظ بھی سننا پسند نہیں کرتے اور اس تنقید کے نتیجے میں معاشرے میں کسی سر پھرے قاتل کا پیدا ہو جانا کوئی بہت تعجب کی بات نہیں ہے۔ یہ حالات تب تک بدلنے ممکن نہیں ہیں، جب تک ہمارا معاشرہ عقل و خرد کی روشنی مین روایت کو رد نہ کرے اور تنقید برداشت کرنے کی عادت کو اپنا وتیرہ نہ بنالے۔ لیکن کیا تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے ملک کے حالات نے اس قسم کی ذرا سی بھی گنجائش چھوڑی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments