شرمین چنائے کو ایک کھلا خط


Zunaira-Saqib

سارے فیس بکی اور لبرل پاکستانی آپے سے باہر ہوئے جا رہے ہیں۔ شرمین کو ایوارڈ کیا مل گیا ایسے خوش ہو رہے ہیں جیسے لاٹری نکل آئی ہے ہو کم بختوں کی۔ ارے بھائی یہ دیکھتے نہیں کے اس کو ایوارڈ صرف اس لئے دیا گیا کہ اس نے ’غیرت کے نام پر قتل‘ پر ایک ڈاکیومینٹری بنائی تھی۔ جو بندہ کھڑا ہو کر پاکستان کے خلاف بات کرنے لگتا ہے، یہ مغربی طاغوتی یہودی قوتیں فوراً اس کو ایوارڈ پکڑا دیتی ہیں۔ ساری دنیا پاکستان کے خلاف سازش میں لگی ہے اور یہاں کسی کو احساس ہی نہیں۔

اب دیکھیں غیرت کے نام پر قتل کے علاوہ پاکستان میں اور بھی موضوع ہیں۔ جنس پر فلم بنائی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر انتیس فروری کو صبح آٹھ بجے کے قریب کوئی چار کروڑ پاکستانی اٹھے، منہ دھویا ، ناشتہ پھڑکایا، اور کام پر چلے گئے۔ کسی نے دہشت گردی نہ کی، سب شریف اور اچھے لوگ ہیں۔ لیکن حرام ہے اس امر پر کوئی فلم بنا دے۔ اب اسی دن بمشکل کوئی بیس بچیس خبریں تھی اخبار میں جن کو آپ برا کہہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر دو بچوں کو زیادتی کے بعد لاہور میں قتل کر دیا گیا، پانچ چھے عورتوں پر تیزاب پھینک دیا گیا، بیس پچیس لوگ کراچی میں پولیس مقابلے میں مر گئے وغیرہ وغیرہ۔ اب چار کروڑ کے مقابلے میں اگر کوئی سو دو سو لوگ مر جاتے ہیں کوئی پچاس ساٹھ بچے اور عورتیں روزانہ جنسی زیادتی کا شکار ہو جاتی ہیں، تو کیا ہو گیا بھئی؟ کوئی بندہ اٹھے اور اچھی باتوں پر بات کرے لیکن یہ تو ہو گا نہیں۔

میں نے فیصلہ کر لیا ہے کے میں شرمین جی کو ایک عدد خط لکھوں ۔ اس خط میں میں ان تمام موضوعات کا احاطہ کروں جن پر ان کو فلم بنانی چاہیے۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں

۔1۔ ’بچ گئی‘ – ان تمام عورتوں کی کہانی جن پر کبھی تیزاب نہیں پھینکا گیا
۔2۔ ’ڈھائی کروڑ نہیں ہیں ہم‘ – ان ٥ کروڑ بچوں کی کہانی جو کے اسکول جا پاتے ہیں
۔3۔ ’مل گئی‘ – ان لاکھوں خوش قسمتوں کی کہانی جن کے پاس نوکری ہے
۔4۔ ’ہم نے بنائی‘ – پاکستانیوں کی بنائی ہوئی کے ٹو کی کہانی
۔5۔ ’زندہ ہوں‘ – ان اٹھارہ کروڑ کی کہانی جو کبھی خود کش حملے میں شہید نہیں ہوئے۔
۔6۔ ’اقلیتیوں کا عظیم آبادی کنٹرول‘ – تیرہ فیصد سے دو فیصد رہ جانے والی اقلیتوں کی کہانی

امید ہے شرمین جی آئندہ ایسے موضوعات کا بھی احاطہ کریں گی اور صرف پاکستان کو بدنام کرنے والی فلمیں نہیں بنائیں گی۔


Comments

FB Login Required - comments

8 thoughts on “شرمین چنائے کو ایک کھلا خط

  • 05-03-2016 at 12:46 pm
    Permalink

    شاباش..واہ واہ دھویا

    • 05-03-2016 at 4:01 pm
      Permalink

      بہت خوب ۔ واقعی مذاق سے قطع نظر۔۔۔

  • 05-03-2016 at 11:18 pm
    Permalink

    Recommended topics are superb?

  • 06-03-2016 at 1:51 am
    Permalink

    is it a joke?

  • 06-03-2016 at 8:00 am
    Permalink

    ala

  • 06-03-2016 at 8:01 am
    Permalink
  • 06-03-2016 at 2:56 pm
    Permalink

    میری تجویز یہ ہےکہ اگلی فلم مذہبی اداروں (مدرسوں) اور مساجد میں مولویوں اور “علما” کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہونے والے لڑکوں، پاکستان بھر میں ٹرک کے اڈوں، بازاروں، کوچوں اور گلیوں میں “بچہ بازی” کا شکار ہونے لاکھوں لڑکوں اور آنٹیوں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہونے والے لڑکوں پر بنائی جائے۔

    وڈیروں اور خوانین کے پاس “بچہ” بن کر رہنے والے خوبصورت لڑکوں کی داستانیں بھی مشہور ہیں۔ ان پر بھی ایک علیحدہ فلم بننی چاہیے، تاکہ ان مکروہ کرداروں کو بے نقاب کیا جاسکے جنہوں نے دین اور مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور حکومت، ریاست اور معاشرے کو توہین کے نام پر یرغمال بنا رکھا ہے۔

    آخر بہترین فلم کا آسکر ایوارڈ “سپاٹ لائٹ” نے جیتا، جو عیسائی راہبوں کے ہاتھوں جنسی ہوس کا شکار ہونے والے بچوں کی کہانیوں پر مبنی ہے، تو ایسے میں جنسی جنونیت کا شکار مولویوں کو “ملکی امیج” کے نام پر کیوں معاف کردیا جائے؟

  • 06-03-2016 at 9:17 pm
    Permalink

    its preplanned .her financers decides what to do?u know what i mean by financers.

Comments are closed.