ابن خلدون … جدید دنیا کا معیشت دان



ذیشان ہاشم

ابن خلدون کو انسانوں کی علمی تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک مو¿رخ اور ماہر عمرانیات تھے ۔ علم کے باقی شعبوں میں بھی ان کا زاویہ نظر تاریخ اور عمرانیات سے بہت زیادہ متاثر ہے – معیشت کے میدان میں ابن خلدون کے خیالات انتہائی متاثر کن ہیں جس میں ان کی وسعت مشاہدہ اور اپنے عہد کے علمی ورثہ سے پوری طرح استفادہ کرنا واضح ہوتا ہے۔ ابن خلدون کو اپنے عہد میں خاص مقبولیت حاصل نہ ہو سکی ، اسی لئے ان کا کام بھی اپنے عہد میں نمایاں نہ ہو سکا۔ تاہم جب ہم دور جدید میں ابن خلدون کے کام کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم یقینا کہہ سکتے ہیں کہ وہ جدید سوشل سائنسز بشمول معیشت کے بانیوں میں سے تھا ۔ ان کے بارے میں مشہور معاشی مورخ جے جے سپلنگلر اپنی کتاب ’اکنامک تھاٹس آف اسلام ! ابن خلدون ‘ میں لکھتے ہیں کہ ابن خلدون بلاشبہ ایک عظیم معیشت دان تھے اور مسلم معاشی نظریات کے بہترین ترجمان تھے۔
ایڈم سمتھ سے بہت پہلے ابن خلدون اس بات کو اپنی کتاب ’مقدمہ تاریخ ‘ میں لکھ چکے تھے کہ دولت کا واحد ذریعہ پیداوار ہے۔ اگر کسی ملک نے معاشی خوشحالی حاصل کرنی ہے تو اسے اپنی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ لانا ہو گا۔ وہ تقدیر کے روایتی تصور کے قائل نہ تھے اور غربت کے خاتمہ کے لئے پیداواری سرگرمیوں میں اضافہ تجویز کرتے ہیں –
-ابن خلدون پیداواری عمل میں تخصیص کاری (ڈویژن آف لیبر) کو بہت اہم مانتا ہے اور اس سلسلے میں اس نے مقدمہ میں تفصیل سے بحث کی ہے –
– جب معاشی عمل میں انسانی سرگرمی شامل ہوتی ہے تو اس کی اجرت یا نفع کا تعین اس کی محنت کی پیداواری قابلیت (قدر) پر منحصر ہے۔ پیداواری عمل میں جس کی جتنی محنت شامل ہو گی، اتنی ہی اس کی اجرت ہو گی ۔ یوں اجرت میں مساوات ممکن نہیں –
ابن خلدون قیمتوں کے تعین میں طلب اور رسد کے قائل تھے۔
حیران کن طور پر ابن خلدون سونے و چاندی کو دولت نہیںسمجھتے تھے بلکہ ان کو صرف دھاتوں میں شمار کرتا تھا۔ اس کے نزدیک دولت صرف پیداوار ہے ۔ وہ ان سکوں کو محض تبادلہ کا ذریعہ سمجھتا تھا جس میں قوت خرید پائی جاتی ہے ۔
ایک سماج جتنا خوشحال ہوتا ہے اتنا ہی اس میں خدمات (سروسز ) کی مارکیٹ کو فروغ ملتا ہے۔
حیران کن بات یہ کہ ابن خلدون وہ نفع کے محرک کو معاشی سرگرمیوں کی واحد بنیاد سمجھتے تھے۔ اور ان کا پورا معاشی فلسفہ اس کے گرد کھومتا ہے – وہ محصولات (ٹیکسز) کی ایک کم ازکم حد کا قائل ہے مگر وہ زیادہ ٹیکسز کو نفع کے محرک اور پیداواری عمل کا قاتل سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک صحت مند معیشت وہ ہے جس میں کاروبار نفع کما رہے ہوں اور نفع کے محرکات معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھا رہے ہوں –
ابن خلدون انفراسٹرکچر کی تعمیر ، سیاسی استحکام، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کو ریاست کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ وہ سیاسی استحکام کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاسی عدم استحکام معاشی سرگرمیوں کو تباہ کر دیتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ طلب اور ریاست کی بحث میں وہ ریاست کو سب سے بڑا خریدار سمجھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ گورنمنٹ جتنی زیادہ خریداری کرے گی اتنا ہی پیداواری عمل میں تیزی آئے گی اور معاشی خوشحالی میں مزید اضافہ ہو گا – ان کے نزدیک اگر گورنمنٹ خریداری روک دے تو معیشت میں بحران آ جائے گا ۔
ریاست کے بارے میں مغربی مفکرین کی طرح ابن خلدون میں بھی تشکیک کا مادہ پایا جاتا ہے – قوموں کے عروج و زوال کی بحث میں وہ ریاست کے ٹیکسوں کو زوال کی بڑی وجہ سمجھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ریاست اپنے اخراجات کے لئے ٹیکس لگاتی ہے ، جتنے زیادہ ٹیکس ہوں گے اتنے زیادہ اخراجات ۔ یوں حکمرانوں میں لالچ پیدا ہوتا ہے کہ زیادہ ٹیکس کی مدد سے زیادہ مال اکٹھا کریں اور زیادہ خرچ کریں ۔ اس طرح ٹیکسوں میں اضافی کی ترغیب پیدا ہوتی ہے۔
اگر ٹیکس کم ہوں گے اور کاروباری سرگرمیوں میں نفع زیادہ ہو گا تو معیشت پھلے پھولے گی ، معیشت میں ترقی سے حکومت کو مجموعی طور پر زیادہ ٹیکس ملے گا جس سے ترقیاتی اخراجات میں اضافہ ہو گا ۔ یوں مزید پیداوار سے مزید خوشحالی جنم لے گی ، یہ عروج کا راستہ ہے –
زوال کا راستہ یہ ہے کہ ریاست جلد بازی یا لالچ یا کسی بھی دوسرے سبب سے ٹیکسوں میں اضافہ کر دیتی ہے ۔ ٹیکسوں میں اضافے سے کاروباری سرگرمیوں میں نفع کم ہو جاتا ہے ۔ نفع کی کمی سے کاروباری سرگرمیوں میں کمی آتی ہے ، کاروباری سرگرمیوں میں کمی سے محصولات یعنی ٹیکس کی مقدار کم ہو جاتی ہے ۔ دوسری طرف ریاست اپنے اخراجات یا ٹیکسوں میں کمی نہیں لا سکتی ، یوں اس پر اخراجات کا دباو¿ بڑھتا ہے تو آزاد منڈی میں نجی ملکیت کے بڑے کاروباری اداروں کو اپنے قبضہ میں لے لیتی ہے ۔ کاروبار نفع کے محرک کے تحت چلتے ہیں جو ریاستی اداروں کی اہلیت سے باہر ہوتا ہے ۔ یوں ایسے کاروبار میں نقصان ہوتا ہے ۔ نتیجے میں ریاست مارکیٹ میں موجود دوسرے نجی ملکیت کے کاروباری اداروں کو مارکیٹ سے نکال دیتی ہے اور اپنی اجارہ داری قائم کر لیتی ہے۔ کاروباری سرگرمیوں میں مزید خرابی چلی آتی ہے، حکومت کے ٹیکسوں میں بھی مزید کمی آتی ہے ، یوں ریاست اور سماج غریب سے غریب ہوتے جاتے ہیں اور قوم زوال کے شکنجے میں پھنس جاتی ہے جس سے نکلنے کا اس کے نزدیک راستہ یہ ہے کہ ٹیکس کم ہوں، کاروبار کے مواقع وسیع ہوں ، پیداواری عمل میں تیزی آئے ، اور حکومت معقول ٹیکس اور اخراجات کی مدد سے طلب میں اضافہ کرے۔

(اس مضمون کی تیاری میں “مقدمہ ابن خلدون ، انگریزی ترجمہ فرانز روزنتھل ” سے مدد لی گئی ہے-)


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan