پنجاب اسمبلی پر بغاوت کا مقدمہ


sheraniاسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ کونسل کے ہر اجلاس کے بعد کوئی ایسا مضحکہ خیز بیان دیں گے کہ لوگ حیرت سے انہیں دیکھیں اور وہ خود آنکھیں مٹکاتے ہوئے اس بات پر خوش ہوں کہ دیکھیں کیسی دور کی کوڑی لایا ہوں کہ ہر کسی کو حیرت زدہ کر دیا۔ اس بار بھی انہوں نے پنجاب اسمبلی میں گزشتہ ماہ کے آخر میں عورتوں کے تحفظ کے لئے منظور ہونے والے بل پر تبصرہ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پنجاب اسمبلی پر آئین کی شق 6 یعنی بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے کیوں کہ یہ قانون منظور کرنے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے حاصل نہیں کی گئی۔ یہ قیاس کیا جا سکتاہے کہ بغاوت کی شق کے تحت چوںکہ موت کی سزا دی جا سکتی ہے اس لئے مولانا شیرانی کا مقصد یہ ہو گا کہ پنجاب اسمبلی کے ان تمام ارکان کو ملک و قوم کا باغی قرار دیتے ہوئے موت کی سزا دے دی جائے جنہوں نے عورتوں کی حفاظت کے لئے ایک بل منظور کرنے کی جسارت کی ہے۔ کیوں کہ اگر مولانا کی مراد پنجاب اسمبلی کی عمارت ہے تو اسے نہ تو پھانسی دی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس سے مولانا کا غصہ ٹھنڈا ہو سکتا ہے۔ البتہ عمارت کو گرانے کا حکم ضرور حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ مولانا شیرانی کو ملک کا نظام سنجیدہ انسان سمجھنے پر تیار ہو۔

یہ المیہ ہے کہ حکومت نے ایک ایسے شخص کو ملک کے ایک اہم آئینی ادارے کا سربراہ مقرر کیا ہوا ہے جو اپنی حرکتوں اور بیانات سے اس ادارے کے لئے باعث شرمندگی بنا ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی موصوف ایسے کئی بیانات دے چکے ہیں جن پر عمل کرنے کی صورت میں ملک میں انتشار اور بدامنی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عمر رسیدہ چیئرمین ایک موقع پر اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک رکن سے دست و گریبان ہو کر بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایک غیر سنجیدہ اور ناقابل اعتبار شخص ہیں۔ لیکن بدنصیبی کی بات ہے کہ وہ عالم دین بھی کہلاتے ہیں اور اپنی بے تکی باتوں کو شریعت اور اسلام کا حکم قرار دینے پر اصرار بھی کرتے ہیں۔ اگر بات ان کے زیر نظر بیان تک ہی محدود رکھی جائے تو بھی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ جس غیر ذمے داری اور قیاس کی بنیاد پر حد جاری کرنے والے رویہ کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ ہرگز اسلامی اصولِ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پنجاب اسمبلی پر بغاوت کا مقدمہ قائم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس قانون پر اسلامی نظریاتی کونسل ابھی غور کرے گی۔ گویا کسی معاملہ کا جائزہ لینے سے پہلے ہی ایک مقدس دینی رہنما نے یہ طے کر دیا ہے کہ بغاوت کا ارتکاب تو ہو چکا، اب باقی تفصیلات بعد میں آتی رہیں گی۔ اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہ اس قانون پر کیوں غور نہیں ہو سکا مولانا شیرانی فرماتے ہیں کہ یہ قانون انگریزی زبان میں ہے جسے کونسل کے ارکان سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اب اس کا اردو میں ترجمہ کروایا جائے گا تاکہ اسلامی نظریاتی کونسل اس کے حسن و قبح پر گفتگو کر سکے۔ ان معلومات کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کونسل کے چیئرمین صرف سنی سنائی باتوں کو بنیاد بنا کر ملک کی سب سے بڑی صوبائی اسمبلی کے ارکان کے خلاف ایک ایسا مقدمہ درج کروانا چاہتے ہیں جس کی سزا موت ہے اور سزا پانے کے بعد متعلقہ شخص بغاوت جیسے ذلت آمیز فعل کا مرتکب قرار پائے گا۔ تاہم مولانا موصوف یہ مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کیوں اس الزام میں پنجاب اسمبلی کے 200 کے لگ بھگ اراکین کو باغی قرار دلوانا چاہتے ہیں۔ کیا یہ صاف بہتان طرازی نہیں ہے اور کیا یہ الزام عائد ہوتے ہوئے وہ خود جھوٹ بولنے کے مرتکب نہیں ہوئے۔ مولانا کو شریعت کی اپنی ہی تشریح و تفہیم کی روشنی میں خود طے کرنا چاہئے کہ کیا ان خصوصیات کا حامل شخص یعنی جو بہتان لگاتا ہو اور جو جھوٹ بولتا ہو… اس منصب عالی پر رہنے کا حقدار ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل شریعت کی روشنی میں مشاورت کے لئے قائم کی گئی ہے۔ اگر اس کا چیئرمین بنیادی اسلامی اخلاقی معیار پر ہی پورا نہیں اترتا تو اس ادارے سے بہتری اور خیر کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک رکن نور احمد شاہ نے اس حوالے سے زیادہ متوازن اور ذمہ دارانہ بات کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے عورتوں کے تحفظ کے قانون پر اگرچہ میڈیا میں بیان بازی ہو رہی ہے لیکن مجھ سمیت بہت کم لوگوں نے اس مسودہ قانون کا مطالعہ کیا ہے۔ اس لئے ایسے کسی شخص کو اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہئے جس نے اسے نہیں پڑھا۔ یہی بنیادی اصول اور قاعدہ ہے۔ کسی قانون پر تنقید یا اسے بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار غلط نہیں ہے لیکن کسی ایسے قانون کے خلاف جو عورتوں کے تحفظ کے نقطہ نظر سے بنایا گیا ہو، اسے جانے اور سمجھے بغیر مہم جوئی کرنا غیر اخلاقی تو ہے ہی، کیا یہ غیر اسلامی بھی ہے؟ اس کا فیصلہ مولانا شیرانی کو اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں کرنا چاہئے۔

پنجاب اسمبلی میں یہ قانون منظور ہونے کے بعد ساہیوال میں ایک بھائی نے دو بہنوں کو اور لاہور میں ایک باپ نے بیٹی کو قتل کر دیا۔ آج رحیم یار خان کی ایک پنچایت کے 4 ارکان کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک قتل کے مقدمہ میں ” انصاف “ کرنے کے لئے قاتل کی 9 سالہ بہن کو مقتول کے خاندان کو ونی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس طرح عورتوں کی تجارت کون سے شرعی ضابطے کے تحت جائز ہو سکتی ہے؟ لیکن ایسی کسی بے قاعدگی پر کسی عالم دین کو بیان دینے، قبیح سماجی رسوم کو ختم کروانے کی مہم چلانے یا عورتوں کے تحفظ کے لئے کام کا آغاز کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ لیکن اگر کوئی حکومت عورتوں کی حفاظت اور گھریلو تشدد کا شکار ہونے کی صورت میں انہیں سہولتیں فراہم کرنے کا عزم ظاہر کرتی ہے تو اس میں فوری طور پر اسلام کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

دین کے زعما کے اس چلن کو اب قبول نہیں کیا جا سکتا۔ وہ مذہب اور سیاست میں تمیز کرنے کی بجائے سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کا نام استعمال کرتے رہے ہیں۔ عورتوں کے بارے میں قانون کے خلاف مولانا فضل الرحمان کی اشتعال انگیزی، فقرے بازی اور دھمکیاں ان کی سیاسی ضرورتوں کا نتیجہ ہیں۔ ایسے شخص کی باتوں کو دین کا حکم سمجھ کر کیوں اور کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی بھی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ہی لیڈر ہیں۔ انہوں نے اس قانون کے بارے میں اپنے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ اسے پڑھے بغیر وہ کوئی رائے نہیں دے سکتے۔ لیکن اسی بیان میں انہوں نے عورتوں کو قانون کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اسلام عورتوں کو مناسب حقوق اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اگر مولانا سے انہی کے طرز استدلال میں بات کی جائے تویہ پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ کا شکوہ تو یہ ہے کہ اس ملک میں اسلام نافذ نہیں کیا جا رہا۔ اگر ملک میں اسلامی قوانین نافذ ہی نہیں ہیں تو عورتیں اس کے تحت حاصل ہونے والا تحفظ حاصل کرنے کہاں جائیں؟

مولانا شیرانی نے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کے طور پر جس غیر ذمہ داری اور دروغ گوئی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی روشنی میں انہیں فوری طور پر اس عہدہ سے استعفیٰ دینا چاہئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل، اس کے اراکین اور چیئرمین کو کسی بھی معاملہ پر بات کرتے ہوئے صرف دینی پہلو سے بات کرنی چاہئے اور اسلامی اصولوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ مولانا شیرانی کے طرز عمل سے واضح ہے کہ وہ اس فقہی پوزیشن کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایسا شخص دینی معاملات میں قوم کی رہنمائی کرنے کے قابل نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “پنجاب اسمبلی پر بغاوت کا مقدمہ

  • 05-03-2016 at 7:16 pm
    Permalink

    JUB TUK PML N EE HUKOOMUT QAAEM HAY OSS WAQT TUK MOLANA SHAIRANI ORE MOLANA FAZLUR REHMAN SAMAIT ENN KAY 10 ARAKEEN KO HUTTANA MUSHKEL HAY.

Comments are closed.