عمران خان اور کشمیر کا ”ذلیل آدمی“۔


کل عمران خان نے پاناما فیصلے پر جشن فتح منایا اور ایک بہت کم وقت میں بہت بڑا جلسہ کر کے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ پنجاب کے شہری علاقوں میں اب بھی وہ ایک بڑا اور جذباتی وابستگی رکھنے والا متحرک ووٹ بینک رکھتے ہیں۔

عمران خان کی تقریر میں کئی نکات سے مکمل اتفاق ہے۔ وہ اپنے والد، جمائمہ اور باقی معاملات میں مسلم لیگ ن کی طرف سے چلائی جانے والی انتہائی غیر اخلاقی مہم کا ذکر کر رہے تھے اور ان کے ساتھ مکمل اتفاق تھا کہ مسلم لیگ ن روایتی طور پر الیکشن میں فریق مخالف کے خلاف نہایت غیر اخلاقی حربے استعمال کرتی رہی ہے۔ بے نظیر، نصرت بھٹو اور جمائمہ کی کردارکشی کے معاملات کون بھول سکتا ہے۔

بات یہاں تک رہتی تو اچھا تھا۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنے مستقبل کے عزائم ظاہر کرنے شروع کیے۔ پہلے سارا فوکس نواز شریف کو وزیراعظم کی کرسی سے ہٹانے کے لئے تھا۔ اب عارضی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مستقبل کے مستقل وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف بھی مہم چلانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کیا صرف اسی وزیراعظم کو قبول کیا جائے گا جو تحریک انصاف کا ہو گا؟ کیا تحریک انصاف کے اس وزیراعظم کے خلاف باقی پارٹیاں اس سے بدتر مہم نہیں چلائیں گی؟ کیا ہمارے ملک کا سربراہ اپنی سیٹ بچانے کے علاوہ کبھی کسی معاملے پر غور کر سکے گا؟

اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ شیخ رشید صاحب کو تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم کا امیدوار نامزد کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ کوئی دوسری جماعت انہیں ووٹ نہ دے۔ اسی تقریر میں عمران خان نے آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان صاحب کے خلاف مہم شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ شیخ رشید تو خیر پیپلز پارٹی کے کارکنان کے لئے بے نظیر بھٹو کے خلاف رکیک زبان استعمال کرنے کی وجہ سے ناقابل قبول ہیں ہی، مگر اب پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں کو نواز مخالف صف سے نکال کر نواز شریف کے پیچھے کھڑا کر دیا گیا ہے۔

چلیں بات یہاں تک بھی رہتی تو اچھا تھا۔ لیکن جو موقف عمران خان نے وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر صاحب کے خلاف اختیار کیا ہے، کیا اسے جائز کہا جا سکتا ہے؟ کیا کسی صف اول کے قومی لیڈر کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ دوسرے لیڈروں کو اپنی ایسی لائیو تقریر میں جو لاکھوں لوگ دیکھ رہے ہیں، گالیاں دے اور اسے بار بار ”ذلیل اور گھٹیا آدمی“ کہہ کر پکارے؟ اب بندہ کیسے کہے کہ یہ مسلم لیگ ن سے بہتر اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

ایک دن پہلے روزنامہ جنگ نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سے منسوب کر کے اپنی دوسری شہ سرخی یہ دی تھی کہ ”اب سوچیں گے کہ کس ملک سے الحاق کرنا ہے“۔

سب سے پہلے تو ریاست کشمیر کا سٹیٹس دیکھتے ہیں کہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مبنی پاکستان کا سرکاری موقف یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں استصواب رائے کرایا جائے اور اس ریاست کے باشندے یہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے پاکستان سے الحاق کرنا ہے یا بھارت سے۔ کیا عمران خان کو اس بنیادی بات کا علم نہیں ہے؟ اگر فاروق حیدر صاحب نے ایسا کہا بھی ہوتا تو وہ اس حق کے تحت بات کر رہے ہیں جو ریاست پاکستان سنہ 1947 سے ان کو دلوانا چاہتی ہے۔

لیکن پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ راجہ فاروق حیدر کے اس بیان کا سیاق و سباق کیا تھا۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی فرحان احمد خان اس معاملے کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

”سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے نواز شریف کی نا اہلی کے بعد کی گئی ابلاغی نمائندوں سے ایک نشست میں فاروق حیدر نے اعلیٰ عدلیہ کے اس فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کی گفتگو کا حاصل یہ تھا کہ غیر جمہوری قوتوں کی ایماء پر پاکستان کے منتخب وزیر اعظم کو نا اہل قرار دے کر عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نے استفہامیہ انداز میں کہا کہ کیا قائداعظم اور علامہ اقبال نے اسی پاکستان کا خواب دیکھا تھا؟ اگر ایسا ہے تو مجھے بحیثیت کشمیری سوچنا پڑے گا کہ میں کس ملک سے ( اپنی ریاست کا ) الحاق کروں۔ ان کے یہ الفاظ ویڈیو کی صورت میں محفوظ ہیں اور اب تک بہت سے چینلز نشر بھی کر چکے ہیں“۔

فاروق حیدر صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ جناح اور اقبال کا پاکستان چاہتے ہیں۔ دوسرا پاکستان انہیں قبول نہیں ہے۔ یاد رہے کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کے صوبے کی حیثیت رکھنے کی بجائے ایک الگ ریاست کے طور پر وجود برقرار رکھے ہوئے ہے جس کا اپنا آئین، صدر، وزیراعظم، اسمبلی اور سپریم کورٹ ہے۔ یاد رہے کہ جب بھی کبھی کشمیر میں استصواب رائے ہوا تو یہ کشمیریوں کا پاکستان پر احسان ہو گا کہ وہ پاکستان سے الحاق کے حق میں ووٹ دیں۔ باقی پاکستان کے لوگ تو جغرافیے کی وجہ سے پاکستان میں شامل ہوئے تھے مگر ریاست جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگ تو خود ہتھیار اٹھا کر اور جنگ میں جانیں دے کر پاکستان میں شامل ہوئے تھے۔

کشمیر کے اس عبوری آئین میں 1973 کے پاکستانی آئین کی شق 6 بھی شامل نہیں ہے۔ کس بنیاد پر عمران خان ان کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرتے ہوئے ان پر گالیوں کی بوچھاڑ کر رہے ہیں؟ کشمیر کے آئین میں تو غدار کا لفظ ہی شامل نہیں ہے۔ کیا عمران خان اس بات سے ناواقف ہیں کہ پاکستان کے آئین اور قانون کے دائرہ کار سے آزاد کشمیر باہر ہے؟ اس سے بھی بڑھ کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا عمران خان نے 1973 کا آئین پڑھا ہے اور وہ یہ بات جانتے ہیں کہ آئین کا آرٹیکل 6 کیا کہتا ہے اور کیا عمل کرنے والے پر غداری کا مقدمہ چلانے کی بات کرتا ہے؟

افسوس کی بات یہ ہے کہ کتاب پڑھنے والی آخری وزیراعظم بے نظیر بھٹو تھیں۔ اب کسی پڑھے لکھے وزیراعظم کا پاکستان میں مستقبل قریب میں کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ہے۔

یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آزاد کشمیر کا عبوری آئین کیا کہتا ہے۔ آئین کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ ”ریاستِ جموں و کشمیر کا سٹیٹس اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست کے لوگوں کی اقوام متحدہ کے تحت جمہوری طریقے سے حاصل کی گئی آزادانہ رائے سے متعین ہونا ہے۔ ۔ ۔“

آگے جا کر اس آئین میں وزیراعظم آزاد کشمیر کے حلف میں یہ الفاظ بھی شامل ہیں کہ ”میں ملک سے اور ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے کاز سے وفادار رہوں گا“۔

زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ عمران خان کی یہ تقریر رات گیارہ بجے کے قریب تھی جبکہ دن کے تین بجے کے قریب راجہ فاروق حیدر صاحب اپنی پریس کانفرنس میں بھارت سے الحاق کا سوچنے کی خبر کی تردید کر چکے تھے اور پاکستان سے مکمل وفاداری اور محبت کا اظہار کر چکے تھے۔

اگلے دن 31 جولائی کو ڈیڑھ بجے ایک اور پریس کانفرنس میں راجہ فاروق حیدر نے یہ کہا کہ ”کشمیری پاکستان سے الحاق کو زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ میڈیا گروپ نازک معاملات پر احتیاط سے کام لیں۔ کشمیر کا الحاق کسی دوسرے ملک سے کرانے کی خبر بے بنیاد ہے۔ میں نے کہا تھا کہ اس پاکستان کے ساتھ رہوں گا جو قائداعظم کا ہے۔ کیا آزاد کشمیر کے کسی بھی منتخب وزیراعظم کی اس طرح تضحیک جائز ہے؟ میں میڈیا ہاوسز سے کہتا ہوں کہ آپ اپنی جنگ میں پلیز کشمیر کے ایشو کو اس طرح غلط استعمال نہ کریں یہ بڑا نازک معاملہ ہے۔ یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔ کہ اس طرح سے آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر یہ الزام لگایا جائے اور ہندوستان کے میڈیا کو یہ موقع دیا جائے کہ آزاد کشمیر کا وزیراعظم یہ کہتا ہے کہ ہم سوچیں گے“۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ راجہ فاروق حیدر نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں نامناسب الفاظ استعمال کیے ہیں اور وہ بھی عمران خان اور شیخ رشید پر ذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔

کاش ہمارے یہ منتخب لیڈر اخلاق کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑیں، اور معاملات کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش کیا کریں۔ کشمیریوں کا احسان مانیں، انہیں پاکستان سے دور مت دھکیلیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 630 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar