امجد اسلام امجد، ایان علی اور ہماری گمنامی


naseer nasirگمنامی بڑی نعمت ہے۔ بندہ جو مرضی کرے نہ کرے، جہاں مرضی آئے جائے اور چاہے تو کہیں بھی آئے نہ جائے، کسی کو آنکھوں آنکھ اور کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ اگر آپ شاعر ادیب ہیں تو روز روز کی کانفرنسوں، مشاعروں، پذیرائیوں، رونمائیوں منہ دکھائیوں سے محفوظ رہتے ہیں، یوں سکہ بند شرکاء اور ہر جگہ حاضر باش پیشہ ور “شہرتیوں” کی حق تلفی بھی نہیں ہوتی۔ ایک گمنامی ہزار سکھ ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم گمنام رہنا پسند کرتے ہیں۔ ہماری گمنامی کا یہ عالم ہے کہ جس اخبار کے لیے ہم کالم لکھتے ہیں انھیں بھی نہیں پتا کہ ہم کون ہیں، کیا ہیں، کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں کرتے، کیا لکھتے ہیں اور کچھ لکھتے بھی ہیں یا نہیں۔ گزشتہ دنوں بلند فشارِ خون سے ہماری ایک آنکھ میں جفتے پڑ گئے۔ اس پر ہم نے اخبار والوں کو ” ایک آنکھ سے لکھا گیا کالم” بھیجا جو فوراً چھپ تو گیا لیکن مجال ہے کہ اخبار کے جملہ مالکان، ایڈیٹران کو کچھ علم ہوا ہو کہ ہماری ایک آنکھ مونث ہونے کے باوجود “صاحبِ فراش” ہے۔ ان کی مدیرانہ بے نیازی اپنی جگہ مگر ہماری بھی کوئی گمنامی سی گمنامی ہے۔

نظموں کی طرح ہم اپنے کالموں میں بھی پیشین گوئیاں کرتے رہتے ہیں جن میں سے کچھ پوری ہو جاتی ہیں اور کچھ کے پوری ہونے کے قوی امکانات ہیں لیکن وائے گمنامی کہ اخبار والے پھر بھی ہماری مستقبل بینی سے آگاہ نہیں۔ ہم نے ایک کالم میں یورپ میں کسی بڑے فالس فلیگ کی بات لکھی تھی جس کے تھوڑے ہی عرصہ بعد پیرس میں دہشت گردی کا ایک بڑا واقعہ ہو گیا۔ ہم پھر کہے دیتے ہیں، آف دی کالم سہی، ابھی اور فالس فلیگ ہوں گے۔ اسی طرح ایک کالم میں ہم نے یورپی یونین کے ٹوٹنے کی پیش بینی کی جس کے چند ہی دنوں بعد جرمنی کے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں ہمارے اس خدشے کی تصدیق کر دی۔ ہم اگر اتنے عامی گمنامی نہ ہوتے تو صفحہ ء اول پر سرخی لگتی کہ ہمارے ایک کالم نگار نے پہلے ہی اپنے کالم میں یہ سب کچھ “بریک” کر دیا تھا۔ مگر کمالِ گمنامی دیکھیے کہ ہمارے اخبار والوں کو ان تجزیوں کی بھنک بھی نہیں پڑی اور نہ انہوں نے قارئین کو ہماری فردا شناسی کی ہوا لگنے دی ہے۔ یہی باتیں اگر ایان علی یا ریحام خان کے دہانِ مبارک سے نکلتیں تو Ayyan-Ali-Love-to-show-HOT-cleavageاشتہار لگائے جاتے اور اخبار کی ریٹنگ بڑھنے کے دعوے کیے جاتے۔ لیکن وہ، ایک ڈالر شناس دوسری حقیقی تبدیلی پسند، ایسی قیاسی باتیں کہتی ہی کیوں؟ ویسے ہمارے ہاں دانشوری اور مشہوری کے لیے جو لوازم درکار ہیں وہ ان دونوں قابل صد احترام خواتین میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ ہم انہیں مستقبل قریب کی نامور “کالم نگارائیں” سمجھتے ہیں۔ ہم نے اپنی نظموں میں گلف وار، نیو ورلڈ آرڈر، اکتوبر 2005ء کے زلزلے اور اوباما یعنی امریکہ کے پہلے کالے صدر کی پیش گوئیاں بھی کر دی تھیں مگر افسوس کہ اس ماضی پرست قوم نے ہماری قدر نہیں کی۔ اس سے تو بہتر تھا ہم شاعری کے بجائے کسی فٹ پاتھ پر طوطا فال کا ٹِھیا لگا لیتے اور کچھ نہیں تو پروفیسر ہی مشہور ہو جاتے۔

ہم جس ہاؤسنگ سوسائٹی، جس اسٹریٹ میں رہتے ہیں، جی ہاں آجکل گلیاں محلے نہیں سوسائٹیاں اور اسٹریٹس ہوتی ہیں، وہاں ہم اتنے گمنام ہیں کہ بعض اوقات گھر والے بھی پوچھنے لگتے ہیں کہ آپ کون؟ ایک بار ہماری ایک پڑھی لکھی عزیزہ نے پوچھا کہ بھائی جان آپ بھی شاعری کرتے ہیں؟ ہم نے شرماتے ہوئے سچ بتا دیا۔ کہنے لگیں اچھا آپ “فلاں” شاعر جیسی شاعری کرتے ہیں یا کسی اور قسم کی۔ ان “فلاں” شاعر کا نام سن کر ہمیں اپنے اعترافِ شاعری پر وہ شرمندگی ہوئی کہ مثل یاد آ گئی الاَقارِبُ کالعَقارِب۔ ہم نے ان کے ادبی ذوق کی داد دیتے ہوئے چند نامی گرامی شعرا کے نام پوچھے۔ جھٹ سے تین زبان زدِ عام شاہان کے نام لیے اور چوتھے امجد شاہ۔ ہم نے پوچھا امجد شاہ کون ہیں ہم نے کبھی انھیں سنا نہ پڑھا۔ حیران ہو کر بولیں کمال ہے آپ کو امجد اسلام امجد کا نہیں پتا! ہم نے کہا انھیں تو ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور تھوڑی بہت راہ و رسم بھی ہے لیکن وہ شاہ کب سے ہو گئے ہیں۔ فرمایا اگر باقی تینوں شاہ ہو سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں، وہ تو ان سے زیادہ مشہور ہیں۔ ہم ان کے اس جواب پر لاجواب ہو گئے اور سمجھ گئے کہ مشہور ہونے کے لیے پِیروں کی طرح شاعروں کا شاہ ہونا ضروری ہے۔ ہم نے آخری حربے کے طور پر پوچھا کہ اچھا آپ نصیر احمد ناصر کو جانتی ہیں۔ بے دلی سے بولیں ہاں نام سنا ہے، پتا نہیں کیسے شاعر ہیں نہ مشاعروں میں دکھائی دیتے ہیں نہ ٹی وی پر نہ کسی تقریب میں، لگتا ہے گمنام سپاہی ہیں اور پھر شوخ لہجے میں کہنے amjadلگیں جیسے ہماری ادبی معلومات پر شک کر رہی ہوں کہ آپ اتنے گمنام بلکہ بے نام شاعر کو کیسے جانتے ہیں۔ دوسرا سانحہ اس سے بھی عبرتناک ہے۔ ہمارے چھوٹے بھائی نے بتایا کہ یونیورسٹی کے زمانے میں کسی مشاعرے میں اسے زبردستی مہمانِ خصوصی بنا دیا گیا۔ اس نے ادبی رسالوں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر کسی کی ایک غزل نقل کی اور مشاعرے میں دیدہ دلیری سے پڑھ دی اور خوب داد وصول کی۔ ہم نے پوچھا کہ کس کی شاعری پر مشاعرہ لُوٹا۔ ہنس کر بولا بھائی جان صحیح یاد نہیں، شاید نصیر احمد ناصر نام تھا۔ اب آپ ہی سوچیں کہ جب عزیز و اقارب کا یہ حال ہے تو پاس پڑوس کے لوگوں کو خاک معلوم ہو گا کہ ہم شاعر ہیں۔ یہ تو صرف اپنے وحید احمد کو پتا ہے کہ “ہم شاعر ہوتے ہیں”۔ لیکن وحید احمد نے بھی یہ صرف اپنے بارے میں کہا ہے ہمارے یا کسی اور شاعر کے بارے میں نہیں۔ ایک بار تو حد ہو گئی۔ گلی کے ایک صاحب صبح کی سیر کے دوران ملے اور ساتھ چلنے لگے۔ بعد از ذکر نماز روزہ، شعر و ادب پر بات چلی تو اپنے ذوقِ سلیم کی خود ہی تعریف کرتے ہوئے ہمیں ہماری ہی ایک اچھی خاصی نظم وزن بگاڑ کر سنانے لگے۔ جب ہم نے بتایا کہ حضور یہ ہماری نظم ہے جس کا اصل متن یوں نہیں اور ہم ہی نصیر احمد ناصر ہیں تو انھیں یقین نہ آیا اور ہونقوں کی طرح ہمارا منہ دیکھنے بلکہ چڑانے لگے۔ پھر مسکرا کر فرمایا آپ تو شاعر نہیں لگتے اور نصیر احمد ناصر تو بالکل نہیں لگتے، آپ ایسی نظمیں نہیں لکھ سکتے۔ ہم نے انھیں قائل کرنے کے لیے اپنی زیرِ ناک مشہورِ نسواں سفید مونچھوں کی قسم کھائی مگر ان کی بے یقینی ختم نہ ہوئی۔ ہم نے اپنی گمنامی کی لاج رکھنے کے لیے ان سے اجازت لی اور تیز تیز قدموں سے آگے نکل گئے۔

یقین کیجیے ہمیں اپنے دوستوں سے بھی ہر ملاقات پر اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے۔ ہم تو خیر شکل و صورت، حلیے اور معمولات کہیں سے شاعر نہیں لگتے، ہمارے “ادب ناک” معاشرے میں سچ مچ کے بڑے ادیبوں شاعروں کو بھی کوئی نہیں جانتا۔ ایک بار ہم سرگودھا ڈاکٹر وزیر آغا کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ شام کو ایک دوست کے ساتھ مٹر گشت کرنے نکلے اور گھومتے گھامتے خاصے دور چلے گئے۔ واپسی پر آغا صاحب کا گھر بھول گئے۔ ایک راہگیر سے پوچھا ڈاکٹر وزیر آغا کا گھر کس طرف ہے؟ جواباً وہ ایک موٹی سی گالی دے کر بولا خدا ان ڈاکٹروں سے بچائے جو فیس لے کر اچھے خاصے صحت مند بندے کو بھی مریض بنا دیتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس واقعہ کے بعد مذید کچھ لکھنے لکھانے کی گنجائش نہیں  ورنہ گمنامی کی رہی سہی “شہرت” بھی جاتی رہے گی۔۔۔  مشہور ہو نہ جائیں یہ گمنامیاں کہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “امجد اسلام امجد، ایان علی اور ہماری گمنامی

  • 05-03-2016 at 8:53 pm
    Permalink

    ںصیر احمد ناصر بھائی، آپ کے اس مزیدار کالم کے آخری پیرے سے مجھے اپنا پیارا دوست یاد آ گیا جو فیوڈل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا ڈاکٹر، دانشور اور موسیقی سے شغف رکھنے والا مرنجان مرنج شخص تھا، اس کا ایک بہنوئی ایک نواب کا بیٹا تھا جس نے سرعام کسی لڑکے کو گولی مار کر مار ڈالا تھا۔ بڑا آدمی تھا، جیل کی بجائے ہسپتال میں مریض بنا کر ٹھہرایا گیا۔ میرا دوست اپنے اس بہنوئی کی خیر خبر لینے گیا تو موصوف نے فرمایا،” مجھے ڈاکٹروں سے نفرت ہے، بول و براز کھنگالتے ہیں، ویسے تو بڑے بڑے ڈاکٹر بھی گذرے ہیں، جیسے ڈاکٹر علامہ اقبال” دوست نے مجھے یہ بات سنا کر کہا تھا،”یار مرزا، میرا دل کیا کہ اس کے منہ پر زور کا تھپڑ ماروں پر کیا کرتا الو کا پٹھا بہنوئی تھا؟”

    • 05-03-2016 at 9:17 pm
      Permalink

      محترم مجاہد مرزا صاحب، بات تو رونے کی ہے لیکن سمائلی کے علاوہ کیا لکھوں! ڈبل سمائلی، ایک آپ کے لیے ایک اپنے لیے 🙂 🙂

Comments are closed.