جمہوریت کے سوبرس(1)


wajahatانسانی معاشرہ ایک نامیاتی مظہر ہے جو معاشرہ انسانوں کے رضاکارانہ طور پر مِل جُل کر رہنے سے وجود میں آتا ہے۔ اِنسان نے اجتماعی رہن سہن کی بنیاد اِس سادہ اصول کے تحت رکھی تھی کہ کوئی اِنسان اپنی ساری ضروریات اپنے طور پر پوری نہیں کرسکتا، سو کسی نے جوتا بنانے کا ہنر حاصل کیا تو کوئی کپڑا بُننے لگا۔ کسی نے کھیتی باڑی شروع کی تو کسی نے لکڑی چیر کر ضرورت کی مختلف چیزیں بنانا سیکھ لیا۔ رفتہ رفتہ معاشرے کی حدود میں اضافہ اور پیچیدگی پیدا ہوئی تو باہمی تعلقات کو باضابطہ بنانے کے لیے ریاست کی ضرورت محسوس ہوئی۔ حکومت معاشرے اور ریاست کی درمیانی کڑی ہے۔ مخصوص جغرافیائی حدود میں بسنے والے تمام افراد، لسانی، ثقافتی، مذہبی گروہوں اور اداروں کے باہمی رشتے کو ایک دستور کی مدد سے باقاعدہ اصول و ضوابط کا پابند کرنے سے ریاست وجود میں آتی ہے۔

تاریخی طور پر معاشرے کو منظم کرنے کے لیے مختلف ریاستی نظام اختیارکیے جاتے رہے ہیں۔ کہیں کسی خاص خاندان کو حقِ حکمرانی بخشا جاتا تھا تو کہیں کسی مخصوص نسل سے تعلق رکھنے والوں کو حقِ حکمرانی عطا کیا جاتا تھا۔ کبھی کوئی مخصوص زبان بولنے والے حکمرانی کے مستحق ٹھہرائے جاتے تھے تو کبھی کسی خاص عقیدے کے پیروکاروں کو حکمرانی کا اہل قرار دیا جاتا تھا۔ ان مختلف نظاموں میں ریاست کے قیام کا مقصد بھی تبدیل ہوتا رہتا تھا۔ کہیں ریاست کا مقصد شخصی اقتدار کا فروغ قرار پاتا تو کہیں کسی خاص نسل یا قبیلے کی نفع اندوزی کے لیے کمزور ہمسایہ ریاستوں اور معاشروں پر چڑھ دوڑنے کو ریاست کا نصب العین سمجھا جاتا تھا۔ کبھی ریاست کو کسی خاص عقیدے کی ترویج کے لیے آلۂ کار بنایا جاتا تھا۔

انسانی تاریخ دراصل جنگل سے مہذب معاشرے تک ارتقا کی کہانی ہے۔ جنگل کی معاشرت کا بنیادی اصول طاقت کے بل پر چھین لینا ہے ، جینے کا حق چھین لینا ، گوشت کا پارچہ چھین لینا ، روٹی کا ٹکرا چھین لینا۔ اسے ہم آج کی زبان میں استحصال کہتے ہیں۔ ارتقا کی داستان کا اگلا مرحلہ پیدا وار تھا۔ محنت سے وسائل پیدا کرنے اور اشیا کی قدر میں اضافہ کرنے کو پیداوار کہتے ہیں۔ لکڑی کا ایک ٹکڑا لے کر اسے میز، کرسی یا الماری کی صورت میں ڈھالنا یا ایک کم عمر بچے یا بچی کو تعلیم دے کر اسے معاشرے کے لیے مفید شہری میں تبدیل کرنا پیداوار کہلاتا ہے۔ جنگل اور تہذیب کا فاصلہ دراصل استحصال اور پیداوار کا فرق ہے۔ پانی کے چشمے پر قبضہ کرنا استحصال ہے اور پانی کا کنواں کھودنا پیداوار ہے۔

حکمرانی بنیادی طور پر کسی مخصوص خطۂ زمین کے باشندوں کے بارے میں فیصلہ سازی اور تقسیمِ وسائل کا اختیار ہے۔ قدیم زمانے میں اقتدار کا مقصد شخصِ واحد یا کسی مخصوص اور مختصر گروہ کے مفادات کا تحفظ تھا۔ حکمران محصولات عائد کرسکتا تھا، رعایا کی جائید اد اور معاشی وسائل کے بارے میں فیصلہ سازی کا کلی اختیار رکھتا تھا۔ وہ قوانین تشکیل د ینے اور اُنھیں تبدیل کرنے کا اختیار رکھتا تھا۔ مطلق العنان اقتدار کے اِس قدیم تصور میں نہ تو عوام کی فلاح کو ترجیح حاصل تھی اور نہ حکمران اس بارے میں کسی کے سامنے جوابدہ تھا۔

Fraz_Wahlah_as_a_Child_in_the_mid_80s_waving_Pakistan_Peoples'_Party_flag_whilst_leading_a_procession_against_the_Marshal_Law_and_dictatorship_of_General_Zia_ul_Haq_in_Pakistan,مختلف افراد، طبقات اور گروہوں نے اپنے ناجائز مفادات حاصل کرنے کے لیے مفروضہ اقدار تخلیق کرکے فیصلہ سازی اور وسائل پر اجارہ قائم کر رکھا تھا۔ عورتوں کو جسمانی فرق کی بنا پر مردوں سے کمتر قرار دے دیا۔ جلد کے رنگ کی بنیاد پر گوروں کی کالوں پر برتری کا دعویٰ داغ دیا۔ تلوار چلانے والے ہل چلانے والوں سے افضل قرار پائے۔ سند کو دلیل اور کشف کو مشاہدے پر فوقیت دے دی۔ ناانصافی پر مبنی ان اقدار کا حقیقی مقصد وسائل پر استحصالی قبضہ قائم کرنا تھا۔ ان لوگوں نے طاقت کے بل پر اجتماعی مکالمے کو مسخ کرکے انسانوں کی اکثریت کو فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت سے محروم کر دیا۔ صدیوں تک انسانی معاشرہ ناانصافی کے اندھیرے میں چلتا رہا۔ پیداوار میں حصہ لینے والے استحصال کرنے والوں کے ظلم کا شکار بنے رہے۔

ہزاروں برس کے تجربات کی روشنی میں بالآخرانسان اس نتیجے پر پہنچا کہ ریاستی بندوبست کی یہ تمام صورتیں معاشرے میں امن، انصاف اورترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ انسانوں کے لیے امن ، تحفظ، انصاف اور بلند معیارِ زندگی کے حصول کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ریاست میں حکمران اور رعایا کی تمیز ختم کر کے تمام شہریوں کو رتبے اور حقوق کے اعتبار سے ریاست کا مساوی رکن تسلیم کیا جائے اور حکومت کو تمام شہریوں کی بقا، تحفظ اور ترقی کا ذریعہ قرار دیا جائے۔

نشاة ثانیہ کے بعد علوم کے پھیلاؤ، تجارت میں فروغ نیز معاشرتی تناظر اور تاریخی تجربات پر غوروفکر کرنے والے دانشوروں کی کوششوں کے باعث جوابدہ حکومت کا تصور جڑ پکڑنے لگا۔ بادشاہت اور مختلف معاشی مفادات کی نمایندگی کرنے والی پارلیمنٹ کے درمیان اختیارات کے پیچیدہ کشمکش، مختلف اداروں کی تشکیل اور اداروں کے مابین اختیار و احتساب کے طویل تاریخی عمل سے گزرتے ہوئے جمہوری طرزِ حکومت اِس درجے تک پہنچا جس میں رعایا اور حکمران کا مستقل فرق ختم ہوگیا۔ طے شدہ معیار اور طریقہ کار کی مدد سے ہر شہری کا براہِ راست یا بالواسطہ حقِ حکمرانی تسلیم کرلیا گیا۔ اقتدار کو اختیار کی بجائے نیابتی (سونپی گئی ) ذمہ داری کا تصور دیا گیا۔ ریاست اور حکومت کے طے شدہ فرائض کے ٹھیک ٹھیک تعین اور باضابطہ جواب دہی کے لیے ریاست کی جغرافیائی حدود کا واضح تعین ضروری قرار پایا۔

جمہوریت ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں تمام شہریوں کو روزمرہ زندگی کے تمام پہلوﺅں پر اثر انداز ہونے والے فیصلے کرنے اور ان فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں حتمی اختیار عوام کو حاصل ہوتا ہے۔ جمہوری حکومت اپنا جواز اور اختیارات براہِ راست یا بالواسطہ طور پر عوام سے اخذ کرتی ہے۔ اس کے لیے دو میں سے ایک طریقہ اپنایا جاتا ہے۔

(الف) براہِ راست جمہوریت: براہِ راست جمہوریت میں پالیسی کے تمام اہم فیصلوں پر تمام شہریوں کو رائے دینے کا موقع دیا جاتا ہے۔ تاہم فیصلہ سازی میں غیر ضروری تاخیر کے خدشے کے پیش نظر بڑی ریاستوں اور بڑی تنظیموں میں براہِ راست جمہوریت کا طریقہ شاذ و نادر ہی اپنایا جاتا ہے۔

َِ(ب) نیابتی جمہوریت: نیابتی جمہوریت میں عوام آزادانہ اور شفاف انتخاب کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں جو فیصلہ سازی کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس طرزِ حکومت میں اختیارات اور احتساب کے باہم توازن سے حکومت کو جواب دہ ٹھہرایا جاتا ہے۔

جمہوری طرزِ حکومت میں حکومت کے بنیادی فرائض درج ذیل ہوتے ہیں:

liaqat ali khan with jinnah-1         اندرونی اور بیرونی خطرات سے شہریوں کے جان ومال اور وقار کا دفاع کرنا۔

-2         بقا، تحفظ اور ترقی کے سہ جہتی نمونے کی تکمیل کے لیے درکا رشہریوں کی تمام بنیادی ضروریات مثلاً غذا، لباس، رہایش، روزگار، تعلیم ، علاج معالجہ وغیرہ کی فراہمی یقینی بنانا۔

-3         معاشرے میں فرد، گروہ اور اداروں کے باہمی تعلق کی تمام ممکنہ صورتوں کو قوانین اور قاعدوں کی مدد سے ضابطے میں لانا۔

-4         عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانا۔

-5         عوام کو فکر اور عمل کے اعتبار سے وہ تمام آزادیاں اور تحفظات فراہم کرنا جن کی مدد سے وہ اپنی پیداواری اور تخلیقی صلاحیتوں کو پورے طور پر بروئےکار لاسکیں۔

جمہوریت معاشرے اور ریاست نیز حکومت اور شہریوں میں اقدار اور ضابطوں کے ایک پیچیدہ نظام کا نام ہے۔ اگرچہ دنیا کے مختلف ممالک میں جمہوری اداروں اور طریقہ_¿ کار کی شکلیں مختلف ہو سکتیں ہیں مثلاً صدارتی نظام، پارلیمانی نظام یا متناسب نمائندگی وغیرہ ۔ تاہم جمہوری طرزِ حکومت کی ان تمام صورتوں میں ذیل میں بیان کردہ کچھ بنیادی اصول اور اقدار مشترک ہیں جن کے بغیر حقیقی اور مکمل جمہوریت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا

انسانی معاشرے کی تمام ممکنہ صورتوں میں جمہوریت واحد نظام ہے جو قابلِ عمل اور منصفانہ زندگی کا امکان پیدا کرتا ہے۔ جمہوریت خامیوں اور کمزوریوں سے ماورا نہیں لیکن اجتماعی زندگی کا اس سے بہتر نمونہ ذہن انسانی نے اب تک دریافت نہیں کیا۔ جمہوریت کے ارتقا کی مختلف منازل ہیں۔ جن معاشروں میں قابل ذکرمدت کے لیے مستحکم جمہوریتیں قائم رہی ہیں وہاں بھی جمہوریت کے مثالی امکانات تکمیل سے بہت دور ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترقی یافتہ ترین معاشروں میں ابھی تک جمہوریت کے ارتقا کی ثانوی منازل ہی طے ہو سکی ہیں۔ جمہوریت محض ادارہ جاتی ڈھانچے کھڑے کرنے کا نام نہیں۔ رائے دہی کی رسم یا پارلیمانی کارروائی کی مشق بھی جمہوریت کا کلی احاطہ نہیں کرتی۔ جمہوریت کا منشا اور امکان ریاست ،معاشرے اور فرد کے جملہ معاشی، سماجی اور سیاسی پہلوﺅں کا احاطہ کرنے ہی سے مکمل ہوتا ہے۔

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “جمہوریت کے سوبرس(1)

  • 05-03-2016 at 3:10 am
    Permalink

    if you would have highlighted some negative points of democracy it would have been balanced article.

    • 05-03-2016 at 7:04 am
      Permalink

      my dear doctor,

      میں نے ایک صحافتی تحریر پیش کی ہے۔ سرگودھا بورڈ میں میٹرک کا پرچہ نہیں دیا۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میرے دلائل میں سقم ہے تو مہربانی کیجئے اور اپما ردعمل لکھیے۔ ہم سب شائع کر دے گا۔ آپ مجھ سے جس “توازن” کا مطالبہ کر رہے ہیں، میں اس سے قاصر ہوں۔ پاکستان میں جمہوریت کے منفی نکات بہت سے ہیں مثلاً ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف۔ اور ان کے جوتے چاٹنے والے۔ میں جمہوریت پسند ہون، آمریت کا ہوا خواہ نہیں۔

      • 05-03-2016 at 3:37 pm
        Permalink

        بہت اچھا جواب ہے آپ کا وجاہت معسود صاحب۔ پتا نہیں کیوں ابھی تک ہمارے ملک میں آمریت کے چاہنے والے پائے جاتے ہیں ۔ بجائے اس کے ہم جمہوریت کی بہتر ارتقائی شکل پر بہث کریں ۔لوگ ابھی تک جمہوریت کو گالیاں دینے میں مصروف ہیں۔

      • 05-03-2016 at 8:00 pm
        Permalink

        کبھی آپ کو سرگودہا کے شکور بھائی یاد آتے ہیں تو کبھی سرگودہا بورڈ ۔ کیا سرگودھا بورڈ نے آپ کو فیل تو نہیں کر دیا تھا ؟

  • 05-03-2016 at 11:13 am
    Permalink

    ہم جسے جمہوریت کی خامیاں سمجھتے ہیں وہ جوہری طور پر جمہوریت کی خامی نہی ہیں بلکہ جمہوری ارتقاء کے مراحل میں درپیش مسائل سے منسلک ہیں۔ ناقص کی رائے میں آمریت، فاشزم وغیرہ نافذ کی جاتی ہیں لیکن جمہوریت ایک ارتقائی طریقے سے وجود میں آتی ہے۔ چنانچہ بیچ میں آمریت اور فاشزم کے سپیڈ بریک نہ آئیں تو بہتر سے بہتر جمہوری سنگ میل جلد عبور ہوسکیں گے۔

  • 05-03-2016 at 9:49 pm
    Permalink

    I love to read your article , thanks for it.

Comments are closed.