باب در مدح پاکستان سپرنگ


اسلامیان مملکت کو مبارک ہو کہ نیا سویرا طلوع ہو چکا ہے۔ وہ خواب جسے صدیوں سے دیکھتے دیکھتے ہمارے اسلاف نے اپنی آنکھیں پتھر کر لی تھیں، وہ خواب شرمندئہ تعبیر ہوا۔ نرگس ہزاروں سال اپنی بے نوری پر روتی رہی اور اچانک ایسی واردات ہوئی جو دیدہ ور تھی۔ دیکھنے والے انگلیاں منہ میں دبائے دیکھتے رہے، سننے والے پہلو بدل بدل کر سنتے رہے اور لکھنے والوں کی دواتیں لکھ لکھ کر خالی ہو گئیں تو وہ انقلاب آ گیا۔ وہ عظیم الشان تبدیلی جس کے انتظار میں ہم نے اڑسٹھ برس پہلے مارچ 1949ء میں پہلا قدم مل کر اٹھایا تھا وہ ہمیں آج نصیب ہو گئی۔ امت شاداں و فرحاں ہے، جھومتی ہے، گاتی ہے، مٹھائیوں کی دکانوں پر مکھیاں الگ پریشان ہیں، شیرا تک بِک گیا۔ سڑکوں پر، شاپنگ مالز میں، گھروں میں خوشی کی دو دو لہریں دوڑ رہی ہیں۔ ایک تو وہ مسرت کہ جو منزل سامنے دیکھ کر تھکے ہوئے مسافروں کے چہرے پر آتی ہے اور دوسرے وہ شادمانی جو حق کی فتح کا نصیب ہے۔

سجدہ شکر سے اٹھ کر آسمان پر نظر جاتی ہے تو خلاؤں میں دور دور تک سفید پرندے اڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ آج ان کی اڑان میں بھی کچھ نیا پن ہے، یا شاید محسوس ہو رہا ہے۔ وہ اڑتے اڑتے تھوڑی دیر کے لیے پر ساکن کرتے ہیں اور ہوا میں تیرتے ہوئے سے دوبارہ اڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ آج وہ اکٹھے ہو کر اڑ رہے ہیں اور لگتا ہے کہ اگر وہ ناچنا جانتے تو زمین پر آ کر کھلتے چہروں کے ہم رقص ہوتے۔ پودوں پر بھی عجب بہار ہے، چنبیلی اور موتیے تک کے پھولوں میں گویا قوس قزح کے رنگ چھلکتے ہیں۔

دروازہ کھول کر گلی میں جھانکیے تو ہر شخص زرق برق لباس میں ہے۔ رکشے والے کلف لگے ہوئے سفید جوڑوں میں ہیں، بھٹہ مزدور اپنی فیملیوں سمیت پکنک منا رہے ہیں۔ گھروں میں کام کرنے والے بچے جن پر پہلے تشدد ہوا کرتا تھا آج وہ آزاد ہیں۔ ان کے چہروں سے پھوٹنے والی خوشی کی کرنیں سات آسمانوں کو بقعہ نور بنائے ہوئے ہیں۔ وہ میدانوں میں الل بچھیروں کی طرح ناچتے پھر رہے ہیں، کوئی نہر میں الٹی چھلانگیں مار رہا ہے، کوئی اپنے ماں باپ کے ساتھ بیٹھا پیٹ بھر کے روٹی کھا رہا ہے۔ وہ روٹی جو اس نے خود نہیں کمائی بلکہ اس یادگار انقلاب کے بعد اسے نصیب ہوئی ہے۔

مائیں، بہنیں، بیٹیاں قوموں کی عزت جن سے ہے، وہ دوپٹے اٹھا اٹھا کر رب ذوالجلال کا شکر ادا کر رہی ہیں کہ اس مختصر زندگی میں انہیں وہ دن دکھلا دیے کہ جن کا تصور کرنا بھی محال تھا۔ انہیں ان کے تمام انسانی حقوق مل چکے ہیں، نہ ان پر کسی کی ناجائز بات ماننے کا پریشر ہے، نہ کوئی انہیں پڑھنے سے روک سکتا ہے، نہ کسی نے اپنی مرضی سے ان کی شادی کرنی ہے، نہ کوئی ان پر تیزاب پھینک سکتا ہے، نہ کوئی بازاروں میں ان پر آوازے کسے گا، نہ ان پر تہمتیں لگائی جائیں گی، نہ ان پر تشدد ہو گا، نہ ان کی لاشیں پھولی ہوئی نہروں سے برآمد ہوں گی، نہ کوئی پہننے اوڑھنے پر ٹوکے گا بس وہ ہوں گی اور ایک صحت مند معاشرہ ہو گا جس میں ترقی کی شاہراہ پر وہ ککلیاں ڈالتی پھریں گی۔

کیا ایران، کیا افغانستان، کیا بھارت، کیا چین یہاں تک کہ امریکہ والے بھی اس پاکستان سپرنگ کو رشک آمیز نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ان کے یہاں ایسا کچھ ہو جائے، دور دور تک ان کے وہم و گمان میں نہیں ہے۔ ویسے بھی ایں سعادت بزور بازو نیست، تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔ وہ حیران ہیں کہ ایک ملک جسے وجود میں آئے اتنا کم عرصہ ہوا ہے وہ کس طرح ایک ہی ہلے میں ان سب سے آگے نکل گیا۔ اتنا آگے کہ پنجے اچکا کر بھی دیکھتے ہیں تو اس کی گرد کو نہیں پا سکتے۔ دھڑا دھڑ وہاں سے ٹورسٹ اور طالب علم لوگ ادھر کا ویزا لگوا رہے ہیں، وہ جب سنتے ہیں کہ لوگ گلیوں میں سونا اچھالتے ہوئے گزررہے ہیں اور کوئی چھیننے والا نہیں تو انہیں تعجب ہوتا ہے۔

کیوں نہ ہو، ان کے ہاں تو ایمانداری صرف بہترین پالیسی ہوتی ہے، یہ تو ہم ہیں جو صداقت اور امانت کا بار اٹھانے والے ہیں، تو وہ اس بے مثال نظام کو دیکھنے جوق در جوق یہاں پہنچ رہے ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ تھر کے بچے بھی نیکریں پہنے اپنے اپنے سکولوں کے سوئمنگ پولز میں نہا رہے ہیں۔ اتنا پانی، ایسا وافر پانی انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ ان کے بڑے اس چیز پر خوش ہیں کہ وہاں ہر چار کلومیٹر کے بعد ایک ہسپتال بن چکا ہے۔ انہیں روزگار مہیا کرنے کے لیے ان گنت پروگرام شروع کیے جا چکے ہیں۔

سب سے زیادہ موج اقلیتوں کی لگی ہے۔ پہلا معرکہ تو یہ مارا گیا کہ لفظ اقلیت ہی ڈکشنری سے مٹا دیا گیا ہے۔ اس لفظ سے ویسے بھی بہت اجنبیت کی بو آتی تھی۔ اب انہیں پاکستان کے ایک عام شہری کے برابر سمجھا جائے گا اور وہ آزاد ہوں گے کہ جس طرح بھی چاہیں اپنے رب کو منا سکیں۔ ان کے بچے بے خوف ہو کر اسی ملک میں رہیں گے، وہ انہیں دیکھ دیکھ صبح شام نہال ہوں گے اور ان کے دل سے اس انقلاب کے لیے دعائیں نکلیں گی۔ کوئی انہیں یا ان کی بیٹیوں کو جبراً عقائد تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ ان کے جلسے، جلوس سب پرامن طریقے سے ہوا کریں گے، کوئی خود کش بمبار اپنی جنت ڈھونڈنے ان میں آن کر نہیں پھٹے گا اس لیے کہ اب یہ چلن بھی ختم ہوا چاہتا ہے، دنیا کی تمام طاقتیں راضی ہیں اور کیا چاہیے۔ ہزارہ اور پاراچنار میں تو ہر سُو چراغاں ہے۔

ننھے ننھے بچوں نے گلیوں میں دیے جلا کر رکھے ہوئے تھے، ان کی مائیں خوشی میں جھوم جھوم کر ایک دوسرے کو مبارکیں دے رہی تھیں، عجب جشن کا سماں تھا۔ انہیں اس چیز کا یقین ہو چکا ہے کہ شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں مملکت عدم کا شہری نہیں بنایا جائے گا۔ زمین پر اپنے وجود کو مستحکم اور یقینی پا کر ان کی خوشی دیکھنے والی تھی۔ پارا چنار میں تو شہری سڑکوں پر جلوس کی صورت نکل آئے ہیں اور سب کی زبان پر پاکستان کا مطلب کیا والا نعرہ گونجتا ہے۔

کیوں نہ ہو، ارض پاک کا ایک ایک شہری اپنے امتحان میں کامیاب ہو چکا ہے اور آئین کی شق باسٹھ تریسٹھ کا نفاذ پوری شدت سے کر دیا گیا ہے۔ یہاں کا ہر شہری آپ اپنی ذات میں صادق اور امین ہے اور وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اس کے آنے والے حکمران بھی اب اس امتحان سے گزر کے آئیں گے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے ترقی کا سفر کرنے سے نہیں روک سکتی۔ وہ تو یہاں تک سوچتا ہے کہ یہ الیکشن وغیرہ بھی کم بخت بے کار کے جھمیلے ہیں، خواہ مخواہ اربوں روپے اس میں اڑا دیے جاتے ہیں، حاصل وصول آج تک کچھ نہیں ہوا، جو بھی آتا ہے دو نمبر ہی نکلتا ہے، نہ نکلے تو انتخابات میں کامیاب ہی کیسے ہو۔

تو بس وہ اپنی خوشی اب ایک نئے نظام سے مشروط سمجھتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ پالن ہار اس کی دعائیں رد نہیں کرے گا اور صداقت و امانت کا داعی ایک راہنما دور پہاڑوں سے اس کی طرف بھیجا جائے گا۔ قرون وسطیٰ کے شاہ سواروں جیسا وہ سجیلا بانکا بس آیا کہ آیا، اس آنے والے کی خوشی اتنی زیادہ ہے کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہی، ظاہر ہے، قومیں اس مقام تک صدیوں میں پہنچتی ہیں جسے ایک ثانیے میں اس ہجوم عاشقاں نے جا لیا ہے۔ بے شک یہ خاص انعام ہے۔

رہے چند ہمیشہ کل کل کرنے والے لوگ، تو وہ کمبخت تو سدا کے اندھے ہیں۔ نہ انہیں یہ سب برکتیں اور نعمتیں نظر آتی ہیں، نہ ہی وہ اپنی ناک سے آگے دیکھنے کے عادی ہیں۔ انہیں تو یہ بھی نہیں پتہ کہ سیاسی جماعتیں اپنے لیڈروں کے مائنس ہونے پر ہی پھلتی پھولتی ہیں، ستر برس میں جو اتنا بھی نہ سمجھ سکے اس کی عقل پر حقے کا پانی!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 285 posts and counting.See all posts by husnain