حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا


shumayla-hussainشمائلہ حسین

اے بہن سنتی ہو؟ عورتوں کا بل پاس ہو گیا ہے۔ انگریجوں کی نکل میں چل پڑے ہیں ہمارے مسلمان بھی۔

یہ ماسی کنیزاں تھیں جو محلے بھر میں رپورٹر کے نام سے مشہور ہیں۔ اور پرانے وقتوں کی پوری پانچ جماعتیں انہوں نے پاس کر رکھی ہیں، وہ خود کو ا علیٰ تعلیم یافتہ گردانتی ہیں ۔ بال بچے سب بیاہے گئے اور شوہر اﷲ کو پیارے ہو چکے، لہٰذا سارا دن کبھی کسی کے ہاں تو کبھی کسی ہاں برقعہ اٹھائے مٹر گشت جاری رکھتی ہیں۔ آ ج بھی ہمارے گھر میں داخل ہوتے ہی انہوں نے امی کو مخاطب کر کے خواتین بل پاس ہونے پر دہائی دی۔ دو دن سے اخبارات ، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر اس بل کے منظور ہونے پر مسلسل خبروں اور تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ یقیناً عینی شاہد نے بھی کہیں نہ کہیں سے اڑتی خبرسن لی ہوگی۔ اور اغلب گمان یہ تھا کہ محلے کے مولانا صاحب یا پھر ملک کے مولانا صاحب کا بیان پر مغز سن کر آئی ہیں۔ میں نے مزید چٹخارہ لینے کی خاطر انہیں کریدا ۔
۔’’ خالہ ! کیا کہہ رہی ہیں ۔ کونسا بل پاس ہو گیا؟‘‘

وہ پھر سے تیورا کر بولیں ۔ کھواتین کا بل۔ اے لڑکی کھبریں نہیں سنتی کیا ۔ توبہ توبہ ۔ قیامت کی نشانیاں ہیں۔ اپنے مولانا صاحب پھرما رہے تھے کہ اب بیبیاں اپنے شوہروں کی شکایت پولیس میں کریں گی۔ گھر کے جھگڑے لوگوں میں نبٹایا کریں گی۔ اور تو اور بیبیاں اپنے مجاجی خدا کو گھر سے چلتا کیا کریں گی۔ جیسے انگریجنیں کرتی ہیں،دیدوں کا پانی مر گیا۔ ‘‘

میں نے ان کی باتوں سے محظوظ ہوتے ہوئے جواب دیا ۔ ’’ خالہ ! یہ تو اچھا ہو گا نہ اب کوئی مرد اپنی بیوی پر ہاتھ نہ اٹھائے گا ۔ اسے گھر سے نکالتے وقت ہزار بار سوچے گا۔ لڑائی جھگڑا دنگا فساد کم ہوجائے گا۔ آپ تو خود عورت ہیں ذرا عورت کے حق میں سوچیں نا۔ ‘‘

۔’نہ بی بی نہ ۔ تم نئے دور کی لڑکیاں کیا جانو مجاجی خدا کیا ہوتا ہے۔ ہمارے دین نے حق دیا ہے مردکو ۔ اپنے گھر کی عورتوں کی عجت کی حفاجت کا۔ تم کیا جانو کتنی ذمہ داری کی بات ہے ایک عورت کے ساتھ تین مرد جہنم میں جاویں گے۔ ‘

اس سے پہلے کہ میں مزید بحث میں الجھتی امی نے مجھے گھوری سے نوازتے ہوئے وہاں سے غائب ہوجانے کا اشارہ کیا۔ میں ان کے حکم کی تعمیل میں وہاں سے تو اٹھ آئی لیکن ماسی عینی شاہد نے میری سوچ کے بہت سے در وا کر دیے۔

ماسی کنیزاں کی طرح کتنے ہی معصوم لوگ جنہیں یہ احساس تک نہیں کہ ان کو اپنا تسلط اور برتری قائم رکھنے کے لئے کس طرح سے ہپناٹائز کیا جاتا ہے۔ مسلکی نظریات پر مبنی دو چار کتابیں پڑھ کر محلے کی مسجد کے نیم ملا امام صاحب اپنے بھول پن میں کس طرح سے آہستہ اثر کرنے والا زہر ان کے اذہان میں انڈیلتے ہیں ۔ فاعل اور مفعول دونوں اپنے ہاتھوں ہونے والے اس فعل سے بے خبر اپنے آپ کو دھوکہ دیے چلے جاتے ہیں۔ اور پھر اسی معصومیت کے ساتھ دینی علم کی بجائے یہ فریب اگلی نسلوں کو منتقل کردیا جاتا ہے۔

زیادہ پرانی بات نہیں جب بر صغیر میں انگریزوں کی لائی ہر چیز کو شیطانی چرخہ کہہ کر مسترد کردیا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے وہ رویہ آ ج بھی ویسا ہی مقبول ہے۔ مذہب کے نام پر ہمارے ملک میں ہونے والی ہر اہم پیش رفت کو خوب کوسا جاتا ہے۔ اب یہ معاملہ ہی لے لیجئے ، میڈیا میں جہاں ایک طرف خواتین بل کی حمایت اور شرمین چنائے کو ملنے والے ایوارڈ پر عوام کا پرجوش ردعمل دکھایا جارہا ہے اس کے متوازی ان دونوں واقعات کے خلاف زہر اگلنے والے حضرات کی تعداد بھی قابل غور ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جب بھی عور ت کے وجود کو بحیثیت انسان تسلیم کرنے کی طرف قدم اٹھایا گیا اس کا ردعمل بھی اتنا ہی شدید ہوا۔ صدیوں کی ریاضت اور محنت کے بعد عورت کو کم تراور حقیر مخلوق ہونے کا احساس دلانے والی تہذیب کبھی بھی آسانی سے اس کی طاقتور اور مضبوط حیثیت بآسانی ہضم نہیں کر پائی۔ اور تو اور ظلم یہ ہے کہ خود عورت کو اتنا برین واش کردیا گیا ہے کہ وہ اس طرح کے اقدام کو اپنے لئے نعمت سمجھنے کی بجائے زحمت خیال کرنے لگتی ہے۔

میری بات پہ یقین نہ آئے تو ان خواتین کے بیانات پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر ملاحظہ فرمایئے جو مولانا صاحب کی زبان ہی بول رہی ہیں کہ اس طرح کے بل ہمیں نہیں چاہئیں مذہب نے بہت پہلے عورت کو بہت زیادہ حقوق سے نواز دیا ہے اب یہ بل مذہب پر دال نہیں ہو سکتے۔ اب یہ معاملہ درپیش ہے کہ مذہب کو دور جدید کے مطابق کرنے کے لئے قدیم تشریح دین پر سوال کرنا جائز نہیں لہذا اس پر سوال کرنے والے کو توہین مذہب کے سنگین نتائج کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ سو، بات کا جواب دینے پر اکتفا کرتے ہیں۔ کہ مذہب تو ضابطہ حیات ہے اور آئین ہے جس کے مطابق زندگی کو گزارا جا سکے نہ کہ اس کے فر مودات کو کتابوں میں لکھ کر طاقچوں کی نذر کردیا جائے۔ بالکل ایسے ہی جیسے قرآن پاک کا حافظ اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھے بغیر رٹا لگا کر خود کو جنتی سمجھنے لگتاہے جبکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا اطلاق اپنی زندگی میں کیا جائے اور معاشرے کی فلاح کے لئے متحرک ہوا جائے۔

اب ہمارے اسلامی بھائی شور مچا رہے ہیں کہ حقوق دے دیے گئے ہیں اور یہ بل ان کی مردانگی کی توہین کے مصداق ہے تو ایک سادہ سا سوال کرنے کی اجازت بھی دیجیے کہ مذہب نے بہت پہلے جو حقوق تفویض کیے تھے کیا ان کی ادائیگی کا کوئی شفاف طریقہ کاروضع کیا گیا؟ ظاہر سی بات ہے کہ نہیں جہاں ریپ کی شکایت کرنے پر ڈی این اے کو مسترد کر کے چار گواہان کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہو، جہاں معصوم بچوں کے ساتھ بد فعلی کرنے پر سزا دلانے کے لئے آواز نہ اٹھائی جاتی ہو، جہاں جائیداد میں حصہ نہ دینے کی خاطر قرآن مجید سے شادی کرنے پر کوئی آواز نہ اٹھائی جاتی ہو، جہاں عورت کو کم تر ثابت کرنے کے لئے تمام مذہبی حوالے پیش کرکے اسے ناقص العقل قرار دیا جاتا ہو، تعلیم کو مردانہ اور زنانہ خانوں میں تقسیم کیا جاتا ہو ، غیرت کے نام پر قتل پر خاموشی اختیار کی جاتی ہو، کارو کاری اور ونی کی رسموں کو ملا سسٹم سپورٹ کرتا ہو ، جہاں شرمین چنائے کے ایوارڈ پر اس پر دشنام طرازی کی جاتی ہو، مردوں کے لئے زندگی کی ہر خوشی اور مستی جائزاور حلال بتائی جاتی ہو اور عورت کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے پر بے حیا اور بے غیرت ہونے کے طعنوں سے نوازا جاتا ہو اور قدم قدم پر ارضی عورت کو صرف جنس زدہ ناپاک مخلوق ہونے کااحسا س دلاتے ہوئے صرف آسمانی حوروں کی تعریفوں میں زمین آسماں کے قلابے ملائے جاتے ہوں، وہاں یہ فرمان جاری کرنے والے حضرات کہ حقوق دے دیے گئے ہیں، ذرا اپنے گریبانوں میں جھانک لیں۔ اگر آ ج کسی سطح پر چند اصلاحات کے ساتھ بہت پہلے دیے گئے حقوق کی پاسداری کا کوئی سبب بن ہی گیا ہے تو اس کی حمایت کرکے اچھے اور رحم دل انسان ہونے کا ثبوت دیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

  • 23-04-2016 at 10:49 am
    Permalink

    آپ نے بالکل صحیح لکھا۔ جسم آزاد کر لینا دماغ آزاد کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ وقت لگے گا یہ سمجھ آتے آتے۔

Comments are closed.