ستیہ پال جی ، تلہ گنگ آپ کا اپنا گھر ہے (2)


waqar ahmad malikستیہ پال آنند صاحب ، دوڑتے بیلوں کے پیچھے تہمند اٹھائے ننگے ہوتے کسانوں پر تنقید کیا کرنی کہ مشقت بھری زندگی میں چند لمحے نشاط کے حواس بیگانہ کر دیتے ہیں۔ ہاں ان کی اس حرکت کے بعد بیل کیوں حواس باختہ ہوتے تھے، یہ ایک ایسا موضوع ہے جو تحقیق طلب ہے۔

معلوم نہیں آپ ’وت وت‘ کرتے ہیں یا نہیں ۔ وت یعنی پھر۔۔تلہ گنگ کی زبان کی شناخت ہے۔ ہم راولپنڈی شفٹ ہوئے توبہت عرصہ تک اس بات سے لاعلم رہے کہ ہمیں ’وت وتیے ‘ ملک کہا جاتا تھا۔ کسی کو پتہ پوچھنا ہوتا، کوئی ڈاک آتی تو یہی کہا جاتا ہے کہ وہ جو ’وت وتیے‘ ملکوں کا گھر ہے اس سے ایک گلی چھوڑ کر آپ کا مطلوبہ گھر ہے۔

ہماری سادگی دیکھئے ہم نے اس وقت تک اس لفظ پر غور ہی نہیں کیا۔

سچ پوچھئے تو میں تلہ گنگ کی زبان کو ایک عالمی زبان ہی سمجھتا تھا۔

شہروں میں آئے تو معلوم ہوا یہاں کے لوگ پنجابی بولتے ہوئے وت…. وت …. نہیں کہتے۔ مایوسی ہوئی کہ ایک تو وت…. وت ….نہیں کرتے اور جوکرتے ہیں ان کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں۔

ستیہ صاحب آپ کے تلہ گنگ میں قیام کے دوران بھی زراعت کے بعد اہم پیشہ فوجی ملازمت ہی رہی ہو گی۔

سچ پوچھیے تو آج بھی غیر فوجی لوگ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتے ۔

دیکھئے اس کی کچھ نفسیاتی وجوہات بھی ہیں ۔ ہمارے اسکول کے باہر ایک بہت بڑی جھاڑی ہوا کرتی تھی۔ ہم تفریح کے وقت کھانا کھانے گھر جاتے تھے۔ جھاڑی کے دو حصے تھے ایک زیادہ بلند تھا اور دوسراکافی کم بلند ۔ یہ جو کم بلند تھا اس کے اوپر سے اسکول کے سیکڑوں بچے چھلانگ لگا کر جاتے تھے۔ اور کسی بچے نے جھاڑی کے بلند والے حصے سے کبھی چھلانگ لگانے کی سرے سے کوشش ہی نہیں کی۔ اس کی وجہ سکول کے بچوں میں برسوں سے نسل در نسل آتی ایک روایت کا عمل دخل تھا۔

Fateh jangروایت یہ تھی کہ بلند والے حصے سے صرف دو ہستیاں ہیں جو چھلانگ لگا سکتیں ہیں۔ ایک اللہ میاں اور دوسرا کوئی فوجی۔

اندازہ لگائیے کہ مذہب یا فوج کے مقدس پیرہن پر تنقید سے ہمارا خون کیوں نہ کھولے ۔ اور یہ بات ہمارے عقلی دوستوں کو سمجھ نہیں آتی ۔

کسی بھی فوجی کے فوج میں گزارے پندرہ سال بہت اہم ہوتے تھے۔ پندرہ سالوں میں وہ اتنی کہانیاں اکھٹی کر لاتا کہ اگلے چالیس پچاس سال وہ یہ کہانیاں سناتا رہتا۔ جانور چراتے ہوئے نوجوان لڑکوں کو ، گھر میں اپنے پوتوں کو۔ دلچسپ بات یہ ہے ہر کہانی میں کسی نہ کسی افسر بالا کو سرزنش ضرور شامل ہوتی۔

”پترا وت میں آکھیا کپتان آں…. میں ہوں اعوان اور تمھیں میری طبیعت کا علم نہیں ہے…. بس پھر وہ کپتان ایک میجر کے پاس گیا اور کہا کہ محمد خان صاحب بہت سخت طبیعت کے ہیں ان کو غصہ آ جاتا ہے ۔ پھر میجر نے مجھے بلایا اور کہا محمد خان یہ کپتان صاحب کیا بولتے ہیں ۔ میں نے ٹھک کر کے سیلوٹ کیا اور بچو! جب میں سیلوٹ کرتا تھا تو دس میٹر تک زمین لرزتی تھی۔ میں نے کہا صاحب اس کو سمجھا لیں میری رگوں میں خون نہیں آگ دوڑتی ہے۔ میجر نے کہا محمد خان غصہ نہ کرو یار۔۔وغیرہ وغیرہ“

ویسے آج بھی تلہ گنگ اٹک کے کسی ریٹائرڈ صوبیدار کے پاس بیٹھنا خاصے کی چیز ہے۔

دادا ایک مزے کا قصہ سناتے تھے کہ وہ بنارس میں تھے اور رینک پروموشن کے لیے کلاس ہورہی تھی۔ انگریز کپتان کہتا تھا۔ زمین اپنے محور دے گرد چکر لگاتی ہے اور گھومتی ہے ۔ میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور کہا کیسے ؟ ہمارا گھر یہاں سے مغرب کی طرف ہے ، اور گھر جانے کے لیے ہم ہمیشہ مغرب کی طرف ہی جاتے ہیں اگر زمین گھومتی ہوتی تو سال بعد ہمیں مشرق جانا پڑتا ۔ کپتان نے سمجھایا لیکن دادا کو سمجھ نہ آیا بحث جاری رہی۔ حتیٰ کہ کپتان نے ہاتھ جوڑ کر کہا ، جوان تم رینک 1مانگتا تمھیں رینک مل جائے گا۔ میری جماعت میں تم کو میں خاموش مانگتا۔ دادا ہنستے ہوئے کہتے ، میں نے اس کے بعد کوئی سوال نہیں کیا ، مسئلہ سارا رینک کا تھا ، زمین میری طرف سے جدھر مرضی گھومے!

ستیہ پال جی معلوم نہیں آپ کے وقتوں میں بٹیروں کی لڑائی کا شدید شوق تھا یا نہیں۔

لیکن آپ کی دلچسپی کے لیے ایک گاﺅں کے لاری اڈے پر بیٹھے بٹیر بازوں کا مکالمہ پیش خدمت ہے ۔

” وت ملکا ۔۔جب میرے بٹیر نے پڑ(میدان) میں قدم رکھا تو مجمع خاموش ۔۔چپ۔۔حیرت زدہ۔ بٹیر جب مخالف بٹیر کے سامنے پہنچا تو میرے ساتھ کھڑے لوگوں نے ہلتے ہو ئے کہا ۔۔دھرت ہلیا(زلزلہ آیا؟) میں نے انہیں ٹوکا اور کہا دھرت نئیں ہلیا، میرے بٹیر نے پاﺅں زور سے زمین پر مارا ہے۔ وت ملک کی ہوئیا؟ میرے بٹیر نے جب پہلا جھپٹا مارا تو دوسرے بٹیر کی ایک کھاری پروں کی سمیٹ لایا۔۔(بخدا کھاری کو کیا سمجھاﺅں کانوں کی بنی کافی بڑی سی چیز کا نام ہے اور اس میں پانچ سو سالم بٹیرا سما سکتا ہے لیکن زور بیان دیکھئے کہ بٹیر کے جھپٹنے سے دوسرے بٹیر کے اتنے پر جھڑ گئے ایک کھاری بھر جائے ۔۔لاحول ولا ۔مبالغہ کی بھی کبھی حد ہوئی ہے)

ملک صاحب وت کے ہوئیا بھلا ۔۔میرے ساتھ کھڑے صاحب نے کہا ، لگتا ہے شام ہونے لگی ہے۔ آسمان سرخ ہورہا ہے ۔

میں نے قہقہہ لگایا اور کہا ، جاہلا! سامنے دیکھ میرے بٹیر نے ایسا جھپٹا مارا ہے کہ دوسرے بٹیرے کی کلو کلو بوٹی کھینچ لایا ہے (بٹیرے کا اپنا وزن مشکل سے پاﺅ ہو تا ہے)

اور یہ جو تجھے آسمان سرخ نظر آ رہا ہے ، غور سے سامنے دیکھ یہ مخالف بٹیرے کی دھرتی پر بہتی خون کی ندیاں ہیں جن کے عکس سے آسمان سرخ ہوا جاتا ہے ۔ غور سے دیکھ یہ شام نہیں، دوپہر کے دو بجے ہیں“

کتوں اور بیلوں کی لڑائی کے حوالے سے مکالمے اور کہاوتیں بھی کمال ہے۔ آج کل کی ایک جدید تلہ گنگ کی کہاوت ہے کہ

”بیلوں کی دوڑ اور کرکٹ کا میچ اصل میں دوسرے دن ہوتا ہے“ دوسرے دن یعنی جب تبصرے کیے جاتے ہیں۔

بھنڈی پہلی دفعہ تلہ گنگ کی مارکیٹ میں آئی ایک کسان تلہ گنگ آیا اور گزرتے گزرتے نگاہ پڑی۔ عجیب وغریب شکل کی اس سبزی کو دیکھ کرحیران ہوا ۔

معصوم چہرے پر حیرت سجائے سبزی فروش سے پوچھا، سنگیا ، وت ایہہ کی اے؟

3سبزی فروش نے بے اعتنائی برتی اور کسان کی طرف نہ دیکھتے ہوئے فقط اتنا کہا، چھوڑو یہ تمھارے مطلب کی چیز نہیں ہے

کسان مزید حیرت زدہ ہوا اور شدید تجسس سے پوچھا ، بتاﺅ تو سہی آخر یہ ہے کیا؟

سبزی فروش نے رازدارانہ لہجے میں کہا، سبزی ہے مگر اناز(اناج) کی سختی ہے

یعنی اس قدر لذیذ اور مزیدار سبزی ہے کہ کھاتے ہی چلے جاﺅ گے اور تمھارے گھر کا اناج کم پڑ جائے گا

راوی اس واقعہ کو یہاں تک ہی بیان کرتا ہے۔

سبزی فروش کی مارکیٹنگ کی صلاحتیوں کا اعتراف کیجئے ۔ اناج کی کسان کے ہاں کمی نہیں ہوتی لیکن فقط تجسس کو ہوا دینے کے لیے کیا فقرہ موزوں کیا۔ کسان اس فقرے کی تاب نہ لاتے ہوئے آگے بڑھ گیا ہو گا۔ لیکن واپسی پر اس نے بھنڈی ضرور خریدی ہو گی۔ بھنڈی جیسی لیس دار سبزی پہلی دفعہ پکانے سے کیا ہوا ہوگا۔ یقینا کوئی لیس دار سی بے مزہ چیز ہی بنی ہو گی۔ لیکن یقین ہے کہ کسان نے ذائقے کو اہمیت نہ دیتے ہوئے مزے لے لے کھائی ہو گی ۔۔کیوں؟

آپ کو معلوم ہے تلہ گنگ میں چھوٹے چھوٹے کچے تربوزوں کا کیا عمدہ بھرتہ بنتا ہے ۔ ایک دفعہ ایک خاتون کچے تربوزوں کی بجائے ہڑومے لے آئی۔ ہڑومہ ایسی ترش اور خوفناک چیز ہے کہ جانور بھی اس پر منہ نہیں مارتے ، خیر خاتون نے آکر ہڑوموں کو تربوز سمجھ کر پکایا۔ خود کام کاج میں مصروف ہو گئیں لیکن اپنے شوہر جو ہمارے ایک بزرگ تھے ان کو کھانا دے دیا۔ بابا جی نے کھانا کھایااور حسب معمول خدا کا شکر ادا کیا۔

جب خاتون کام کاج سے فارغ ہوئیں اور کھانا کھانے لگیں تو پہلا نوالہ منہ میں لیتے ہی چودہ طبق روشن ہو گئے ۔

شدید کڑوے کسیلے اس نوالے کو تھو تھو کر کہ پھینکا ۔ ڈھیر سارا پانی پیا لیکن کڑواہٹ جانے کا نام نہ لے۔

خیر اس اللہ کی بندی نے شوہر سے پوچھا بندہ خدا یہ سالن تم کیسے کھا گئے؟

بندہ خدا نے جواب دیا، اب پک گیا تھا تو کھا لیا، نہ کھاتا تو اس میں ڈالا گیا گھی نمک مرچ ضائع ہو جاتا۔

غربت سے کہیں اذیت ناک شاید غربت کا خوف ہوتا ہے۔

بنجر پہاڑوں، بارانی علاقوں اور ریگستان کے باسیوں میں ایک خاص قسم کا اخلاص پایا جاتا ہے جبکہ زرخیز سر سبز پہاڑوں کے باسیوں کے ساتھ بے وفائی وغیرہ کی شناخت منسلک ہو جاتی ہے۔ زرخیز علاقوں سے بڑھ کر اگر آپ شہروں کی بات کریں تو بے وفائی اور بے اعتنائی کی شناخت مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ اور ان کو بے وفائی وغیرہ کی یہ شناخت دینے والا یہی بارانی، بنجر پہاڑوں اور ریگستان میں رہنے والا طبقہ ہے۔ لیکن نفسیاتی حوالے سے دیکھیں تو جہاں جہاں عدم زرخیزی کی وجہ سے زندگی کی بقا اور تسلسل میں دقت ہوتی ہے ۔ زندہ رہنا کسی معرکہ سے کم نہیں ہوتا وہاں ’ہم دلی ‘ یا empathy بڑھ جاتی ہے۔

جیسے تارڑ صاحب نے لکھا کہ انہوں نے ایک ہنزائی بابے کو بڑی مشقت سے ایک کھیت کے کنارے گری دیوار کو درست کرتے دیکھا۔ دو گھنٹوں کی مشقت کے بعد وہ سب پتھر اپنی جگہ پر رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ پاس سے گزرے تو تارڑ صاحب نے کہا بابا جی آپ کو اپنے کھیت کو درست رکھنے میں کتنی مشقت کرنی پڑتی ہے۔

2بابا جی نے معصومیت سے کہا، یہ میرا کھیت نہیں ہے بلکہ میرے کسی رشتہ دار کا بھی نہیں ہے۔

تارڑ صاحب نے کہا پھر آپ کیوں اتنی محنت کر رہے ہیں ۔

بابا جی نے کہا میں گزر رہا تھا تو پتھر گرے دیکھے ، کھیت کے مالک کو بھی تو وقت لگانا ہی تھا ۔۔میں نے لگا دیا ، کیا فرق پڑتا ہے۔

بابا جی کے اس عمل کو شہری یا زرخیز زمینوں کے مالک ہونے کی عینک سے دیکھیں تو عجیب لگتا ہے لیکن جہاں زندگی اتنی تکلیف دہ ہو کہ دو گھڑے پانی لانے کے لیے روزانہ چار کلومیٹر کا سفر کرنا پڑے وہاں ہم دلی خود بخود فروغ پاتی ہے ۔ اس کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ ایسی سرزمین کے باسی کو یہ بات ہضم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ شہروں میں پڑوسی ایک دوسرے کو کم جانتے ہیں یا سر ے سے جانتے ہی نہیں ۔ کتنی دلچسپ صورتحال ہے کہ عدم زرخیز علاقوں کے باسی کوناپسندیدہ شخصیت کے ساتھ بھی گزارا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن شہر میں ایک گھر اگر مالی حوالے سے آسودہ ہے اور تمام ضروریات زندگی اسے حاصل ہیں تو کسی کے ساتھ تعلق رکھنا اس کی چوائس بن جاتا ہے۔

یہ ہم اس قدر سنجیدگی کی جانب کیوں چل پڑے ۔۔ستیہ صاحب روکتے بھی نہیں آپ۔ میں تو فقط یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ تلہ گنگ آپ کا اپنا گھر ہے۔ ایسی ڈھوکیں آج بھی میرے علم
میں ہیں جہاں وقت سو برسوں سے ٹھہرا ہوا ہے۔ آپ آئیے ، آپ کو ماضی کی یادوں کے حوالے سے تسکین حاصل ہوگی ۔

(اس سلسلے کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے لنک


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

3 thoughts on “ستیہ پال جی ، تلہ گنگ آپ کا اپنا گھر ہے (2)

  • 06-03-2016 at 7:50 pm
    Permalink

    وت محمد خان ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ لگدا اے تلہ گنگیاں ایہہ ناں بہوں پسند اے

  • 06-03-2016 at 9:28 pm
    Permalink

    Waqar Malik Sb, I don’t have words to praise what you wrote, though I’m not from Tala Gang, I’m from Multan… but one of my friend lives in Kot Sarang I told him that Sattiah Pal Anand belongs to Tala Gang, he was happy to know this….

  • 07-03-2016 at 3:34 pm
    Permalink

    وت باورچی خانے نوں رسوئی آکھنے نے ۔

Comments are closed.