مذہبی جذبہ ، سیاست اور میڈیا پر حملے


mujahid aliآج پاکستان کے متعدد شہروں میں ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف احتجاج کرنے والے مشتعل ہجوم نے توڑ پھوڑ کی اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ ان مظاہروں میں خاص طور سے میڈیا کو نشانہ بنایا گیا۔ لاہور اور کراچی میں ایک نجی ٹیلی ویڑن اسٹیشن کے دفاتر پر حملے کئے گئے۔ اس کے علاوہ حیدر آباد میں پریس کلب پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی گئی اور چند درجن صحافیوں کو عمارت میں محصور کر کے اس کا گھیراﺅ کر لیا گیا۔ آج نماز جمعہ کے بعد سنی اتحاد کی طرف سے ممتاز قادری کی پھانسی کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی گئی تھی لیکن مختلف شہروں سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس احتجاج میں دوسری مذہبی جماعتوں نے بھی شرکت کی۔ یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ توڑ پھوڑ اور آتشزنی کرنے والے اکثر لوگوں کو پہچاننا مشکل تھا۔ اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ عناصر ان مظاہرین کا ہی حصہ تھے جو 29 فروری کو دی جانے والی سزا پر غم و غصہ کا اظہار کرنے کے لئے باہر نکلے تھے۔ عام طور سے ایسے عناصر کسی بھی موقع پر لوگوں کی ناراضگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتشار پیدا کرنے اور امن و امان خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عناصر ہمیشہ خفیہ ایجنڈے پر کام کرتے ہیں اور یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کس کے اشارے پر سرگرم ہیں۔
ایسی صورت میں مظاہروں کی اپیل کرنے والی جماعتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں اور ہمدردوں کو قابو میں رکھیں اور قانونی اور جائز طریقے سے اپنا احتجاج رجسٹر کروائیں۔ تاہم آج جو صورتحال دیکھنے میں آئی ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اگرچہ ملک کے اکثر لوگوں کے دلوں میں ممتاز قادری کے لئے ہمدردی کے جذبات موجود ہیں اور وہ کسی نہ کسی وجہ سے سزائے موت پر عملدرآمد کو غلط فیصلہ بھی سمجھتے ہیں، لیکن وہ کسی تصادم کا حصہ بننے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ کراچی سے لے کر لاہور تک متعدد شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات سے اس اندازے کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد کسی بھی شہر میں چند ہزار سے زیادہ نہیں تھی اور جو لوگ ڈنڈے اور دیگر ہتھیار لے کر املاک یا دفاتر پر حملہ آور ہو رہے تھے، ان میں چند درجن افراد ہی شامل تھے۔ یہ لوگ موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے اور ہنگامہ آرائی کر کے رفوچکر ہو گئے۔ یہ صورتحال حکومت اور انتظامیہ سے زیادہ احتجاج کی اپیل کرنے والے گروہوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ وہ کون لوگ ہیں جو ایک جائز اور پرامن احتجاج کو تصادم اور جنگ جوئی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ان منتظمین کو یہ بھی خبر ہونی چاہئے کہ جب کسی خفیہ ایجنڈے پر عمل کرنے والے بعض عناصر کسی تحریک میں شامل ہوتے ہیں وہ اسی کے لئے سب سے زیادہ نقصان کا سبب بنتے ہیں۔

اس معاملہ پر عوام کی ناراضگی اور رنجیدگی کی کئی وجوہات ہیں۔ تاہم اکثر لوگ اس وجہ سے بھی پریشان ہیں کیونکہ ملک کے مذہبی رہنما انہیں یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت نے ممتاز قادری کو موت کی سزا دے کر ایک مجرم کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا بلکہ اس نے ایک ایسے عاشق رسول کو قتل کیا ہے جس نے حب رسول میں سلمان تاثیر کو قتل کیا تھا۔ یہ مذہبی رہنما مسلسل یہ پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں کہ ممتاز قادری حق پر تھا اور اس نے ایک راست اقدام کیا تھا۔ یہ موقف اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اور حکومت کی تفہیم سے متضاد ہے۔ اور لوگوں میں بے چینی پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ ملک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور وہ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بے پایاں محبت کرتے ہیں۔ مذہبی رہنما اسی محبت کا سہارا لے کر شرعی احکامات کی جو شکل ان کے سامنے پیش کرتے ہیں، عام آدمی اس کے مطابق اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ تقریروں اور نعروں کے ذریعے جو پیغام لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے وہ عام طور سے کسی مدلل اصول کی بنیاد پر استوار نہیں ہوتا۔

ملک کے موجودہ حالات میں ایسے تمام مذہبی رہنماﺅں کا یہ فرض ہے کہ وہ خواہ حکومت اور سپریم کورٹ سے اختلاف کریں لیکن اس اختلاف کو نعرہ بنانے اور اشتعال دلانے کے لئے استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔ لوگوں تک یہ غلط پیغام پہنچانا بھی درست نہیں ہے کہ ممتاز قادری نے عین دینی تقاضوں کے مطابق اقدام کیا تھا۔ واضح رہے اس بنیاد پر قادری کے وکیلوں نے مقدمہ ضرور لڑا تھا لیکن کسی بھی عدالت نے ان کی کسی دلیل کو قبول نہیں کیا تھا۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ میں تو ممتاز قادری کے وکلا کو یہ موقع بھی فراہم کیا گیا تھا کہ وہ یہ شواہد سامنے لائیں کہ سلمان تاثیر کبھی توہین رسالت کے مرتکب ہوئے تھے۔ لیکن صفائی کے وکلا ایسی کوئی شہادت سامنے نہیں لا سکے۔ اب ممتاز قادری کی محبت میں سلمان تاثیر کے عقیدہ کے بارے میں بہتان طرازی بھی کسی دیندار شخص کو زیب نہیں دیتی۔ اور نہ ہی اسے بنیاد بنا کر لوگوں کو مشتعل کرنے کا طریقہ درست ہو سکتا ہے۔ یہ خبریں اب عام ہیں کہ ممتاز قادری نے ایک خطیب کی ایسی ہی اشتعال انگیز تقریر سن کر اس گورنر کو قتل کرنے کا عزم کیا تھا، وہ خود جس کی حفاظت پر مامور تھا۔ ان مولوی صاحب نے بعد میں بیان حلفی کے ذریعے ممتاز قادری کے اقدام قتل سے لاتعلقی کا اظہار بھی کر دیا تھا۔ اب اس کی پھانسی کے بعد پھر سے وہ اس ” قتل ناحق“ کے خلاف آنسو بہانے والوں میں شامل ہو چکے ہیں۔

اصول صرف یہ ہے کہ احتجاج ضرور کیا جائے اور جو چاہے رائے قائم کی جائے لیکن غلط معلومات ، جذباتی نعروں اور گمراہ کن تقریروں کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کرنا ملک کے قانون کی بھی خلاف ورزی ہے اور دین کی اخلاقی روایات بھی اس کی اجازت نہیں دیتیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ایک طرف اس قسم کے پروپیگنڈا کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا ہیں تو دوسری طرف وہ یہ نہیں جانتے کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا۔ واعظوں کا ایک گروہ ممتاز قادری کو سچا عاشق رسول بنا کر پیش کر رہا ہے اور باالواسطہ طور سے باقی مسلمانوں کو اس پر رشک کرنے اور اس کی تقلید کرنے کا سبق دے رہا ہے، تو دوسری طرف اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ دو ٹوک الفاظ میں ممتاز قادری کو قانون شکن قرار دیتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ اگرچہ اس نے مذہبی جذبات میں بہہ کر یہ قتل کیا تھا لیکن اسے آئین اور قانون نے ایک جرم کی سزا دی ہے۔ اس لئے بہتر ہو گا کہ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما اس سوال پر بے سروپا باتیں کرنے کی بجائے اس مشکل اور حساس سوال پر غیر جذباتی اور مدلل بات کریں۔ اسی طرح لوگوں میں اپنے دینی رہنماﺅں پر اعتماد بھی بحال ہو سکتا ہے اور وہ موجودہ اضطراری کیفیت سے بھی باہر نکل سکتے ہیں۔

کوئی بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ ممتاز قادری کے سوال پر ہونے والا احتجاج بعض لوگوں کے لئے دینی جذباتی مسئلہ ہو گا لیکن اس تحریک کی قیادت کرنے والے یا اس میں شامل ہونے والے اکثر مذہبی سیاسی رہنما اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ خاص طور سے ایسی قیادت کے لئے یہ صورتحال ایک سنگین مسئلہ ہونی چاہئے جو صرف عقیدہ کی بنیاد پر ممتاز قادری کی سزا کو غلط سمجھتے ہوئے احتجاج رجسٹر کروانا چاہتی ہے۔ جماعت اسلامی اور ایسے دیگر گروہوں کی اچانک اس احتجاج میں شامل ہونے کی حکمت عملی صرف سیاسی ہے۔ وہ ایسے مواقع پر عوام کے جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، ملک میں اپنی مرضی کا شرعی نظام استوار کروانے کے ایجنڈے پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ممتاز قادری کے اصل حامیوں کو نہ تو اس ایجنڈے سے غرض ہے اور نہ ہی وہ اس فقہی اور شرعی نقطہ نظر سے متفق ہیں جس پر جماعت اسلامی یا اس کے ہم خیال گروہ عمل پیرا ہیں۔ ان عناصر کے مقاصد سراسر سیاسی ہیں۔ اگرچہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سیاست ملک میں شریعت نافذ کروانے کے لئے ہے۔ لیکن یہ بہرطور سیاست ہے اور ممتاز قادری کے حامیوں کی جذباتی کیفیت کو اس مقصد کے لئے استعمال کرنا غلط ہے۔ اس لئے ان کے قائدین کو چوکنا رہنے اور اپنا لائحہ عمل واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ اب تک اس احتجاج کا کوئی ماٹو یا منشور سامنے نہیں آیا۔ توڑ پھوڑ کرنا یا صحافیوں پر حملے کرنا کوئی مقصد نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم نواز شریف نے بجا طور پر اس طرز عمل کی مذمت کی ہے اور ایسی حرکتوں میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ان سطور میں ممتاز قادری کی نماز جنازہ اور اس کی سزا کے بارے میں اختلاف رائے کو مناسب طریقے سے پیش نہ کرنے پر میڈیا کو حرف تنقید بنایا جا چکا ہے۔ تاہم ہمارا موقف ہے کہ میڈیا ہاﺅسز کے ایڈیٹرز کو یہ حق ہے کہ وہ جس خبر کو ضروری اور اہم سمجھتے ہیں، اسے نشر کریں اور غیر ضروری خبروں کو روک لیں۔ اس بارے میں حکومت کا ہدایات جاری کرنا، نشریات کو کنٹرول کرنا اور میڈیا ہاﺅسز کا ان احکامات کو قبول کرنا غلط ہے۔ کوئی واقعہ یا سانحہ اپنے طور پر اہم یا غیر اہم ہوتا ہے۔ اسے قومی مفاد یا عوامی سلامتی کے پیمانے سے نہیں ماپا جا سکتا۔ اگر کسی جنازہ میں 50 ہزار یا ایک لاکھ لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور گھروں میں بیٹھے لاکھوں افراد اس کے بارے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو میڈیا اخلاقی معیار قائم کر کے اس کی کوریج سے انکار کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ اسی طرح حکومت کے اقدام کے خلاف رائے کو بھی لوگوں تک پہنچانا جمہوری اور صحافتی اقدار کا عین تقاضہ ہے۔ البتہ اس معاملے میں کوتاہی کرنے پر کسی ہجوم کو بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ صحافیوں ، ٹیلی ویڑن کے دفاتر یا پریس کلب پر حملے کریں یا نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچائیں۔

اختلاف رائے کسی بھی معاشرے میں صحت مند رجحان کی علامت ہے لیکن اس کا مناسب طریقے سے اظہار اور مختلف رائے کا احترام کرنے کا رویہ ہی یہ طے کرتا ہے کہ کوئی قوم کتنی باشعور ہے اور ترقی کی طرف سفر کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali