ترکی کی اسلامی تحریک – پہلا حصہ


adnan Kakar

ترکی کی اسلامی بیداری کے بعد کئی دوسرے ممالک کی اسلامی تنظیموں نے ترک تحریک کی کامیابی سے متاثر ہوکر اس کے طریقوں پر غور کر کے ان کو اپنانا شروع کردیا ہے۔ اس تحریک کی جڑیں ترک بزرگ سعید نورسیؒ کی تعلیمات میں ہیں لیکن اس کو موجودہ کامیابی ان کے ایک معنوی شاگرد طریقت فتح اﷲ گولن کی رہنمائی میں حاصل ہوئی۔ معاشرے کو بدل دینے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے گولن تحریک کا مطالعہ کارآمد ثابت ہو گا اور ایک آزمودہ راہ دکھائے گا۔ خواہ آپ دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہوں یا بائیں بازو سے، اس تحریک کا مطالعہ آپ کو آگے جانے کی ایک کامیاب راہ سجھا سکتا ہے۔ اس تحریک نے ایک نظریاتی طور پر منقسم اور بدامنی کا شکار ملک کو ایک متحد اور مخالف نظریے کو برداشت کرنے والا ملک بنانے میں  اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ مضمون پروفیسر ڈاکٹر ہیلن روز ایبا کی کتاب
“The Gülen Movement: A Sociological Analysis of a Civic Movement Rooted in Moderate Islam”
کے ایک باب کی تلخیص ہے جو کہ فتح اﷲ گولن کی شخصیت اور ’خدمت تحریک‘ کے بارے میں بتاتا ہے۔ ڈاکٹر ایبا، ہوسٹن یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔ وہ آرگنائزیشنل سوشیالوجی اور سوشیالوجی آف ریلیجن کی ماہر گردانی جاتی ہیں اور اہم جرائد میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں اور وہ ایک درجن سے زاید کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ یہ کتاب انہوں نے ترکی کے چار دوروں، اور تحریک میں شامل افراد کے انٹرویو اور تحریک کے مختلف منصوبوں میں جاکر ان کو دیکھنے اور ان کو بنانے والے افراد سے تبادلہ خیال کے بعد لکھی ہے۔ گولن صاحب کی ’خدمت تحریک‘ میں شامل افراد کے نزدیک یہ کتاب ایک درست تجزیہ پیش کرتی ہے۔ چھے حصوں پر مشتمل اس سیریز میں ’خدمت تحریک‘ کا جائزہ لیا جائے گا۔

فتح اﷲ گولن کی زندگی، نظریات اور تحریک

ابتدائی سال

فتح اﷲ گولن 1941 میں نیک اور صالح لوگوں کی زمین ارض روم کے نزدیک واقع ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک امام مسجد کے گھر میں  پیدا ہوئے۔ اس زمان میں عمومی سیکولر تعلیم کے کم مواقع ہونے کے باوجود گولن صاحب کے والدین نے انہیں قریب ترین سرکاری پرائمری سکول میں تین سال تک بھیجا۔ ان کی پرائمری تعلیم مکمل ہوئی ہی تھی کہ ان کے  والد کا تبادلہ ایک اور شہر میں واقع مسجد میں کردیا گیا جہاں سیکنڈری سکول نہیں تھے۔ اس سے گولن صاحب اپنی رسمی تعلیم کو درمیان میں ہی چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور گھر پر ان کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ بنیادی طور پر ان کے والد کی نگرانی میں شروع کردیا گیا۔

golanانہوں نے اپنے والد سے دین کے بنیاد اسباق لیے اور کچھ عربی اور فارسی سیکھی۔ ان کو کتابیں پڑھنے، قرآن کی تلاوت کرنے، رسول اﷲ اور صحابہ کرام کی زندگی پر غور کرنے اور مذہبی شاعری پڑھنے سے عشق تھا۔ انہی سے یہ سیکھنے کی چاہ اور عشق رسول کا جذبہ ان کے بیٹے میں منتقل ہوا۔ گولن صاحب اپنے بچپن کے گھر کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ علاقے کے علما اور روحانی شخصیات کے لیے ایک مہمان خانے کی حیثیت رکھتا تھا۔ ان کے والد خاص طور پر ایسے علما کو گھر میں مدعو کرتے تھے جن سے وہ مذہبی معاملات پر بحث و تمحیص کرسکیں۔ گولن صاحب کے اپنے الفاظ میں، “مہمان، خاص طور پر علما، ہمارے گھر میں کثرت سے آتے تھے۔ ہم ان کی مہمانداری پر خاص توجہ دیتے تھے۔ میرے بچپن اور جوانی میں، میں اپنے ہمجولیوں میں کبھی نہ بیٹھا۔ اس کی بجائے میں بڑے لوگوں کے ساتھ ہوتا اور ان کو ذہن و دل کے امور کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنتا”۔ ابتدائی عمر میں علما کی صحبت پانے کی وجہ سے گولن صاحب کی پرورش ایک ایسے لوگوں کے حلقے میں ہوئی جو کہ ہمیشہ روحانیت اور دور جدید میں اس کے مقام کے بارے میں تفکر کرتے رہتے تھے۔

ان کے ابتدائی ایام کے ایک اہم استاد ایک صوفی، شیخ محمد لطفی آفندی تھے۔ ان کے اور دوسرے صوفی اساتذہ کے ذریعے گولن صاحب سعید نورسی [1876-1960] کی تعلیمات سے متعارف ہوئے۔ نورسی اس بات کی تعلیم دیتے تھے کہ مسلمانوں کو جدیدیت کو مسترد کرنے کی بجائے مقدس کتابوں سے راہنمائی لے کر اس کو قبول کرنا چاہیے۔ نورسی نے دور جدید میں اسلام کے بارے میں ایسے نظریات کی تشکیل کی تھی جو کہ عوامی زندگی میں سائنسی اور تکنیکی ترقی کوسموتے ہوئے اسلام کے اہم کردار کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ نورسی کی تحریریں قرآن کی، سائنس اور منطق کی روشنی میں تعبیرِنو کرتی ہیں۔ ان کی تعلیمات کے نتیجے میں ابھرنے والی نورسی تحریک کے اہداف یہ ہیں: سائنس اور اسلام کا ملاپ، جمہوریت کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بہترین نظام حکومت سمجھنا، اسلامی ذہنی سطح کو بلند کرنے کے لیے عقل اور وحی میں تعلق کی نشاندہی کرنا، اور فری مارکیٹ اور معیاری تعلیم کے دائرے میں رہتے ہوئے دونوں جہانوں میں نجات پانا۔ نورسی کی فکر سے جلا پانے والے یہ خیالات گولن صاحب پر بہت زیادہ اثرانداز ہوئے اور بعد میں ان کی تعلیمات اور تصنیفات کے اہم ستون بنے۔

اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ، گولن صاحب نے اپنے آپ کو سائنس، فلسفے، ادب اور تاریخ کے علم سے بھی آراستہ کیا۔ وہ دیر تک جاگ کر جدید علوم جیسے کہ فزکس، کیمیا، حیاتیات اور فلکیات کے بنیادی قوانین کا مطالعہ کرتے۔ انہوں نے انسانی شخصیت کو مرکز نگاہ بنانے والے فلسفیوں کاموس، سارتر اور مارکیوز اور مغربی ادبی کلاسیک جیسا کہ روسو، بالزاک، دوستووسکی، پشکن، ڈارون اور ٹالسٹائی وغیرہ اور اسلامی اور مغربی فکر کے بنیادی فلسفے کا مطالعہ کیا۔

تبلیغ کے ابتدائی سال

نوجوانی میں گولن صاحب نورسی کے تدریسی حلقوں سے متعارف ہوئے اور آہستہ آہستہ ایک متحرک رکن بن گئے۔ حکومت کی طرف سے مذہبی اور صوفی تنظیمات پر پابندے کے بعد علما کے گرد جمع لوگوں کے حلقے، جماعت کا تصور آیا۔ نورسی کے تدریسی حلقوں کے معاملے میں، بنیادی موضوع بحث یہ ہوتا تھا کہ دور جدید کی ضروریات پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کس طرح کا ردعمل دیا جائے تاکہ اسلام دور جدید سے ہم آہنگ ہوسکے۔ جماعت کی کوئی باقاعدہ ممبرشپ کی ضرورت نہیں تھی، کوئی داخلے کا نظام یا میٹنگ کے لیے کسی مخصوص عمارت یا کمرے کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے یہ کوئی صوفی طریقت نہیں تھی، حالانکہ نورسی پر رومی اور دوسرے صوفیا کا گہرا اثر تھا۔ اس کے برخلاف یہ جماعت ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جو کہ مشترکہ اقدار اور اہداف رکھتے تھے۔ ایک شخص جتنا ان اقدار کو قبول کرتا تھا اور جتنا وہ جماعت کے مقاصد کے لیے کام کرتا تھا، اتنی ہی اس کی جماعت سے وابستگی مضبوط ہوتی جاتی تھی۔ فتح اﷲ گولن کے لئے نورسی کی اس جماعت کی رکنیت ایک ایسا تجربہ تھا جس نے ان کی باقی زندگی اور ان کے سامعین اور قارئین کے بنائے ہوئے تحریکی حلقوں پر گہرا اثر ڈالا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ گولن تحریک کی سماجی تنظیم کو سمجھنے کی کلید نور جماعت کو سمجھنے میں ہے جس میں گولن اپنے ابتدائی سالوں میں متحرک رہے تھے۔

گولن صاحب نے سیکنڈری سکول کا امتحان آزاد امیدوار کے طور پر پاس کیا۔ 1959 میں انہوں نے امامت کا سرکاری امتحان پاس کرلیا اور ان کو اس امتحان میں دکھائی جانے والی غیرمعمولی لیاقت اور علم کی بنا پر سرحدی شہر ارض روم میں ایک اہم پوسٹ پر تعینات کردیا گیا۔ یہ سرحدی شہر ایک طرف کمیونسٹ اور دوسری طرف ایرانی نظریات کا خاص شکار تھا۔ یہاں ان کا جذبہ قومیت مزید بڑھا۔ بعد میں ان کی تعیناتی ادرنہ اور ’کرکلاریلی‘ کے شہروں میں ہوئی۔

پہلے تعلیمی منصوبوں کا قیام

گولن صاحب نے مدرسے کے متظمین اور مقامی تاجروں سے مل کر مڈل اور ہائی سکول کے طلبا اور یونیورسٹی کے طلبا کے لیے سمر کیمپ کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ کیمپ سیکولر تعلیم کے مضامین جیسا کہ تاریخ اور حیاتیات پڑھانے کے ساتھ ساتھ دین کے عوامی زندگی میں رول پر بھی بحث و تمحیث کا موقع دیتے تھے۔ گولن صاحب اکثر حیات رسول اﷲ اور عثمانی تاریخ کے کلاسیکی دور کو ایک مثالی دور کے طور پر پیش کرتے تھے جس میں اسلام کے اصولوں کو تھام لینے سے ملت نے عظمت پائی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ترکی دوبارہ ایک عظیم مملکت بننا چاہتا ہے تو اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ لوگ دینی زندگی بسر کریں اور شعائر اﷲ کواپنے عوامی اداروں میں جگہ دیں۔ سرکاری سکولوں میں دین کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی۔ یہ سمر کیمپ سکول کے بچوں کو سیکولر مضامین کے ساتھ ساتھ دین سکھانے کا بھی ایک ذریعہ تھے۔

سمر کیمپ کے ساتھ ساتھ سنہ 1970 سے گولن صاحب کے سامعین نے سعید نورسی کے معتقدین کی طرح ان کی تعلیمات پر مبنی ایک جماعت قائم کرنا شروع کردی۔ جس چیز نے لوگوں کو گولن صاحب کے گرد جمع کیا وہ ان کی بہت بڑے عوامی اجتماعات میں کی گئی تقاریر تھیں جن کو ریکارڈ کرکے ملک کے کونے کونے میں بھیجا جاتا تھا۔ ان کے سامعین میں زیادہ تر کم اور متوسط آمدنی والے اور گنے چنے امیر تاجر، اور یونیورسٹی کے طلبا شامل تھے۔ ان کے گرد ایسے لوگ جمع ہوئے جو کہ ان کے نظریات کی  عملی و مالی حمایت کرتے تھے۔ نور تحریک کے درس خانوں کے طریقے کو کچھ تبدیل کرتے ہوئے، گولن صاحب نے طلبا، ان کے والدین اور مخیر حضرت کی ‘نور خانہ’ نامی یونٹ کی تشکیل میں مدد کی جہاں گولن صاحب کی تحریروں اور تعلیمات کو بنیاد بناتے ہوئے اسلامی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ نورخانے ایک ایسا منبع بن گئے جہاں سے ہزاروں ماہرین تعلیم نکلے جنہوں نے بعد میں گولن صاحب کے تعلیمی فلسفے کے نتیجے میں بننے والے سکولوں میں تدریس و تنظیم کی ذمہ داری سنبھالی۔ یہ گولن صاحب کے کیرئیر کا وہ مرحلہ تھا جب تقریباً سو لوگوں پر مشتمل ایک گروہ خدمات کے حوالے سے نمایاں ہونا شروع ہوا جو کہ ان کی سماجی خدمت کی تعلیمات کے نتیجے میں اکٹھا ہوا تھا۔

سنہ 1970 میں ایک فوجی بغاوت کے بعد علاقے کے بہت سے مسلم رہنماجو کہ جوانوں میں دینی سرگرمیوں کے فروغ اور تدریس میں نمایاں تھے، گرفتار کرلیے گئے۔ گولن صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ ان کو چھ ماہ تک بغیر کسی جرم کے قید رکھا گیا۔ ان کو بالآخر اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ کسی عوامی اجتماع میں تقریر نہیں کریں گے۔ رہائی کے بعد گولن صاحب نے ازمیر میں اپنی سرکاری نوکری چھوڑ دی لیکن ریاست کے لائسنس یافتہ مبلغ کا درجہ اپنے پاس رکھا۔ ازمیر میں انہوں نے سمر کیمپوں کا انعقاد کیا اور مقامی لوگوں کے تعاون سے ایسی قیام گاہیں بناتے رہے جہاں یونیورسٹی کے طلبا رہ کر پڑھ سکتے اور اپنی ترک مسلم حیثیت کا انہیں احساس ہردم رہتا۔ ان قیام گاہوں میں ایک ہی جنس کے طلبا اکٹھے رہ کر ایک دوسرے کی تعلیم میں مدد کرتے، قرآن پڑھتے اور سعید نورسی اور گولن کی تحریروں سے استفادہ کرتے اور اکٹھے نماز پڑھتے۔ یہ قیام گاہیں شراب اور نشہ آور اشیا، غیر شرعی جنسی مہم جوئی، کمیونسٹ اور شدت پسند قوم پرستی اور انتہا پسند تحریکوں میں شمولیت کے خلاف پناہ گاہوں کا کردار ادا کرنے لگیں۔ بہت سے روایت پسند اور مذہبی والدین اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے کہ وہ ترکی کے بڑے شہروں میں یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ان قیام گاہوں میں رہیں۔

ازمیر ایک ایسا شہر تھا جہاں اسلامی سیاست کی جڑیں کبھی نمو نہ پاسکیں اور جہاں تاجر اور پیشہ ور مڈل کلاس سرکاری انتظامیہ کی پابندیوں کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اس کی بجائے یہ لوگ مارکیٹ دوست پالیسیوں اور مغربی خیالات کو پسند کرتے تھے۔ گولن صاحب کی فری مارکیٹ کی حمایت اور ان کی اس امر کی حوصلہ افزائی کو کہ تاجر اپنا کاروبار بڑھا کر بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کریں اور اس کے بعد حاصل ہونے والے منافع سے خدمت عامہ کے منصوبوں میں حصہ ڈالیں، تاجروں نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ طلبا کی قیام گاہوں اور سکولوں کے لیے پیسہ ان مقامی تاجروں نے دیا جو کہ گولن صاحب کے اس مشن کی حمایت کرتے تھے کہ نوجوانوں کو سیکولر اور اخلاقیات دونوں کی تعلیم دی جائے۔ یہ ازمیر ہی تھا جہاں تبدیلی کی ایک طاقت ور تحریک گولن صاحب کے گرد زور پکڑنے لگی۔

سنہ 1972 سے 1975 کے دوران گولن صآحب نے بحیرہ قلزم اور مارمورا کے مختلف شہروں میں مبلغ کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور تعلیم اور سماجی خدمت کی تلقین کرتے رہے۔ اس وقت عام ترکوں کے لیے تعلیم کے مواقع بہت کم تھے اور کچھ لوگوں کا یہ خیال تھا کہ زیادہ تر تعلیم پر دائیں اور بائیں بازو دونوں کی انتہا پسند سیاسی قوتوں کا اثر و نفوذ ہے۔ وہ والدین جن کے بچوں نے ہائی سکول اور یونیورسٹی کے داخلے کا امتحان پاس کرلیا تھا اب ایک مخمصے میں پھنس گئے تھے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم سے بھی آراستہ کرنا چاہتے تھے اور اس بہت زیادہ سیاسی ماحول والے اداروں میں انہیں بھیجنے سے بھی ڈرتے تھے۔ اس الجھن کا حل نکالنے کے لیے گولن صاحب کی تحریک پر چھوٹے تاجروں نے ایسے بورڈنگ ہاؤس قائم کیے جہاں طلبا سیاست سے پاک ماحول میں تعلیم حاصل کرسکتے تھے۔

وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ وہ طلبا جو ان قیام گاہوں میں مقیم تھے گولن صاحب کے ’خدمت تحریک‘ کے نظریے کے اہم سفیر بن گئے اور اپنے قریوں اور شہروں میں لوٹ کر اپنے قیمتی تجربات اور حاصل ہونے والے مواقع کے بارے میں لوگوں کو بتانے لگے۔ اچھی تعلیم سے آراستہ یہ جوان اپنی کمیونٹی میں تاجر، کاروباری اور ہنرمند افراد بن کر ان قیام گاہوں اور اس کے بعد دوسرے سماجی خدمت کے منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے اکٹھے ہونے لگے۔ اسی اثنا میں گولن صاحب کی گفتگو اورتقاریر کو آڈیو کیسٹ پر منتقل کرکے عوام کو مہیا کیا جانے لگا۔ ان طلبا کے اپنی کمیونٹی میں ان اقدامات کے نتیجے میں اور نشرواشاعت کے نئے تکنیکی ذرائع کے استعمال سے گولن صاحب کے سماجی خدمت کے نظریات ترکی میں پھِیلنے لگے۔

دوسرا حصہ یہاں پڑھا جا سکتا ہے


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar