کیا نواز شریف کی سزا صدر ممنون حسین ختم کر سکتے ہیں؟


وزیراعظم کی نا اہلی کے تناظر میں آج کل آئین کے آرٹیکل 45 کا بہت چرچہ ہو رہا ہے، کہا جا رہا ہے کہ صدر مملکت نا اہلی کی اس ”سزا“ کو اپنے آئینی اختیارات کے تحت معاف فرما سکتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آئین اس ضمن میں کیا کہتا ہے۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 48 کے مطابق صدر مملکت کے اختیارات دو قسم کے ہیں; صوابدیدی اور غیر صوابدیدی۔ صوابدیدی اختیارات کو صدر مملکت اپنی مرضی سے استعمال کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ کسی کے مشورے کے پابند نہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صدر کے صوابدیدی اختیارات تقریبا ختم کر دیے گئے ہیں۔ صدرمملکت کے صوابدیدی اختیارات کی مشہور ترین مثال آئین کا آرٹیکل (b)(2)58 تھا، جس کے تحت وہ جب چاہیں اسمبلیاں توڑ سکتے تھے۔ یہ اختیار بھی اب ختم ہو چکا ہے۔

صدر کے غیر صوابدیدی اختیارات وہ ہیں جو وہ وزیر اعظم اور کابینہ کے مشورے سے استعمال کرتے ہیں۔ صدر مملکت کو اگر مشورے سے اختلاف ہو تو وہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ ایک دفعہ وزیراعظم سے کہہ دیں کہ اپنے مشورے پر دوبارہ غور کر لیں، وزیر اعظم دوبارہ غور کے بعد جو بھی مشورہ دیں صدر اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔

اب آتے ہیں آرٹیکل 45 کی طرف۔ اس آرٹیکل کے تحت صدر مملکت کسی بھی سزا کو معطل، کم، تبدیل یا ختم کر سکتے ہیں۔ صدر کا یہ اختیار بھی غیر صوابدیدی ہے اور اس سلسلے میں وہ صرف وزیر اعظم کے مشورے پر عمل کرتے ہیں، سزا ختم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم اور کابینہ کرتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  آگ میرے گھر سے دور لگی ہے

آرٹیکل 45 کے تحت ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزا کو ہی معاف کیا جا سکتا ہے، زیر سماعت مقدمات پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
آرٹیکل 45 کے تحت کسی بھی قسم کی سزا کو معطل، کم، تبدیل یا ختم کیا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں متاثرہ فریق یا مقتول کے وارثان کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

آرٹیکل 45 کے تحت صرف سزا (sentence) کو ختم کیا جا سکتا ہے لیکن ارتکاب جرم (conviction) اپنی جگہ موجود رہتا ہے، لہذا صدر مملکت عمر قید کی سزا پانے والے کسی مجرم کی سزا کو معاف فرما دیں تو وہ جیل سے تو فورا رہا ہو جائے گا لیکن ایک convict ہونے کی وجہ سے پانچ سال تک الیکشن لڑنے کے لئے نا اہل رہے گا۔ میاں محمد نواز شریف صاحب کے ہی مقدمے (میاں محمد نواز شریف بنام سرکار PLD 2009 SC 814) میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ صدارتی معافی کے باوجود Conviction موجود رہتی ہے، جس کو صرف عدالت ہی ختم کر سکتی ہے۔

آئین کے آرٹیکل 62، 63 کے تحت ہونے والی نا اہلی کو سزا (sentence ) نہیں کہا جا سکتا، اسی لئے اس پر آرٹیکل 45 کا اطلاق نہیں ہوتا۔ Declaration of Disqualification اور Sentence دو بالکل مختلف قانونی تصورات ہیں، اول الذکر کو آرٹیکل 45 کے تحت ختم نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا صدر مملکت سپریم کورٹ کے اس فیصلے یا اس کے اثرات کو آرٹیکل 45 کے تحت ختم نہیں کر سکتے۔

اسی بارے میں: ۔  کہانی، کتاب اور پہلی محبت

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے اثرات کو ختم کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے آئینی ترمیم۔ لیکن کون جانتا ہے کہ کل کو سپریم کورٹ اس آئینی ترمیم کو بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دے کر کالعدم ٹھہرا دے۔ اٹھارویں اور اکیسویں آئینی ترمیم کے مقدمہ میں سپریم کورٹ پہلے ہی فیصلہ سنا چکی ہے کہ آئین میں کی جانے والی ترامیم کو دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہونے کی بنا پر کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔