پھر آپ کہیں گے کہ یہ امریکی سازش تھی


پاکستان امریکہ کی خفا خانم سی بیگم ہے۔ امریکہ جس کا ایڑیاں رگڑتا ترلے منتیں کرتا ایک مظلوم شوہر ہے۔ اس بیگم کی وجہ سے امریکہ کا افغانستان سے پیار محبت سرے چڑھ ہی نہیں رہا۔ ارب ہا ڈالر پھونک کر امریکی وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے۔ ذمہ دار صرف پاکستان ہے۔

پاکستان یہ ذمہ داری اس خوبی سے نبھا رہا ہے کہ صرف خود ہی امریکیوں کی ناک نہیں رگڑ رہا بلکہ اس کام کے لیے شدت پسند گروہوں کو بھی استعمال کرتا ہے۔ ایک امریکی لکھتا ہے کہ ہم امریکی اپنی جنگ ایک غلط سرزمین پر لڑ رہے ہیں، یہ جنگ ہمیں افغانستان میں طالبان کی بجائے پاکستان کے ساتھ پاکستان میں طالبان کے سرپرستوں کے خلاف لڑنی چاہیے، ہم افغانستان میں ساری عمر بھی لڑتے رہیں تو اس صورتحال میں جیت نہیں سکتے۔

یہ لائین پڑھ کر لگتا ہے کہ لکھاری یہاں رک کر باقاعدہ چیکیں مار کر رویا ہے۔ اس منحوس لکھاری کا نام لارنس سیلن ہے یہ ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہے۔ اس کے علاوہ کرنل بھی رہا یعنی فوجی ہے۔ اک ہوائی سی ویب سائٹ پر یہ باتیں چھپی ہیں۔ ویب سائٹ کا دعوی ہے کہ وہ انٹیلی جنس حلقوں تک رسائی رکھتی ہے اور فلٹر کر کے قابل تحریر مواد کو مناسب انداز میں سامنے لاتی ہے۔

لارنس بھائی رونے دھونے کے بعد کچھ تجاویز پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سب سے پہلے ہمیں پاکستان کی امداد روکنی ہو گی۔ امریکہ میں پاکستان کا اپنا سابق سفیر یعنی حسین حقانی تک یہ کہہ چکا ہے کہ امریکی امداد پاکستان کو طالبان کی مدد سے نہیں روک سکی۔ بش اور اوبامہ نے کل ملا کر پچاس ارب ڈالر کے قریب سخاوت کی تھی پاکستان کے لیے۔ ساتھ ہی لارنس یہ مشورہ بھی دیتا ہے کہ پاکستان کا نان نیٹو اتحادی کا سٹیٹس بھی ختم ہونا چاہیے۔

وہ کہتا ہے کہ پاکستان کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ اس ملک میں کئی نسلی لسانی اکائیاں رہتی ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر ایک ملک بنایا تو جا سکتا ہے اس کو چلانا ممکن نہیں ہے۔ ضیا الحق نے پاکستانیوں کو ایک مذہبی شناخت دی۔ پاکستان کو مسلمان دنیا میں بطور ایک مضبوط سنی ملک منوایا۔ اس کے تیار کردہ شدت پسندوں نے ہی آگے چل کر طالبان اور حقانیوں کی صورت میں ہماری ایسی تیسی کر دی۔

ہمیں پاکستان کے پیدا کردہ انتشار کا مقابلہ انتشار سے ہی کرنا ہو گا۔ پاکستان میں علیحدگی کی تحریکوں کی مدد کرنی ہو گی۔ مسلح بغاوتوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی۔ ڈیورنڈ لائین کو بطورمسئلہ گرم کرنا ہو گا تاکہ پختون شدت پسندوں میں تقسیم پیدا ہو۔ افغانستان میں پختونوں کی جنگ کے لیے آمد میں کمی آئے۔ آخر میں تھک ہار کر وہ کہتا ہے کہ افغانستان میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ ہمیں حکمت عملی تبدیل کرنی ہو گی فوجی افغانستان میں زیادہ بھیجنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

وہ یہ بھی کہتا ہے کہ پاکستان سی پیک کی صورت میں طاقت کا علاقائی توازن خراب کرنے پر تل گیا ہے۔ اس کو بھی دیکھنا ہو گا۔

ہم مان لیتے ہیں کہ اس امریکی کا دماغ خراب ہے اور اسے برے خواب آتے ہیں۔ یہ مان کر بھی ہم اس کی سب باتوں کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ اس کی وجہ سادہ سی ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا عملی طور پر بہت کچھ ویسا ہو رہا ہے۔ بلوچستان میں مسلح تحریک چل رہی ہے۔ ڈیورنڈ لائین کا بار بار ذکر ہوتا ہے۔ پاکستان پر حقانیوں کی مدد کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ اب تو کولیشن سپورٹ فنڈ میں بھی کٹوتی کی گئی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی بتائی گئی ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔

جو کچھ اوپر لکھا ہے یہ سب جھلکیاں ہیں اس سوچ کی جو پاکستان سے عاجز ہے۔ امریکی لکھاری کی ان سب تجاویز پر عمل کرنا امریکی حکومت کے لیے بھی آسان نہیں ہے۔ پاکستان نہ عراق ہے نہ افغانستان نہ ایران نہ شمالی کوریا۔ بیس کروڑ لوگوں کا جیتا جاگتا انگڑائیاں لیتا ایک ملک ہے۔ ہم دنیا کی چھٹی بڑی آبادی ہیں اور دنیا کی چھٹی بڑی ہی فوج ہے ہماری۔ ہم سے زور آزمائی کرنے سے پہلے کسی کے لیے اتنا ہی جان لینا کافی ہے۔ ہم ایک ایٹمی طاقت بھی ہیں۔ لیکن ہم معاشی طاقت نہیں ہیں۔ ہمارا سیاسی نظام مستحکم نہیں ہے۔ عدالتی نظام ”بھار ایٹ لا“ ہی نکلتا ہے وقت آنے پر۔

ہمارا مزاج ہی مستقل رونق میلے کا ہے۔ مسلسل کئی سال سے ہم ایک سیاسی تصادم دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا ایک مقبول لیڈر جو موجودہ لاٹ میں سب سے زیادہ تجربہ کار تھا گھر بھجوایا جا چکا ہے۔ وہ شاید تاریخ ہوا لیکن ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ وہ ٹک کر بیٹھ جائے گا۔ عدالتی فیصلے لیڈر اور اس کے سپورٹر کے درمیان کبھی حائل نہیں ہوتے۔ یہ ہماری بدقسمتی بھی ہے۔ نوازشریف جب روڈ پر نکلیں گے تو وہ خفیہ ہاتھوں کو ہی کوسیں گے۔ اداروں میں بے چینی پیدا ہو گی کوئی بھی انہیں بولنے سے روک نہیں سکے گا۔ ایسا کوئی طریقہ موجود نہیں کہ لیڈر جیتا جاگتا ہو اور خاموش ہو۔ وہ بولا کرتا ہے بھلے جیل میں ہو لیکن وہ چپ نہیں ہوا کرتا۔

امریکی صدر کے منتخب ہونے کے بعد نئی افغان پالیسی بنائی جا رہی ہے۔ بہت چھان کر جو لیکس آ رہی ہیں اس میں افغانستان میں فوج بڑھانے اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی کھل کر بات ہو رہی ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ مطلوب دہشت گردوں کو ہر جگہ نشانہ بنایا جائے گا۔

ایسے میں جب ہمارا ایک لیڈر خفیہ ہاتھوں کا ذکر کرتا لوگوں سے رابطے کر رہا ہو گا۔ اگر پاکستان میں کوئی دوسرا ایبٹ آباد ہوا، ملا اختر منصور پر ڈرون حملے جیسا کوئی واقعہ ہو گیا، عالم اسلام کو اپنے سینگوں پر اٹھائے پھرنے والا کوئی نیک بزرگ اپنے ساٹھ ستر بچوں کے ساتھ ہمارے ہاں سے برآمد ہو گیا، تو کیا ہو گا؟

یہ سارا بہت منحوس سیناریو ہے۔ اس کا اظہار اس لیے کیا گیا کہ سب جان لیں کہ وقت نازک ہے۔ وقت گزرنے کے بعد ہم پھر امریکی سازشیں سوچتے بتاتے رہتے ہیں۔ وہ بس صورتحال کے مطابق اپنے فائدے اٹھاتے ہیں۔ یہ ہم ہیں جنہیں سوچنا ہے کہ ایسے مواقع ہی نہ آنے دیں کہ کوئی فائدہ اٹھا سکے۔ ہمارے ادارے تو یقینا اپنا کام کر رہے ہوں گے۔ ہمیں مکمل اعتماد رکھنا چاہیے سوال بس اتنا ہے کہ کیا ہماری اپنی کوئی ذمہ داری نہیں کہ ہم اپنا کردار ادا کریں آپس میں تصادم کم کر کے ادا کریں؟ یا ہمیشہ کی طرح اب پھر ہم کہیں گے کہ یہ امریکی سازش تھی کیونکہ یہ اپنی کوتاہیوں سے منہ چھپانے کا آسان بہانہ بھی تو ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔